چچا سام کے نام منٹو کا تازہ خط

از عالم بالا۔
دو جنوری 2018

786
پیارے چچا جان
آداب۔ امید ہے خیریت سے ہوں گے۔ ایک عرصے کے بعد میرے خط لکھنے کی فوری وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ ٹویٹ ہے جس میں انہوں نے "پاکستان" پر سخت برہمی کا اظہار یہ کہہ کر کیا ہے کہ "پاکستان" دہشت گردی کے نام پر انکل سام کے 33 ارب کھا گیا ہے اور افغانستان میں انکل سام  کی مدد کرنے کی بجائے اپنے بوڑھے انکل کو اس عمر میں بے وقوف بنا رہا ہے اور مسلسل جھوٹ بول رہا ہے۔

آپ "پاکستان" کو واوین میں دیکھ کر حیران ہو رہے ہیں، اس لئے مجھے پہلے تھوڑی سی وضاحت کرنی پڑے گی کیونکہ آپ میری تحریریں پڑھتے نہیں اور آپ کی زبان میں میں لکھتا نہیں۔ اپنی بے وقت موت سے کچھ سال پہلے میں نے لکھا تھا کہ میرے ملک میں دو پاکستان ہیں۔ ایک امیروں کا ، دوسرا محنت کشوں کا۔ میرا تعلق، میری کہانیوں اور تحریروں  کا موضوع وہ پاکستان تھا  جس کو آپ نے دشمن بنائے رکھا، جس کے جمہوری حق پر آپ نے پیشہ ور باغی بھیج کر شب خون مارا اور اس پاکستان کو ذہنی اپاہج بنانے کے لئے ڈالر خور مولوی پیدا کئے۔ آپ کے ڈالر میرے پاکستان تک نہ پہنچے، نہ میرے پاکستان کو حرام خوری کی عادت ہے۔ میرا پاکستان ہڈ حرام نہیں:

آپ نے جس "پاکستان" کو پیسے دیئے
اس کے لئے میں واوین استعمال کرتا ہوں۔

معاف کیجئے گا چچا جان، آج میرا یہ خط کچھ بدمزہ انداز میں شروع ہو رہا ہے۔ میں ہر گز ایسے مخاطب نہ ہوتا مگر صورت حال ہی کچھ ایسی بن گئی تھی۔  ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ کا جواب آئی ایس پی آر والے جرنل صاحب مولوی خادم رضوی سے دلوا رہے تھے۔ اچانک یہ سوچ کر مجھ سے رابطہ کیا گیا کہ میں اردو کا سب سے بڑا کہانی کار ہوں، لہذا پین دی سری اور دیگر اصطلاحات کا اردو ترجمہ کر سکوں گا جو خادم رضوی کے جوابی ٹویٹ میں شامل تھیں۔ میں نے جب مولوی خادم رضوی کے بیان کا متن پڑھا تو آپ سے تمام تر محبت کے باوجود ترجمے سے انکار کر دیا۔ آپ کا بھتیجا ہونے کے باوجود میں سیاست ، ادب اور گفتگو میں شائستگی کا قائل ہوں۔ سوچا کہ خود ہی خط لکھ کر آپ کو صورتحال کی وضاحت کرتا ہوں۔

بات یوں ہے چچا جان آپ وار آن ٹیرر کے نام پر دیئے گئے اپنے 33 ارب کو رو رہے ہیں، "پاکستان" تو مجھ ایسے سادہ لوح پاکستانیوں کو ستر سال سے بے وقوف بنا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ جھوٹ بول رہا ہے اور غریب پاکستانیوں کے 33 ارب تو کیا 33 کھرب سے بھی زیادہ جنگ کے نام پر کھا گیا ہے۔ آپ کو تو صرف بیوقوف بنایا گیا ہے (ویسے آپ کو بے وقوف بنانا آسان نہیں، کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے)، پاکستانیوں کو تو بے وقوف بنانے کے ساتھ ساتھ آپ کے "پاکستان" نے مرغا بھی بنا رکھا ہے۔

آپ کے تو فقط  33 ارب گئے، پاکستانیوں کا تو آدھا پاکستان چلا گیا۔ منتخب وزرائے اعظم ڈکار لئے گئے (ایک دفعہ تو آپ کی آشیر باد بھی شامل تھی)۔ ریلوے اور واپڈا یا زرعی زمینوں کا ذکر اس کے سوا ہے۔ ویسے آپ سے کیا چھپا ہے۔ ادھر عالم بالا میں میرے کیمونسٹ دوست تو "پاکستان" کی اکثر حرکتوں کا ذمہ دار آپ کو ہی سمجھتے ہیں۔

میری مانئے تو اپنے صدر کو سمجھائیے، تیس چالیس ارب پر جھگڑا آپ ایسی  امپیریلزم کو زیب نہیں دیتا۔ ویسے بھی آپ تو وسیلہ ہیں ، "پاکستان" کو روزی تو اللہ دیتا ہے۔
ہاں اپنے صدر کو ذرا سمجھا دیجئے گا۔ بلا سوچے سمجھے ٹویٹ کر دیتا ہے۔ آپ کے ہاں سات آزادیاں ہیں۔ ٹھیک ہے۔ مگر "پاکستان" آنے سے پرہیز ہی کرے۔ غائب ہو گیا تو اس کے لئے تو کسی نے موم بتیاں بھی نہیں جلانی۔

اور ہاں ٹرمپ کو کوریا کی تاریخ بارے بھی تھوڑا بتا دیجئے۔ پچھلی بار جنگ ہوئی تھی تو حالات اور تھے۔
اب اجازت دیجئے۔
 آپ کا فرمانبر دار بھتیجا۔
سعادت حسن منٹو مرحوم