غلام قوم میں سیاسی لیڈروں کی امیج بلڈنگ

جب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے آنے والے عام انتخابات میں شہبازشریف کی بحثیت وزیراعظم نامزدگی کا اعلان کیا ہے، بڑی منصوبہ بندی سے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا امیج بلڈ کیا جا رہا ہے۔ انہیں قومی سطح کا راہنما، عالمی طاقتوں کا منظور نظر، ایسٹبلشمنٹ کا پسندیدہ گھوڑا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

اس کام کے لئے عوام کے ٹیکس کا پیسہ لٹایا جارہا ہے۔ روزانہ اخبارات میں آدھا درجن اشتہارات شہبازشریف کی قد آدم تصاویر کے ساتھ شائع ہوتے ہیں جن پر کروڑوں روپے روزانہ کی لاگت آتی ہے ۔ پنجاب کے سکول اور ہسپتال اس خطیر رقم کے حقدار ہیں لیکن سستی شہرت اور ذاتی تشہیر کا بھونڈا ذریعہ سیٹھ میڈیا کے تعاون سے حاصل کیا جا رہا ہے ۔ سیٹھ میڈیا مالکان ایک جانب حکومت سے اربوں روپے اشتہارات کی مد سے وصول کررہے ہیں تو دوسری جانب میڈیا ورکرز کو بروقت تنخواہیں نہیں ادا کرتے۔ آج کے اخبار میں دو تصویریں جوڑ کر شائع کی گئی ہیں۔ جس میں سعودی عرب کی جانب سے بھیجا گیا خصوصی طیارہ دکھائی دے رہا ہے دوسری جانب شہباز شریف کو طیارہ کی جانب جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ایسے وقت میں جب پاناما لیکس کے عدالتی فیصلے میں نوازشریف نااہل ہوچکے ہیں، شریف خاندان کے احتساب کا عمل جاری ہے۔ لیکن تصویر اور خبر کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ نوازشریف کی نااہلی کے باوجود شہبازشریف اور مسلم لیگ اقتدار کی راہداریوں سے ابھی آؤٹ نہیں ہوئے ۔ جن ریاستوں میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی۔ ادارے کمزور ہوتے ہیں۔ قانون اشرافیہ کے سامنے ہاتھ باندھے مؤدب کھڑا ہوتا ہے، وہاں بیرونی طاقتیں اور ملکی ایسٹبلشمنٹ کسی کو بھی سیاست سے بے دخل اور کسی کو اپنی بیساکھیوں کے ذریعے ملک کا حکمران بنا سکتے ہیں۔

اربوں روپے کے اثاثوں کے مالک ہمارے سیاسی راہنما عربوں کے طفیل اپنا سیاسی وجود برقرار رکھتے ہیں ۔ لیکن آج پاکستان میں ایک واضح تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے کہ آج سوشل میڈیا بروقت پیغام رسانی اورمعلومات کی فراہمی کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ نہ صرف عوام کو حقائق سے آگاہ  کرتا ہے بلکہ ان مباحث کو قومی میڈیا میں بھی اجاگر کرتا ہے۔ جبکہ ماضی میں اس طرح کی پراسرار سیاسی تبدیلیاں اور معاملات کئی دہائیوں بعد آشکار ہوتے تھے ۔

ایک صوبہ کے وزیر اعلیٰ کو غیر ملکی حکومت خصوصی طیارہ بھیج رہی ہے۔  جو بات آزاد اور خودمختار قوموں کے لئے باعث شرمندگی ہونی چاہئے ۔ وہ غلام قوم کے لئے  فخر کا سبب آ بن جاتی ہے۔