امریکہ کا سامنا کرنے کے لئے اتفاق و اتحاد ضروری ہے
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعہ 29 / دسمبر / 2017
- 4330
فوج اور سیاستدانوں کے درمیان نہ تو کبھی مفاہمت کی اعلی ترین فضا قائم رہی ہے اور نہ ہی قائم ہو نے کا امکان ہے۔ سیاستدان عوام کا نمائندہ ہوتے ہیں اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتے ہیں ، یہ جمہوریت اور جمہوری اقدار کے پاسدار ہوتے ہیں۔ اسی طرح فوج ایک ایسا منظم ادارہ ہوتا ہے جو ملک کو خارجی اور داخلی دہشت گردی جیسے واقعات اور دشمن کی دراندازی کو روکنے میں اپنا کردار نبھاتی ہے۔
دنیا کہ وہ تمام ممالک جہاں یہ دونوں (سیاستدان اورا فواج) اپنا اپنا کام اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے سرانجام دیتے ہیں ۔ ان بنیادی وجوہات کی بنا پر یہ ممالک امن و امان کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ ان دونوں کا حقیقی مثبت باہمی ربط دنیا کے کسی اور ملک کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس ملک کے معاملات میں کسی بھی قسم کی دخل اندازی کرنے کی کوشش کر سکے۔ یہاں تک کے ایک منظم حکمت عملی اس بات کی گواہ ہوتی ہے کہ سرحدوں سے سرحدیں جڑی ہونے کے باوجود کسی قسم کی دہشت گردی کے واقعات بھی رونما ہوتے نہیں ہوتے۔ ان ممالک میں صورتحال کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کیا جاتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھایا جاتا ہے کہ عوام کی حکومت کو جمہوریت کہا جاتا ہے مگر پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ عوام نے جن لوگوں کو انتخابات میں ووٹ دے کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا وہ لوگ عوام کو ہی بھول گئے اور ایسے خاص ہوئے کے عوام آج تک ان لوگوں کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں ہونے کے باوجود عوام مسلسل بیچارے ہیں۔ پاکستانی جمہوریت کی اصطلاح تبدیل کرکے عوام پر خواص کی حکومت رکھ دینا چاہئے۔ پاکستانی سیاستدان جب تک اپنی غلطی کو غلطی نہیں سمجھیں گے درست سمت میں پیش رفت ممکن نہیں ہے۔ ہم مسلسل غلطیاں کئے جا رہے ہیں اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ اس کے برعکس فوج ایک منظم ادارہ ہونے کا ثبوت دے رہی ہے۔ اس ادارے میں کچھ بھی ہوجائے ایک دوسرے پر کسی قسم کی الزام تراشی نہیں کرتے۔ اس ادارے کے منظم اور مستحکم ہونے کی وجہ سے ہی ہماری افواج بہترین عسکرہ قوت ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کی افواج کو مختلف محاذوں پر بیک وقت جنگی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ جس کی وجہ سے فوج کے سربراہان نے اپنے مزاج میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا اور ریاست کے وسیع تر مفادات کر مد نظر رکھتے ہوئے خود کو سیاست سے الگ کر لیا اور فوج کو ایک مکمل پیشہ ور ادارہ ثابت کیاہے ۔ ملک میں بدستور سیاسی بحران موجود ہونے کے باوجود فوج نے مداخلت نہیں کی۔ افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجواہ نے 19 دسمبر کو ایک نئی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے ایوانِ بالا کے ممبران سے خطاب کیا اور ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی۔ امید ہے کہ ان کے تحفظات دور ہوگئے ہوں گے۔ یہ فوج کے مزاج کی تبدیلی ہی ہے کہ آرمی چیف نے ایوان بالا (سینیٹ ) میں آکر معزز سینیٹرز کو حفاظتی صورتحال سے آگاہ کیا۔ جنرل صاحب نے یہ بات بھی باور کروائی کہ حکومت مستقل بنیادوں پر مضبوط حکمت عملی مرتب کرے (خصوصی طور پر خارجہ پالیسی پر دھیان دینے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے) اور اس پر مکمل طور پر کاربند ہوجائے۔ ہمارے ملک کے اہم ترین ستونوں کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے ہی امریکہ کی نئی حکومت آئے دن کسی نا کسی انداز میں دھمکیاں دیتی ہے۔ ہمارا ہمسایہ ملک سرحدوں پر گولہ باری کرکے سرحدوں پر رہنے والوں ہمارے ہم وطنوں کو شہید کرتا ہے۔ اور الزام بھی ہم پر لگایا جاتا ہے۔
سیاست دان وطن سے محبت کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں مگر عملی قربانیاں ہمیشہ فوج نے دی ہیں۔
ہمارے ملک کے سیاستدان بارہا یہ بات کہتے چلے آرہے ہیں کہ تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں یا آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں ۔ مگر خود اپنی حد کا تعین نہیں کر پارہے۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن نشریات گواہ ہیں کہ کس طرح سے منصفوں اور انصاف کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ کیا انصاف کرنے والے بھی سیاست زدہ ہوکر رہ گئے ہیں ۔ سیاستدانوں کو دعوؤں کی بجائے عملی طور پراتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی اندرونی کمزوریوں پر خود قابو پانا پڑے گا ورنہ دشمن تو پہلے ہی ہماری صفوں میں گھسا بیٹھا ہے۔