جامعہ نگر: نئی دہلی میں مسلمانوں کی بدحالی کا مظہر

جامعہ نگر ، اوکھلا ، نئی دہلی کا نام جیسے ہی لوگوں کی زبان پر آتا ہے تو انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی تعلیم یافتہ اور اسکالروں کے درمیان آگئے ہوں۔ یہ علاقہ جامعہ نگر، نور نگر ، غفار منزل، حاجی کالونی ، جوہری فارم، اوکھلا وہار ، اوکھلا گاؤں ، ذاکر نگر، بٹلا ہاؤس، جوگا بائی،بھاسکر کمپاؤنڈ، ابوا لفضل انکلیو اور شاہین باغ جیسے چھوٹے بڑے تقربا بیس محلوں اور پانچ لاکھ کی آبادی پر مشتمل ایک بڑا علاقہ ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جامعہ نگر کو مسلمانوں کی ملی،سماجی، سیاسی واسلامی تنظیموں کا مرکزبھی تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں جماعت اسلامی ، آل انڈیامجلس مشاورت، جمیعت اہل حدیث ،مسلم پرسنل لاء بورڈ، شیعہ رویت ہلال کمیٹی، ملی کانسل ، اسٹوڈینٹ اسلامک اورگنائزیشن ، آئی او ایس ،مسلم لیگ اورعلماء کانسل جیسی دیگر مسلم تنظیموں کی مرکزی وریاستی دفاتر ہیں۔ اس کے علاوہ اس علاقہ میں رہنے والوں میں سینکڑوں کی تعداد میں سابق اور موجودہ ممبران پارلیمنٹ اور مختلف اسمبلیوں کے ممبران کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں آئی اے ایس ، آئی پی ایس ،پروفیسر، ڈاکٹر ، انجینئر، مینیجنگ ڈائریکٹر، مسلمانوں کے بڑے بزنس مین، مختلف اخبار ورسائل اور الیکٹرونک میڈیا کے ایڈیٹر،نیوز ایڈیٹر، نیوزریڈر اور رپوٹر وں کا یہ گہوارہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس علا قہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں چھوٹے بڑے کم سے کم پانچ سو این جی اوز بھی ہیں۔ آج کی تاریخ میں جامعہ نگر علاقہ تین کونسلراورایک ایم ایل اے کا حلقہ ہے جہاں تقریبا 60کونسلر ا ور 15 ایم ایل اے امیدوار بھی رہتے ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں یہ سبھی امیدوار خود کو علاقہ کا سب سے بڑا خدمت گار ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر یہ سبھی لوگ اس جامعہ نگر کی دو، دو گلیوں کی ذمہ دراری ادا کر دیتے تو امید ہے کہ اس علاقہ کی کایا پلٹ ہو جاتی۔

اس علاقے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر ایک یا دو گلی کے بعد کوئی نہ کوئی مسجد مل جائے گی لیکن وہ مسجدیں کسی نہ کسی مسلک، ذات، علاقائیت اور تنظیم کے نام سے منسوب ہوگئی ہیں اور ان میں زیادہ تر مقتدیوں کی تعداد میں بھی ا ن کے پیروکار ہی نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان مسجدوں میں مسلکی ،علاقائیت اور تنظیموں کے نام پر شدت پسندانہ تصادم بھی دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ بلکہ کچھ مسجدوں میں ان تصادم کے خاتمے اور امن و شانتی سے نماز قائم کرنے کیلئے پولس و عدالت کا بھی سہارا لینا پڑا ہے۔ بڑی عجب بات ہے کہ جو دین اسلام لوگوں کوسلامتی کا راستہ دکھانے آیا ہے اس کے پیرو کار ہی اپنی نماز قائم کرنے کیلئے پولس کا سہارا لے رہے ہیں۔
لیکن ان سارے اسکالروں ،سماجی کارکنوں، ملی تنظیموں اور قائدین کے باوجود جامعہ نگر کو بھی دوسرے مسلم علاقہ سے الگ نہیں کیا جا سکتاہے۔ اس کا بھی حال بہت برا ہے اس کا کوئی پرساں حال نہیں ہے ۔ اس علاقہ کے کسی بھی گلی کوچے میں جائیں تو دیکھنے کے بعدایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہاں کوئی انسا ن نہیں رہتا یا یوں کہیں کہ یہ کوئی غیر مہذب سماج کی ایک بستی ہے جنہیں نہ رہنے کا سلیقہ معلوم ہے اور نہ ہی زندگی جینے کا مفہوم ۔ ہر چوراہے پر دوچار نوجوان کھڑے مل جائیں گے جنہیں دیکھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی کو چھیڑنے کیلئے تیار بیٹھے ہوں۔ جنہیں دیکھ کر ہماری ماں ، بہنیں اور لڑکیاں سامنے سے گزرنے کی ہمت نہیں کرتی ہیں۔ یہاں کی سڑکیں،گلی، نالی اور نالے کا بھی برا حال ہے۔ صفائی کے نام پریہاں رہنے والے لوگوں کے دلوں میں کوئی حس نہیں اور نہ ہی کوئی اس موضوع پر بات کرنے کو تیار ہے ۔ نہ ہی یہاں کے لوگ کبھی اس جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ اکثر جامعہ نگر کی گلیوں میں چلتے پھرتے سروں پر کوڑے اور چھت سے پاک یانا پاک پانی کی کی بوچھاڑ برستی ہے۔

میں ان تنظیموں اور اداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا انہوں نے کوئی ایسی جگہ بنا ئی ہے کہ یہاں کے لوگ مسلم معاشرے کے مسائل ، تعلیم اور اصلاح جیسے موضوعات کیلئے سیمینار ،سمپوزیم ،لیکچر،مباحثہ کا کوئی پروگرام کر سکیں یا اس طرح کے مسائل کے غورو فکر کیلئے جمع ہوسکیں۔ اور اس جگہ یا ہال کیلئے انہیں صفائی یا نظم کو صحیح طریقے سے چلانے کیلئے معمولی رقم ادا کرنی پڑے یا وہ بالکل فری ہو اور وہ جگہ ان لوگوں کی دلچسپی کا باعث بن جائے، جو لوگ ان موضوعات سے دلچسپی رکھتے ہوں۔ وہ اس سلسلے میں ایک اہم رول ادا کرنے کے خواہش مند ہوں میں یہ باتیں اس لئے کہنا چاہتا ہوں کہ ان تنظیموں کے پاس جو ہال یا عمارتیں تعمیر کی گئیں ہیں وہ ان کی ذاتی نہیں ہیں۔ وہ اس مسلم قوم کا اثاثہ ہے جن کے چندے سے وہ تعمیرات ہوئی ہیں ۔ تاکہ وہ مسلمانوں کیلئے فلاحی کام کرسکیں لیکن وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ وہ تعمیرات انکی ملکیت بن کر رہ جاتی ہیں ۔
جامعہ نگرمیں سینکڑوں اسکول ہیں ان میں سے سوائے چند کو چھوڑ کر زیادہ تر غیر منظور شدہ ہیں۔ یہاں تک کہ ان اسکولوں کی انتظا میہ نے میونسپل کارپوریشن(MCD ) وغیرہ سے کوئی اجازت نامہ یا کسی اتھارٹی سے رجسٹریشن بھی کرا ئی ہو، جس کی وجہ سے ان اداروں میں پڑھنے والے بچوں اور ان کے والدین کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان اسکولوں کے نصاب و تعلیم کا کوئی اسٹینڈرڈ یا ضابطہ بھی نہیں ہے اور شاید ہی ان اسکولوں میں کوئی ٹرینڈ گریجویٹ ٹیچر بھی ہو۔ ا گر وہاں کسی چیز کو معیار بنایا جاتا ہے تو وہ ہیں ان کتابوں کی قیمتیں، اسکول ڈریس اور ٹیوشن فیسوں کے علاوہ یہاں پر کوئی نصاب نہیں ہے۔ ان اداروں میں بچوں کے لانے اور لے جانے کا نظام بھی ابتر حال میں ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ اس گاڑی میں کتنے بچوں کی جگہ ہے۔

جامعہ نگر میں رہنے والوں کیلئے آج تک پینے کے پانی کا کوئی انتظام نہیں کیا جا سکا ہے بلکہ انہیں غیر سرکاری اور غیر منظور شدہ آراو(RO ) کے ذریعہ سپلائی کی جانے والا پانی خرید کر پینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ لوگ پانی مافیا کے رحم و کرم پر ہیں جبکہ اس علاقہ سے کامیاب ہونے والے ممبران اسمبلی اور کونسلروں کی رہائش بھی اسی علاقہ میں ہے۔ کچھ دنوں قبل یہاں سرکاری ہاسپیٹل کے طور پر صرف ایک ڈسپینسری اور ایک یونانی ہاسپیٹل تھا جہاں مریضوں کی تعداد کافی تھی۔ ڈاکٹروں کی کمی تھی۔ عام آدمی پارٹی کی حکومت نے اب کچھ محلہ کلنک کے ذریعہ سہولیات مہیا کرائی ہیں ۔ سابق ممبر اسمبلی پرویز ہاشمی بار بار اس بات کا اعلان کرتے رہے تھے کہ بہت جلد اس علاقہ میں دو سو بیڈ کا ایک ہاسپیٹل بن جائے گا لیکن وہ دن کبھی طلوع نہیں ہؤا۔ یہی علاقہ ہے جہاں نہ کوئی پارک ہے نہ ہی کوئی لائیبریری ، مین سڑکوں کے دونوں جانب کاریں پارک ہوتی ہیں یا ان راستوں پہ دوکانداروں نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ اس علاقے میں گلیاں 15،20 اور 25 فٹ کی تو ہیں لیکن کاروں کی پارکنگ اورمکان انکروچمینٹ کے بنا پر یہ اتنی تنگ ہو گئی ہیں کہ ان میں پیدل چلنا بھی محال ہے ۔ جامعہ نگر میں بڑھتے جرائم کی روک تھام کے نام پر تین تھانے نیو فرینڈس تھانہ،جامعہ نگر اور اوکھلا وہار میٹرو تھانہ تو ہیں لیکن جرائم کے نام پر پولس کے ذریعہ بے قصور لوگوں اور نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ ان گرفتاریوں پر روک لگانے کیلئے صحیح قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جامعہ نگر میں ایک بھی سرکاری یا غیر سرکاری بینک بھی نہیں ہے۔

اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ جامعہ نگر ایک غیر قانونی کالونی ہے اس کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ پورے علاقے میں مقامی بلڈروں نے ایک طرح سے قبضہ جما لیا ہے۔ گلیاں پانچ فٹ کی ہوں یا پچیس فٹ کی ،ہر جگہ 60 ،70 فٹ کی عمارتیں بنی دکھائی دیتی ہیں۔ یہی وجہ کہ یہاں کے 70% فیصد لوگوں کو نہ صاف اور کھلی ہوا میسر ہے اور نہ ہی دھوپ اور سورج کی روشنی ۔ جس کی وجہ سے یہاں وٹامن ڈی کی کمی ،بلڈ پریشر اور شوگر کی بیماری عام طور پر پائی جاتی ہیں۔ ایسے حالات میں ان علاقے کے لوگ جائیں تو کہاں ان کے لئے تو ایک طرف کھائی ہے تو دوسری جانب موت۔ کسیسانحہ یا قدرتی آفت کی صوعرت میں تو چند لمحوں میں پوری کی پوری آبادی نیست و نابود ہوجائے گی۔ یعنی منٹوں میں یہ علاقہ قبرستان کی صورت اختیار کر لے گا۔ ایک بات ضرور ہے کہ اتنا بڑا علاقہ ہونے کے باوجود یہاں قبرستان کی زمین نا کافی ہے۔ بھی قبرستان والوں کی خوب من مانی چلتی ہے بلکہ ان لوگوں نے ایک قبرستان کو بند کر کے مستقل طور پر کھیل کا میدان بنا رکھا ہے ۔

جامعہ نگرمیں کام کرنے اور غور فکر کرنے کی باتیں :۔
ہم جن مسائل سے دوچار ہیں ان کا حل اور اصلاح کیلئے ہم فکر مند ہوں اور سرجوڑ کر غور و فکر کریں۔ہم سے جو ممکن ہو سکے اقدام کریں۔ ہم اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ اصلاح اور صحیح تربیت کی فکر کریں ۔ اپنے رہنماؤں اور حکومت کو اپنے اور اس علاقے کے مسائل سے آگاہ کرانے کی کوشش کریں ۔

اس علاقے کے اہم مسائل :۔
جامعہ نگر میں آبادی کے لحاظ سے اچھے اسکول کی کمی کو دور کیا جائے اورخصوصی طور سے لڑکیوں کیلئے کوئی کالج کا قیام ہونا لازمی ہے
سرکار کی جانب سے اس علاقہ کی کالونیوں میں جلد سے جلد پینے اور گھریلو استعمال کیلئے پانی کا کوئی انتظام کرایا جائے
جامعہ نگر سور اس کے آس پاس جلد سے جلد دو سو بیڈ کا سرکاری اسپتال قائم ہو
صفائی کا بہتر نظام قائم ہواور سیوریج و پانی کے نکاسی کیلئے صحیح انتظام کیا جائے
سڑکوں اور گلیوں کی وقت پر مرمت کرانے کیلئے انتظام کیا جائے
بڑھتے ہوئے ٹریفک کیلئے منصوبہ کے تحت مستقل حل نکالا جائے