ماحولیاتی آلودگی اور صاف پانی کی فراہمی کے مسائل

صاف ستھری فضا تمام نباتات حیاتیات اور انسانی سر گرمیوں کیلئے ضروری ہے۔ لیکن سرمایہ داری کی دیو ہیکل سر گرمیوں اور ماحول دشمن منافع کی اندھی ہوس نے آج دنیا کے  تمام ممالک کی فضا کو برباد کررہی ہے۔ اس نے فضا کو زہر قاتل بنا دیا ہے، پہاڑوں پر جنگلوں کو صاف کر دیا گیا ہے، شہروں کے رہائشی علاقوں میں قائم فیکٹریاں، زہریلا دھؤاں اگلتی رہتی ہیں اور ان سے خارج ہونے والا آلودہ کمیکل زدہ پانی صاف پانی کی نہروں اور دریاؤں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ان زہریلی گیسوں کو ہر جاندار اپنے پھیپھڑوں میں کھینچنے اور گندے پانی کو پینے پر مجبور ہے۔

بڑے شہروں میں اسی فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ امیر لوگ تو بوتلوں میں بند پانی کو منرل واٹر کے نام پر خرید لیتے ہیں جن کے بارے میں رپورٹ ہے 80فیصد کمپنیوں کا پانی مضر صحت ہے۔ کچھ لوگ فلٹریشن پلانٹ سے پانی حاصل کرتے ہیں جن کی صفائی اور فلٹرز کی تبدیلی مہینوں نہیں ہوتی ہے۔ صاف پانی کی لائنیں گٹروں میں سے گزاری جاتی ہیں جس سے گند ا اور صا ف پانی مکس ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان میں گردے ، جگر اور معدے کی بیماریوں کی شرح مستقل بڑھ رہی ہے جس میں سرطان سر فہرست ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان بالخصوص پنجاب میں سموگ کا راج رہا جو کہ  زہریلی گیسیں ہیں۔ کچھ ماہرین نے اس کا ذمہ دار ہندوستان کو ٹھہرایا ہے کیونکہ وہاں پر فصل کی کٹائی کے بعد باقیات کو جلانے سے پیدا ہونے والا دھؤاں پاکستان میں آ گیا تھا۔ یاد رہے جنگل اور درخت زہریلی گیسوں کو اپنی طرف کھیچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر ہم نے شہروں میں موجود درخت کاٹ دیئے ہیں جبکہ وہاں پر کھیتوں اور باغات کے نام پر کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ وہاں  ریت سمینٹ اور کنکریٹ سے قلعے تعمیر کر دیئے گئے ہیں۔

آج کل کی تعمیرات ماحول دوست نہیں ہیں۔ مکانات میں ہوا روشنی کی آمد اور اخراج کا مناسب انتظام نہیں ہے۔ بیشتر نئی تعمیرات میں کمروں میں روشنی کیلئے دن میں بجلی کی لائٹس جلائی جاتی ہیں تو وہاں پر جراثیم کش دھوپ کی آمد کا تصور کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اکتوبر2013میں  فضا میں موجود آلودگی کو انٹر نیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر نے  کینسر کی وجہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح ایک ریسرچ کے مطابق سکول جاتے ہوئے بچوں میں دمے کی شرح پرانی نسل کے مقابلے میں 30فیصد زیادہ ہے۔ پچھلے سال گارڈین اخبار میں ایک رپورٹ کے مطابق نفسیاتی امراض اور ماحولیاتی آلودگی کا براہ راست تعلق ہے۔ کسی بھی جگہ تھوڑی سی مقدار میں آلودگی بڑھنے سے نفسیاتی بیماریوں میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی فہرست میں دل کی بیماریاں بھی شامل ہیں۔

آج کل انسانی سر گرمیوں کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صوتی آلودگی روز مرہ کا معمول بن گئی ہے۔ جو لوگ صنعتی علاقوں یا جن کے گھروں کے قریب فیکٹریاں موجود ہیں وہ اس اذیت سے بخوبی واقف ہیں کہ مشینوں سے پیدا ہونے والی کھڑ کھڑاہٹ کس طرح سماعت کو متاثر کرتی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی میں صوتی آلودگی کو شامل کر لیا جائے تو اس کے انسانی صحت پر منفی اثرات بڑھ جاتے ہیں۔ ہمارے بڑے شہروں میں لوگ ائر پورٹ کے ارد گرد یا اس کے قریب اپنی رہائش بنانے کو ترجیح دیتے ہیں مگر ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جہازوں کے بے پناہ شور کی وجہ سے قریبی مکینوں میں دل کی بیماریاں ، فالج سے اموات اور دل کے دوروں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس شور سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں اعصابی و ذہنی تناؤ و تھکن ، سر درد اور دماغی بیماریاں شامل ہیں۔ جس کے روز مرہ زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان تمام مسائل کی وجہ کسی منصوبہ بندی کے بغیر آبادیوں کا پھیلاؤں اور اس میں کار خانوں کی تعمیر ہے۔ انسانی صحت پر نقصانات کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں ٹرانسپورٹ کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے بوجھ کو موجودہ سڑکیں برداشت نہیں کر سکتی ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک جام رہتی ہے۔ دھول اور ایندھن سے لوگوں کے پھیپھڑے برباد ہو رہے ہیں۔ فیکٹریاں بند عمارتوں میں قائم کی جاتی ہیں جہاں پر زہریلی گیس کا اخراج موجود نہیں ہے۔ اس غیر صحت مند ماحول میں محنت کشوں کی صحت خراب ہو رہی ہے۔ وہ وقت سے پہلے بوڑھے ہو رہے ہیں یا تیزی سے موت کی گود میں جا رہے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کرہ ارض کے قدرتی ماحول کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔ اس کیلئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے مگر ہمارے حکمران طبقات کو صحت پینے کا صا ف پانی فراہم کرنا ترجیحات میں شامل نہیں ہے وہ تو محض اپنی سیاسی لڑائی میں اداروں کو نیچا دکھانے ،ان کے پیچھے کھڑا ہونے یا مخالفت کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان میں افغان جنگ کے دوران آنے والے مہاجرین نے مقامی ٹمبر مافیا کے ساتھ مل کر جنگلات کا قتل عام کیا ہے جبکہ عرصہ دراز تک نئے جنگلات اور نئے درخت نہیں لگائے گئے ہیں۔ یاد رہے ایک درخت کو پختہ ہونے تک پندرہ سے سترہ سا ل کا عرصہ درکار ہوتا ہے جبکہ اس کو گھنٹوں میں کاٹ کر گرایا جاتا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے کروڑوں نئے درخت لگانے کا دعویٰ کیا ہے بظاہر جس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کے ستر فیصد ممالک میں جنگلات ختم ہو چکے ہیں صرف امریکہ میں95فیصد جنگل ختم ہو گئے ہیں۔ ہر روز ایک سو پچاس پودوں، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کی اقسام کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ دنیا میں ستر فیصد زر خیز زمٹی تباہ ہو چکی ہے۔ پاکستان میں پانی کی سطح گر رہی ہے۔ ہمارا کروڑوں ہیکٹر پانی سیلاب کے دنوں میں ضائع ہو جاتا ہے۔ ہم تیزی سے پانی کی کم یابی کے بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان واحد ملک ہے جہاں پر صاف پانی کو ہم صفائی، گاڑیاں صاف کرنے اور دیگر امور میں استعمال کرتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ دنیا میں صاف پانی کی قدر کی جاتی ہے۔ اور اسے کسی منصوبہ بندی کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا کی 75فیصد سطح سمندری پانی ہے۔ تازہ قابل استعمال پانی کے دنیا کے حجم کے حوالے سے صرف2.5فیصد ذخائر موجود ہیں۔ موسموں کی تبدیلی کی وجہ سے گلیشر پگھل رہے ہیں۔ انسانی سر گرمیوں کیلئے پانی بنیادی جزو ہے۔ ایک سال میں دس ارب ٹن سے زیادہ پانی استعمال کیا جاتا ہے مگر پھر بھی 1.5ارب انسانوں کو تازہ اور صاف پانی میسر نہیں ہے۔ ابتدا میں انسانوں نے دریاؤں اور ندیوں کے کنارے بستیاں آباد کی تھیں تاکہ پانی کی قربت سے زراعت اور دیگر ضروریات کیلئے پانی حاصل کیا جا سکے۔ کوڑا اور فضلہ پانی میں بہا دیا جاتا تھا۔ صنعتی انقلاب کے بعد پچھلے 150سالوں سے زراعت میں سب سے زیادہ پانی استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ کل پانی کا ستر فیصد ہے۔ جبکہ صنعتوں کیلئے بائیس فیصد پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ دیگر پانی گھریلو استعمال اور دیگر مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے زیادہ تازہ پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے جس میں آبپاشی گلا بانی ، ڈیری فارمنگ وغیرہ شامل ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق 25سو گیلن پانی استعمال کر کے آدھا کلو گوشت اور ایک گیلن دودھ کیلئے ایک ہزار گیلن پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا میں پانی کو صنعتوں کیلئے دریاؤں سے حاصل کیا جاتا ہے بڑی بڑی پائپ لائنیں بچھا کر آلودہ پانی کو زمین میں جزب کر دیا جاتا ہے یا فیکٹریوں کا کیمیکل زدہ آلودہ پانی ندی نالوں میں ڈال دیا جاتا ہے جس سے زیر زمین پانی آلودہ ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے پاکستان کے بڑے شہروں میں زیر زمین پانی کو مضر صحت قرار دیا گیا ہے۔  موسم سرما میں ہمارے ڈیم خشک ہو جاتے ہیں۔ پھر بھارت میں دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر کی وجہ سے پانی کا بہاؤ پاکستان میں کم ہو رہا ہے۔ ان سارے مسائل کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دریاؤں پر ڈیم  تعمیر نہیں کیے ہیں۔ جہاں پر پانی کو ذخیرہ کرکے موسم سرما میں استعمال کیا جا سکے ۔ ملک میں  پانی کے نئے ذخائر تعمیر کرنے کو ترجیح دینی چاہیے اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم زراعت کے ساتھ پینے کے میٹھے پانی سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔