آرمی چیف نے پھر ثابت کیا کہ فوج جمہوریت چاہتی ہے

پاکستان میں دو فلسفے عوام میں پختہ یقین کے ساتھ مانے جاتے ہیں۔ ایک یہ مانا جاتا ہے جو کرواتا ہے امریکہ کرواتا ہے۔ پاکستان میں ہر بڑے واقعہ کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ دوسرا فوج کے بارے میں بھی عوام میں یہ گمان ہے کہ پاکستان میں فوج کی مرضی کے بغیر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ انسان تو دور کی بات۔ اس لئے ہر غلط کام کے پیچھے امریکہ کو تلاش کیا جاتا ہے اور ہر بڑی تبدیلی کے پیچھے فوج کو تلاش کیا جاتا ہے۔

آج کل تو ایسا نہیں ہے لیکن ماضی قریب تک یہ بات بھی مانی جاتی تھی کہ امریکہ نے جو کروانا ہوتا ہے اس کے لئے فوج کو استعمال کرتا ہے۔ فوج اور امریکہ کا پاکستان میں ایک مضبوط گٹھ جوڑ ہے۔ اسی طرح پاکستانی سیاست میں بھی فوج اور امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ بھی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا رہا ہے۔ سیاستدان بھی حصول اقتدار کے لئے فوج کے ساتھ گٹھ جوڑ اور امریکہ کی خوشنودی کے لئے کوشاں رہتے رہیں۔ فوج کا اشارہ اور امریکہ کی خوشنودی اقتدار کی ضمانت سمجھی جاتی رہی ہے۔ اللہ کے فضل وکرم سے اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ کوئی بھی یہ نہیں کہ سکتا وہ اس حمام میں ننگا نہیں رہا ہے۔ سب نے اپنی باری میں اس حمام میں ننگے نہایا ہے۔ اور مزے لئے ہیں۔  امریکہ کے حوالہ سے تو شاید صورتحال میں تبدیلی آئی ہے کیونکہ ہم آہستہ آہستہ نہیں بلکہ اب تیزی سے نہ صرف امریکہ سے دور جا رہے ہیں اور چین امریکہ کی جگہ لے رہا ہے۔ لیکن پھر بھی امریکہ کا اثرو رسوخ موجود ہے اور امریکی آشیر باد کی قدر منزلت اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے بھی یہ کہا جاتا تھا کہ اسلام آباد کے اقتدار کا راستہ واشنگٹن سے ہو کر گزرتا تھا۔ آج بھی صورتحال اس سے کوئی خاص مختلف نہیں ہے۔ واشنگٹن کا عمل دخل موجود ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں ۔

فوج کی طاقت  میں  کمی تو دور کی بات بلکہ اس میں مسلسل اضافہ وہ رہا ہے۔ آج بھی اقتدار کیلئے فوج کی رضا اور مرضی ناگزیر ہے۔ ایوب خان کے بعد پاکستان میں ایک بھی ایسی حکومت نہیں آئی جو جی ایچ کیو کی آشیرباد کے بغیر آئی ہو۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومتوں نے اپنی مدت پوری نہیں کی ہے۔ لیکن مدت پوری نہ کرنے میں بھی فوج کے عمل دخل سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ فوج کی آشیر باد سے اقتدار میں آنے والے سیاستدان اقتدار میں آکر فوج سے لڑتے رہے ہیں۔ جب آپ اقتدار میں فوج کی مرضی سے آئے ہیں ڈیل کرکے آئے ہیں تو اقتدار میں آکر ڈیل توڑنے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ اور انہی مسائل نے جمہوریت کو چلنے نہیں دیا۔ اسی کشمکش نے یہ تاثر بھی قائم کر دیا ہے کہ پاکستان میں فوج جمہوریت کو چلنے نہیں دیتی۔ فوج ہی جمہوریت کی بساط کو لپیٹتی ہے۔ اور فوج ہی جمہوریت کی گاڑی کو پٹری سے اتارتی ہے۔  تا ہم ماضی کی سب بات اپنی جگہ۔ لیکن آج کی صورتحال بہت مختلف ہے۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں آج پاکستان کے بڑے سیاستدان اس بات کے لئے کوشاں ہے کہ کسی نہ کسی طرح ماضی کی طرح فوج کو اس پوائنٹ پر لے آئیں کہ وہ ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دے۔ ایک حکمت عملی کے تحت فوج کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے کہ فوج اس نتیجہ پر پہنچ جائے کہ یہ جمہوریت اب مزید نہیں چل سکتی۔ اس لئے اس کا بوریا بستر گول کرنا ہی ملکی مفاد میں ہے۔ تاہم تعجب کی بات یہ ہے اس بار ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے لئے ملک کی بڑی سیاستدانوں نے ماحول خود بنایا ہوا ہے۔ لیکن فوج ہے کہ آہی نہیں رہی۔ فوج کو آوازیں دی جا رہی ہیں اور فوج ہے کہ سن ہی نہیں رہی۔ فوج اور سیاسی قیادت میں ایک کشمکش جاری ہے۔ ایک طرف فوج کو بلایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف فوج ہے کہ بضد ہے کہ نہیں جمہوریت کو ہی چلانا ہے۔ آج پاکستان میں فوج ملک میں جمہوریت کی محافظ بن گئی ہے۔

قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں نواز شریف نے اپنی نااہلی کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے ووٹ کی بالادستی کے نام پرجو تحریک شروع کی ہے فوج نے اس کو بھی ہائی جیک کر لیا ہے۔ آرمی چیف نے سینٹ میں جا کر نہ صرف خطاب کرکے بلکہ تین گھنٹوں تک سوالات کے جواب دے کر ملک میں حقیقی معنوں میں ووٹ کی بالادستی قائم کر دی ہے۔ فوج نے دوبارہ اس عزم کا اظہار کر دیا ہے کہ آپ چاہے جتنے مرضی حالات خراب کر لیں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جمہوریت کو چلانا ہے تو چاہے کچھ بھی ہو جائے ہم جمہوریت کو چلائیں گے۔ یہ ہمارا فیصلہ ہے۔  آرمی چیف کے سینٹ میں جانے جہاں پاکستان میں ووٹ کی بالا دستی قائم ہوئی ہے ۔ وہاں یہ افواہیں بھی دم توڑ گئی ہیں کہ فوج نے نظام لپیٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سینٹ کے انتخابات بر وقت نہیں ہوں گے۔ میں پریشان ہوں کہ وہ سب کہاں ہیں جو کہہ رہے تھے کہ سینٹ کے انتخابات بر وقت نہیں ہوں گے۔ ایہ افواہیں بھی دم توڑ گئی ہیں کہ سینٹ کے انتخابات سے قبل استعفوں کی برسات ہو جائے گی۔ استعفوں کی برسات سے نہ صرف سینٹ کے انتخابات ملتوی ہو جائیں گے۔ بلکہ ایک لمبی عبوی حکومت آجائے گی جس کو ٹیکنو کریٹ حکومت بھی کہا جا رہا ہے۔ پیپلزپارٹی بھی حلقہ بندیوں کا بل سینٹ میں روک کر دراصل نظام کو لپیٹنے کی راہ ہموار کر رہی تھی اور فوج سے نا امید ہو کر یہ بل سینٹ سے پاس ہوا ہے۔ بلکہ آرمی چیف کے سینٹ میں آنے سے ہی پیپلزپارٹی کو واضع ہو گیا ہے کہ بل کو روک کر وہ فوج کو جو پیغام دینا چاہ رہے تھے وہ قبول نہیں ہے۔ بلکہ فوج نظام کے ساتھ ہے۔ اسی لئے آرمی چیف کے آنے والے دن ہی سینٹ سے حلقہ بندیوں کا بل سینٹ سے پاس ہوا ہے۔ اس میں بھی فوج کے اشاروں کا واضع اثر نظر نہیں آرہا۔

ماضی میں بھی فوج سیاستدانوں سے طاقتور تھی اور آج بھی فوج سیاستدانوں سے طاقتور ہے۔ کل بھی سیاستدان فوج سے اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ آج بھی سیاستدان فوج سے اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ کل بھی فوج اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار تھی ۔ آج بھی خود مختار ہے۔ کل بھی ہمارے سیاستدان فوج کو دباؤ میں لانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ آج بھی نہیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ فوج اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ انہوں نے بار بار جمہوریت کی بساط لپیٹ کر دیکھ لیا ہے اس سے نہ تو فوج کو کوئی نیک نامی ملی ہے اور نہ ہی ملک کا کوئی خاص فائدہ ہوا ہے۔ اس لئے بہتری اسی میں ہے کہ جیسی بھی ہے جمہوریت چلائی جائے۔ اسی میں بہتری لائے جائے۔ جمہوری نظام کی خرابیوں کو دور کیا جائے تاکہ نظام کم از کم اتنا بہتر تو ہو سکے کہ معاملات چل سکیں۔

آرمی چیف نے سینٹ میں جا کر سپیکر قومی اسمبلی کو بھی جواب دے دیا ہے کہ ان کے خدشات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ بلکہ بے بنیاد ہیں۔ سپیکر نے بھی جان بوجھ کر ایسی بات کی تھی تاکہ ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹنے کا ماحول بن سکے۔ ان کا انٹرویو اور خدشات اسی حکمت عملی کا حصہ تھے جس کے تحت فوج کے آنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ فوج نے تو پارلیمنٹ کو سپریم ادارہ مان لیا ہے۔ خود کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ  ہو کربھی ثابت کر دیا ہے لیکن کیا ارکان پارلیمنٹ خود اپنی پارلیمنٹ کو عزت اور احترام دینے کو تیار ہیں۔ آرمی چیف نے تو تین گھنٹے تک سوالات کے جواب دے دیئے ہیں۔ لیکن ہمارے وزیر ایک گھنٹہ بھی سوالات کے جواب دینے کو تیا رنہیں۔ اگر آرمی چیف تیاری کرکے آسکتے ہیں تو وزرا کیوں نہیں تیاری کرتے۔ کورم کیوں ٹو ٹتا ہے۔ عمران خان پارلیمنٹ میں کیوں نہیں آتے۔ بلاول نے اعلان کرنے کے باوجود پارلیمنٹ میں نہ آنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ نواز شریف پارلیمنٹ میں کیوں نہیں آتے تھے۔ وزراکیوں نہیں آتے۔ حکومتی ارکان کیوں نہیں آتے۔ کیا ن سب کو بھی فوج روکتی ہے۔ جب یہ لوگ خود اپنے گھر کو عزت نہیں دیں گے تو فوج جتنی مرضی عزت دے دے عزت نہیں مل سکتی۔ بہر حال بات وہی ہے سب چاہتے ہیں فوج آجائے فوج چاہتی ہے جمہوریت۔ ساری لڑائی یہی ہے۔