عمران طاہر القادری زرداری گٹھ جوڑ جمہوریت کے خطرناک

ملک میں کچھ ہونے والا ہے کہ نہیں۔ اس ضمن میں ابہام ہے۔ منظرنامہ دھندلا ہے۔ معاملات درمیان میں ہیں۔ کچھ صاف نہیں ہے۔ سب اپنی اپنی گیم بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ سب کو ہی کچھ نہ کچھ امید ہے۔ کوئی بھی نہ مکمل آؤٹ ہے اور نہ ہی کوئی مکمل طور پر ان۔ ابہام نے نظام کی بقا کے حوالہ سے بھی ابہام پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جو نظام چلانا چاہتے ہیں وہ روز نظام کو قائم رکھنے کے لئے اقدامات کرتے ہیں۔ جو نظام کو لپیٹنا چاہتے ہیں وہ روز ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جس سے نظام کو لپیٹا جا سکے۔ یہ الگ بات ہے کہ ادارے نظام کو بچانے اور سیاسی جماعتیں نظام کو لپیٹنے میں لگی ہوئی ہیں۔

گیم کا فائنل راؤنڈ لاہور میں ہوگا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کسی اشارے کے انتظارے میں بیٹھے ہیں۔ ان کو ابھی تک اشارہ نہیں مل رہا۔ وہ ابہام کا شکار ہیں۔ ان کا ابہام واضح ہے۔ انہوں نے سب کو اپنے ساتھ اکٹھا کر لیا ہے۔ لیکن فائنل سگنل کا انتظار ہے۔ صرف ان کو ہی نہیں بلکہ سب کو فائنل سگنل کا انتظار ہے۔ ہد ف شہباز شریف ہیں۔ بات سادہ ہے کہ نون لیگ کے مخالفین کو سمجھ ہے کہ نواز شریف کو گرانے سے ان کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ شہباز شریف نواز شریف کی جگہ لینے کے لئے موجود ہے۔ مسئلہ صرف نواز شریف کا ہے وہ شہباز شریف پر مان نہیں رہے۔ ورنہ نون لیگ کے اندر شہباز شریف سب کو قابل قبول ہیں۔ عالمی سطح پر بھی شہباز شریف کی پسندیدگی کھل کر سامنے آرہی ہے۔ شہباز شریف کے دورہ ترکی اور سعودی عرب اس کی تازہ مثالیں ہیں۔ چین کی جانب سے پنجاب سپیڈ بھی اس کی مثال عمدہ ہے۔ لیکن پھر بھی ابھی شہباز شریف کو مکمل گرین سگنل نہیں ہے۔ وہ بیچ راہ میں کھڑے ہیں۔

طاہر القادری کے ساتھ نون لیگ کی مخالف تمام سیاسی جماعتیں جمع ہو رہی ہیں۔ یہ طاہر القادری کا کمال ہے کہ وہ عمران خان اور آصف زرداری کو اکٹھا کر رہے ہیں۔ یہ آگ اور پانی کا ملاپ ہے۔ میں اس میں طاہر القادری کا زیادہ کمال نہیں سمجھتا بلکہ اس سے صاف ظاہر ہو رہا کہ عمران خان کتنے desperate ہو گئے ہیں۔ حدیبیہ کے سپریم کورٹ میں نہ کھلنے کی وجہ سے عمران خان کی گیم خراب ہو گئی ہے۔ ان کو امید تھی کہ حدیبیہ کے کھلتے ہیں ان کی راہ کی آخری رکاوٹ شہباز شریف آؤٹ ہو جائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اور عمران خان پریشان ہیں۔ یہی پریشانی انہیں طاہر القادری کے قریب لے آئی ہے۔ ورنہ کہاں عمران خان کہاں طاہر القادری ۔ ماضی قریب میں بلکہ پانامہ میں دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ عمران خان طاہر القادری کے خلاف بیان دے رہے تھے اور طاہر القادری عمران خان پر کھلے عام طنز کے نشتر چلا رہے تھے۔ عمران خان طاہر القادری سے ملنے سے اجتناب کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب در پر حاضری دینے پہنچ گئے ہیں۔ یہ طاہر القادری کی محبت نہیں ہے۔ وہ جلد الیکشن چاہتے ہیں۔ اسمبلیوں کی چھٹی چاہتے ہیں۔ شہباز شریف کا بستر گول چاہتے ہیں۔ اور اس سب کے لئے طاہر القادری ان کو آخری امید نظر آرہے ہیں۔

دوسری طرف آصف زرداری کے مسائل مختلف ہیں۔ پنجاب ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ان کی جماعت سندھ کی اب بھی سب سے بڑی جماعت ہے۔ کے پی کے سے بھی سیٹیں نکل آئیں گی۔ بلوچستان کی گیم بھی مختلف ہے۔ سوال تو پنجاب کا ہے۔ پنجاب میں بحالی کے بغیر پیپلزپارٹی کی بحالی ممکن نہیں۔ کائرہ صاحب بھی کوئی تبدیلی نہیں لا سکے۔ نہ ناراض کارکن واپس آرہا ہے۔ نہ ووٹ بنک واپس آرہا ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 120کے ضمنی انتخاب کے نتائج نے تو سب کے سر جھکا د یئے ہیں۔ اس لئے آصف زرداری کوپنجاب میں اتحادیوں کی تلاش ہے۔ عمران خان ان کو گھاس ڈالنے کے لئے تیار نہیں۔ عمران خان کو پتہ ہے پیپلزپارٹی پنجاب میں ایک مردہ گھوڑا ہے وہ کیوں اس میں جان ڈالیں۔

لیکن آصف زرداری کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ طاہر القادری کو جمہوری ٹریک پر کیسے رکھیں۔ طاہر القاری کو اس ملک کی جمہوریت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ کینیڈا کی شہریت لے چکے ہیں۔ جس طرح نواز شریف اقامہ پر نا اہل ہیں۔ اسی طرح طاہر القادری بھی بیرونی شہریت پر نااہل ہیں۔ وہ پاکستان کی سیاست میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ لیکن پھر بھی وہ پاکستان کی سیاست میں مداخلت کرتے ہیں۔ ان کی یہ مداخلت کبھی مثبت نہیں رہی۔ وہ کبھی بھی جمہوری نظام کی مضبوطی کے لئے باہر نہیں آئے۔ انہیں جب بھی لایا گیا اس کے مقاصد نظام کی تباہی تھا۔ انہیں جمہوری نظام کے کھلاڑیوں کو بلیک میل کرنے کے لئے ہی استعمال کیا جاتا رہاہے۔ ان کے دونوں دھرنے مکمل طور پر ناکام ہوئے لیکن یہ ناکامی طاہر القادری کی حد تک ہی تھی جنہوں نے ان سے دھرنا کرایا تھا ان کے مقاصد دونوں دفعہ ہی پورے ہوئے ہیں۔ دونوں دفعہ ہی ملک میں جمہوریت کمزور ہوئی اور غیر جمہوری قوتیں مضبوط ہوئیں۔  اس بار بھی طاہر القادری عمران خان اور آصف زرداری کا گٹھ جوڑ ملک میں جمہوریت کے لئے کوئی خیر کی خبر نہیں لا سکتا۔ یہ ایک غیر جمہوری اتحاد ہے جس کے جمہوری مقاصد نہیں ہو سکتے۔ گو کہ عمران خان اور آصف زرداری کے اہداف مختلف ہیں۔ لیکن طاہر القادری تو ان دونوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مقاصد جمہوری نہیں ہیں۔

ایک عام تاثر یہی ہے کہ نجفی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد طاہر القادری کو فوری طور پر باہر آجانا چاہئے تھا۔ وہ بلا وجہ دیر کر رہے ہیں۔ ان کی دیر معنی خیز ہے۔ اطلاع یہی ہے کہ اشارے کی دیر ہے۔ گر ین سگنل نہیں مل رہا ۔ اس بار طاہر القادری بھی کامیابی کی گارنٹی چاہتے ہیں۔ اگر گارنٹی نہیں ملے گی تو وہ باہر نہیں آئیں گے۔ دھرنا نہیں دیں گے۔ پھر صرف جلسہ جلوس ہوں گے۔ ریلیاں ہوں گی۔ لیکن دھرنا نہیں ہوگا۔ دھرنا گرین سگنل اور یقینی گارنٹی سے مشروط ہے۔  کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب میں جو بھی ہو رہا ہے۔ شہباز شریف کی سعودی عرب کا دورہ نواز شریف کی روانگی کی خبریں ۔ اور ناصر جنجوعہ کی نواز شریف سے پانچ گھٹنے کی ملاقات کو اگر ملا کر دیکھا جائے تو طاہر القادری آصف زرداری اورعمران خان کا گٹھ جوڑ بھی سمجھ آجاتا ہے۔ اگر نواز شریف نے اپنی پارٹی اپنے بھائی اور اپنے دوستوں کی بات نہ مانی تو دما د م مست قلندر کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ پھر طاہر القادری کو بھر پور گرین سگنل مل جائے گا۔ وہ میدان میں آجائیں گے۔

لاہور مال روڈ پر دھرنا ہو جائے گا۔ شہباز شریف سے استعفیٰ کی باز گشت سنائی دے گی۔ ایسے میں تصادم ہو گا۔ یہ تصادم جمہوریت کا بستر گول بھی کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان تو بہت مقبول ہیں وہ یہ کیوں کر رہے ہیں۔ دراصل عمران خان کے ذہن میں ایک بات پھنس گئی ہے کہ اگر شہباز شریف آؤٹ نہیں ہو تے تو وہ وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔ اس لئے وہ آخری حد تک جانا چاہتے ہیں۔ آصف زرداری کی گیم سادہ ہے کہ اگر نظام کو لپیٹنے کا فیصلہ ہو ہی جائے گا تووہ اس طرف کھڑا ہونا چاہیں گے۔ ان کے پاس وقت ہے بلاول کو ابھی وقت چاہئے۔ دو تین سال کی ٹیکنوکریٹ حکومت بلاول کے لئے اچھی ہے۔ بلاول کو اپوزیشن کرنے کا بھر پور وقت مل جائے گا۔ اس لئے یہ دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ تینوں کا یہ گٹھ جوڑ بس ملاقاتوں تک ہی محدود رہ جائے۔ سکرپٹ بدل جائے۔ اور ان تینوں کی دھمکیاں بس گیدڑ بھبکیاں ہی رہ جائیں۔

کیونکہ طاہر القادری عمران خان اور آصف زرداری تینوں کو علم ہے کہ اب اگر وہ ناکام ہو گئے تو شہباز شریف کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ وہ نا قابل شکست ہو جائیں گے۔ اس لئے تینوں پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے پہلے اے پی سی آگے کی گئی۔ پھر استعفیٰ کی مدت دی گئی۔ تاکہ وقت حاصل کیا جا سکے۔ گرین سگنل میں تاخیر ہے۔ تا دم تحریر بھی دیر ہے۔ اس لئے ابہام ہے۔ گیم دونوں طرف ہی جا سکتی ہے۔ گیم دونوں طرف کھیلی جا رہی ہے۔ جہاں تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کا تلعق ہے تو یہ اب ایک سیاسی نہیں عدالتی مسئلہ ہے۔ مقدمات عدالت میں ہیں۔ لیکن مسائل کو عدالت سے باہر لانے کی کوشش کوئی ملک کی خدمت نہیں۔ یہ ملک کے عدالتی نظام پر بھی عدم اعتماد ہے۔