انتہا پسندی ، بیانیہ اور یونیورسٹیوں کا کردار

پاکستان کو بطور ریاست یا معاشرہ انتہا پسندی سے نمٹنے کا چیلنج درپیش ہے ۔ اگرچہ اس چیلنج سے نمٹنے میں ہم نے گزشتہ چند برسوں میں کچھ بہتر نتائج بھی حاصل کیے ہیں لیکن ان کامیابیوں کے باوجود ابھی بھی بطور ریاست ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے سنگین مسئلہ سے باہر نہیں نکل سکے ۔ یہ بات طے تھی کہ یہ جنگ فوری طور پر ختم نہیں ہوگی بلکہ اس کو طویل بنیادوں پر لڑنا پڑے گا۔ اور یہ عمل محض فوج یا کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ پوری ریاست سے جڑے ہوئے مختلف فریقین کی ذمہ داری ہوگی ۔ کیونکہ مسئلہ محض انتظامی نوعیت کا نہیں کہ اسے طاقت کی بنیاد پر ختم کیا جاسکے ۔ یہ جنگ نظریاتی ، فکری اور علمی بنیادوں پر بھی لڑی جانی ہے تاکہ معاشرے کے مجموعی مزاج کو مذہبی ، سیاسی ، لسانی ، علاقائی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر رواداری اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور مختلف فکر پر مبنی سوچ کے باوجود، ایک دوسرے کے وجود کو قبول کیا جائے ۔

فکری بنیادو ں پر لڑی جانے والی جنگ فوج نہیں لڑسکتی ۔اس کے لیے ہمارے علمی ، فکری سیاسی ، سماجی اور مذہبی ماہرین اور رائے عامہ کی تشکیل کرنے والے ادارے بالخصوص ہماری اعلی تعلیمی درس گاہوں کو بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا ۔ اسی نقطہ کو بنیاد بنا کر ہماری سیاسی و عسکری قیادت نے اتفاق رائے  سے  20نکات پر مبنی’’ نیشنل ایکشن پلان ‘‘ ترتیب دیا تھا ۔ یہ پلان بنیادی طور پر قومی اور تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے ۔ کیونکہ یہ ایک ایسا جامع منصوبہ تھا جس میں وفاقی ، صوبائی حکومتوں ، انتظامی ، سیکورٹی ، قانونی اداروں سمیت مختلف سیاسی ، مذہبی جماعتوں ، علمائے کرام ، سول سوسائٹی ، میڈیا ، اہل قلم و دانش، تعلیمی نصاب، درس گاہوں ، استاد، ، طرز حکمرانی کے باہمی تعلق او رکردار کو واضح طور پر نمایاں کیا گیا ہے ۔  نیشنل ایکشن پلان پر واضح اور شفاف عملدرآمد کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر سول اور فوجی اداروں پر مشتمل ’’اپیکس کمیٹیاں ‘‘ تشکیل دی گئیں تاکہ عملدرآمد کے نظام کی نگرانی اور جوابدہی کے نظام کو موثر بنایا جائے ۔

قومی بیانیہ تبدیل کرنے کی جنگ  کے پیچھے بھی اصل سوچ ماضی کی غلطیوں کے ازالہ کے لیے ایک ایسے معاشرے کو تشکیل دینا ہے جو پرامن بھی ، مہذہب بھی ہو اور رواداری پر مبنی معاشرے کی عکاسی بھی کرتا ہو۔ اس کام کو موثر اور شفاف بنانے اور بہتر نتائج کے حصول کے لیے ایک اہم طبقہ نوجوان اور استادوں کا ہے ۔ یعنی ہمارے تعلیمی اداروں کو بنیاد بنا کر نئی نسل کے طالب علموں اور استادوں میں انتہا پسندی کے خلاف اور رواداری کی حمایت میں ایک متبادل بیانیہ کو آگے بڑھایا جائے ۔ پاکستان میں نوجوان طبقہ اب ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے ۔ اس طبقہ کو اپنی رائے کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا کی ایک بڑی طاقت بھی میسر ہے ۔ اگر نوجوان طبقہ اور تعلیمی اداروں کو بنیاد بنا کر بیانیہ کی تبدیلی کی جنگ لڑی جائے تو کامیابی کے واضح امکانات موجود ہیں ۔ کیونکہ جو قومیں ایک متبادل بیانیہ کی تلاش میں سرگرداں ہوتی ہے اسے تعلیم کو بنیاد بنا کر ہی آگے بڑھنا چاہیے۔ کیونکہ تعلیمی اداروں کا کام ہی یہ ہے کہ وہ روائتی اور انتہا پسندی پر مبنی بیانیہ کے مقابلے میں نئی سوچ، فکر، تحقیق اور اور متبادل بیانیہ پیش کرے ۔

اسی سوچ اور فکر کو بنیاد بنا کر فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باوجوہ نے بھی ملک بھر کی سرکاری و غیر سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو ایک جگہ جمع کرکے انتہا پسندی کے خلاف جاری جنگ میں ان کی موثر شمولیت پر زور دیا تھا ۔ ان کے بقول مسئلہ محض دینی مدارس تک محدود نہیں بلکہ اعلی اور عام تعلیمی اداروں سے بھی نئی نسل میں انتہا پسندی ابھر رہی ہے ، جس کا سب کو مل کر علاج تلاش کرنا ہوگا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں آج کل یونیورسٹیوں کی سطح پر اساتذہ اور طلبہ کو بنیاد بنا کر تسلسل کے ساتھ مکالمہ اور مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔ اس میں آئی ایس پی ار، وزارت دفاع اور یونیورسٹیوں کے سربراہان بھی شامل ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ بین الصوبائی یونیورسٹیوں کے درمیان  طلبہ و طالبات کے درمیان باہمی رابطوں کے نظام کو موثر بنایا گیا اور  ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانیاں اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ قابل قدر ہے ۔

پنجاب ہائر ایجوکیشن کے سربراہ ڈاکٹر نظام الدین اورڈائریکٹر جنرل شاہد سرویہ کو داد دینی ہوگی کہ وہ پنجاب کی مختلف جامعات میں امن ، روداری اور مکالمہ پر مبنی بیانیہ کو آگے بڑھارہے ہیں ۔ اس عمل میں انٹر یونیورسٹی بین الجماعتی کنسورشیم برائے فروغ سوشل سائنس کے سربراہ سید مرتضی نور کا کردار بھی کافی نمایاں ہے جو تواتر کے ساتھ جامعات میں مختلف سرگرمیوں کی مدد سے اعلی تعلیم کے مسائل ، خود مختاری اور امن و رواداری پر مبنی ایجنڈے کو فوقیت دیئے ہوئے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ نئی نسل میں مکالمہ اور رواداری کا کلچر مضبوط ہواور یہ یونیورسٹیاں انتہا پسندی کے خاتمہ میں بھی قوم کی فکری راہنمائی کریں ۔ جبکہ ایک اور تنظیم CHANGE کے سربراہ ممتاز حسین بھی پنجاب یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر ظفر معین، ڈاکٹر ساجد رشید اور اسلامی یونیورسٹی بہاولپور کے سربراہ ڈاکٹر قیصر مشتاق کی مدد سے ان دونوں یونیورسٹیوں میں طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ مل کر اہم کام کررہے ہیں ۔ مجھے ذاتی طور پر ان سب کے پروگراموں میں باقاعدگی سے جانے کا موقع ملتا ہے اور خوشی ہوتی ہے کہ جامعات میں انتہا پسندی سے نمٹنے کی اہم کوشش ہورہی ہے ۔

اس تناظر میں وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کا اہم کردار بنتا ہے ۔ پنجاب میں اگر اس کام کو ڈاکٹر نظام الدین اور ڈاکٹر شاہد سرویہ نے فعال انداز میں آگے بڑھایا ہے تواس کی ہر سطح پر پزیرائی ہونی چاہیے ۔ لیکن یہ کام محض چند سیمیناروں اور کانفرنسز تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں طلبہ وطالبات سے مختلف سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا جس میں امن اور روداری پر مبنی ڈرامے، تھیٹر، مشاعرہ ، تقریری مقابلے، کھیل ، پوسٹر ز اور دیگر اشاعتی مواد، ویڈیو کلپنگز، ٹاک شوزہوں جس میں طلبہ براہ راست حصہ لیں۔ اسی طرح سے نیشنل ایکشن پلان جو طلبہ تو دور اساتذہ کو بھی معلوم نہیں اس کے بارے میں آگاہی او ران کے کردار کو اجاگر کیا جائے ۔ نیشنل ایکشن پلان کی حیثیت ایک قومی نصاب کے طور پر ہونی چاہیے اور اس فوقیت دے کر ایجنڈا بنایا جائے ۔  یہ کام محض یونیورسٹیوں کی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کو ایک قدم آگے بڑھ کر سکولوں اور کالجوں تک پھیلایا جائے اور یہ عمل سرکاری اور غیر سرکاری اداروں تک پھیلنا چاہیے ۔ ممتاز حسین کے بقول انہوں نے یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ اب کالجوں کو بھی اپنی اس مہم میں شامل کیا ہے اور اس کے خاطر خواہ نتائج ملے ہیں ۔ کیونکہ ہم جس بیانیہ کی تبدیلی کی بات کررہے ہیں اس کا اصل میدان تعلیمی نظام اور نئی نسل کے نوجوان شامل ہیں اور اگر ہم ان کے مزاج کو رواداری پر مبنی خاکہ میں لے آئیں تو اس سے یہ نئی نسل کے لوگ ہی قوم کے نئے ایمبیسیڈر یا سفیر ثابت ہوسکتے ہیں ۔ کیونکہ اگر ہم نئی نسل کو اس تحریک میں شامل کرنے میں کامیاب ہوجائیں جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہوں تو قوم میں ایک نیا متبادل نظریہ سامنے لانے میں مدد مل سکتی ہے ۔

یہ یونیورسٹیوں کا ہی کام ہے کہ وہاں اساتذہ اور بچے و بچیاں ایسی تحقیق پر مبنی مواد سامنے لائیں جو اس بات کو سمجھنے میں مدد دے کہ کیا وجہ ہے کہ ہماری نئی نسل میں عدم برداشت کا رویہ غالب ہوتا جارہا ہے۔ اس تناظر میں دو اہم کام کرنے ہوں گے۔ اول ہمیں تعلیمی اداروں کی سطح پر سیاسی مداخلت کو ختم کرکے اساتذہ اور طلبہ وطالبات میں تحقیق کے لیے آزادانہ ماحول یدا کرنا ہوگا اور  ایسے ماحول کی نفی کرنی ہوگی جو نئی تحقیق میں متبادل سوچ کو اجاگر کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے ۔ دوئم اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یونیورسٹیوں کی سطح پر مختلف امور میں طلبہ و طالبات کی کمیٹیاں بنائی جائیں جو منتخب ہوکرمختلف سرگرمیوں کو بنیاد بنا کر کام کریں۔  کیونکہ طلبہ تنظیموں پر پابندی کے نتائج بہتر نہیں مل سکے ۔

اسی طرح ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ یونیورسٹیوں کی سطح پر تعلیمی نصاب میں انتہا پسندی سے نمٹنے کے حوالے سے مختلف امور کو  حصہ بنایا جائے ۔ نیشنل ایکشن پلان کو نصاب میں شامل کیا جائے یا کم ازکم اساتذہ کو اس منصوبے کا فہم اور ادارک ہونا چاہیے ۔ اس نقطہ کو بنیاد بنا کر اساتذہ اور طلبہ کی منتخب کمیٹیوں کے ریفرشر کوسرسز کا انعقاد ہو۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے موذی مرض کی سنگینی کو بنیاد بنا کر نئی نسل کو شعور دیا جائے کہ اس سے نمٹ کر ہی ریاست اپنے آپ کو محفوظ اور مستحکم بناسکتی ہے ۔