یورپ کی سرزمین پاکستانی مہاجرین پر تنگ ہورہی ہے

مشاہدہ ہے کہ گھر سے بھاگنے والا کوئی بچہ جب پکڑا جاتا ہے تو اس سے پہلا سوال یہی  کیا جاتا ہے کہ تم گھر سے کیوں بھاگے تھے۔ اس کے جواب میں بچہ جو کچھ بتاتا ہے اس سے اس کے گھر کے حالات کا اندازہ  ہوجاتا ہے۔ ایسا بچہ عام طور سے یہی جواب دیتا ہے کہ مجھ پر گھر میں بہت ظلم ہوتا تھا، اماں یا ابا مجھے بہت مارتے تھے یا یہ کہ گھر میں ہر وقت لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔ ایسا بھی سننے میں آتا ہے کہ بچے گھرمیں غربت اور فاقہ کشی سے تنگ آکر بھاگ جاتے ہیں۔ گویا گھر کے اندرونی حالات ہی بچے کو گھر سے بھاگنے پرمجبور کرتے ہیں ۔ بلکل انہی حالات و واقعات کا سامنا آج کل پاکستانیوں کو ہے جو اپنے ہی وطن سے بھاگنے پر مجبور ہیں اور پرامن اور ترقی یافتہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہورہے ہیں۔

ایسے پناہ گزینوں سے  بھی انٹرویو میں یہی پہلا سوال پوچھا جاتا ہے کہ تم پاکستان سے کیوں بھاگے تھے ۔ گھر سے بھاگے بچے اور ملک سے بھاگے نوجوان کے جوابات میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی دہشت گردی اور بم دھماکوں کی وجہ سے خود کو غیرمحفوظ سمجھتے ہیں۔ گھرسے باہر کسی بھی جگہ چلے جائیں، کہیں بھی کسی بھی وقت آپ اوپر بھجوائے جاسکتے ہیں۔ پارک، سکول، یونیورسٹی، کہیں بھی جان محفوظ نہیں۔ سب سے زیادہ غیر محفوط جگہ پاکستان میں مساجد، چرچ ، عبادت گاہیں بن چکی ہیں۔  پھر غربت ، بھوک و افلاس کی بات ہوگی اس میں ہم جہاں کھڑے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔  گزشتہ سال منصوبہ بندی کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح38.8 تک پہنچ چکی تھی یعنی غربت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ روئے زمین پر انسانی ہجرت کی کہانی نہ صرف انسانی تاریخ جتنی پرانی ہے بلکہ اتنی ہی گھمبیر بھی ہے۔ عالمی انسانی حقوق و دیگر قوانین کے مطابق اگر کسی شخص کا وطن میں تعاقب کیا جائے یا اس کی جان کو  خطرات لاحق ہوں تو وہ شخص دوسرے ملک میں مہاجر کے طور پر حفاظت مانگنے اور پانے کا حق رکھتا ہے ۔ یاد رہے کہ یہاں تعاقب سے مراد انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور یہ تعاقب حکومت یا سرکاری اداروں یا غیر سرکاری اداروں یعنی دہشت گرد تنظیموں سے بھی ہوسکتا ہے جن سے کسی کی جان کو خطرہ لاحق ہو۔

غیر جانبدارانہ طور سے اگر غور کیا جائے تو چار بنیادی عوامل سامنے آتے ہیں جو انسانی ہجرت کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں نسل کشی، مذہب کے نام پر ظلم وستم، سیاسی پابندیاں اور قومیت کی شناخت پر پابندی وغیرہ شامل ہیں۔ تاریخ انسانی میں جب بھی اور کہیں بھی جو ہجرت  ہوئی ہے اس کے پس منظر میں انہی چاروں میں سے ایک یا دو یا کوئی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ تاہم اب دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور ترقی پذیر و پسماندہ ممالک میں کرپشن اور بدعنوانی اور دیگر معاشرتی امتیازی رویوں کی وجہ سے دنیا میں بڑھتی غربت کی وجہ سے بھی لوگ ترقی یافتہ ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ لیکن یہ مجبوری کسی انسان کی دوسرے ملک میں قیام کو یقینی نہیں بنا سکتی اور وہ کسی بھی وقت واپس اپنے ملک میں بھجوایا جاسکتا ہے جیسا کہ آج یورپین ممالک کر بھی رہے ہیں۔ عالمی قوانین کے تحت صرف ایسے انسانوں کو ہی دوسرے ممالک میں پناہ لینے کا حق حاصل ہے جس کی جان کو اس کے اپنے وطن میں شدید خطرات لاحق ہوں اور اس کی وجوہات خواہ مذہبی ہوں یا سیاسی یا اس کا تعلق مذہبی یا سیاسی آزادی سے ہو۔ یورپی حکومتوں کا خیال ہے کہ زیادہ تر پاکستانی شہری صرف اقتصادی وجوہات کی بنا پر ترک وطن کرتے ہیں۔ اسی لئے ان کے یورپ میں پناہ دیئے جانے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں اور ان کی درخواستیں مسترد کردی جاتی ہیں۔

مرکزی بحیرہ روم کے خطرناک راستوں سے یورپ میں داخل ہونے والے پاکستانی سخت مصائب اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔  ایسے تمام پاکستانی غیر قانونی طریقوں سے یورپ میں داخل ہوتے ہیں لیکن یورپی ممالک میں داخل ہونے کے بعد ان کے مصائب ختم ہونے کی بجائے نہ صرف بڑھ جاتے ہیں بلکہ بسا وقات جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیں۔ جیسا کہ یونان میں کچھ پاکستانی تارکین وطن نے حالات سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرلی تھی اور بہت سے پاکستانی کیمپوں میں صفائی کرنے پر مجبور ہیں۔ بدقسمتی سے کچھ نوعمر پاکستانی لڑکوں کی جسم فروشی کی رپورٹیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ اسی طرح درجنوں کی تعداد میں ایسے پاکستانی عالمی میڈیا کی نظروں میں آئے ہیں جو اب وطن واپس جانا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کے پاس سفری دستاویزات موجود نہیں ہیں۔ وہ سخت ذہنی و جسمانی اذیتوں میں مبتلا شب و روز بسر کررہے ہیں۔ شام و عراق سمیت خانہ جنگی کا شکار ملکوں سے لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کی آمد سے اب ایسے تمام لوگوں کی واپسی شروع ہوچکی ہے جو صرف معاشی حالات کی بنیاد پر یورپی ممالک میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان میں پاکستان سمیت یورپ ہی کے دیگر ممالک کے ہزاروں لوگ بھی شامل ہیں۔

یورپین یونین کے زیر انگرانی یورو سٹیٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں غیر قانونی طریقوں سے مقیم ہزاروں کی تعداد میں پاکستانیوں کو عدالتی یا انتظامی حکم سے واپس پاکستان بھجوایا گیا ہے۔ ان ممالک میں برطانیہ، یونان، فرانس، اسپین اور جرمنی شامل ہیں۔ تاہم اس کے باوجود تاحال پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ان ممالک میں مقیم ہے۔ دسمبر2017 میں اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 258 ملین انسان اپنے آبائی وطن سے نکل کر دوسرے ممالک میں ہجرت اختیار کر چکے ہیں ۔ رپورٹ میں ان پہلے دس ممالک کا بھی ذکر کیا گیاہے جن کے شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ان ممالک کی ٹاپ ٹین فہرست میں جنوبی ایشیا کی دونوں ایٹمی طاقتیں بھی شامل ہیں۔  ان میں بھارت کا پہلا نمبر ہے جبکہ پاکستان کا ساتواں نمبر ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2017 کے اختتام تک سترہ ملین یعنی ایک کروڑ ستر لاکھ بھارتی شہری دوسرے ممالک میں مقیم ہیں۔ سن دو ہزار تک یہ تعداد آٹھ ملین تھی اور اس وقت بھارت تیسرے نمبر پر تھا لیکن اب محض سترہ سال بعد بھارت 8 ملین کے اضافے کے ساتھ اب پہلے نمبر پر ہے۔  بیرون ممالک میں مقیم پاکستان کے شہریوں کی تعداد ساٹھ لاکھ بتائی گئی ہے۔ جبکہ پاکستان کے اپنے ادارے کے مطابق یہ تعداد ستر لاکھ ہے۔ رپورٹ کے مطابق1990میں یہ تعداد 34لاکھ تھی جب کہ2005 کے اختتام تک بیرون ممالک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد 39لاکھ ہو چکی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2007کے بعد پاکستان سے راہ فرار اختیار کرنے والے شہریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ دو سال  قبل سنیٹ میں بتایا گیا تھا کہ صرف 2015-16 میں9 لاکھ پاکستانی پردیسی ہوگئے تھے۔
اس وقت سالانہ چودہ ہزار پاکستانی بیرون ملک ہجرت کر رہے ہیں اور ان میں بڑی تعداد تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ہے جو صحت، انجینئرنگ کمپیوٹر اور دیگر اہم شعبہ جات سے وابستہ ہیں ۔

روزنامہ ڈان میں اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پاکستانی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور ان میں سیاسی پناہ لینے اور روزگار کے حوالے سے جانے والے پاکستانی نوجوان شامل ہیں۔  وہ اپنے ملک میں موجودہ سیاسی و مذہبی انتہاپسندی کی بڑھتی صورتحال سے نہ صرف مایوس ہیں بلکہ خود کو غیر محفوظ بھی خیال کرتے ہیں۔ ان میں اکثریت کا تعلق پنجاب سے ہے اور اس کے بعد فاٹا سمیت دیگر صوبوں کے لوگ بھی شامل ہیں ۔ بہتر مستقبل کی تلاش اور جان کی حفاظت کے لئے مجبوری کی حالت میں بیرون ملک جانے والوں میں 67 فیصد انجیئنرز، 20 فیصد ڈاکٹرز اور بارہ فیصد ٹیچرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہنر مند افراد کی تعداد الگ ہے جن کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔  مختلف مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی ان لوگوں میں شامل ہے۔

اس بات سے کیسے انکار ممکن ہے کہ پاکستان کے اندر اداروں کی زوال پذیری اور زبوں حالی کی ایک وجہ اہل اور قابل افراد کی کمی ہے۔ اس وقت پاکستان کے اندر اقربا پروری، سفارشی کلچر، بیروزگاری، انتہائی کم معاوضہ، امن و امان اور سیکورٹی کی ناقص صورتحال اور خاندانی اجارہ داریوں کی وجہ سے تعلیم یافتہ لوگ وطن چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ غریب خاندان یا مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ذہین طالب علموں کے لئے ممکن نہیں رہا کہ وہ اپنی قابلیت و اہلیت کی وجہ سے کسی کلیدی عہدہ تک پہنچ سکیں۔ بدقسمتی سے ملکی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اپنے ہی وطن میں عدم تحفظ اور سماجی ناانصافی کا شکار ہزاروں پاکستانی وطن بدر ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔  اور دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام اور اداروں کے مابین چپقلش کی سب سے زیادہ قیمت عوام کو چکانی پڑ رہی ہے جو ہر بار اچھی اور دیانتدار حکومت کی امید کے ساتھ اپنا ووٹ ڈالتے ہیں۔