وقت کی قدر کامیابی کا زینہ ہے

2017 ختم ہونے کو ہے اور 2018 کی آمد ہے۔ مگر 2017 کہاں غائب ہو گیا۔ ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ 2017 کا آغاز ہوا۔ اسی طرح کئی سال بلکہ انسان کی ساری زندگی گزر جاتی ہے۔ وقت ایک بہتا دریا ہے جو چاہے اس سے فائدہ اٹھا لے ورنہ یہ آگے گزر جائے گا۔ واپسی کا تو کوئی سوال ہی نہیں، یہ ایک لمحہ کے لئے ٹھہرتا تک نہیں۔

وقت شاید سب سے قیمتی چیز ہے۔ چاہے ایک فرد ہو یا پوری قوم، کلیہ ایک ہی ہے۔ جو وقت کی قدر کرتے ہیں، اس کے ساتھ چلتے ہیں، وقت کے صحیح استعمال کا منصوبہ بناتے ہیں وہی کامیاب ٹھہرتے ہیں۔ جو ایسا نہیں کرتے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان کے ہاتھ صرف پچھتاوا آتا ہے۔

ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں ہم کس گروہ میں ہیں۔
وقت کی قدر کرنے والے یا وقت ضائع کرنے والے۔

میرا ایک مشورہ ہے۔ ایک کاغذ اور قلم لیں، تھوڑی دیر کے لئے غور کریں، سوچیں کہ آپ 2018 میں کیا کیا کرنے کے خواہش مند ہیں۔ مثلاً کاروبار، کام ، چھٹیاں، خرید و فروخت، کوئی ترقیاتی یا فلاحی پروجیکٹ، پڑھائی ، کورس ، صحت اور ورزش، ملاقاتیں یا اور کوئی کام، وہ جو آپ کرنا چاہتے ہیں مگر وقت نہیں مل سکا۔ سب کچھ لکھ کر ایک فہرست تیار کریں اور اسے اپنے سامنے میز پر رکھیں یا دیوار پر لگا دیں۔ جہاں باآسانی نظر آئے۔

تقریباً تمام سپر مارکیٹس سے کیلنڈر مفت دستیاب ہیں۔ اس پر دکان کا اشتہار ہوتا ہے۔ اگلی دفعہ دودھ لینے جائیں تو یہ کیلنڈر بھی لیتے آئیں۔ اب اس فہرست کو اس کیلنڈر میں داخل کرنے کی کوشش کریں۔ ہر سال اسی ترتیب کو جاری رکھیں۔ میری فہرست، منصوبہ اور کیلنڈر تیار ہے۔ دوسرے پروگراموں کے ساتھ سیر کا پروگرام ، مارچ میں افریقہ ، گرمیوں کی چھٹیوں میں سکینڈے نیویا اور اکتوبر میں پاکستان۔ انشاء اللہ ۔ خدارا وقت کی قدر کریں۔ یہی کامیابی اور خوشی کا راستہ ہے۔