پرائیوٹ یونیورسٹیز کے آفٹر شاکس اور طلباء کا مستقبل
- تحریر محمد نواز بشیر
- بدھ 20 / دسمبر / 2017
- 5996
محکمہ ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے پنجاب کی 24 میں سے 18 یونیورسٹیز میں غیر قانونی و غیر منظور شدہ ڈگری پروگرامز کروائے جانے کے انکشاف کے بعد تاحال ایچ ای سی پنجاب اپنی پوزیشن واضح نہیں کر سکا۔ کہ ایم فل پروگرامزمیں داخلہ کے خواہشمند طلباوطالبات پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے غیر منظور شدہ ایم فل پروگرامز میں داخلہ لے سکتے ہیں یا نہیں۔ یاد رہے کہ محکمہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جو انکشاف کیا گیا تھا اُن میں صوبہ پنجاب میں 18 یونیورسٹیز تھیں جن میں 14 یونیورسٹیاں لاہور شہر میں موجود ہیں۔ ان یونیورسٹیز نے ایم فل کی کلاسز بھی شروع کروا رکھی ہیں۔
اس سے لگتا توکچھ یوں ہے کہ جیسے سیاسی اور سفارشی کلچر نے ان پرائیویٹ یونیورسٹیزمافیا کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی اجازت لئے بغیر غیر قانونی اور غیر منظور شدہ ایم فل پراگرمز کروانے کا دھندا جاری رکھیں۔ لاہور جو پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے اس شہر میں پنجاب کی ساری بیوروکریسی بشمول محکمہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ہوتے ہوئے بھی ایم فل پروگرامز میں غیر منظور شدہ ڈگریاں کروانے میں بڑی بڑی پرائیویٹ یونیورسٹیز کے ناموں کا سامنے آنا، پنجاب حکومت اور محکمہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پر ایک بہت بڑاسوالیہ نشان ہے ۔ یہ یونیورسٹیز طلبا کو اپنے جال میں پھنسانے کے لئے پہلے مختلف اخبارات میں جعلی اشتہارات شائع کروا کرطلبا اور اُن کے والدین کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ پھر اُن سے لاکھوں روپے کی فیس بٹورتے ہیں ۔ اِس کے ساتھ ہی یہ مافیا طلبا کے ساتھ فراڈ بڑے ہی ٹیکنیکل انداز میں کچھ یوں کرتا ہے کہ اِن پرائیوٹ یونیوسٹیز کے ایڈمیشن آفس میں بیٹھا مافیا ہر سٹوڈنٹ کو یہی کہتا ہے کہ آپ اپنی ایم فل داخلہ فیس جمع کروا دیں آپ کا داخلہ ہو گیا ہے ۔ ہماری یونیورسٹی میں ایم فل کے لئے انٹری ٹیسٹ معنی نہیں رکھتا ۔ اسی دوران ایڈمیشن آفس میں بیٹھے یونیورسٹی کے چند دوسرے لوگ جو یونیورسٹی ایڈمیشن کی یونیورسٹی کی طرف سے ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں، وہ ایم فل پروگرامز میں داخلہ لینے آنے والے طالبعلموں کو اِدھر اُدھر کی باتیں سنا کر ایک اسٹام پیپر پر دستخط کروا لیتے ہیں۔ اُس اسٹام پیپر پر یہ درج ہوتا ہے کہ آپ کو ایک سال کے اندر اندر یونیورسٹی انٹری ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا، اگر آپ یونیورسٹی انٹری ٹیسٹ پاس نہیں کر سکے تو پھرآپ کو ہر صورت Gate کا ٹیسٹ پاس کرنا ہو گا۔ اگرGate ٹیسٹ بھی نہیں پاس کر سکے توپھر آپ کا ایڈمیشن کینسل ہو سکتا ہے ۔
جب یونیورسٹی کی طرف سے طالب علم کو ایڈمیشن کینسل ہونے کا بتایا جاتا ہے تو طالبعلم ذہنی مریض بن کے رہ جاتا ہے کہ میں اب کیا کروں۔ میں تو فیس بھی جمع کروا چُکا ہوں اور یونیورسٹی بھی اُس وقت تک ایم فل کے اُس طالبعلم سے ہزاروں روپے فیس وصول کر چُکی ہوتی ہے ۔ خیر طالبعلم اپنے تحفظا ت یونیورسٹی انتظامیہ کے پاس لے کر جاتا ہے کہ مجھے ایڈمیشن آفس کی طرف سے تو یہ کہا گیا تھا کہ ایم فل کے لئے انٹری ٹیسٹ ہماری یونیورسٹی میں کوئی معنی نہیں رکھتا، تولاچار اوربے بس طالبعلم کو ایڈمیشن آفس سے جواب ملتا ہے کہ آپ نے اسٹام پییر پر ہمیں لکھ کر دیا ہے کہ میں ایک سال کے اندر اندرانٹری ٹیسٹ پاس کروں گا ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرپرائیوٹ یونیورسٹیز نے ایم فل کے لئے انٹری ٹیسٹ لینا ہی ہے تو وہ داخلہ ہونے سے پہلے کیوں نہیں لیتے ۔ اس کا جواب کچھ ماہر تعلیم یوں دیتے ہیں کہ اگر پرائیوٹ یونیورسٹیز انتظامیہ ایم فل کے طالبعلموں سے انٹری ٹیسٹ داخلے سے پہلے لے لیں تو بعد میں یہی پرائیوٹ یونیورسٹیز ان طالبعلموں سے لاکھوں روپے نہیں بٹور سکتیں ۔ اس لئے یہ مافیا ایم فل انٹری ٹیسٹ داخلہ ہو جانے کے بعد کنڈکٹ کرواتا ہے تاکہ جو طالبعلم ایک سال میں انٹری ٹیسٹ پاس نہ بھی کر سکیں تو اُن سے لاکھوں روپے فیس کی مد میں کمائے جا سکیں۔
یہ تو حکومت وقت اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کا فرض بنتا ہے کہ ان پرائیوٹ یونیورسٹیز کو پابند کریں کہ اگر ان یونیورسٹیز نے ایم فل کے لئے انٹری ٹیسٹ لینا ہی ہے تو سرکاری جامعات کی طرح پہلے ایم فل انٹری ٹیسٹ لیں اور جو طالب علم انٹری ٹیسٹ میں کامیاب ہو جائیں صرف اُن کو ایم فل میں داخلہ کے لئے چالان فارم ایشو کئے جائیں۔ اب اُن طلبہ کی بات کرتے ہیں جو اِن پرائیوٹ یونیورسٹیز سے ہائیرایجوکیشن کمیشن سے غیر منظور شدہ ایم فل کی ڈگری حاصل کر لیتے ہیں ۔ تو پھر وہی طلبہ اپنی ایم فل کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ڈگری کی تصدیق کے لئے ہائیرایجوکیشن کمیشن کے آفس جاتے ہیں۔ اُدھر سے پتہ چلتا ہے کہ اِس یونیورسٹی کی یہ ایم فل کی ڈگری ہائیرایجوکیشن کمیشن سے تو منظور ہی نہیں ہے لیکن اُس وقت تک طالبعلم پرائیوٹ یونیورسٹی انتظامیہ کو وہ ڈگری حاصل کرنے کے لئے لاکھوں روپے فیس دے چُکا ہوتا ہے اور اُس فیس کے بدلے طالبعلم کو صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ملتا ہے ۔ ایسا اکثرلاہور میں ہر سال دیکھنے کو ملتا ہے ۔ پھر یہی طالبعلم تھکے ہارے لاہور کی اہم شاہراہوں کا رخ کرتے ہوئے سڑکوں کو بلاک کر دیتے ہیں۔
اس سارے عمل میں طالبعلموں اور ان کے والدین کا بھی برابر کا قصور ہوتا ہے کیونکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب نے جن یونیورسٹیز کے ایم فل پروگرامز کو غیر منظور شدہ قرار دیا تھا، اُن یونیورسٹیز کے ایم فل پروگرامز میں طالبعلموں نے داخلہ کیوں لیا۔ لیکن پھر بھی حکومت وقت اورمحکمہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب پر یہ ذمہ داری زیادہ عائد ہوتی ہے کہ سرکاری یونیورسٹیز میں ایم فل کے داخلے بند ہونے کے بعد پرائیوٹ یونیورسٹیز نِت نئے اندازاور مختلف اخبارات میں اشتہارات دے کر طالبعلموں کو دھوکے سے لوٹتے ہیں۔ اب بھی پنجاب سمیت لاہور میں بہت سی جامعات ہیں جو ایم فل کی کلاسز ہفتے میں صرف دو دن کرواتی ہیں۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ ملک میں یونیورسٹیز کو کنٹرول کرنے والے ہائیر ایجوکیشن کمیشن جیسے خود مختار ادارے کے ہوتے ہوئے بھی پرائیویٹ یونیورسٹیز ایک طاقت ور مافیا کی شکل اختیار کرچُکی ہیں۔ اِسی مافیا نے ایم فل کی تعلیم کو اب مارکیٹ میں صرف ڈگری فروخت کرنے تک محدود کر کے رکھ دیا ہے ۔ دیکھا جائے تو جب سے اِن پرائیویٹ یونیورسٹیوں نے تعلیم کو دکانداری سمجھا ہے اس وقت سے لے کر اب تک پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار تیزی سے گر رہا ہے ۔ اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں پر سوالیہ نشان بھی لگ رہا ہے ۔ کیونکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق ان پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلوں کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، جن میں طلبا کی تعداد ضوابط سے کئی گنا زیادہ اور مستقل فیکلٹی کا پی ایچ ڈی نہ ہونا سرفہرست ہے ۔
بتایا یہ جا رہا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے جن بتیس یونیورسٹیز کے ایم فل پروگرامز کوغیر منظور شدہ قرار دیا ہے ان میں اکثر یونیوسٹیز کے پاس ایک بھی مستقل پی ایچ ڈی فیکلٹی ممبر نہیں ہے۔ اور نہ ہی ان پرائیوٹ یونیورسٹیز میں ایم فل کلاسز کے دورن سکالرز کے لئے ملٹی میڈیا، ریسرچ لیبز، انٹرنیٹ کی سہولت میسرہوتی ہے ۔ ان تمام وجوہات کی بنا پرہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے بتیس یونیورسٹیز کے ایم فل پروگرامز کو غیرمنظور شدہ قرار دیا ہے ۔ اس لئے یہ کہنا درست ہوگا کہ آج بھی سرکاری یونیورسٹیز میں تعلیمی معیار اور داخلے کی شرائط شفاف اور میرٹ پر ہوتی ہیں۔ اگر ہم دوسری طرف پرائیوٹ یونیورسٹیوں کی بات کریں تو اِن یونیورسٹیوں میں ہر اُس شخص کو داخلہ مل جاتا ہے جوفیس بھر سکتا ہو۔ لہذا ہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب کو چاہیئے کہ ایم فل پروگرامز کے داخلوں کے وقت باقاعدہ طور پر ٹی وی، اخبارات اور دیگر ذارئع ابلاغ میں اشتہارات کے ذریعے ایم فل کے طالبعلموں اور اُن کے والدین کو مکمل طور پر آگاہ کریں کہ کن کن پرائیویٹ یونیورسٹیز کے ایم فل پروگرامز محکمہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب سے منظورشدہ اور رجسٹرڈ ہیں۔ باقی تمام پرائیویٹ یونیورسٹیز کے ایم فل پروگرامز غیر قانونی ہیں۔ اس لئے کوئی بھی طالبعلم ان پرائیوٹ یونیورسٹیز میں ایم فل کرنے کے لیئے داخلہ نہ لے ۔
پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اُن تمام یونیورسٹیز کو الگ الگ وارننگ لیٹرز جاری کرتے ہوئے ہدایات جاری کر دی ہیں کہ مذکورہ یونیورسٹیز اپنے غیر منظور شدہ ڈگری پروگرامز کے متعلق پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کو جواب جمع کروائیں۔