نظام حکمرانی کی بہتری کے لئے انفرادی شرکت ضروری ہے
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 31 / دسمبر / 2017
- 4317
اگر سیاست تضادات میں گھری ہو تو استحکام اور مضبوطی کی بجائے انتشار پر مبنی سیاست کو زیادہ طاقت ملتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں پاکستان کی سیاست میں استحکام کم اور کمزوری کا عمل زیادہ نظر آتا ہے ۔ یہ مسئلہ کسی ایک حکمران جماعت کا ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر حکمرانی کا نظام ہی سوالیہ نشان ہے ۔ اس وقت مرکز سمیت صوبوں میں مختلف جماعتوں کی حکمرانی ہے جن میں مسلم لیگ (ن) کے پاس مرکز، پنجاب، بلوچستان ، پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس سندھ اور تحریک انصاف کے پاس خیبر پختونحوا کا اقتدار ہے ۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی جماعت حکمرانی کا ایسا نظام وضع نہیں کرسکی جو عوامی توقعات، خواہشات اور ان کی حقیقی ضروتوں کی عکاسی کرسکے ۔
ہمارے حکمران طبقات اور عام آدمی بالخصوص معاشرے کے محروم اور مظلوم طبقات کے درمیان جو سیاسی ، سماجی ، قانونی اور معاشی خلیج بڑھتی جارہی ہے وہ توجہ طلب مسئلہ ہے ۔ کیونکہ حکمرانی کے نظام میں اگر عوام پس پشت چلے جائیں تو ہر سطح پر حکمرانی کا نظام چیلنج ہوجاتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں عوام کے نام پر حکمرانی کا دعوی کرنا آسان لیکن اس کو عملی طور پر آگے بڑھانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے میں ہمیں ہمارے حکمران طبقات پچھلی صفوں میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ لوگوں کا نظام پر اعتماد بھی کم ہوا اور حکمران طبقات کے بارے میں ان کا منفی تاثر ابھرا ہے ۔ عام یا خاص آدمی سمجھتا ہے کہ حکمرانی کا نظام میں ہمارے لیے سہولت کم اور استحصال زیادہ ہے ۔ اس تناظر میں اگر ہم اپنے حکمران طبقات کی ترجیحات، دعوے اور وعدوں کی جانب دیکھیں تو بظاہر اس میں ہمیں حقائق سے زیادہ جذباتیت کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے ۔ لوگوں کی حیثیت محض ایک ہتھیار کی ہے جسے بوقت ضرورت حکمران طبقات اپنی سیاسی مجبوریوں اور ضرورتوں کو بنیاد بنا کر اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں ۔ کچھ دن پہلے پنجاب کے وزیر اعلی نے تین اہم باتیں کیں ۔ اول اگر ہم نے حکمرانی کے نظام کو شفاف نہیں بنایا تو لوگوں کا ایسا انقلاب آئے گا جو ہم سب کو بہا لے جائے گا اور یہ عمل خونی انقلاب سے کم نہیں ہوگا۔ دوئم جب تک ملک کو لوٹنے والوں سے احتساب نہیں ہوگا ، ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔ سوئم اگر عوام نے ان پر دوباہ اعتماد کیا تو وہ اگلی حکومت میں سب کو صاف پانی مہیا کرنے کا عزم کرتے ہیں۔ کچھ اسی طرح کے مبنی نعرے ہمارے دیگر حکمران طبقات کے بھی ہوتے ہیں ۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہ نعرے کون لگارہے ہیں۔ کیا حکومت میں شامل طبقات اس طرح کے جذباتی ماحول یا نعروں کی مدد سے بری طرز حکمرانی پر پردہ ڈال سکتے ہیں ۔ یہ واقعی ایک سنگین مذاق ہے جس میں حکمران طبقہ اپنی ناکامیوں کو قبول کرنے کی بجائے مستقبل کے سہانے خواب دکھا کر عوام کو پھر سے بے وقوف بنانے کے کھیل میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ پنجاب میں شہباز شریف پچھلے دس برس سے حکمران ہیں ۔ پچھلے پانچ برسوں سے تو ان کو وفاق میں اپنی ہی جماعت اور بھائی کی حکومت بھی بھرپور حمایت حاصل رہی ہے مگر اس کے باوجود یہاں کا حکمران طبقہ بھی مداریوں پر مبنی حکمرانی کے نظام کو تقویت دے رہا ہے ۔ پورے ملک میں حکمرانی کا کامیاب نظام ہمیں حکمران طبقات کی جانب سے اشتہارات کی مدد سے ترقی کی حمایت میں چلائی جانے والی مہم میں ہی محض نظر آتا ہے ۔ جبکہ عملی طور پر ہمیں اعداد وشمار میں جو تلخی اور محرومی نظر آتی ہے ، وہ متبادل سچ کے پہلو کو نمایاں کرتی ہے ۔ وہ مسائل جن کے حل کا براہ راست تعلق حکمران طبقات اور حکمرانی کے نظام سے جڑا ہوا ہے اس پر جو رویہ یا طرز عمل حکمران طبقات کا ہے وہ واقعی تشویش کے پہلو کو نمایاں کرتا ہے ۔ چیف جسٹس نے پانی اور عکاج جیسے بنیادی معاملات پر جب عوامی ردعمل پر اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی تو حکمرانی کے نظام کوفوری طور پر خطرات لاحق ہوگئے ۔ منطق یہ دی جارہی ہے کہ عدالتیں اور ججز اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے حکمرانی کے نظام میں براہ راست مداخلت کررہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مداخلت کا جواز کون پیش کررہا ہے ۔ اگر واقعی ہمارا حکمرانی کا نظام لوگوں کے بنیادی مسائل پر توجہ دے تو دیگر اداروں کی مداخلتوں کا جواز خود بخود ختم ہوجاتا ہے ۔ ہمارے اہل دانش تو سیخ پا ہیں کہ ججز کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے لیکن اس کے برعکس عوام کو اگر کچھ ریلیف ملتا ہے تو وہ ان ہی عدالتوں کی فعالیت یا مداخلت کے نتیجے میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔
عدالتی اور حکمرانی کے نظام میں ٹکراؤ کسی بھی طور پر مناسب عمل بھی نہیں ہے ۔ لیکن اس ٹکراؤ سے بچنے کا واحد راستہ حکمران طبقات اور ان کی حکمرانی میں موجود تضادات کا خاتمہ ہے ۔ ہماری حکمرانی کا المیہ یہ ہے کہ اس میں سب سے کم سرمایہ کاری لوگوں پر کی جاتی ہے ۔ جب انسانوں کی اپنی ترقی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا تو اس کے مقابلے میں انفراسٹرکچر یا ڈھانچہ سمیت خوشحالی کی یہ بڑی بڑی عمارتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی ۔ اس تضاد کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس ملک میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں کمی نہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے ۔ حکمرانی کے نظام میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ اگر کوئی حکومت میں ہو تو سب اچھا ہوتا ہے ، مگرجب اقتدار سے باہر ہو تو ملک کا منظر نامہ بربادی کی تصویر پیش کرتا ہے ۔ تعلیم ، صحت، روزگار، انصاف، پولیس، عدالتی نظام ، بھوک، صاف پانی ، علاج جیسے بنیادی نوعیت کے مسائل حکمران طبقات کی نظروں سے اوجھل ہیں ۔ اس کے مقابلے میں ایک ایسی ترقی کو بنیاد بنایا جارہا ہے جو دیکھنے میں تو ترقی ہو، مگر جب اس کو باریک بینی سے دیکھا جائے تو اس میں ترقی کم اور بربادی کا پہلو زیادہ نمایاں نظر آتا ہے ۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) تو دس برسوں سے پنجاب اور سندھ میں حکمرانی کے طور پر موجود ہیں ۔ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو جتنا بااختیار بنایا گیا اس کے باوجود ان صوبوں کے سماجی ، سیاسی اور ترقی کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکمرانوں کی ترجیحات میں تضاد ہے ۔ مقامی حکومتوں کے نظام کے ساتھ حکمران طبقہ نے سب سے زیادہ ظلم کیا اور ا س کا براہ راست اثر مقامی حکمرانی کے نظام کو بدحالی کی صورت میں دیکھنا پڑا۔ یعنی یہ حکمران طبقہ نچلی سطح پر اختیارات و وسائل تقسیم کرنے کے حق میں نہیں ۔
ایک زمانے میں ہماری سیاست میں طبقاتی تقسیم پر مبنی سیاست کو بہت فوقیت حاصل تھی ۔ اسی طبقاتی تقسیم کو بنیاد بنا کر عام آدمی کی سیاست کو مستحکم کرنے کی بات کی جاتی تھی ۔ لیکن اب طبقاتی تقسیم کی سیاست، نعرے اور تحریکیں پس پشت چلی گئی ہیں ۔ حالانکہ حکمرانی کا نظام براہ راست طبقاتی تقسیم کا شکار نظر آتا ہے ۔ حکمرانی کے نظام میں ہم سب برابر نہیں بلکہ طبقو ں میں بٹی ہوئی سیاست ، طبقات کو بنیاد بنا کر اسے اپنے حق اور مخالفت میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ جب حکمران طبقات اور عام آدمی کی ترجیحات میں بنیادی نوعیت کے فرق پیدا ہوجائیں تو لوگ حکمرانی کے نظام سے فوائد کم ہی حاصل کرپاتے ہیں اور جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا ہتھیار لوگوں کے خلاف ہی استعمال ہوتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمارا حکمرانی کا نظام شفاف کیسے ہو اور اس میں عام آدمی کو کیسے فوقیت حاصل ہوسکے گی۔ یہ کام مشکل ضرور ہے ، مگر ناممکن نہیں ۔
مسئلہ حکمرانی کے نظام میں موجود تضادات کو سمجھنا اور اس مکروہ حکمرانی کے نظام کو اپنی اپنی سطح پر قانون کے دائرے کار میں رہتے ہوئے چیلنج کرکے سب کو یہ فہم دینا ہوگا کہ حکمرانی کا یہ نظام ان کے حق میں نہیں بلکہ ان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ۔ ہمارا عمل و فکر جذباتی نعروں پر مبنی سیاست سے نہیں بلکہ عملی اقدامات کی سیاست سے جڑی ہوئی ترقی کو دیکھنے سے ہونا چاہیے ۔ اب وقت ہے کہ ہمیں بطور قوم اس حکمرانی کے نظام میں اپنی اہمیت بڑھانی ہوگی ۔ اس کے لیے خود کو سیاسی بھی بنانا ہوگا اور ایک متبادل ترقی پر مبنی حکمرانی کے نظام کی بحث کو آگے بڑھانا ہوگا ۔ کیونکہ جب تک ہم عملی طور پر حکمرانی کے نظام کی شفافیت کے لیے خود آگے نہیں بڑھیں گے ، حکمرانی کا یہ نظام ہمیں ترقی اور خوشحالی سے اور زیادہ دور لے جائے گا ۔