مصطفی کمال سے گزارش: نفرت نہیں محبت کا پیغام دیں

کراچی کے بغیر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ ویسے تو پورے پاکستان کو ہی قائد اعظم کے بعد ایک اچھی قیادت نصیب نہیں ہوئی۔ اور بری قیادت نے ہی پاکستان کو آج اس حال تک پہنچا دیا ہے۔ لیکن بالخصوص کراچی کی قیادت نے کراچی کی تباہی میں بڑ اکردار ادا کیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کراچی کی یہ حالت کراچی کی قیادت کی وجہ سے ہی ہے۔ اس گھر کو آگ لگی ہے اس گھر کے چراغ سے کے مصداق کراچی کی تباہی میں کراچی والوں کا ہی ہاتھ ہے۔

کراچی کی مہاجر قیادت کو کراچی کی اس بری حالت سے کسی بھی طرح مبرا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کراچی کی روشنیوں کو مدھم کرنے میں کراچی کی مہاجر قیادت قصور وار ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی قیادت کراچی کی عوام کو یہ باور نہیں کروا سکی ہے کہ ان کی اصل مجرم مہاجر قیادت ہے۔ کراچی کے عوام نے بلا شبہ دل کھول کر کراچی کی مہاجر قیادت کو ووٹ دیئے ہیں۔ ان کو کراچی کا مینڈیٹ دیا ہے ۔ تاہم ان کے مینڈیٹ کی توہین کی گئی ہے۔ ان کے اعتماد کو توڑا گیا ہے۔ ان کے مینڈیٹ کو ان کے ہی خلاف استعمال کیا گیا۔ ملک کی خدمت کے لئے حاصل کئے گئے مینڈیٹ کو ملک کے ہی خلاف استعمال کیا گیا۔ کراچی سے باہر بیٹھ کر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ جب کراچی کی مہاجر قیادت نے کراچی کو کچھ نہیں دیا ہے۔ کراچی کی روشنیوں کو مدھم کر دیا گیا ہے۔ کراچی کا امن تباہ کر دیا ہے۔ کراچی کو گندا کر دیا ہے۔ قتل و غارت کو بازار گرم کر دیا ہے۔ بوری بند لاشوں کا کلچر دیا ہے۔ بھتہ کلچر دیا ۔ خوف کا بازار گرم کر دیا۔ تو پھر بھی اس مہاجر قیادت کو کرچی میں دوبارہ پذیر آئی ملنے کی کیا وجوہات ہیں۔

پاک سر زمین پارٹی کے مصطفی کمال نے لیاقت آباد کراچی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا ہے۔ میں مصطفی کمال کا مداح ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے الطاف حسین کے خوف کو توڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کا ماضی کچھ بھی ہو ۔ لیکن ان کا حال خوبصورت ہے۔ بے شک مصطفی کمال اور ان کے قریبی ساتھیوں نے الطاف حسین کے ساتھ ایک لمبا عرصہ گزارا ہے۔ وہ ان کے جرائم میں شریک رہے ہیں۔ انہیں مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن جتنا ان کا ماضی داغدار رہا ہے اتنا ہی ان کا حال شاندار ہے۔ لیکن مصطفی کمال اب جو کرنے جا رہے ہیں وہ بھی بہت خطرناک ہے۔ انہیں سمجھنا ہوگا کہ الطاف حسین کو مارتے مارتے کہیں وہ خود تو الطاف حسین بننے کی کوشش تو نہیں کر رہے ہیں۔ اس قو م کے لئے ایک الطاف حسین نے ہی بہت مشکل پیدا کی ہے۔ دوسرا تو تباہی ہی پیدا کر دے گا۔ اس لئے مصطفیٰ کمال کو بھی سنبھل کر چلنا ہوگا۔ اور ہمیں بھی ان کے ایک ایک قدم کو دیکھنا ہوگا۔ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے کی مصداق مصطفیٰ کمال کو الطاٖ ف حسین بننے سے پرہیز کرنا ہوگا۔  لیکن مصطفی کمال نے اپنی تقریر میں جہاں کراچی کی محرومیوں کا ذکر کیا ہے۔ کراچی کے مسائل کا ذکر کیا ہے۔ وہاں پتہ نہیں لاہور کو کیوں رگڑ دیا ہے۔ ویسے تو مصطفی کمال اپنی تقریر میں جس فوج کو کراچی کے تمام معاملات ٹیک اوور کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پتہ نہیں وہ یہ کیوں بھول رہے تھے کہ مردم شماری بھی فوج کی نگرانی میں ہوئی ہے۔ ہر گھر میں ایک فوجی ساتھ تھا۔ اور اگر مصطفی کمال کو کراچی کی مردم شماری کے حوالہ سے کچھ تحفظات ہیں بھی تو ان کے اظہار کے لئے کیا یہ ضروری ہے کے ساتھ لاہور اور پنجاب کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ لاہور کی آبادی بڑھ گئی ہے اس پر کراچی میں نفرت پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ محترم مصطفی کمال کہہ رہے ہیں کہ لاہور میں پٹھان نہیں ہے لاہور میں بلوچ نہیں ہیں۔ لاہور میں سرائیکی والے نہیں ہیں۔ پھر بھی لاہور کی آبادی بڑھ گئی ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک محب وطن پاکستانی پاکستان کے دل لاہور کے بارے میں ایک بڑے جلسہ عام میں ایسی بات کر رہے تھے۔ جو حقائق کے بھی بر عکس ہے اور نفرت انگیز بھی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ لاہور اور پنجاب کی خوش قسمتی کہ یہاں لسانی اور قمیت کی سیاست کا کوئی وجود نہیں ہے۔ لاہور میں لسانی بنیاد پر کوئی تقسیم نہیں ہے۔ لاہور میں پٹھان موجود ہیں لیکن ان کو کراچی کی طرح سیاسی طور پر الگ نہیں کیا گیا۔ لاہور میں بلوچ بھی موجود ہیں لیکن ان کو بھی سیاسی طور پر الگ نہیں کیا گیا۔ سرائکی پنجاب سے بھی لوگ لاہور آکر آباد ہوتے ہیں لیکن ان کو بھی سیاسی طور پر الگ نہیں کیا گیاہے۔ یہ لاہور کا حسن ہے کہ لاہور سب کو اپنے اندر ایسے سمو لیتا ہے۔ کہ سب خود کو لاہوری کہتے ہیں۔  گزشتہ دو دہائیوں میں کراچی کے جو حالات رہے ہیں۔ جس طرح دوسری قومیتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے کراچی سے لوگوں نے ہجرت کی ہے کوئی کراچی رہنے گیا۔ وہ وقت گیا جب لوگ روزگار کے لئے کراچی جاتے تھے۔ اب تو پنجاب سے کراچی جانا محفوظ نہیں سمجھا جاتا ہے۔ آپ خود ہی کراچی کے تعلیمی اداروں میں پنجابی بچوں کی گرتی ہوئی تعداد کو دیکھ لیں۔ ماں باپ روزگار تو دور کی بات پڑھنے کے لئے بچوں کو کراچی بھیجنا محفوظ نہیں سمجھے رہے ہیں۔ جبکہ مقابلے میں لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بلوچ اور فاٹا کے طلبا و طالبات کی تعداد ہی دیکھ لیں تو صورتحال واضع ہو جائے گی۔ کراچی میں بھتہ خوری اور کاروباری لوگوں کو ہراساں کرنے کی جو پالیسی رہی ہے اس سے کراچی سے کاروبار بھی لاہور منتقل ہوا ہے۔ کاروباری لوگ بھی لاہور منتقل ہوئے ہیں۔ الطاف حسین کے لئے جو بھتہ اکٹھا کیا جاتا تھا۔ اس سے لوگ تنگ آکر یا تو دبئی چلے گئے ہیں۔ یا پنجاب میں لاہور آئے ہیں۔ آپ خود ہی جائزہ لیں کراچی کے خراب حالات کے بعد کراچی سے لوگ لاہور آئے ہیں کہ نہیں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کراچی کا مقدمہ لڑنے کے لئے لاہور کو برا بھلا کہنا کیوں ضروری ہے۔

میری مصطفی کمال سے مودبانہ گزارش ہے کہ جہاں انہوں نے اتنے اچھے کام کئے ہیں۔ کراچی کو واپس پاکستان کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے وہ دن رات جدو جہد کر رہے ہیں۔ وہاں وہ اس کلچر کو بھی ختم کریں کہ کراچی کا مقدمہ لڑنے کے لئے لاہور پنجاب کو گالی نکالنا ضروری نہیں۔ تاکہ ملک میں محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو۔ ہم پاکستان کو لسانی اور دیگر بنیادوں پر تقسیم کر کے ایک علاقہ کی محرومی کی ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر ملک کی کوئی خدمت نہیں کر رہے ہیں۔ آپ اسی بات کو دیکھ لیں کہ جہاں ایک طرف یہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ لاہور کی آبادی بڑھ گئی ہے۔ لیکن دوسری طرف پنجاب کی سیٹیں کم ہو گئی ہیں۔ سندھ کی تو کوئی سیٹیں کم نہیں ہوئی ہیں۔ پنجاب کی سیٹیں کم ہونے کو پنجاب میں کوئی ایشو نہیں بنایا جا رہا ہے۔ پنجاب میں تو کوئی یہ ایشو نہیں بنا رہا ہے کہ ہمارے ساتھ مردم شماری میں بہت زیادتی ہو گئی ہے آبادی بھی ہماری بڑھی ہے اور سیٹیں بھی ہماری کم ہوئی ہے۔ سب سے پہلے پاکستان اور پاکستان کا مفاد کے اصول کے تحت ہمیں پاکستان کی ہی بات کرنی چاہئے۔  اگر صرف یہ کہا جا ئے کہ کراچی کی مردم شماری ٹھیک نہیں ہوئی ہے۔ ہماری آبادی کم ظاہر کی گئی ہے۔ تو بات سادہ اور اچھی لگتی ہے۔ مصطفی کمال کو اس کے لئے لاہور سے حمایت بھی مل سکتی ہے لیکن جب آپ لاہور کو نشانہ بنائیں گے تو اپنی حمایت میں کمی کریں گے۔

جہاں تک کراچی کے باقی مسائل کا تعلق ہے توصورتحال بہت افسوسناک ہے۔ کراچی میں گند ۔ ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات کی کمی پر بات ہونی چاہئے۔ اگر لاہور میں اورنج لائن بن رہی ہے تو کراچی میں سرکلر ریلوے کی راہ میں رکاوٹیں بھی ختم ہونی چاہئے۔ کراچی کا ہر مسئلہ حل ہونا چاہئے۔ ترجیحی بنیادوں پر حل ہونا چاہئے۔ صدر مملکت کا تعلق بھی کراچی سے ہے۔ کراچی کے لئے پورے ملک میں رائے عامہ ہموار ہونی چاہئے۔ اس کے لئے مصطفی کمال کو نفرت کی بجائے محبت کا پیغام دینا چاہئے۔