بدعنوانی کے خلا ف جنگ سے ہی نظام مضبوط ہوگا

پاکستان سمیت عالمی دنیا کی سیاست میں کرپشن اور بدعنوانی کا مسئلہ ایک اہم سیاسی مسئلہ کے طور پر سامنے آیا ہے ۔ بہت سے ملکوں میں سیاسی محاذ پر جو سیاسی و سماجی تحریکیں چل رہی ہیں ان میں کرپشن و بدعنوانی کے خلاف مہم بھی مقبول ترین سیاسی نعرہ ہے۔  پچھلی دہائی میں جب لوگ سیاست میں کرپشن اور بدعنوانی کی بات کرتے یا تحریک چلانے کی بات کرتے تو ان کو کسی بھی سطح پر پزیرائی نہیں ملتی تھی ۔ لیکن اب حکمران طبقات میں بھی عوامی حمایت کے حصول کے لیے کرپشن او ربدعنوانی کے مسئلہ کو مقبول ایجنڈے کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ بالخصوص اس تحریک کو طاقت فراہم کرنے میں دو عوامل کا اہم حصہ ہے ۔ اول نئی نسل کے نوجوان  اور دوئم سوشل میڈیا کی نئی ابھرتی طاقت۔

پاکستان میں بھی عمران خان کی ساری سیاست کا مرکز کرپشن کے خلاف  تحریک ہے ۔ ان کے بقول کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ کیے بغیرسیاست ، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا تصور بے معنی ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف جنگ کیسے لڑی جائے کیونکہ یہاں ایک طرف مسئلہ کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف کامیابی سے نمٹنا ہے تو دوسری طرف اپنے کمزور سے جمہوری ، سیاسی اور قانون کی حکمرانی پر مبنی نظام کو بھی محفوظ بنانا ہے ۔ یہ جو منطق دی جاتی ہے کہ اگر ہم نے کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف کوئی بڑا قدم اٹھانے کی کوشش کی تو اس سے جمہوری نظام کو خطرہ پڑ سکتا ہے ۔ بنیادی طور پر ایک مخصوص طبقہ اس بیانیہ کو اجاگر کرتا ہے کہ کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف جب بھی کبھی جنگ یا تحریک سامنے آتی ہے تو اس کے پیچھے اسٹیبلیشمنٹ ہوتی ہے ۔ اصل میں ہماری سیاسی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ جب بھی جمہوری حکومتوں کو ختم کیا گیا تو اس کے پیچھے کرپشن اور بدعنوانی کو جواز بنایا جاتا رہا ہے اور  فوجی حکمران اسی کو بنیاد بنا کر جمہوری نظام کی بساط کو لپیٹتے رہے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں کرپشن اور بدعنوانی پر مبنی تحریکوں اور سیاسی عمل کو  شک اور بداعتمادی کے ساتھ دیکھا گیا ۔ یہ بھی المیہ رہا ہے کہ خود فوجی قیادتوں نے بھی کرپشن اور بدعنوانی کے معاملات سے نمٹنے کی بجائے سیاسی سمجھوتے کرکے اپنی ساکھ کو بھی متاثر کیا اور لوگوں کو بھی محسوس ہوا کہ یہ نعرے بھی یہاں سیاسی ہتھیار کے طو ر پر اپنے مخالفین کے خلاف استعمال ہوتے ہیں ۔ اس لیے آج بھی جب کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کے خلاف بدعنوانی کے معاملات سے نمٹنے کے لیے قانون حرکت میں آرہا ہے تو وہی پرانا بیانیہ غالب ہے کہ کرپشن اور بدعنوانی کو جواز بنا کر سیاسی مخالفین کو ڈرانے ، دھمکانے یا سیاسی طور پر ختم کرنے یا دیوار سے لگانے کے ایجنڈے پر عمل ہو رہا ہے ۔

اس وقت کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف نمٹنے کے لیے ساری توجہ کا مرکزہماری عدالتیں اور اس کے ماتحت ادارے ہیں ۔ وہ ادارے بھی جو عملی طور پر کرپشن کے خاتمے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے بنائے گئے جن میں نیب سرفہرست ہے کو فوقیت حاصل ہے ۔ اس دفعہ توقع یہ کی جارہی ہے کہ عدلیہ اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کرے گی ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت بعض سیاسی ، جمہوری اور ان کے حامی عناصر میں عدلیہ پر بھی سخت تنقید کی جارہی ہے ۔ دلیل یہ دی جارہی ہے کہ عدلیہ کو اسٹیبلیشمنٹ اپنے ذاتی مفاد اور خواہش یا ایجنڈے کی تکمیل کے لیے منفی طور پر استعمال کررہی ہے ۔ اس سوچ کو بنیاد بنا کر کرپشن اور بدعنوانی کی مہم میں فکری مغالطے بھی پیدا کیے جارہے ہیں تاکہ اس مہم کو سیاسی بنیادوں پر کمزور کیا جاسکے ۔ اول یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر عدالتیں سیاسی بنیادوں پر معاملات سے نمٹ رہی ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی ہمارے حکمران طبقات پر عائد ہوتی ہے ۔ کیونکہ اس عدلیہ کو نظریہ ضرورت اور سیاسی مداخلتوں کی بنیاد پر چلانے کی جو روش طاقت ور طبقات نے قائم کی ، وہ اداروں کو کمزور کرنے کا سبب بنی ہے ۔
توجہ طلب سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہمیں کرپشن اور بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ایسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں یا ان کی حمایت کی جاتی ہے جو جمہوری قوتوں کے لیے خطرہ ثابت ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ بڑی سادہ ہے کہ سیاسی حکومتیں اگر خود قانونی اور ادارہ جاتی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف بڑے اقدامات نہیں کریں گی تو سیاسی نظام میں ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ ہم سب نے دیکھا ہے کہ کرپشن سے نمٹنے کے اداروں کو کیسے اپنے حق میں اور مخالفین کی مخالفت میں استعمال کرنے کے رجحان نے قومی سیاست میں کرپشن اور بدعنوانی کے معاملات کو بگاڑا ہے ۔ حکومتوں نے اول تو کوئی نئے  ادارے نہیں بنائے جو اس مرض سے نمٹ سکیں ، البتہ جو ادارے تھے ان کو کمزور ضرور کیا ہے ۔ اس لیے آج جب کچھ سیاسی فریقین میں کرپشن اور بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے عدلیہ کو سامنے آنا پڑا ہے تو اسے سخت مخالفت کا سامنا ہے ۔

مسئلہ کسی ایک حکومت کا نہیں بلکہ ماضی کی تمام حکومتیں اور سیاسی قیادتیں جو اقتدار کی سیاست میں رہی ہیں سب ہی اپنے مجرمانہ اقدامات اور غفلت یا بدنیتی کی وجہ سے ان جرائم کو تحفظ فراہم کرتی رہی ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اگر عدلیہ کوئی فعال کردار کے لیے سامنے بھی آئے تو اسے مخالفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس سے خود عدلیہ کی ساکھ اور فعالیت پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔ پچھلے دنوں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا تھا کہ اگر حکمرانی کا نظام اور حکومتیں فعال کردار ادا نہیں کریں گی تو اس سے ایک بڑا خلا پیدا ہوتا ہے اور لوگ غیر معمولی اقدامات اور اداروں سے توقع لگاتے ہیں ۔ اس لیے اصل مسئلہ حکمرانی کے نظام کو شفاف بنانا ہے جہاں بغیر کسی تفریق کے سب کو ہر قسم کی بدعنوانی پر جوابدہی کے عمل سے گزرنا چاہیے ۔ کیونکہ اس تاثر کی بھی نفی ہونی چاہیے کہ موجودہ احتساب کا عمل محض کسی ایک خاص فرد یا خاندان تک محدود ہے ۔

یہ جو جمہوریت میں ہم پارلیمانی نظام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی جنگ لڑتے ہیں تو اس میں یہ ہی ادارے کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف موثر قانون سازی اور عملدرآمد کے نظام میں کیوں ناکام ہوتے ہیں ۔ پارلیمنٹ کو محض تقریری کلب نہیں ہونا چاہیے  بلکہ اس کا عمل جتنا شفاف اور موثر ہوگا اتنی ہی جمہوریت اور نظام بھی اپنی افادیت منواسکے گا ۔ بدقسمتی سے  ہمارے حکمرانی ، قانونی اور انتظامی اداروں میں ہر سطح پر مختلف فریقین کے درمیان ذاتی مفادات پر مبنی گٹھ جوڑ بن گئے ہیں اس کو ہر صورت چیلنج کرکے توڑنا ہوگا ۔ کیونکہ اس باہمی گٹھ جوڑ کی وجہ سے کرپشن او ربدعنوانی کا ناسور ایک مضبوط قلعہ بن گیا ہے ۔ عدالتوں کو بھی اپنا مقدمہ درست کرنا ہوگا اور بلاوجہ پاپولر ایجنڈے کا حصہ بن کر میڈیا کی زینت بننے کی بجائے قانون کی حقیقی حکمرانی پر توجہ دینی ہوگی ۔ کیونکہ عدالتوں کو بھی اس تاثر کی نفی کرنی ہوگی کہ وہ کمزور کے مقابلے میں طاقت ور اور سمجھوتے کی سیاست کے ساتھ کھڑی ہے ۔ وگرنہ ان کی ساکھ بھی سوالیہ نشان ہی ہوگی ۔ سیاسی و سماجی سطح پر ایک بڑی تحریک جس کا مقصد محض سیاست کرنا یا کسی کو گرانا نہ ہوہماری ضرورت بنتا ہے ۔ اس میں بالخصوص ہماری نئی نسل کو ایک بڑے کردار میں اپنے آپ کو ڈھالنا ہوگا۔ سوشل میڈیا کو اپنی طاقت بنا کر اس کے خلاف ایک پرامن جنگ لڑنی ہوگی اور طاقت ور طبقات کو یہ باور کروانا ہوگا کہ کرپشن پر مبنی نظام قابل قبول نہیں ۔ اس کا واحد حل حکمرانی یعنی گورننس کے بحران کو حل کرنا ہوگا اور یہ تاثرختم کرنا ہوگا کہ یہاں صرف قانون کے مقابلے میں طاقت اور پیسے کی حکمرانی ہے ۔ جب تک کچھ بڑے اور طاقت ور لوگوں کا حقیقی احتساب اور ان کو سزا نہیں ہوگی معاشرے میں بدعنوانی کے خلاف کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں ۔ ان بڑے اور طاقت ور لوگوں نے حقیقی معنوں میں اپنی برتری کے لیے پورے نظام کو کرپٹ کیا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ حکمرانی میں ہوتے ہیں وہ نظام کو شفاف بنانے کی بجائے خود کرپشن اور بدعنوانی کے حصہ دار بن جاتے ہیں۔

اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ پاکستانی معاشرہ اس کرپٹ زدہ سسٹم اور بدعنوانی کے خلاف اپنی سیاسی جدوجہد قانونی دائرہ کار میں آگے بڑھائے ، اس میں خود کو منظم کرکے دوسروں کو بھی منظم کیا جائے۔ لوگوں کو سیاسی و سماجی شعور دیا جائے کہ کرپشن اور بدعنوانی پر مبنی معاشرہ میں کبھی بھی جمہوریت اورقانون کی حکمرانی ممکن نہیں ۔ یہ فکر اور تحریک قومی مفاد میں ہے اور اسی پر ہماری توجہ ہونی چاہیے ۔