شکوک کی دھند اور سی پیک
- تحریر
- جمعہ 22 / دسمبر / 2017
- 3660
اللہ جانے یہ خود اذّیتی کا شوق ہے یا بد خبری کی تلاش کا چسکا لیکن دیکھا یہی ہے کہ منفی خبر روشنی کی رفتار سے پھیلتی ہے جبکہ اچھی خبر تقریباٌ پیدل سفر کرتی ہے ۔ ویسے تو میڈیا پر ایک سے بڑھ کر ایک سنسنی خیز سیاسی خبر کا قبضہ ہے لیکن ایسے میں معیشت کی اس خبر کی بھی سنی جاتی ہے جس سے کسی سیاسی جغادری کی مزید گوشمالی ہو سکے ۔ ایسی خبروں پر توجہ اکثر اصل خبر سے محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ ممدوح سے بغض کی بنا پر ہو جاتی ہے ورنہ ایک سے ایک رسیلی سیاسی خبروں کے جھرمٹ میں معیشت سے متعلق کسی خبر کا ہیڈ لائنز اور سرِ شام سجنے والے ٹاک شوز میں کیا کام۔
سی پیک کے چند منصوبوں کے حوالے سے بھی گزشتہ چند ہفتوں سے یہی معاملہ رہا۔ گزشتہ ماہ نومبر میں سی پیک منصوبے کے لئے قائم ساتویں جائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ اس اجلاس میں یوں تو کئی اہم فیصلے ہوئے لیکن چند منصوبوں پر بحث و تمحیص کے بعد مزید پیش رفت موخر کی گئی کہ یا تو شرائط پر باہمی اختلاف تھا یا ان منصوبوں کے لئے مزید ٹیکنیکل ہوم ورک اور فیزیبلٹی کی ضرورت تھی۔ ان منصوبوں کی مالیت اربوں ڈالرز کی تھی اور ان کے اثرات بھی دور رس تھے ۔ ایسے منصوبوں کے ہوم ورک، شرائط اور حسن و قبح پر مشاور ت کا عمل عموماٌ طویل ، پیچیدہ اور صبر آزما ہوتا ہے لیکن یار لوگوں نے اس اجلاس کی تفصیلات سے یہی ایک خبر دریافت کی کہ سی پیک کے منصوبے کچھ تو تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں اور ایک بڑے منصوبے سے چین نے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔ سی پیک کو مسلم لیگ (ن) حکومت اپنی اقتصادی کارگزاری کا نمایاں ترین شاہکار قرار دیتی ہے، اس لئے یہ ایک نہایت غنیمت موقع تھا ان یار لوگوں کے لئے جو بات بات پر مسلم لیگ (ن) پر چڑھ دوڑنے کے لئے کمر بستہ رہتے ہیں۔ سو، اللہ دے اور بندہ لے والا معاملہ ہوا۔ خبر ہیڈ لائنز سے ہوتی ہوئی ٹاک شوز میںآن پہنچی جہاں تجزیہ کاروں نے اپنے اپنے جوش ، سیاسی حمایت یا رقابت کے تناسب سے ان خبروں کو حسبِ توفیق رگڑا۔ معیشت کے اہم ترین منصوبوں پر گفتگو میں اعتدال خال خال اور الزامات کے طومار کا پلڑا بھاری رہا ۔ چند دنوں بعد آہستہ آہستہ وضاحتیں سامنے آئیں تو شکوک کی دھند سے اصل حقائق سامنے آئے لیکن تب تک میڈیا اور یار لوگ نئے دھرنے اور نئی ڈیڈ لائنز، سپہ سالار کی سینیٹ میں بریفنگ اور جہانگیر ترین کی نااہلی سمیت بہت سی خبروں میں بہتے پچھلے پُلوں سے بہت آگے نکل آئے۔
سی پیک کے زیر عمل منصوبوں پر کی گئی سرمایہ کاری اور مختص کئے گئے وسائل کا تخمینہ تیس ارب ڈالر کے بھگ ہے جبکہ سی پیک کا کل مجوزہ سرمایہ کاری حجم ساٹھ ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکا ہے۔ سی پیک کے پہلے فیز میں ان منصوبوں پر توجہ رہی جن سے فوری نتائج کی توقع تھی۔ ان میں زیادہ تر منصوبے انرجی، انفراسٹرکچر اور گوادر پورٹ سے متعلق تھے۔ سی پیک کا آغاز 2013 میں ہوا اور اس کے روڈ میپ کے مطابق اسکی تکمیل 2030 میں ہونا طے پائی۔ ابتدائی مرحلے کے منصوبے اب زیر تکمیل ہیں ، چند ایک جزوی یا مکمل ہو کر پیداوار شروع کر چکے اور باقی اگلے دو سالوں میں یکے بعد دیگرے مکمل کئے جانے کی توقع ہے۔ اس دوران دوسرے اور تیسرے مرحلے کے لئے وسط مدتی اور طویل مدتی پلان کی تیاری جاری رہی۔ گزشتہ ماہ ساتویں جائنٹ ورکنگ گروپ میں طویل مدت منصوبے کی تفصیلات طے کرکے ان پر دونوں ممالک نے دستخط کر دیئے۔ طویل مدت پلان یعنی Long Term Plan کاخلاصہ اسی ہفتے اسلام آباد میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے چینی حکام کی موجودگی میں پیش کیا گیا۔
سی پیک منصوبوں کی فنا نسنگ کی شرائط کے بارے میں شکوک و شبہات اس لئے بھی پروان چڑھتے رہے ہیں کہ ان کی مالیاتی شرائط پر رازداری یا پھر احتیاط کی دھند دانستہ برقرار رکھی گئی۔ اس ہفتے پیش گیا چھبیس صفحات پر مشتمل طویل مدت پلان کا خلاصہ بھی تفصیلات کے اعتبار سے کافی حد تک تشنہ پایا گیا ۔ بہر حال جو تفصیلات سامنے آئیں ان کے مطابق سی پیک کا دوسرا مرحلہ 2025 اور تیسرا مرحلہ 2030 تک مکمل کیا جائے گا۔ ان مراحل میں طے شدہ شعبوں پر توجہ رہے گی جن میں انفراسٹکچرسے منسلک رابطہ منصوبے یعنی Connectivity ، انرجی، زراعت اور صنعت میں اشتراک، انڈسٹریل پارکس، سیاحت، فنانشل سروسز سمیت کئی اور منصوبے بھی شامل ہیں۔ صنعت اور زراعت کے منصوبوں کے لئے ٹیکس مراعات کا پیکیج بھی ان میں شامل ہے۔ ایک اہم پیش رفت یہ سامنے آئی کہ حکومت چین کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری میں ڈالر کی بجائے چین کی کرنسی یوآن کو استعمال کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
ریلوے پر آٹھ ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری سے کراچی تا پشاور ریلوے کے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کیا جانا ہے۔ اس میگا پروجیکٹ کے لئے مزید ٹیکنیکل ہوم ورک اور فیزیبلٹی کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اسی طرح قراقرم ہائی وے کی توسیع اور دو اہم شاہراہوں کی تعمیر کے لئے بھی مزید وقت اور تفصیلات کا فیصلہ ہوا۔ دیامیر بھاشا ڈیم پر چودہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ ہے ، اس منصوبے پر چین کی طرف سے پیش کی گئیں شرائط پر پاکستانی حکومت کے تحفظات ہیں جس وجہ سے اس منصوبے کو فی الحال التوا کا سامنا ہے۔ فریقین اس پر مزید سوچ بچار اور مذاکرات کے بعد طے کریں گے کہ اس منصوبے پر کیا پیش رفت ممکن ہے ۔ یہ تمام منصوبے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری سے مکمل ہونے ہیں۔ بڑے منصوبوں کی حتمی اور مکمل ٹیکنیکل معلومات کی تدوین اور مالی معاملات کی تکمیل ہمیشہ ایک پیچیدہ اور صبر آزما کام ہوتا ہے۔ ان منصوبوں کی کمرشل کامیابی اور ان کو سرمایہ کاری کی واپسی کے قابل بنانے میں کئی صبر آزما مراحل در پیش آتے ہیں۔ ایسے منصوبوں کے لئے ایک یا دو اجلاسوں میں منظوری اور میڈیا میں واہ واہ ممکن نہیں ہو سکتی، شاید اسی لئے یار لوگوں نے تاخیر، مزید غورو غوض اور ورکنگ کو سیاسی رنگ دے کر نادانستہ سی پیک پر شکوک کی دھند کو مزید گہر ا کر دیا جس کی حقیقت کچھ اور تھی۔ یہ پیچیدہ اور مشکل اقتصادی معاملات ہیں یہ ٹاک شوز کی سی مہارت سے سلجھنے والے نہیں۔ انہیں سلجھانے کے لئے صبر، ہوش، تیاری اور دانش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کیا کریں سب ہاتھوں پر سرسوں اگانے کے لئے بے قرار ہیں۔
احتیاط ، مزید غور و غوض اور صبر کیوں نہ کیا جائے کہ یہ فیصلے آنے والے سالوں کے میزانئے پر اس قدر اثر انداز ہوں گے کہ چند غلط فیصلوں سے مجموعی معاشی توازن لڑکھڑا بھی سکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی چند ہفتے قبل واضح کیا تھا کہ اگلے سات سالوں میں سی پیک منصوبوں پر اصل سرمائے کی واپسی ، سود اور منافع کی ادائیگیوں کی مد میں اخراجات اپنے عروج کو پہنچ جائیں گے۔ اِن سالوں میں سالانہ ادائیگیاں ساڑھے تین سے ساڑھے چار ارب ڈالرز تک ہو سکتی ہیں۔ان ادائیگیوں کا تناسب 2019 میں جی ڈی پی کا 0.1% ہوگا جو 2024 میں بڑھ کر 1.6% ہونے کا امکان ہے۔ لہٰذا ان منصوبوں کی کاروباری کامیابی یعنی Commercial Susutainablity از حد ضروری ہے۔ ان کی شرائط پر مزید غور، ٹیکنیکل معاملات کی جانچ پڑتال اور معیشت میں ان کے اضافی پیداواری کردار میں کامیابی ہی ان منصوبوں کی کامیابی ہوگی ورنہ سات آٹھ سال بعد بھی یہ منصوبے ایک بار پھر ہیڈ لائنز اور ٹاک شوز کی زینت بن سکتے ہیں اور اس بار بھی نامناسب انداز اور ان چاہی وجوہات کے ساتھ۔ سی پیک کے آغاز ہی سے ملک میں سیاسی خلفشار اور عدم استحکام جاری رہا ہے جس کے اثرات اس منصوبے پر بھی پڑے۔
سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور ایک دوسرے کی سیاسی مخاصمت میں اس منصوبے پر سرعام کچھ اس انداز میں تنقید کی گئی کہ چین کے سفارت خانے کو اپنے تحفظات کا اظہار کرنا پڑا۔ سی پیک کا پہلا مرحلہ تو جیسے تیسے زیر عمل ہے اور اگلے تین سالوں میں مکمل ہونے کی توقع رکھنی چاہئے لیکن اس کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے دوران سیاسی ماحول کیا ہوگا، سیاسی استحکام کیسا ہوگا، سیاسی قیادت کی اہلیت اور معیشت پر اسکی گرفت کیا ہوگی، یہ اور ایسے کئی اہم سوال اس منصوبے کے اگلے مراحل کی کامیابی کے لئے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر آج کی سیاسی دھند کل نہ چَھٹی تو خدا نخواستہ سی پیک بھی اس دھند کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔