چیف جسٹس پاکستان سے گزارش: عدلیہ پر بھی نظر ڈالیں
- تحریر مزمل سہروردی
- جمعرات 28 / دسمبر / 2017
- 4478
پاکستان کا نظام انصاف ٹھیک کام نہیں کر رہا ۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ مقدمات میں التو ا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ تاریخ پر تاریخ کا کلچرعوام کے لئے شدید تکلیف دہ ہے۔ میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ عوام کے نزدیک معیار انصاف اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے جتنا بڑا مسئلہ تاخیر انصاف ہے۔ چیف جسٹس پاکستان آج کل متحرک ہیں۔ وہ عوامی اہمیت کے مقدمات پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ وہ میو ہسپتال دورہ پر گئے ہیں جس پر سیاسی حلقوں نے تنقید بھی کی ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک فعال نظام انصاف ہی پاکستان میں ترقی و خوشحالی کا ضامن ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ تاریخ پر تاریخ کے کلچر کو کیسے ختم کیا جائے۔ مقدمات میں بےجا تاخیر کو کیسے ختم کیا جائے۔ بابا رحمت خیر دین کو اس کی زندگی میں اچھا یا برا انصاف کیسے دے سکتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ عدالتوں پر بہت بوجھ ہے۔ لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں۔ ایک ایک جج کے پاس روز سینکڑوں کیسز لگے ہوتے ہیں۔ اور یہ انسانی طور پر ممکن نہیں کہ ایک جج صاحب ایک دن میں سو سے زائد کیسز سن سکیں۔ اس لئے تاریخ پر تاریخ ڈالنے کے علاوہ کوئی حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یا تو عدالتوں سے زیر التوا مقدمات کا بوجھ ختم کیا جائے۔ یا عدالتوں کی تعداد میں ہنگامی بنیادوں پر اضافہ کیا جائے۔ جس طرح دن میں عدالتیں قائم کرتی ہیں۔ اسی طرح شام میں بھی عدالتوں میں نئے جج تعینات کے جا سکتے ہیں۔ بلکہ حالات تو اتنے خراب ہیں کہ راتوں کو بھی عدالتوں کو کام کرنا چاہئے۔ اس طرح موجودہ انفرا سٹرکچر میں ہی عدالتوں کی تین تین شفٹ شروع کی جا سکتی ہیں۔ اس طرح جب عدالتیں تین تین شفٹ میں کام کریں گی تو مقدمات کا جلد فیصلہ ممکن ہو سکے گا۔
اس وقت تو حکومتیں بھی مختلف محکموں میں دو دو سال کے کنٹریکٹ پر ملازمین بھرتی کر رہی ہے اگر عدلیہ دو دو سال کے ہنگامی بنیادوں پر جج بھرتی کرکے زیر التوا مقدمات کا بوجھ ختم کر دے تو یہ ملک پر بہت بڑا احسان ہوگا۔ دو سال بعد جب زیر التوا مقدمات کی تعداد کنٹرول میں آجائے تو ہم عدالتوں کی شفٹیں کم بھی کر سکتے ہیں۔ اس لئے میری چیف جسٹس پاکستان سے دست بدستہ درخواست ہے کہ وہ ججز کی تعداد بڑھانے پر ہنگامی بنیادوں پر کام کریں۔ یہ درست ہے کہ نیا انفرا سٹرکچر بنانے میں بہت وقت لگے گا۔ اس لئے موجودہ انفرا سٹرکچر کو ہی شفٹوں میں استعمال کرنے پر غور کیا جائے۔ ایک ایسی مربوط حمت عملی بنانی چاہئے کہ ایک جج کے پاس ایک دن میں دس سے زائد کیس نہ ہوں تاکہ وہ ان کو پوار وقت دے کر سن سکے۔ کارروائی کو آگے بڑھا سکے۔ تاریخ پر تاریخ کاکلچر ختم ہو سکے۔
ویسے تو سپریم کورٹ میں بھی زیر التوا کیسز کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ اور سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے ایک بڑا آئینی مسئلہ ہے۔ اس حوالہ سے پاکستان ماضی میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے دور جیسے ایک آئینی بحران کا شکا ر ہو شکا ہے۔ اور مجھے اس بات کا بھی انداذہ ہے کہ سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدلیہ میں کنٹریکٹ ججز کی بھرتی بھی ایک آئینی مسئلہ ہے۔ لیکن جہاں سپریم کورٹ بہت سے آئینی مسائل کا حل کر ہی ہے اس مسئلہ کا بھی حل کرنا ہوگا۔ اگر پارلیمنٹ کی مدد چاہئے تو اعلیٰ عدلیہ کے ذمہ داران کو پارلیمنٹ کے ساتھ بھی بیٹھنا چاہئے۔ اگر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سینٹ میں جا کر اراکین سینٹ کو ملک کے دفاعی چیلنجز پر بریفنگ دے سکتے ہیں۔ تین گھنٹے تک سخت سوالات کے جواب دیئے تو چیف جسٹس پاکستان کو بھی پارلیمنٹ کے ساتھ ڈائیلاگ شروع کرنا چاہئے۔ پارلیمنٹ کو اعتمادمیں لینا چاہئے۔ عدلیہ کو درپیش آئینی مسائل کے حل کا روڈ میپ تلاش تلاش کرنا چاہئے۔ اگر چیف جسٹس پاکستان اپنے رتبہ اور عہدہ کی وجہ سے آرمی چیف کی طرح بریفنگ نہیں دے سکتے تو ایک کانفرنس بلا لیں۔ جس میں کم از کم پارلیمنٹ میں موجود پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان موجود ہوں۔ تاکہ ملک میں نظام انصاف کے مسائل کے حل کے لئے آئینی پیکج بنایا جا سکے۔
محترم چیف جسٹس صاحب کو مجھے امید ہے کہ اس بات کا ادراک ہوگا کہ ملک میں نظام انصاف میں زیر التوا مقدمات کو حل کرنے کے لئے انہیں بہر حال کسی نہ کسی شکل میں پارلیمنٹ اور حکومت کی مدد درکار ہے۔ اکیلے عدلیہ کے لئے ازخود یہ مسئلہ حل کرنا ممکن نہی لگ رہا۔ میں موجودہ عدالتوں میں ہی شفٹوں کی حمایت اس لئے کر رہا ہوں کہ نئی عدالتیں بنانا ایک نا ممکن کام ہے۔ یہ تو نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی والی بات ہو جائے گی۔ اس لئے موجودہ عدالتوں کو ہی شفٹوں میں استعمال کرنا ہوگا ۔ اس سے پہلے ہم سکولوں کی بلڈنگز کو بھی اسی طرح شفٹوں میں استعمال کر چکے ہیں۔ جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔ اگر حلقہ بندیوں کے لئے ہنگامی طور پر آئینی پیکج آسکتا ہے۔ اگر نا اہل کو پارٹی صدارت کے اہل کرنے اور نا اہل کرنے کے لئے قوانین راتوں رات پاس ہو سکتے ہیں۔ تو عام آدمی کو انصاف فراہم کرنے کے لئے آئینی رکاوٹیں کیوں نہیں دور ہو سکتیں۔ اگر ملک میں دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ملٹری کورٹس بن سکتی ہیں تو عدلیہ پر زیر التوا مقدمات کے بوجھ کم کرنے کے لئے کنٹریکٹ ججز کیوں نہیں بھرتی کئے جا سکتے۔ عدالتوں میں شفٹوں میں کام کیوں نہیں شروع کیا جا سکتا۔
جہاں فوری طور پر نئے ججز کی فوری اور اشد ضرورت ہے، وہاں عدلیہ کے ذمہ داران کو عدلیہ میں اندرونی احتساب کے نظام کو بھی فوری موثر بنانے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ بالخصوص ماتحت عدلیہ کے مانیٹرنگ نظام اور وہاں کے احتساب کو بہتر بنانے کی بہت ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی ماتحت عدلیہ کو فعال کر لیتے ہیں تو ہمارے آدھے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اعلیٰ عدلیہ پر ماتحت عدلیہ کی ناقص کارکردگی کا بھی بہت بوجھ ہے۔ اسی طرح سپریم جیوڈیشل کونسل کو بھی فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ عدلیہ بے شک ایک مقدس گائے ہے۔ ہم سڑکوں اور چوراہوں پر میڈیا میں منصفین کا احتساب کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ لیکن عدلیہ کو خود اپنے اندر احتساب کا ایک ایسا نظام بنانا ہوگا جو قابل تقلید بھی ہو اور اس پر عوام کا اعتماد بھی ہو۔
وکلا کی جانب سے روز روز کی ہڑتالیں بھی پاکستان کے عدالتی نظام کے ماتھے پر کوئی اچھا نشان نہیں ہیں۔ دنیا کے کسی عدالتی نظام میں ہڑتالوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہڑتال تو دور کی بات عدالتیں تو جنگوں میں بھی کام کرتی ہیں۔ چیف جسٹس صاحب اگر عدالتوں میں ہڑتال کے کلچر کو ہی ختم کر دیں تو کسی حد تک مسائل ختم ہو جائیں گے۔ بالخصوص ماتحت عدلیہ میں ہڑتالیں جہاں سائلین کے تکلیف کا باعث ہیں وہاں عدلیہ کے لئے کوئی فخر کی بات نہیں ہیں۔ ہڑتالوں کو ختم کرنے لئے عدلیہ کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک اندرونی مسئلہ ہے۔ بار اور بنچ مل کر ایک کوڈ آف کنڈکٹ طے کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جب وکلا ہڑتال کا اعلان کرتے ہیں تو ججز بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اوراس طرح تاریخ پر تاریخ کا کلچر مزید تقویت پکڑتا ہے۔ یہ درست ہے کہ کسی بھی مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک جج کو مکمل آزادی ہونی چاہئے تاکہ وہ بغیر کسی دباؤ کے مقدمات کا فیصلہ کر سکے۔ لیکن پھر بھی تاریخ پر تاریخ پر کوئی قدغن تو لگانی ہوگی۔ کہیں نہ کہیں تو بریک لگانی ہوگی۔ یہ کیسے قابل قبول ہو سکتا ہے کہ ایک مقدمہ میں سالہا سال سے تاریخ پر تاریخ ہی چل رہی ہو۔ میں اس ضمن میں اس سے زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا ۔ لیکن پھر بھی قابل عمل تجاویز موجود ہیں۔ جن پر غور کی ضرورت ہے۔
عدلیہ کو اپنے اوپر سے بے وجہ بوجھ ختم کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئے۔ جھوٹے مقدمات کی بھرمار ہے۔ جب یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ مقدمہ مکمل جھوٹ تھا ۔ تو پھر جرمانہ بھی مثالی ہونا چاہئے۔ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کی حد تک تو ایک لاکھ روپے جرمانہ کی بات کی ہے لیکن زیادہ مسئلہ تو ٹرائل کورٹ اور ماتحت عدلیہ کا ہے۔ جہاں ایک دوسرے کو غیر ضروری پھنسانے کے لئے بے جا درخواستیں دی جاتی ہیں۔ اس کلچر کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ضمانتوں کے مقدمات کا بوجھ بھی ایک غیر ضروری مسئلہ ہے۔ اس کو عدالتی کی بجائے انتظامی معاملہ ہونا چاہئے۔ ضمانت کا اتنا مربوط نظام ہونا چاہئے کہ ملزم بھاگنے کا سوچ بھی نہ سکے۔ اور ضمانت ہر ایک کا حق ہونا چاہئے جب تک وہ مجرم ثابت نہ ہو جائے۔ لوگ کئی کئی سال جیل میں رہتے ہیں اور پھر با عزت بری ہو جاتے ہیں۔ اگر ضمانت کے مقدمات ختم ہو جائیں تو بہت سا بوجھ ختم ہو جائے۔