فوج کو ایک موقع دینا چاہئے
- تحریر سلمان عابد
- منگل 26 / دسمبر / 2017
- 5788
پاکستان میں جمہوری عمل کی مضبوطی میں جو رکاوٹیں ہیں ان میں داخلی اور خارجی دونوں طرز کے مسائل ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ یہاں پر سیاسی جماعتیں اور اہل دانش کا ایک بڑا طبقہ جمہوری عمل کی ناکامی کو اسٹیبلیشمنٹ سیاست اور مداخلت کے ساتھ جوڑ کر دیکھتا ہے ۔ اس کے برعکس دوسرا طبقہ سیاست دانوں کو جمہوری عمل کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیتا ہے ۔ کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ جمہوری عمل کی ناکامی کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوئی بلکہ اس میں سیاست دان ، سیاسی جماعتیں ، فوج، عدلیہ، بیوروکریسی ، اہل دانش اور میڈیا کا ایک بڑا حصہ بھی اس ساری صورتحال کا ذمہ دار ہے ۔ جب تک ہ سارے سیاسی ، انتظامی ، قانونی فریقین ماضی اور حال کی غلطیوں کو تسلیم نہیں کریں گے ، جمہوری عمل مضبوط نہیں ہوسکے گا۔
پاکستان کے حالیہ بحران میں بھی حکمران جماعت اور ان کے حامی دانشور فوج اور عدلیہ کو مسلسل ٹارگٹ کرکے ہر سطح پر اپنے اس بیانیہ کوتقویت دے رہے ہیں کہ یہ دونوں قوتیں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے خلاف ہیں ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بعض سخت گیر سیاسی ساتھی عدالتی فیصلوں کے پیچھے اصل طاقت فوج کو قرار دیتے ہیں ۔ ان کے بقول عدلیہ تو محض ایک ہتھیار ہے اصل میں ان کے خلاف فیصلے اسٹیبلیشمنٹ کی مرضی سے ہورہے ہیں ۔ یہ تاثر بھی عام کیا گیا کہ فوج ہر صورت میں موجودہ جمہوری نظام کی سیاسی بساط کو لپیٹ کر اپنی مرضی اور منشا کے مطابق نظام اور افراد کو سامنے لانا چاہتی ہے ۔ نواز شریف عمومی طور پر یہ نقطہ اٹھاتے ہیں کہ فوجی قیادت اپنے آپ کو عوام کی منتخب قیادت کے سامنے جوابدہ ہونے کے لیے تیار نہیں اور وہ ایک خاص ایجنڈے کے تحت ملک کے سیاسی نظام اور اس کے فیصلوں میں اپنی بالادستی چاہتی ہے ۔
اسی تناظر میں فو ج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی سینٹ کے تمام ارکان کے ساتھ بند کمرہ خصوصی اجلاس جو پانچ گھنٹے تک جاری رہا کافی اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ فوجی تاریخ میں پہلے فوجی سربراہ ہیں جو اس انداز میں سینٹ کے بند کمرہ اجلاس میں شریک ہوئے اور کھل کر ان تمام سوالوں کے جوابات دیئے جو ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے تھے ۔ عمومی طور پر یہ اجلاس اور بریفنگ قومی سیکورٹی معاملات کے تناظر میں تھی ، لیکن عملی طو رپر اس میں داخلی تناظر کے پہلو بھی اجاگر ہوئے۔ فوجی سربراہ نے سینٹ میں بلاججھک پیش ہوکر اس تاثر کی نفی کی ہے کہ فوج سیاسی اداروں کے سامنے جوابدہ ہونے کے لیے تیار نہیں ۔ فوجی سربراہ کا پیش ہونے کی ٹائمنگ بھی بہت اہم ہے ۔ کیونکہ ایسے موقع پر جب نواز شریف یہ تاثر دے رہے ہیں کہ فوج کا جمہوریت کے خلاف سیاسی ایجنڈا ہے ، فوجی سربراہ کی گفتگو کا حاصل یہ تھا کہ وہ کسی بھی صورت جمہوریت مخالف ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔
یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ فوج کسی نہ کسی شکل میں فیض آباد دھرنے کی منصوبہ بندی کا حصہ تھی ، اس کی فوجی سربراہ نے پرزور نہ صرف تردید کی بلکہ چیلنج کیا کہ اگر کوئی یہ ثابت کردے کہ اس کھیل میں فوج شامل تھی تووہ فوج کی سربراہی سے مستعفی ہوجائیں گے ۔ ان کے بقول اگر فوجی افسر دھرنے کے تناظر میں معاہدہ پر دستخط نہ کرتا تو نہ دھرنا ختم نہ ہوتا اور اس کا نتیجہ مزید بحران پیدا کرتا۔ ان کے بقول فوج کے کردار کو ماضی کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے نئے حالات اور تقاضوں کے مطابق دیکھا جائے او راس تاثر کی بھی نفی کی کہ ریٹائرڈ فوجی ماہرین فوج کے ترجمان ہیں او ران کے خیالات کو فوج کا نقطہ نظر نہ سمجھا جائے ۔ یہ بات بھی خوشی کی ہے کہ فوجی سربراہ نے سیاسی قیادتوں ، حکومت اور پارلیمنٹ کو واضح پیغام دیا کہ وہ اس ملک کی دفاعی اور خارجہ پالیسی بنائے ہم اس پر مکمل عملدرآمد کریں گے ۔ اس تاثر کی بھی نفی کی گئی کہ فوج پارلیمانی نظام کے مقابلے میں صدارتی نظام لانا چاہتی ہے ۔ ان کے بقول اس نظام کی کوئی تجویز زیر غور نہیں او ریہ عمل ملک کو کمزور کرے گا ۔ ان کے بقول پارلیمنٹ بالادست اور آئین سے ماروا کردار کی کوئی خواہش نہیں ۔ ہماری خطے کی سٹرٹیجک صورتحال پر گہری نظر ہے اور افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، مل کر خطرات کا مقابلہ کریں گے ۔ فوجی سربراہ نے اپنی گفتگو میں یہ پیغام بھی دیا کہ سیاسی جماعتیں اور قیادتیں آئینی حدود میں رہتے ہوئے بلاوجہ فوج کو سیاسی معاملات میں مت گھسٹیں او رنہ ہی فوج کو موقع یا دعوت دیں کے وہ سیاسی عمل میں مداخلت کرے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سینٹ کے تمام ممبران نے مجموعی طور پر فوجی سربراہ کی گفتگو کی حمایت کی اور اعتراف کیا کہ اگر ان کو کچھ تحفظات تھے تو وہ اس گفتگو کے بعدوہ دور ہوگئے ہیں ۔ سیاسی قیادت، پارلیمنٹ اور فوجی قیادت کا باہمی اشتراک او ربات چیت کا عمل بہت اچھی بات ہے اور اس کی ہر سطح پر حمایت ہونی چاہیے ۔ یہ دروازہ جو کھلاہے اسے بند نہیں ہونا چاہیے بلکہ مستقبل میں بھی اس طرح کا مکالمہ جاری رہنا چاہیے تاکہ ہمارے سول ملٹری تعلقات زیادہ منظم اور موثر ہوں ۔ ہمارامسئلہ یہ ہے کہ ہم فوج کے بارے میں ابھی تک اسی پرانے بیانیہ پر قائم ہیں کہ فوج جمہوریت مخالف ایجنڈے کا حصہ ہے ۔ حالانکہ پچھلے چند برسوں سمیت حالیہ بحران میں کئی ایسے مواقع سامنے آئے کہ فوج سیاسی طور پر مداخلت کرسکتی تھی ، کچھ لوگوں کی یہ خواہش بھی تھی مگر فوج نے جمہوری نظام کے تسلسل کو جاری رکھا ۔ ویسے بھی اب عالمی سطح پر بھی وہ حالات نہیں کہ ملک میں فوجی مداخلتیں ماضی کی طرح ممکن ہوں۔ یہ تاثر ہے کہ فوج نے موجودہ جمہوری حکومت کو کمزور کیا ہے لیکن اس تجزیہ کے ساتھ ساتھ اس تجزیہ کو بھی زیر بحث لانا ہوگا کہ خود ان جمہوری حکومتوں کا اپنا سیاسی اور جمہوری طرز عمل کیا تھا ۔ کیونکہ جب سیاسی قیادتیں سیاسی خلا پیدا کرتی ہیں ، پارلیمنٹ کو خود غیر موثر بناتی ہیں ، کابینہ کو نظرانداز کرتی ہیں ، حکومت مخالف نقطہ نظر کو طاقت سے دبایا جاتا ہو، اداروں کو اپنا مخالف سمجھا جائے ، عوامی مفادات کی سیاست کو پیچھے دکھیلا جائے ، علاقائی اور عالمی سطح پر وہ ہی نقطہ نظر پیش کیا جائے جو پہلے سے ہمارے خلاف موجود ہوتو یقینی طور پر نہ صرف سیاسی خلا پیدا ہوتا ہے بلکہ بداعتمادی کے ساتھ ساتھ سول ملٹری تعلقات میں بھی ایک بڑی اور واضح خلیج پیدا ہوتی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں فوج نے بے شمار غلطیاں کی ہیں اور ان کی سیاسی مداخلتوں نے بھی مسائل پیدا کیے ، لیکن اگر اب فوج اس سے باہر نکلنا چاہتی ہے تو اس کو نئے تناظر میں سمجھنا ہوگا ۔
اصل میں مسئلہ یہ ہی ہے کہ ہم نے قومی سطح پر سیاست اور فوج دونوں کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کردیا ہے ۔ جبکہ ضرورت اس امر کی تھی اور ہے کہ ہم دونوں اداروں کی اہمیت کو قبول کرتے ہوئے ان میں باہمی تعلقات اور مسائل کو سمجھنے و جانچنے کا فہم پیدا کرنے میں اپنی فکر کو آگے بڑھائیں ۔فوجی سربراہ نے درست کہا کہ ہماری سیاسی قیادتوں کو بھی اپنی بات پیش کرتے وقت ایسے نقطہ نظر سے گریزکرنا چاہیے جو عالمی سطح پر ہمارے مفادات کو نقصان پہنچائے ۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ان کی بات درست ہے یا غلط ، بلکہ حساس اور سنگین معاملات خاص طور پر جن کا تعلق سیکورٹی معاملات سے ہو اس پر دونوں اطراف سے غیر ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ ہمارا دشمن عمومی طور پر ہماری داخلی کمزوریوں اور تضادات کو بنیاد بنا کر ہمارے خلاف مہم چلاتا ہے ۔
ہماری سیاسی قیادت کو خود بھی اپنی توجہ داخلی اور خارجی محاذ پر جمہوری حکمرانی میں جو رکاوٹیں یا مسائل ہیں جن کا براہ راست تعلق ہماری سیاسی رویوں اور طرز عمل سے ہے ، اس پر غو ر کرناچاہیے ۔ کیونکہ جمہوری نظام کو اس وقت تک کوئی خطرہ نہیں ہوگا جب تک ہماری جمہوریت اور اس سے وابستہ ادارے خود کو جمہوری فریم ورک میں ڈھالیں اور جمہوری عمل کو ڈلیور کریں اور لوگوں کے سامنے خود کو جوابدہ بنائیں ۔ کیونکہ اس وقت ہم عملا داخلی اور خارجی مسائل میں جن بڑے مسائل اور چیلنجز سے دوچار ہیں اس کا حل ایک مضبوط حکمرانی اور اداروں کے باہمی تعاون اور عدم ٹکراو کی پالیسی سے جڑا ہوا ہے ۔ فوجی سربراہ نے جو گفتگو سینٹ میں کی ہے اس بحث کو ہر سطح پر آگے بڑھایا جائے اور زیادہ سے زیادہ اس تاثر کی نفی ہونی چاہیے کہ فوج اور سیاسی قوتیں ایک دوسرے کی مخالف ہیں ۔ کیونکہ ٹکراؤ کی پالیسی منفی نتائج پیدا کرے گی ، ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا اوراگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ہی ملکی مفاد میں بھی ہے اور جمہوریت کے حق میں بھی ۔