قومی تاریخ کی تلاش میں لاہور کا دورہ اور وکیل
لاہور ایک تاریخی شہر ہے اور ہم بھی وہاں اپنی تاریخ کی تلاش اور اس کو قومی نصاب میں شامل کروانے کی خاطر عالمی شہرت یافتہ قانون دان ڈاکٹر عبدالباسط کے ساتھ مشاورت کے لیے سوموار اٹھارہ دسمبرکو ان کے دفتر پہنچے۔ میرے ساتھ تاریخ کے پروفیسرجمیل کھٹانہ اور میرے ایک عزیز ناصر خان تھے۔ جموں کشمیر کے موجودہ حکمران کتنے عظیم اور باشندگا ن ریاست کتنے بد نصیب ہیں کہ انہیں اپنی تاریخ کی تلاش اور اسے تعلیمی اداروں میں پڑھانے کے لیے قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالتوں کے دھکے کھانے پڑرہے ہیں۔ لیکن ہمیں کامل یقین ہے کہ مورخ سب کے ساتھ پور پورا انصاف کرے گا۔
ڈاکٹر باسط عدالت میں توقع سے زیادہ مصروف ہوگئے۔ ہم نے وقت سے فائیدہ اٹھاتے ہوئے لاہور کے بعض تاریخی مقامات دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ مینار پاکستان ، بادشاہی مسجد اور داتا دربار تو میں نے پہلے ہی دیکھے ہوئے تھے جبکہ پروفیسر جمیل کھٹانہ پڑھاتے ڈڈیال آزاد کشمیر اور رہتے لاہور میں ہیں، اس لیے لاہور کے بارے ان کی معلومات مکمل تھیں۔ تاہم میں زندگی کا طویل عرصہ بیرون ملک گزارنے کی وجہ سے اس شہر کے بارے میں معمولی معلومات رکھتا تھا۔ پروفیسر جمیل مجھے مسلم مسجد، شب بھر مسجد جس پر علامہ اقبال نے ایک تاریخی شعر (مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے) بھی لکھا تھا ۔۔۔۔ دکھانے کے بعد غلام سے سلطان بننے والی تاریخی ترک پس منظر رکھنے والی عظیم شخصیت قطب الدین ایبک کے مقبرہ پر لے گئے۔ غیر ملکی توسیع پسندوں کے بارے میرے کچھ تحفظات ہیں۔ بے شک ان کا تعلق میرے دین اور نسل سے ہی کیوں نہ ہو لیکن سلطان قطب الدین کو میں عظیم اس لیے کہتا ہوں کہ وقت کے حکمرانوں نے انہیں خریدا مگر انہوں نے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر غلامی سے سلطانی تک کا سفر طے کر کے خود کو بے مثال بنا دیا۔
سلطان قطب الدین 1150-1210 سینٹرل ایشیا میں ایک ترک خاندا ن میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں انہیں فروخت کر دیا گیا۔ نشاپور ایران کے ایک قاضی نے انہیں خریدا۔ قاضی نے اسے اپنے دوسرے بچوں کی طرح اعلی تعلیم دلوائی۔ انہیں اس دور کے بڑے لوگوں کے رسم و رواج کے مطابق گھڑ سواری کی تربیت بھی دی گئی لیکن قاضی کی وفات کے بعد اس کے حاسد بیٹوں نے قطب الدین کو بیچ دیا۔ آخری بار انہیں سلطان محمود غوری نے خریدا جہاں وہ اپنی اعلی صلاحیتوں کے بل بوتے پر غوری کی فوج میں کمانڈر بن گئے جہاں غوری کی ہدایت پر قطب الدین نے شمالی ہندوستان کو فتح کیا۔ محمود غوری نے جب اپنی توجہ سینٹرل ایشیا پر مرکوز کی تو سلطان قطب الدین ایبک کو ہندوستان میں پیش قدمی کے مکمل اختیار دے دیئے۔ سخاوت اور فراخدلی کے باعث انہیں عام لوگ لکھ بخش پکارا کرتے تھے۔ دوران جنگ غوری کے قتل کے بعد سلطان قطب الدین غوری کے جانشین مقرر ہوئے۔ قطب الدین نے مسجد قوت الاسلام اور قطب مینار کی تعمیر شروع کی جو ان کی وفات کی وجہ سے ان کے جانشین شمس الدین نے مکمل کی۔ انہوں نے محمود غوری کے برعکس مزید فتوحات کے بجائے اپنی سلطنت کو استحکام دینے کی کوشش کی۔ 1210میں وہ پولو کے کھیل کے دوران حادثہ میں فوت ہو گئے۔ وہ انار کلی میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔
وہاں سے ہم ایک اور تاریخی شخصیت سید سعید شاہ نازکی مرحوم کے گھر گئے۔ نازکی صاحب کا تعلق مقبول بٹ شہید کے گاؤں بارہ مولہ سے تھا۔ انہوں نے جان پر کھیل کر خاکساروں کے حملہ سے قائد اعظم کو بچایا مگر انہیں بھی وحدت کشمیر کی بحالی کے اصولی موقف کی وجہ سے گنگا کیس میں دھر لیا گیا۔ آزاد احمد عباس نے سعید نازکی پر ایک کتاب بعنوان ‘آزادی کا سفر آسان نہیں‘ لکھی جس میں سن چوسٹھ میں سوچیت گڑھ میں مقبول بٹ شہید اور دیگر چند ساتھیوں کے ہمراہ وطن کی مٹی ہاتھ میں رکھ کر تاحیات وطن عزیز کی آزادی کا عہد کیا۔ اس دوران فرط جذبات سے بے ہوش ہو گئے۔ آخری دنوں میں روحانیت ان کی شخصیت پر غالب آ گئی ۔ دوسرے مرحلے میں ہم شعبہ کشمیریات کے ڈاکٹر اصغر اقبال سے ملے جن پر چند ہفتے قبل ایک تنظیم نے ان کے دفتر میں جا کر حملہ کیا مگر حکومت پنجاب نے ابھی تک حملہ آوروں کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہ کرکے تعلیمی اداروں کے اندر خوف و ہراس کی فضا قائم کر رکھی ہے۔ اس ملاقات میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما سردار انور خان ایڈووکیٹ بھی موجود تھے جنہوں نے ہماری نصاب مہم میں بھر پور کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
تیسرے مرحلے میں ہم قانون منزل میں قائم ڈاکٹر عبدالباسط کے دفتر میں چلے گئے۔ یہ ہماری پہلی باالمشافہ ملاقات تھی لیکن ڈاکٹر باسط نے پہلی نظر میں ہی اندازہ کر لیا کہ ان کے تین مہمانوں میں سے راقم کون ہے۔ ڈاکٹر باسط کے دادا مولوی عبداﷲ وکیل بھی سرینگر میں ایک نامور وکیل تھے جنہوں نے کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی جد و جہد میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر باسط نے سن ساٹھ میں پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ یو این کی چھٹی کمیٹی میں پاکستانی وفد کے ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر خدمات سر انجام دیں جبکہ سن 1968-1969 تک برطانیہ میں ریسرچ سکالر رہے۔ اور 1974-2012 تک پنجاب یونیورسٹی شعبہ قانون کے ایسوسی ایٹ پروفیسر رہے۔ ٹیکساس سے تیل اور گیس اور کینیڈا سے ائر لا جبکہ 68 میں امریکہ سے ہی دوبارہ ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ سن 1974 میں باسط مشیر لا فرم قائم کی۔ سن پچاسی میں ادارہ تحقیق قانون قائم کیا۔ مسلم۔ کرسچئین فیلوشپ انٹرنیشنل نے انسانی حقوق کے لیے خدمات پر ڈاکٹر باسط کو مارٹن لوتھر کنگ ایوارڈ دیا۔ وہ کشمیر میں مسلح جد و جہد اور بریک آف پاکستان کے علاوہ متعدد دیگر کتابوں کے مصنف ہیں۔ اس وقت سپریم کورٹ کے سنئیر وکیل ہیں۔
بھارت میں پھانسی پانے والے موجودہ تحریک کے بانی شہید کشمیر مقبول بٹ اور پنجاب یونیورسٹی شعبہ کشمیریات کے پروفیسر اشرف قریشی کا کیس گنگا ہائی جیکنگ میں ڈاکٹر باسط صاحب نے ہی لڑا۔ گنگا میں تین سو سے زائد کشمیری گرفتار ہوئے تھے۔ ہم بھی آزاد کشمیر کے ہزاروں وکیلوں کو چھوڑ کر لاہور کا پانچ سو میل کا سفر طے کرکے ڈاکٹر باسط کو وکیل مقرر کیا ہے۔ جنہوں نے اپنا قومی فرض سمجھ کر ہماری مدد کا وعدہ کیا ہے۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی مہربانی ہے کہ قومی تاریخ جو کشمیری بچوں کا فطری حق ہے، وہ انہیں دلوانے کے لیے ہمیں اپنے ہی حکمرانوں سے قانونی جنگ کرنا پڑ رہی۔ یہ ایک تکلیف دہ اور صبر آزما جنگ ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ زہنی غلاموں کے خلاف آزادی پسندوں کی اس افسوس ناک جنگ میں فتح آخر حق پرستوں کی ہوگی۔