پاکستان اور چین کی بڑھتی قربت اور مفادات کا کھیل
- تحریر فارینہ الماس
- ہفتہ 30 / دسمبر / 2017
- 3898
گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان دہشت گردی کی جس دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے اس کے مضر اثرات ہماری قومی یک جہتی اور مجموعی کردار کو پارہ پارہ کئے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے معاشی و اقتصادی اہداف سے بھی یکسر دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ سرمایہ کار پاکستان کا رخ کرنے سے اس قدر خوف ذدہ ہیں کہ کبھی جہاں سالانہ دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی تھی وہاں اب یہ سرمایہ کاری سمٹ کر ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہوچکی ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارا وہ مسخ شدہ تاثر ہے جو پوری دنیا کو ہم سے دور کررہا ہے۔
سرمایہ کاری کے اس بحران کی وجہ سے اٹھاون فیصد آبادی عدم تحفظ خوراک کا شکار ہے ۔ ملک میں غربت کی شرح تقریباً چالیس فیصد ہے اسی تناسب سے بیروزگاری میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوتا چلاجا رہا ہے۔ ملک میں بڑھتی دہشت گردی کی ایک وجہ بیروزگاری اور مفلسی بھی ہے ۔ ایسے دگرگوں معاشی و سماجی حالات میں جب کہ ان حالات کے سدھار کی کوئی امید بھی نہ تھی ، امید کی ایک کرن سی پیک منصوبے یعنی " پاک چین اقتصادی کوریڈور" کی صورت جاگ اٹھی ہے ۔ یہ معاشی و علاقائی ترقی کی خاطر بنایا گیا دنیا کا اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ ہے ۔ جسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے محنت اور لگن کے تقریباً پندرہ سال درکار ہیں ۔ اس کا مقصد یورپی اور ایشیائی معیشتوں کو انفراسٹرکچر ، تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے یکجا کرنا ہے ۔ اس سلسلے میں چائنہ کا بنیادی پلان دو عالمی رابطوں کے زریعے کئی ریاستوں کا ملاپ ہے۔ اول شاہراہ ریشم کے زریعے اوردوم سمندری راستے کے زریعے اقتصادی و علاقائی رابطہ۔زمینی راستے میں سڑکیں ، پل اور ریلوے ٹریکس شامل ہیں ، جب کہ سمندری راستے کے طور پر گوادر پورٹ اہمیت کی حامل بن چکی ہے۔
اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے نئے راستوں کی بجائے اس کوریڈور کو پہلے سے موجود پلوں اور سڑکوں کے ساتھ ساتھ پھیلایا جائے گا۔ اس کے تحت ابتدا میں وسطی چین کے علاقے زن چیانگ کو وسطی ایشیا سے مربوط کرنے اور پھر اس انفراسٹرکچر کو پھیلا کر روس کے شہر ماسکو ، اٹلی کے شہر وینس اور ہالینڈ کے شہر روٹر ڈیم تک لے جایا جائے گا۔ یوں چین اور روس، وسطی چین اور مغربی ایشیا، چین اور پاکستان و بنگلہ دیش ، چین اور انڈیا و میانمار کو آپس میں ملایا جائے گا ۔ اس سے خطے کے تقریباً پینسٹھ ممالک کو ملایا جائے گا اور ساڑھے چار ارب آبادی کو معاشی فائدہ ہوگا۔ یہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر مشرقی افریقہ اور بحیرہ قلزم تک تجارت کا ایک وسیع اور مربوط منصوبہ ہے ۔ اس میں وسائل کی ذمہ داری چین نے اٹھا رکھی ہے ۔ روڈ کے انفراسٹرکچر کے لئے چین نے تقریبا چالیس ارب ڈالر مختص کر رکھے ہیں ۔ جس میں حکومتی وسائل، پرائیویٹ اداروں کا تعاون اور بنکوں کے قرضے شامل ہوں گے۔ اکانومسٹوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر چین کی مجموعی سرمایہ کاری کا ایک کھرب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔
پاکستان کے اگر کم ہوتے وسائل اور حد سے زیادہ بڑھتے مسائل کی گھمبیر صورتحال کو دیکھا جائے تو یہ منصوبہ شاید ان مسائل سے نمٹنے کی ایک آخری امید ثابت ہو سکتا ہے۔ سلسلے میں گوادر بندرگاہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ گویا اس سارے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مرکزی کردار پاکستان کا ہی ثابت ہو گا ۔ گوادر پورٹ آبنائے ہرمز پر دنیا کی سب ذیادہ گہری بندرگاہ ہے۔ مصر کی نہر سویز سے پورے یورپ کے لئے روزانہ چالیس لاکھ بیرل تیل جاتا ہے جب کہ گوادر سے صرف چین کے لئے روزانہ ساٹھ لاکھ بیرل تیل جائے گا۔ چین کو صرف تیل کی درآمد سے ہی سالانہ بیس ارب ڈالر کی بچت ہو گی۔ جب کہ پاکستان کو تیل کی راہداری کی مد میں پانچ ارب ڈالر یعنی پانچ کھرب یا پانچ سو ارب روپے سالانہ ملیں گے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ایک اندازے کے مطابق تقریباً 80ہزار ٹرک روزانہ چین ، روس اور سنٹرل ایشیا کے ممالک سے گوادر کی طرف آمدو رفت کریں گے۔ محض ٹول ٹیکس ہی کی مد میں پاکستان کو 20سے 25 ارب کی بچت ہو گی ۔ روس اور وسطی ایشیائی ممالک گوادر پورٹ کی وجہ سے پاکستان پر انحصار کرنے لگیں گے ۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی بگڑی ہوئی ساکھ بحال ہو گی۔
پاکستان میں اس منصوبے کے ثمرات میں گوادر سی پورٹ کے علاوہ بین الاقوامی ایئر پورٹ، انڈسٹریل پارک کا قیام ، گوادر سے لے کر چینی سرحد تک موٹر وے کا نیٹ ورک، بڑے شہروں کے رابطے کے راستے ، ریلوے ٹریکس اور دیگر منصوبہ جات شامل ہیں ۔ پاکستان کے لئے یہ نادر موقع ہے روایتی انڈسٹری کے ساتھ ساتھ ہیوی انڈسٹری مثلاً کیمیکل، پلاسٹک، الیکٹریکل، زرعی آلات کی مشینوں ، لائٹ و ہیوی انجنئیرنگ اور آئل ریفائنریز وغیرہ کے شعبوں کو بھی ترقی دی جا سکے۔ اس منصوبے کی سرمایہ کاری نہ صرف پاکستان کی معیشت کو سنبھالا دینے میں مددگار ثابت ہو گی بلکہ ہماری سیاست کا بھی رخ بدل جائے گا ۔ بلوچستان کی محرومی اور خستہ حالی کے خاتمے کے لئے اس منصوبے سے بہت مدد ملے گی۔ پاک چین راہداری کے مغربی روٹ پر تین جامعات بنائے جانے کے منصوبے پر بھی عمل درآمد ہونے والا ہے جو کہ تعلیم کے شعبے میں اس علاقے کی پسماندگی کے تدارک کا بہت بڑا ذریعہ ثابت ہو ں گی۔ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کو بلکہ اس میں شامل تمام ممالک کو اپنے باہمی تنازعات اور مسائل کو حل کرنے میں خوش آئند ثابت ہو گا۔
دنیا کو پائی جانے والی باہمی منافرتوں اور رنجشوں کو بھلانے یا ختم کرنے کا موقع ملے گا۔ پاکستان میں روشن خیالی اور خوش حالی یکساں طور پر آئیں گی۔ یہاں انتہا پسندی کی فضا کو ختم ہونے کا موقع مل سکے گا کیونکہ روزگار کی فراہمی اور قدیم علاقوں کی ترقی ایسے بہت سے مسائل کا خاتمہ کرنے میں مفید ثابت ہوگی جو براہ راست لوگوں کو مایوسی اور شدت پسندی و دہشت گردی کی طرف لے جا رہے ہیں ۔ علاقائی تعاون کی تنظیمیں لوگوں کو ایک نئے معاشرتی و معاشی تعاون میں یکجا کریں گی۔ انڈیا ، ایران اور افغانستان کے باہمی معاہدے کے باوجود ایران اس منصوبے میں دلچسپی لے رہا ہے ۔ انڈیا گو کہ اس کا سب سے بڑا مخالف ہے لیکن اس حقیقت سے وہ بھی واقف ہے کہ اس منصوبے کے ثمرات خود اس کے حصے میں بھی آئیں گے۔ روس محض اس منصوبے ہی کی وجہ سے پاکستان سے ماضی کی تمام رقابتیں بھلا کر پاکستان کے قریب آرہا ہے جو کہ پاکستان کے لئے ایک خوش آئند بات ہے ۔ پاکستان کی ترقی سے خائف لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ہمارے لئے چین کی دوستی ایک ناگزیر آپشن بھی ہے۔ خصوصا امریکہ میں ٹرمپ کی حکومت آنے کے بعد پاکستان کو اب تک سوائے دھمکیوں کے اور کچھ نہیں مل سکا۔ نہ اقتصادی تعلقات ، نہ مالی امداد اور نہ ہی وہ رہی سہی عزت و احترام جس کا کبھی کبھار امریکہ ضرورت پڑنے پر اظہار کر دیا کرتا تھا۔ لیکن اب تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کو وہ مصلحتاً یا ضرورتاً بھی کسی خاطر میں نہیں لاتا۔
لیکن ہمیں یہ بھی سوچ اور سمجھ لینا چاہئے کہ ریاستوں کی تاریخ میں جب کبھی اتحاد قائم ہوئے وہ محض مفادات کے تحفظ کے لئے قائم ہوئے۔ ورنہ تعلقات کی بنیاد ثقافت یا تاریخ کے تناظر میں قائم کی جاسکتی تو آج ہمارے سب سے اچھے تعلقات بھارت سے قائم ہوتے۔ اگر تعلقات مذہب کی بنیاد پر ہوتے تو آج ہمارا سب سے قریبی دوست افغانستان ہوتا۔ چین اور ہمارے ثقافتی و سماجی اور تاریخی حالات و اطوار میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ پاکستان خود کو ایک مذہبی ریاست کہتا ہے اور یہاں مذہبی قوتوں کا اثرورسوخ بھی بہت ذیادہ ہے ۔ جب کہ چین کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے۔ اس کی پاکستان سے قربت مذہبی بنیادوں پر نہیں ۔ اسے دنیا بھر کے مسلمانوں سے ہمدردی بھی نہیں۔ اگر ایساہوتا تو وہ سب سے پہلے اپنے ملک میں موجود مسلمانوں سے مخاصمت کا رویہ ترک کرتا۔ وہ برما کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں بھی آواز اٹھاتا۔ چین کا ہم سے تعلق مفادات کا تعلق ہے ۔ وہ ایک طرف بھارت سے اپنی دشمنی نمٹانے کے واسطے پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے تو دوسری طرف چین بذریعہ گوادر بحر ہند تک پہنچنا چاہتا ہے۔ یہ بندرگاہ 2048 تک چین ہی کے پاس رہنے والی ہے اور اس بندرگاہ سے چین 91 فیصد آمدنی حاصل کرے گا اور گوادر کے ترقیاتی ادارے کے حصے میں محض نو فیصد آمدنی ہی آئے گی۔ اس وقت پاکستان میں چین کی سو سے زائد کمپنیاں توانائی و مواصلات سے لے کر معدنیات کے ذخائر کی دستیابی تک کے منصوبوں پر چھائی ہوئی ہیں ۔ بلا شبہ تجارت کا ذیادہ تر فائدہ بھی چین ہی کے حصے میں آرہا ہے۔ چین کی مصنوعات کی بآسانی دستیابی نے پاکستان کی چھوٹی صنعتوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ جب کہ کسی بھی ملک کے چھوٹے صنعتکار اس کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی اہمیت رکھتے ہیں۔ چینی اثرورسوخ پاکستان کو شاید ہی کبھی صنعتی طور پر اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کے قابل رہنے دے ۔
دوسری طرف چینی باشندوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا بھی پاکستان کے لئے ایک اہم مسئلہ ہی رہے گا ۔ شاید اس میں آنے والے وقتوں میں بھی پاکستان کو کامیابی نہ مل سکے کیونکہ ایک طرف بلوچستان کے علیحدگی پسند عناصر اور دوسری طرف ان عناصر کو بھرپور مدد دینے والی بیرونی قوتیں اس سارے منصوبے سے سخت ناخوش ہیں۔ اس لئے وقتاً فوقتاً چینیوں کے اغوا اور قتل کے رونما ہونے والے واقعات میں مزید بڑھاوے کے ہی امکانات ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی سرمایہ کاری کو بچانے کے لئے چین پاکستان کے قانون و اداروں میں مداخلت کا ارتکاب کرے یا پاکستان سے سخت رویہ اپنانے لگے یا پھر یہ زمے داری خود اٹھاتے ہوئے اپنے محافظ پاکستان میں اتارلے ۔ ان تمام صورتوں میں تعلقات کا پلڑا کتنا برابر رہتا ہے اس بارے کچھ اندازہ لگانا محال ہے۔ چین اور پاکستان کی رائے عامہ کے ایک دوسرے کے بارے میں خیالات و جذبات میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ 2013 میں کئے جانے والے پیو تنظیم کے ایک سروے کے مطابق 81 فیصد پاکستانی چین کو پسند کرتے ہیں جب کہ چین میں آبادی کا 42 فیصد حصہ امریکہ سے تعلقات ، اور 23 فیصد بھارت سے تعلقات کی حمایت میں ہے ۔
چین اور پاکستان کے ثقافتی اختلافات بھی بہت نمایاں ہیں۔ یہاں چینی کھانے تو لوگوں کی مرغوب غذا ہو سکتے ہیں لیکن چینی رہن سہن نہیں۔ چین سے آنے والے بہت سے لوگ جو یہاں مساج سینٹرز، بیوٹی پارلرز اور فٹنس سینٹرز کھول چکے ہیں۔ ان میں جسم فروشی کے بڑھتے رحجان نے پاکستان کو ثقافتی طور پر نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ ثقافتی تعلقات کو استوار کرنے کے لئے پاکستان میں چینی زبان کی تدریس کو بھی بڑھایا جا رہا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان اب چین کی پاکستان میں آمد کو خوش آئند سمجھتے ہوئے ملازمت کے راستے کھلنے کا خواب آنکھوں میں سجاچکے ہیں۔ اس سلسلے میں چینی زبان سیکھنے کا رحجان بہت بڑھ رہا ہے۔ نوجوانوں میں بیروزگاری اور غربت سے بچنے کے لئے چینی خواتین سے بیاہ رچانے کے رحجان کو بھی تقویت مل رہی ہے۔ جو آنے والے وقتوں میں پاکستانی خانگی ڈھانچہ کے لئے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔
چین سے اتنی توقعات کی وابستگی کا انجام کیا ہوگا ۔ کیا گوادر پاکستان کا سنگاپور یا ہانگ کانگ بن سکے گا۔ اور ایسے ترقیاتی منصوبوں کے دوررس نتائج کیا نکلیں گے ۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔ مفادات کی اس وابستگی کے کھیل میں آیا پاکستان کا انجام وہی ہوگا جو امریکہ سے اپنے مفادات کی وابستگی سے ہوا یا حقیقی معنوں میں پاکستان کو اس کے مفادات کا بھرپور حصہ موصول ہوگا۔ اس بارے میں کچھ پہلے سے متعین کرنا درست نہیں۔ لیکن امید اور دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ پاکستان اور چین کے باہمی اتحاد میں دونوں کو اس دوستی کے ثمرات برابر ی کی سطح پر مل سکیں۔