اداروں میں ٹکراؤ کی پالیسی کے ممکنہ نتائج
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 21 / دسمبر / 2017
- 4012
حکمرانی کے نظام کی کنجی اداروں کی فعالیت اور استحکام ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب اداروں کے درمیان اہم آہنگی موجود ہو اور وہ ایک دوسرے کی دائرہ کار میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہوں۔ پاکستان میں بدقسمتی سے اداروں کے درمیان عدم اعتماد اور ٹکراؤ کی پالیسی اپنائی جاتی ہے۔ کچھ اہل دانش اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی بحث کو محض آسان انداز میں لیتے ہیں یا اسے حکومت مخالف ایجنڈا سمجھ کر اہمیت نہیں دی جاتی ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے کمزور ریاستی ، حکومتی اور ادارہ جاتی نظام کے بگاڑ کی بنیادی وجہ اداروں کی عدم فعالیت اور سیاسی مداخلت ہی ہے ۔
حکمرانوں کے گٹھ جوڑ اور ایک دوسرے کے ذاتی مفادات کو تقویت دینے کے لیے سب فریقین نے اداروں کو قومی مفاد سے زیادہ اپنے حق میں استعمال کیا ہے ۔ اس کا نتیجہ ہم اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی صورت میں دیکھ رہے ہیں ۔ بظاہر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہم بہتر طور پر ریاستی نظام چلارہے ہیں۔ لیکن عملی طور پر ریاستی نظام میں ٹکراؤ کے باعث داخلی اور خارجی محاذوں پر سنگین مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس کا ادراک ہمارے ریاستی اور حکومتی اداروں کو نہیں ہے ۔ حال ہی میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور میں پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام ہونے والے سیمینار میں جس انداز میں اپنی بات رکھی ہے وہ سیاسی ، قانونی اور حکومتی اداروں کے درمیان بداعتمادی کے منظر کو نمایاں کرتی ہے ۔ پچھلے کچھ عرصہ سے بالخصوص پاناما مقدمہ سے لے کر اس کے حتمی فیصلے کے بعد سے حکومت اور عدلیہ ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے نظر آتے ہیں ۔ حکومت، وفاقی وزرا، بعض سیاست دان، میڈیا اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کھل کر عدالت ، ججوں اور ان کے فیصلوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔ عدالتی فیصلوں پر ضرور تنقید ہوسکتی ہے لیکن اس تنقید کا سیاسی دائرہ کار بھی ہوتا ہے ۔ مگر یہاں تمام حدودو قیود کو عبور کرکے براہ راست عدلیہ کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ نواز شریف کا بنیادی بیانیہ یہ ہے کہ جو کچھ اس ملک میں عدالتی محاذ پر ہورہا ہے وہ عدلیہ یا ججوں کے فیصلے نہیں بلکہ ان کو اسٹیبلیشمنٹ کے ایجنڈے کے تحت مسلط کیا جارہا ہے اور عدلیہ کی حیثیت ایک ہتھیار کی ہے۔
اس پس منظر میں جو کچھ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے گفتگو کی ہے وہ ایک خطرناک امر کی نشاندہی کرتی ہے جو توجہ طلب ہے ۔ اول ان کے بقول یہ ایک سنگین نوعیت پر مبنی الزام ہے کہ عدلیہ یا عدالتی فیصلے کسی گیم پلان یا کسی دباؤ کے تحت دیئے جارہے ہیں ۔ دوئم یہ تاثر دینا کہ عدلیہ میں کوئی گہری تقسیم ہے عدلیہ کو خراب کرنے کی کوشش ہے ۔ سوئم ہم نے آئین اور جمہوریت کے تحفظ کی قسم کھائی ہے اور مخالف فیصلہ آنے پر عدلیہ کو گالیاں نہ دی جائیں ۔ چہارم ملک میں انصاف میں تاخیر کا بڑا سبب ملک میں عدلیہ اور ججوں پر بڑھتی ہوئی تنقید ہے جو عدالتی عمل کو متاثر کررہی ہے ۔ پنجم اگر مقنہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گی تو ہمیں آگے آنا ہوگا کیونکہ کسی بھی نظام میں خلا زیادہ عرصہ تک برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ ششم اگر واقعی ہم کسی گیم پلان کا حصہ ہوتے تو حکومت کے حق میں حدیبیہ کا فیصلہ سامنے نہیں آتا اور بلاوجہ اداروں پر تنقید سے اداروں میں باہمی ٹکراؤ کا تاثر ابھارا جارہا ہے ، جو خطرناک رجحان ہے ۔ چیف جسٹس کی تقریر کوئی اچھی روایت نہیں کیونکہ ججوں کو تقریر سے زیادہ اپنے فیصلوں پر توجہ دینی چاہیے ۔ لیکن جب چاروں اطراف ردعمل کی سیاست غالب ہو تو عدلیہ بھی اس کا شکار ہوسکتی ہے اور حالیہ عدلیہ کے ردعمل کو ان پر بڑھتی ہوئی تنقید کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری عدلیہ کا اپنا ریکارڈ بھی کوئی شاندار نہیں اور ماضی میں بھی اس کا ایک عمومی تصور نظریہ ضرورت پر مبنی تھا اور اس نے بھی کئی طرح کے سیاسی سمجھوتے کیے ہیں ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عدلیہ کو کیسے آزادانہ بنیادوں پر مضبوط کیا جائے اور اگر وہ اس طرف بڑھنا چاہتی ہے تو ہم اس کی راہ میں رکاوٹ کیوں پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ واقعی المیہ ہے جس کی نشاندہی چیف جسٹس نے کی ہے کہ اس ملک میں جس کی حمایت میں فیصلہ ہو وہ عدلیہ کی آزادی اور جس کی مخالفت میں فیصلہ ہو وہ عدلیہ کو گالیاں دیتا ہے یا اس کے بقول عدلیہ آزاد نہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہمارا حکمران طبقہ اداروں کی خود مختاری اور آزادانہ حیثیت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور وہ اداروں کو قانون کی حکمرانی کی بجائے اپنی ذاتی خواہشات پر چلانا چاہتے ہیں تو ادارے کیسے فعال ہوسکتے ہیں۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چیف جسٹس کے بیان اور عمران خان کی نااہلی کے مقدمہ کے فیصلے کے بعد ایک بار پھر سابق وزیر اعظم نواز شریف عدلیہ پر برس پڑے۔ ان کے بقول ججوں اور بنچ نے میرے خلاف عمران خان کا مقدمہ لڑا اور اس دوہرے معیار کے خلاف وہ عدلیہ یا عدالتی فیصلہ کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے ۔ یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ گزشتہ ایک برس سے حکومت اور بالخصوص نواز شریف ، مریم نواز سمیت ان کے قریبی ساتھیوں کا براہ راست نشانہ عدلیہ اور ججز ہیں ۔ اگرچہ حکومت واضح طور پر کہتی ہے کہ وہ اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی نہیں رکھتی اور عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید اداروں سے ٹکراؤ نہیں ، مگر عملی طور پر اس کا طرز عمل عدلیہ مخالف ہے اور ان کے بیانات سے بلاوجہ کی تلخی پیدا ہورہی ہے ۔ محض عدالتی فیصلوں پر تنقید ہی نہیں ہورہی بلکہ ججوں کی ذاتیات کو موضوع بحث بنا کر صورتحال کو زیادہ متنازعہ بنایا جارہا ہے ۔ نواز شریف کا طرز عمل عدلیہ کو ٹکراؤ کی جانب دھکیل رہا ہے جو درست حکمت عملی نہیں اور اس پر غور کیا جانا چاہیے ۔
مسئلہ یہاں محض عدلیہ کا حکومت کے ساتھ ٹکراؤ کا نہیں بلکہ اس میں ایک اور اہم فریق فوج کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ کیونکہ نواز شریف کا بیانیہ یہ بھی ہے کہ ججوں کے پیچھے اصل کھیل اسٹیبلیشمنٹ کا ہے جو ہر صورت میں ان کو دیوار سے لگانا چاہتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بیانات میں جو حکومتی اور وزرا کی سطح پر تلخی ہے اس میں فوج بھی نشانے پر ہے ۔ حکومتی سطح پر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ فوج اور عدلیہ کا باہمی گٹھ جوڑ ہے اور اس کے آلہ کار کے طور پر عمران خان ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس وقت ریاست اور حکومت میں ایک ٹکراؤ کی پالیسی دیکھنے کو مل رہی ہے جو مزید عدم استحکام پیدا کرنے کا سبب ہے ۔ حکومت کی مشکل یہ ہے کہ وہ اگر نہیں بھی چاہتی کہ ریاستی سطح پر اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کا تاثر بڑھنے دیا جائے مگر مسئلہ نواز شریف ، مریم نواز اور سخت گیر مزاج کے ان ساتھیوں کا ہے جو ہر صورت میں مفاہمت کی بجائے مزاحمت یا ٹکراؤ کی پالیسی کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں ۔
یہ ہی وجہ ہے نواز شریف کے قریبی ساتھی اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی حکمران جماعت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بیانات اور طرز عمل سے حکومت اور جماعت دونوں کو بند گلی سے باہر نکالیں۔ کیونکہ ان کے طرز عمل سے اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہورہی ہے جو حکومت، جماعت اور خود نواز شریف کے بھی مفاد میں نہیں ۔ ان کے بقول بطور حکمران جماعت ہمیں بھی بے یقینی کی کیفیت سے باہر نکلنا ہوگا اور ہمیں جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینا ہوگا ۔ کیونکہ ہمارے بیانات محاز آرائی اور تصادم کی کیفیت پیدا کررہے ہیں ۔
مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف اور ان کے بعض ساتھیوں کا خیال ہے کہ اس وقت مفاہمت کی سیاست کا مقصد نواز شریف کی سیاست پر سمجھوتہ کرنا ہے۔ جو انہیں قابل قبول نہیں ۔ اس کیفیت نے پارٹی کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہوا ہے ۔ مختلف اداروں میں ٹکراؤ کی پالیسی ریاست اور کے لیے سود مند نہیں ۔ ہمیں اپنی شخصیت اور مفاد کے دائرہ سے باہر نکلنا ہوگا۔