کلبھوشن یادیو اور ہزیمت خوردہ بھارت

  • تحریر
  • جمعہ 29 / دسمبر / 2017
  • 3967

شاعری کی حد تک تو سنا تھا کہ دو ہی مرحلے مشکل ہوتے ہیں یعنی بقول مضطر خیر آبادی، اِک تِرے آنے سے پہلے اِک تِرے جانے کے بعد ، لیکن اس ہفتے ہم نے یہ مشاہدہ خود بھی کیا۔ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے اس کی والدہ اور بیوی کو ملاقات کی اجازت دی۔ یہ ملاقات اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک غیر معمولی واقعہ تھی لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان نازک تعلقات کے پس منظر میں یہ ملاقات مزید اہمیت اختیار کر گئی۔ اس ملاقات سے قبل میڈیا پر ایک ہیجان پر برپا رہا۔ دونوں خواتین کی پاکستان آمد سے لے کر روانگی تک ایک ایک پل کی خبر اور رپورٹنگ میں مقابلے کی فضا رہی۔ ملاقات کے بعد ایک اور ہیجان شروع ہو گیا لیکن یہ ہیجان بھارتی میڈیا میں برپا ہوا جس کی کچھ کچھ گونج پاکستانی میڈیا میں بھی سنائی دی ۔

کلبھوشن یادیو کی والدہ اور بیوی دہلی واپس پہنچیں تو ان سے بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج سمیت وزارت خارجہ کے کئی اہم حکام نے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں پاکستان کی خیرسگالی کے اعتراف کی بجائے الٹا پاکستان پر الزامات لگائے کہ اس نے ملاقات کے ضوابط ( Ground Rules ) کی پابندی نہیں کی۔ بھارت نے اس ملاقات کے اہتمام میں چار خلاف ورزیوں  کا ذکر کیا ۔ اوّل، ملاقات میں فریقین کو ان کی مادری زبان مراٹھی میں بات چیت کی اجازت نہ دی گئی۔ دوم، دونوں خواتین کے پہناوے کی اشیاء اور ان کی مذہبی علامتوں کے پہناوے یعنی بِندی او ر مَنگل سوتر کو اتارنے کا کہا گیا۔ سوم ، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو ملاقات ملاحظہ کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ چہارم، میڈیا کو ان خواتین کو تنگ کرنے سے روکا نہیں گیا۔

انٹیلی جنس کی دنیا عام دنیا کی طرح سیدھی سادی نہیں ہوتی۔ اس میدان کے شہسوار عام زندگی کے ان ہی عام فہم معمولات کی آڑ میں اپنے مفادات کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ دور کیا جانا، بیشتر جیلوں میں مجرم اور اہل خانہ سے ملاقات شیشے کے آمنے سامنے ہوتی ہے، گفتگو مائیک یا فون کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہ بھی عام مشاہدہ ہے کہ ملاقات کے لئے آنے والا اپنے ساتھ کچھ آلات یا اشیاء ایسی لاسکتا ہے جن سے سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کے ساتھ ان خواتین کی ملاقات میں بھی ایک ایسی سیکیورٹی احتیاط کا بھارت نے بہت واویلا مچایا۔ کلبھوشن یادیو کی بیوی نے پاؤں میں بند جوتے پہن رکھے تھے لیکن سیکیورٹی گیٹ کے الارم نے کسی دھاتی شے کی موجودگی کی نشاندہی کی جس پر سیکیورٹی حکام نے اس کی بیوی کو متبادل جوتے فراہم کئے۔ واپسی پر یہ جوتے اس لئے واپس نہ کئے گئے کہ مزید تحقیق کی ضرورت تھی کہ واقعی ان جوتوں میں کسی مشکوک دھاتی شے کو چھپایا گیا یا نہیں ۔ اس واقعے پر بھارتی میڈیا کو کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں گرفتاری اور اعترافِ جرم کی خفت مٹانے کا موقع مل گیا، اس واقعے کو پاکستان کے خلاف ایسے ایسے انداز میں پیش کی گیا کہ خدا کی پناہ!

بھارت کی وزارت خارجہ کے بیان میں پاکستانی میڈیا پر بھی کڑی تنقید کی گئی کہ ان خواتین کو طے شدہ انداز میں میڈیا سے مکمل طور دور نہیں رکھا گیا، بلکہ کچھ صحافیوں نے ان پر قاتل کی ماں کے آوازے کسے۔ مجموعی طور پاکستانی میڈیا کا رویہ نامناسب یعنی Harass and hector والا بتایا گیا۔ اور یہ بھی کہ مجموعی طور پر یہ ملاقات انتہائی دباؤ یعنی Intimidating ماحول میں ہوئی۔ ایک اخبار  نے پاکستان کے ایک انگریزی اخبار کے اداریے میں کلبھوشن یادیو کو بھارتی جاسوس کہنے پر یہ تبصرہ بھی داغ دیا  کیونکہ معاملہ عالمی عدالت میں ہے اس لئے اس کے بارے میں یہ اظہارعدالتی احترام کے منافی ہے ۔  بھارت کا بطور ریاست مزاج انتہائی پیچیدہ، خود پسندانہ اور جارحانہ رہا ہے ۔ اس مزاج میں دوسرے ممالک سے معاملت میں بھارت نے  ہٹ بھی میرا اور پٹ بھی میرا  ،  والا معاملہ اپنا استحقاق سا بنا لیا ہے۔ اس پر مستزاد اپنی آبادی ، معاشی اور عسکری برتری کی بناء پر اس کا رویہ اپنے ہمسایوں سے اس چالاک بھیڑیے والا ہوتا ہے جو ہم نے اسکول کی ابتدائی کلاسز میں پڑھا تھا۔ بھیڑیا میمنے کو ہڑپ کرنے کے لئے اس پر پانی گدلا کرنے کے الزام لگاتا ہے جس پر میمنا جواب دیتا ہے کہ میں تو نشیب میں ہوں اور پانی تو اوپر سے آرہا ہے جہاں تم موجود ہو، میں اسے کیسے گدلا کر رہا ہوں۔ اس پر بھیڑیا دوسرا الزام لگاتا ہے کہ اس بار نہیں تو پچھلے سال تو تم نے پانی گدلا کیا تھا۔ میمنے کے اس جواب پر کہ جناب میں تو پچھلے سال پیدا بھی نہیں ہوا تھا بھیڑیے کی برداشت جواب دے جاتی ہے اور وہ اس پر یہ کہتے ہوئے حملہ آور ہوتا ہے کہ اگر وہ تم نہیں تھے تو وہ تمہاری ماں ہوگی۔۔۔

چند سال قبل ڈھاکہ میں ہم ایک کانفرنس میں شریک تھے جس میں بھارت، سری لنکا، نیپال اور میزبان بنگلہ دیش کے کاروباری اور ٹریڈ ایکسپرٹس بھی شامل تھے۔ موضوع تھا سارک ممالک میں زمینی تجارت کی راہ میں حائل مشکلات۔ بھارت کے تمام ہمسایہ ممالک کانفرنس میں اس کے خلاف کھل کر بولے۔ نیپال کے گلوں شکوؤں کی طویل داستان تھی۔ سری لنکا کو بھی گلہ تھا کہ ایف ٹی اے کے باوجود بھارت سری لنکا کو اپنی مارکیٹ میں رسائی کے یکساں مواقع مہیا کرنے میں روڑے اٹکاتا ہے ۔ یہی گِلہ بنگلہ دیش کو بھی تھا، بلکہ بنگلہ دیشی مندوبین تو اس دوران بار بار جذباتی ہوتے رہے۔ اس دوران بھارت کے مندوبین کے پاس ہر الزام کا مسکت جواب موجود تھا۔ مجال ہے کہ کسی ایک بھی الزام پر ان کی رائے میں لچک ظاہر ہوئی ہو۔  رات کھانے پر ہم نے پاکستانی سفارتکار سے بھارتی مندوبین کے اس رویے کا ذکر کیا تو انہوں نے بڑی معنی خیز بات کی۔ انہوں نے کہا کہ انسانوں کی طرح ممالک میں بھی ایک دوسرے کو رعایت کے بدلے رعایت یا خیر سگالی کے طور پر ایک دوسرے کو کچھ گنجائش دینے کی روایت ہے۔ بیشتر ممالک میں ایک دوسرے کے لئے کم یا زیادہ وسعت قلبی ضرور موجود ہوتی ہے جو طویل اور پیچیدہ تجارتی مذاکرات میں مناسب وقت پر ظاہر کی جاتی ہے لیکن بھارت ایک عجیب ملک ہے جس کے ہاں بار بار کے مختلف النوع مذاکرات میں یہ وسعت قلبی یا کشادہ ظرفی ہمیشہ مفقود پائی۔

ہمیں چند بار بھارت جانے کا موقع ملا۔ بھارتی پنجاب، دہلی، ممبئی، احمد آباد اور آندھرا پردیش کے کئی شہروں میں کاروباری سلسلے میں مختلف اوقات میں جانے اور لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔ اس دوران ہم نے سب سے زیادہ پاکستان مخالف جذبات شمالی بھارت میں پائے۔ بھارتی پنجاب اور دہلی میں ملا جلا رویہ دیکھا لیکن ممبئی اور احمد آباد میں پاکستان کے بارے میں جارحانہ رویہ دیکھا۔ ممبئی میں ہمیں سفری دستاویزات میں ایک معمولی کاغذ نہ ہونے کی وجہ سے ہوٹل کی کنفرم بکنگ سے انکار کر دیا گیا۔ نصف رات کے بعد ہم نے تین ہوٹلوں کے استقبالیوں پر کمرہ حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ بالآخر ایک ہوٹل نے اس شرط پر کمرہ دیا کہ سی آئی ڈی حکام کی طرف سے اگر کلیرنس ملی تو ہم ٹھہر سکیں گے ورنہ کمرہ خالی کرنا ہوگا۔ ہمیں حیرت ہوئی جب آدھ گھنٹے کے بعد ہی سی آئی ڈی کا ایک اہلکار آن موجود ہوا۔ اس نے ہمارے کاغذات چیک کئے اور سوال و جواب کے بعد ہمیں ٹھہرنے کی اجازت دی۔

ممبئی، احمد آباد اور ناگ پور میں مقامی اخبارات پڑھے تو معلوم ہوا کہ بھارت میں جو کچھ اور جو کہیں بھی غلط ہو رہا ہے وہ سب آئی ایس آئی کروا رہی تھی۔ پاکستان کی خبروں کے لئے دو سے تین صفحات مخصوص تھے۔ ہم نے اشتیاق سے پڑھا تو اندازہ ہوا کہ پاکستان کے بارے میں ہر منفی خبر کو مرچ مصالحے کے ساتھ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ پاکستان کے بارے میں تبصرے ایسے بے سروپا کہ کراہت آئی۔ پاکستان کے بارے میں مخالفانہ جذبات کو بھڑکانے میں بھارتی میڈیا کو جنون میں مبتلا پایا۔ بی جے پی کی سیاست کا محور ہی پاکستان دشمنی ہے۔ یوں میڈیا، سیاسی اور ہندوتوا جنونیوں نے پاکستان مخالف جذبات کو ایک مستقل بیایے کی صورت دے دی ہے۔

کلبھوشن یادیو کی فیملی سے ملاقات پر ہمارے ہاں جن احباب کو یہ توقع تھی کہ بھارت پاکستان کے اس خیر سگالی اقدام پر شکرگزار ہوگا یا اس کی توصیف کرے گا، ان کے لئے شاید بھارت کا الزامات بھرا جواب مایوس کن ہو لیکن ہمیں اس پر بالکل حیرت نہیں ہوئی۔ بلکہ اگر بھارت کی طرف سے یہ الزامات اور جِھلاہٹ سامنے نہ آتی تو ہمیں حیرت ہوتی!