ڈالر کی اونچی اُڑان اور پاکستان روپے کی نیچی پرواز

امریکی ڈالر کی قیمت8دسمبر کو انتہائی اونچی سطح پر جا پہنچی جس سے فارن ایکسچینج کی مارکیٹ میں بحران پیدا ہو گیا۔ منڈی کے ذرائع کے مطابق سکوک اور یورو بانڈ کی مد میں 2.5ارب ڈالر کی آمد کے باوجود پاکستان میں امریکی ڈالر انٹر مارکیٹ میں 111روپے سے اوپر چلا گیا اور بعض ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ڈالر 120روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ کچھ دن ڈالر کی قیمت106سے108روپے تک رہی مگر اب یہ دوبارہ 112روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

پاکستانی کرنسی کی قیمت میں اس طرح4.7فیصد کمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے دوسری کرنسیوں کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔ تیل کی قیمت بڑھ کر 66ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے جس سے خوردنی تیل ، خشک دودھ اور کھانے پینے کی اشیاء 8سے20فیصد مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے ساتھ درآمدی اشیاء جس میں الیکٹرانکس، کاسمیٹکس اور امپورٹڈ خوراک شامل ہے ان کی قیمت میں بھی دس فیصد اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ تیل کی قیمت بڑھنے سے کرایوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اکنامک سوشل کمیشن برائے اشیاء پیسفک نے اپنی رپورٹ میں شرح تبادلہ کو در پیش خطرات کی پشین گوئی کی تھی جبکہ آئی ایم ایف نے بھی ایکسٹرنل اکاؤنٹ کو متوازن کرنے کیلئے پاکستانی روپے کی شرح کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ پاکستانی روپے کی حالیہ قدر میں کمی کو ملکی معیشت کیلئے بہتر قرار دیا ہے کیونکہ اس سے امپورٹرز کو اضافی رقم حاصل ہوگی۔ حکومت نے آئی ایم ایف کی ہدایت پر کرنسی کی قیمت میں غیر دانستہ طور پر کمی کر دی ہے جس سے کرنسی کی قیمت پر پابندی میں نرمی آئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ڈالر کی قیمت میں کمی مارکیٹ میں طلب و رسد کا معاملہ ہے دوسرے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ اور تجارتی خسارہ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، جس کی وجہ ہماری برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ہے۔

اس وقت تجارتی خسارہ 35ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جس سے زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ہے۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ ایکسٹرنل اکاؤنٹ میں توازن اور چھ فیصد اونچی جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنے میں مدد دے گا۔ اگر اسٹیٹ بینک نے ڈالر کی قیمت کو ایڈجسٹ نہ کیا تو ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر مزید کم ہو سکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے روپے کی قدر میں کمی کو مارکیٹ ایڈجسٹمنٹ اور آل پاکستان ٹیکسٹائیل ملز ایسو سی ایشن نے ایکسپورٹ کیلئے فائدہ مند قرار دیا ہے۔ جبکہ ڈالر کی قدر بڑھنے سے درآمدی اشیاء مہنگی ہو جائیں گی جس کی ادائیگی پر لاکھوں روپے نقصان ہوگا۔ اسٹیٹ بنک نے روپے کی قدر مستحکم رکھنے کیلئے مارکیٹ میں مداخلت کا عندیہ دیا ہے۔ سابق وزیر خزانہ نے روپے کی قدر کو انا کا مسئلہ بنایا ہوا تھا۔ پہلے وہ ڈالر کی قدر 98روپے بعد میں 105اور108رکھنے پر بضد تھے ، جس نے ملکی برآمدات کو متاثر کیا۔

آئین کے مطابق اسٹیٹ بینک ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے جس کو کسی دباؤ کے بغیر کرنسیوں کی قیمت متعین کرنے کا اختیار حاصل ہے لیکن اسٹیٹ بینک کی مداخلت کے ذریعے ڈالر کی قیمت بر قرار رکھنا ایک مصنوعی عمل ہے۔ وہ زیادہ عرصہ بر قرار نہیں رکھا جا سکتا اور کسی بھی وقت ڈالر کی طلب اور رسد میں فرق کی صورت میں اپنی قدر کھو سکتا ہے۔ امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے کے پیش نظر پاکستان میں ڈالر خریدنے کا عمل تیز ہوا ہے اور لوگوں نے اس کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے چھ ارب ڈالر خرید کر اپنے اکاؤنٹس میں جمع کرائے ہیں۔ ڈالر میں سرمایہ کاری کا یہ رجحان اچھا نہیں ہے۔ یاد رہے پاکستانی وزیر داخلہ نے حال ہی میں ڈالر کا دباؤ کم کرنے کیلئے چینی کرنسی یوآن میں لین دین کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔ پاکستان میں محصولات کے ذریعے ہی حکومت اپنے وسائل بڑھا سکتی ہے لیکن بد قسمتی سے اس کیلئے کوئی منظم نظام موجود نہیں ہے۔  فیڈرل حکومت ایف بی آر کے ذریعے ٹیکس اکٹھے کرتی ہے جب اس کی کار کردگی کو دیکھیں تو معلوم ہوگا ملک میں نئے ٹیکس گزاروں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا ہے بلکہ موجودہ ہی پر بوجھ بڑھا دیا گیا ہے۔  صوبائی سطح پر ٹیکس وصولی کا کوئی نظام ہی موجود نہیں ہے۔ اگر ہے تو اتنا کمزور ہے کہ صرف 55فیصد لوگوں سے پراپرٹی ٹیکس وصول ہی نہیں کیا جاتا۔  80فیصد ٹیکس گزار نیٹ ورک میں شامل ہی نہیں ہیں۔ پراپرٹی کی خریدو فروخت پر عام مارکیٹ کی نسبت سے کہیں کم ریٹ پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے حکومت کو اپنے جاری اخراجات کو پورا کرنے کیلئے بینکوں سے یا عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے حاصل کرنے پڑتے ہیں۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو کہ اپنی کامیاب پالیسیوں کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں ان کی کارکردگی میں قرضے لے کر زر مبادلہ کے ذخائر کو بلڈ کرنا ہے مگر ان قرضوں سے کوئی معقول آمدنی کے ذرائع نہیں پیدا ہو سکے ہیں۔ لہذا قرضوں کا بوجھ عوام پر پڑا ہے جس کو وہ ٹیکسوں کی شکل میں ادا کر رہے ہیں۔ ماہر معاشیات ڈی ویلیو ایشن کے خلاف ہیں کیونکہ ماضی میں اس سے اچھے اثرات نہیں پڑے ہیں۔ حکومت نے جب بھی پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی ایکسپورٹر نے اس کا فائدہ بیرونی خریداروں کو ڈسکاؤنٹ کی شکل میں منتقل کر دیا اور ملکی ایکسپورٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ۔ روپے کی قیمت میں صرف پانچ روپے کم کرنے سے ہمارے قرضوں میں چار سو پچیس ارب روپے کا اضافہ ہو جائے گا جو کہ پیٹرول اور خام مال کی قیمتیں بڑھ جائیں گی افراط زر میں اضافہ ہوگا۔ ملک میں مہنگائی کا طوفان کھڑا ہو سکتا ہے۔ ملکی ایکسپورٹ میں کمی کی وجہ سے برآمدگان کو ایک ہزار روپے کے ریفنڈ کی عدم ادائیگی ہے جس کی وجہ سے ان کا سرمایہ کم یا منجمد ہوا ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنے ممبر ممالک کے بیرونی ذخائر کو سپورٹ کرنے کیلئے ڈارئنگ رائٹس (SDRs)کا فنڈ قائم کیا تھا جس میں ممبر ممالک کو آئی ایم ایف کا قرضے کا پروگرام ختم ہونے کے بعد اس کی سفارشات پر عمل کرنا ضروری تھا۔ اس تمام کام کی آئی ایم ایف نگرانی کرتا ہے اور کامیابی کی صورت میں ممبر ممالک کو کلین چٹ دی جاتی ہے۔

آئی ایم ایف کے علاوہ دنیا کے دیگر ادارے بھی آسان قرضے دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں آئی ایم ایف کے پروگرام کے ختم ہونے کے بعد عملدرآمد کی نگرانی کیلئے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات ہوئے جس میں ڈھائی ارب ڈالر کے سکوک اور یرو بانڈ کا اجرا اور ڈالر کی قیمت 110روپے پر لانے کا عندیہ دیا گیا۔ مذاکرات میں کامیابی کی صورت میں پاکستان 4.3 SDRsفیصد کا حقدار ہو جائے گا جس سے حکومت زر مبادلہ کے ذخائر آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا تجارتی خسارہ 35ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے۔  اور سی پیک کی درآمدات کے مد نظر 2019تک ہمارا کرنٹ خسارا 3.4فیصد تک پہنچ جائے گا۔ ملک میں غیر یقینی سیاسی صورتحال بھی معاشی سر گرمیوں کو متاثر کر رہی ہے جس سے منڈی مندے کا شکار ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا عمل رک گیا ہے۔ ہمیں مستقبل میں قرضوں کی ادائیگی ایکسپورٹ ترسیلات زر بیرونی سرمایہ کاری اور زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے ہمارا روپیہ دباؤ کا شکار رہے گا ۔