حسد ایک موذی مرض ہے
- تحریر طارق محمود مرزا
- اتوار 31 / دسمبر / 2017
- 5060
ایک دفعہ ہم نے اپنے ایک آسٹریلین دوست سے دریافت کیا ’’ تمہارے کولیگ کا پروموشن ہوگیا ہے، تمہارا نہیں ہوا ، کیا وجہ ہے‘‘۔ کہنے لگا ’’ میرے خیال میں وہ زیادہ قابل ہے اس وجہ سے ‘‘۔ قدرے توقف کے بعد اس نے مزید کہا ’’ میں بھی اپنے کام میں محنت کر رہا ہوں امید ہے آگے چل کر میرا پروموشن بھی ہو جائے گا ‘‘ ۔
یہ سن کر مجھے اپنے ایک پاکستانی دوست کا خیال آیا۔ میرے سامنے یہی سوال اس سے کیا گیا، اس کا جواب تھا ’’ کیونکہ مجھے خوشامد کرنا نہیں آتی، ورنہ وہ مجھ سے زیادہ قابل نہیں ہے۔ ویسے اس کا پروموشن تو ہو گیا ہے ، اب دیکھتے ہیں وہ اپنی افسری کیسے کر پاتا ہے، یہ خالہ جی کا گھر نہیں ہے ۔ ‘‘ ہمارے اس دوست کے تن بدن سے حسد کی بو آرہی تھی ۔
ایک عرب مقولہ ہے’ ’ محبت فوراَ ظاہر ہو جاتی ہے نفرت اس بھی جلد ظاہر ہوتی ہے ۔ لیکن حسد، محبت اور نفرت سے بھی پہلے دکھائی دے جاتی ہے‘‘۔ حسد کی یہ آگ ، یہ ناسور ہمارے معاشرے میں اس بُری طرح سرایت کر چکا ہے کہ اس بیماری کی جڑیں دور دور تک پھیل چکی ہیں ۔ یہ ناسور ہمارے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہاہے ۔ اس حسد نے ہمارے اندر کے صحت مند جذبوں، مثبت سوچوں، سچائی ، ایماندار ی ، محنت اور محبت کو دیمک لگا دی ہے ۔ ہماری آنکھوں پر حسد اور ہوس کی عینک لگ گئی ہے جس نے ہمیں لالچ، بغض اور نفرت کی بھٹی میں جھونک دیا ہے ۔ آج ہم اپنے عزیزوں ، اپنے دوستوں ،اپنے پڑوسیوں ، اپنے محلے داروں کو کھاتا پیتا اور خوشحال دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتے ۔ ان سے خواہ مخواہ حسد کرتے ہیں ، جہاں موقع ملتا ہے اس حسد اور بغض کا برملا اعلان کرتے ہیں بلکہ ان کو نقصان پہنچانے کی ترکیبیں سوچتے رہتے ہیں ۔ اس حسد کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں ۔ ان کے پاس اگر کسی چیز کی کمی ہو تو وہ دوسروں کے پاس بھی یہ چیز برداشت نہیں کر سکتے ۔ اگر وہ اسے حاصل نہ کر سکیں تو کوشش کرتے ہیں کہ طرح دوسرے کے پاس بھی یہ چیز نہ رہے ۔ اس حسد نے کئی گھر تباہ کر دیئے ہیں ۔ عزیز اپنے ہی عزیزوں کے دشمن بن کر ان کی پیٹھ میں چھرے گھونپ رہے ہیں ۔ وہ رشتے داروں کی دولت اور املاک کو ہڑپ رہے ہیں۔ اس حسد اور لالچ نے اتنا اندھا کر دیا ہے کہ وہ اپنے خون کو خون میں نہلانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ ایسے واقعات ہم روزانہ سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں ۔
اس روش نے رشتوں اور دوستیوں کو بھی بے اعتبار کر دیا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ کس پر اعتبار کیا جائے اور کس پر نہیں ۔ جہاں دوست اور رشتہ دار اعتبار کے قابل نہیں رہے وہاں کسی غیر پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے ۔ ان حالات میں کس کے ساتھ شراکت کی جائے اور کس کے ساتھ کاروبار کیا جائے ۔ کوئی غیر ملکی ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کیسے کرے گا جہاں خود بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانی کوئی خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ ان کی جائیدادوں اور املاک پر اپنے ہی عزیزوں اور دوستوں نے قبضے کر لئے ہیں ۔ ایسے سینکڑوں مقدمات عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں ۔ ان جائیدادوں کے اصل مالک جان کے خوف سے اپنے ہی ملک میں آنے سے ڈرتے ہیں ۔ اس حسد اور لالچ نے ہمارے معاشرے کا حسن ختم کر کے اس کی شکل مسخ کر دی ہے ۔ بدقسمتی سے اس کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جا رہا ہے ۔ آج سے بیس پچیس برس قبل اتنا حسد اور اتنا بغض نہیں تھا ۔ آج کل بہت سے لوگ اس وجہ سے گاڑی لیتے ہیں کیونکہ اس کے عزیزوں یا پڑوسیوں کے پاس گاڑی ہے ۔ ایسے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ جو لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھتے وہ عزیز یا پڑوسی کی کھڑی گاڑی پر لکیریں کھینچ دیں گے یا اس پر کوئی رنگ بکھیر دیں گے ۔ کسی کا اچھا گھر دیکھیں گے تو کہہ دیں گے یہ سب حرام کا مال ہے۔ کسی کی خوشی میں خوش نہیں ہوں گے، ہاں اس کا نقصان ہوتا دیکھ کر ضرور خوش ہوں گے ۔ دوسروں کے حسد میں مبتلا ہو کر راتوں رات امیر بننے کے لئے غیر قانونی اور غیر اخلاقی ذرائع اختیار کریں گے ۔ پچھلے بیس پچیس برس میں ہمارے ملک میں دولت کی ہوس اور شارٹ کٹ کے ذریعے امیر بننے کے لئے جیسے ریس سی لگ گئی ہے ۔
یوں تو حسد کے بے حد نقصانات ہیں لیکن سب زیادہ نقصان خود حسد کرنے والے کو ہوتا ہے۔Astrid Alanada نے کہا ہے ’’ میں نے زندگی کا بڑا حصہ حسد کے برستے بادلوں تلے چلتے گزارا ۔ حسد کی زہریلی پھوار نے میری آنکھوں کو دُھندلاہٹ اور میرے دل کو تلملاہٹ میں مبتلا رکھا ۔ جب میں نے اعتماد کی چھتری کا سہارا لیا تومیرے لئے آسمان صاف ہو گیا اور اعتماد کی سنہری دھوپ میری بہترین ساتھی ثابت ہوئی۔‘‘ حاسد جہاں انسانیت کا دشمن ہے وہاں اللہ کا بھی مجرم ہے ۔ کیونکہ اللہ نے صبر ، قناعت اور محبت کا سبق دیا ہے نفرت اور حسد کا نہیں ۔ جس دل میں حسد نے گھر کر لیا ہو وہاں نیکی ، اچھائی اور مثبت سوچوں کا گزر نہیں ہوتا۔ Robert A Heinlein نے کہا ہے ’’ محبت صحت مند جذبہ جبکہ حسد ایک مرض ہے ۔ نا سمجھ دماغ ان دونوں کو اکٹھا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ ان دو نوں جذبوں کا کوئی تقابل نہیں ہے۔ ایک کے ہوتے ہوئے دل میں دوسرے جذبے کی گنجائش نہیں رہتی ‘‘
شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں’’ جو دکھ دے اُسے چھوڑ دو مگر جسے چھوڑ دو اُسے دکھ نہ دو ‘‘ حاسد ساری زندگی حسد کرتا رہتا ہے پھر بھی اس سے آگے نہیں نکل پاتا کیونکہ حسد اور گھمنڈ جب دل میں سماتے ہیں تو عقل کو باہر نکال دیتے ہیں اور عقل کے بغیر تو علم بھی بے کار ہے۔ یوں تو حسد ایک مرض ہے جو اکثر بلاوجہ چمٹ جاتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں نمود و نمائش اور گھمنڈ بھی لوگوں کو اس مرض میں مبتلا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ امیر اور غریب میں زمین و آسمان کا فرق ، امیروں کے بچوں کے علیحدہ سکول ، امیروں کی علیحدہ سوسائٹیاں، بڑی بڑی کوٹھیاں ، بڑی بڑی گاڑیاں اور ان سب کی نمود و نمائش بھی حسد کا ذریعہ بنتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ریاست کی انصاف پسندی اور غریب نوازی کی وجہ سے امیر اور غریب کے معیارِزندگی میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے ۔ امیر اپنی دولت اور مرتبے کا رعب نہیں ڈالتے۔ قانون اور انصاف کی نظر میں بھی ہر شہری کو برابر حیثیت حاصل ہے ۔ ان معاشروں میں نمود و نمائش کا بھی تصور نہیں ہے۔ لوگ اپنے حال میں خوش رہتے ہیں نہ غربت کا رونا رہتے ہیں نہ حسد میں مبتلا ہوتے ہیں ۔
معاشی و معاشرتی تفریق حسد کی ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن یہ اس ناسور کا جواز نہیں ہے ۔ ویسے بھی حسد میں مبتلا ہونے والوں کی اکثریت قریبی لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جن سے معاشی فرق بہت زیادہ نہیں ہوتا ۔ اگر انسان کے اندر صبر ، برداشت ، تحمل، رواداری اور محبت کا جذبہ ہو تو وہ حسد میں مبتلا نہیں ہوگا ۔ مثبت سوچ ، قانون پسندی اور محنت پر یقین رکھنے والوں کے پاس آگے بڑھنے کے بہت سے راستے موجود ہوتے ہیں۔ ان کے خلوصِ نیت کی وجہ سے اللہ کی نصرت بھی شاملِ حال ہو جاتی ہے اور کامیابی ان کے قدم چومتی ہے ۔
اللہ سے دُعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں سے حسد جیسے منفی جذبوں کو نکال کر محبت اور خیر سگالی کے جذبات پیدا کرے جس سے معاشرے میں امن اور سکون ہوگا ۔