نیا برس نئے چیلنجز لائے گا، مشکلات میں کمی ممکن نہیں

بطور پاکستانی ہم ہرآنے والے نئے برس سے کچھ اچھی توقعات اور خواہشات کو وابستہ کرتے ہیں ۔ امید یہ ہی کی جاتی ہے کہ نیا برس پچھلے برس کے مقابلے میں ہمارے لیے بہتری اور خوشحالی کے امکانات کو پیدا کرے گا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حالات میں بہتر تبدیلی محض خواہشات کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ایک مضبوط ہوم ورک، حکمت عملی اور عملدرآمد کا موثر نظام ضروری ہوتا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جب ہم ان بنیادی نوعیت کے معاملات پر توجہ دیئے بغیر آگے بڑھتے ہیں تو ہر برس کے آخر میں ہمیں مایوسی اور ناکامی کے کچھ نہیں ملتا۔

اگر ہم 2017 کا تجزیہ کریں تو اس میں ہمیں داخلی و خارجی محاذ پرسیاسی ، سماجی ، انتظامی ، سیکورٹی اور معاشی شعبوں میں کچھ بہتری اور کچھ مسائل دیکھنے کو ملے ہیں ۔ اگرچہ سیاسی عدم استحکام ہمیں اس گزرے برس میں غالب نظر آیا  لیکن اسی سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں بنیادی نوعیت کے کچھ ایسے سوالات بھی سیاسی اور سماجی  طور پر  زیر بحث آئے اور ان کے کچھ نتائج بھی ہمیں دیکھنے کو ملے ہیں۔ ان نتائج نے نئی بحثوں کو بھی جنم دیا ہے ۔ ان ہی تضادات پر مبنی سیاست میں 2017 کا سب سے اہم اور بڑا فیصلہ جو بنیادی طور پر سیاسی گیم چینجر بھی ثابت ہوا سننے کو ملا۔  سابق وزیر اعظم کو پاناما مقدمہ میں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا۔  یہ پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ کا سب سے اہم اور بڑا مقدمہ تھا اوراس مقدمہ کے فیصلے نے  ہماری داخلی سیاست کے خدو خال کوبھی کافی حد تک تبدیل کیا ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ 2018 میں بھی ہماری سیاست ان ہی مسائل میں گھری رہے گی اور کچھ زیادہ مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو نہیں مل سکیں گی۔  کرپشن پر مبنی سیاست اور نعروں کو ہی فوقیت حاصل ہوگی ۔

اگر ہم 2018کے برس کا ابتدائی تجزیہ یا امکانات کا جائزہ لیں تو ہمیں چار اہم مسائل سرفہرست نظر آتے ہیں ۔ اول منصفانہ اور شفاف انتخابات کا بروقت انعقاد اور نظام حکومت کی تبدیلی ، دوئم کیا احتساب کا عمل محض شریف خاندان تک ہی محدود رہے گا یا اس کا دائرہ کار دیگر فریقین تک بڑھایا جائے گا ۔ سوئم کیا اداروں کے درمیان جاری ٹکراؤ میں کمی ممکن ہوسکے گی۔  الزام تراشیوں پر مبنی  سیاست میں کمی آئے گی۔  چہارم انتخابی مہم کا ایجنڈا کیا محض الزام تراشی ، مخالفانہ مہم ، لعن طعن پر ہی مبنی ہوگا یا اس میں عوامی یا قومی مسائل کو کچھ جگہ ملنا ممکن ہوسکے گا۔ پنجم کیا علاقائی صورتحال میں کچھ بہتری کے امکانات دیکھ سکیں گے۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ 2018کا برس گزرے 2017کے مقابلے میں زیادہ ہنگامہ خیز اور محاز آرائی پر مبنی ہوگا ۔ کیونکہ یہ بات طے ہے کہ سیاسی فریقین میں جو سیاسی تناؤ اور ایک دوسرے کے بارے میں عدم برداشت کا رویہ غالب ہے اس کی موجودگی میں مصالحت اور مفاہمت کا سیاسی ایجنڈا پس پشت چلا جائے گا ۔ یہ نیا ٹرینڈ ہمیں سوشل میڈیا کی صورت میں بھی نظر آرہا ہے۔ اب 2018کی انتخابی مہم میں کسی کی حمایت اور مخالفت میں یہ ایک کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اصل مسئلہ بروقت انتخابات اور شفافیت کا ہے ۔ کیونکہ بہت سے لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ انتخابات کے عمل میں بھی تاخیر ہوسکتی ہے اور یہ عمل کچھ عرصے کے لیے مؤخر ہوسکتا ہے ۔ اس لیے پہلا چیلنج بروقت انتخابات کا ہی ہے ۔ اس کی کنجی عملی طور پر سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کے ہاتھ میں ہے ۔ کیونکہ اگر سیاسی قیادت نے محاز آرائی کو بنیاد بنا کرٹکراؤ کی پالیسی اختیار کی تو انتخاب کا راستہ مشکل بھی ہوسکتا ہے ۔ جہاں تک شفاف انتخابات کے انعقاد کی بات ہے یہ ہماری خواہش تو ہوسکتی ہے ، لیکن عملی طور پر ایک ایسی سیاست جہاں طاقت کے مراکز میں بنیادی اہمیت داخلی اور خارجی اسٹیبلیشمنٹ کو حاصل ہو اور وہ فیصلہ سا ز ہوں تو شفاف انتخابات کی منزل دور ہوجاتی ہے۔ عملی طور پر ایسے ماحول میں انتخابات اور اس کے نتائج کا سیاسی دربار سجایا جاتا ہے اور اس میں عوام اور ان کے ووٹوں کی حیثیت محض ایک ہتھیار کی ہوتی ہے۔  جسے کسی کی حمایت اور مخالفت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ماضی کے انتخابات کے ماحول کو سجانے اور اپنی مرضی کے نتائج کے حصول میں طاقت کے مراکز کا ہی اہم کردار رہا ہے ۔ کاش یہاں ووٹ کی طاقت سے تبدیلی آتی تو  صورتحا ل کافی مختلف ہوتی ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ  سابق وزیر اعظم کو گلہ ہے کہ نئی سیاسی صورتحال میں عمران خان لاڈلے کو خاص قوتوں کی حمایت حاصل ہے ۔ جبکہ عمران خان کے بقول وہ نہیں بلکہ خود نواز شریف لاڈلے ہیں جو اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت سے سیاست کرتے رہے ہیں ۔ اس برس اہم معاملہ نیب عدالتوں میں شریف خاندان کے خلاف چلنے والے مقدمات اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کا فیصلہ بھی ہے ۔ اگر نیب کی عدالتوں سے بھی شریف خاندان کے خلاف فیصلے آتے ہیں تو اس کا براہ راست اثر ان کی انتخابی مہم پر منفی انداز میں پڑے گا اور اس کا فائدہ عمران خان سمیت ان کے مخالفین کو ہوگا۔ اسی برس ہمیں سیاسی جماعتوں کی سطح پر بھی کافی توڑ پھوڑ دیکھنے کو ملے گی اور اس کا اثر نئے انتخابی اتحاد کی صورت میں بھی  دکھائی دے گا۔  مذہبی جماعتوں نے بھی مجلس عمل سمیت کئی محاذ پر اپنے آپ کو منظم کیا ہے ۔ وہ بڑی جماعتوں کے ساتھ انتخابی لین دین کے معاملے میں اپنا کارڈ کھیلنے کی بہتر صلاحیت رکھیں گی اور کچھ مذہبی عناصر ختم نبوت کو بنیاد بنا کر حکمران جماعت کی انتخابی مہم میں مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ دیکھنی ہوگی کہ کیا نواز شریف آزادانہ بنیادوں پر اسی ٹکراؤ پر مبنی بیانیہ کی بنیاد پر اپنی جماعت کے لئے انتخابی مہم کو چلاسکیں گے۔  اگر یہ انتخابی مہم محض شہباز شریف نے چلانی ہے تو کیا وہ واقعی انتخابی مہم میں اپنے بھائی نواز شریف کے متبادل ہوسکیں گے اور کیا وہ پارٹی کو یکجا کرسکیں گے ۔ کیا آصف زرداری سندھ کی سیاست سے باہر نکل کر اپنی سیاسی حیثیت منواسکیں گے۔ عمران خان  انتخابی سیاست میں واقعی نواز شریف پر برتری حاصل کرسکیں گے اور کراچی کا سیاسی منظر نامہ  کیا ہوگا۔ عوامی نیشنل پارٹی اور جے یو آئی کیا نئی طاقت پکڑسکیں گی اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف متبادل سیاست ابھر سکے گی۔

بنیادی طور پر پاکستان کو ایک مضبوط سیاسی حکومت اور نظام درکار ہے ۔ کیونکہ ہمارے داخلی اور خارجی سطح پر  مخالفین ہمیں  عالمی اور علاقائی سیاست میں تنہا کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کا واحد حل ہمیں مضبوط نظام کی صورت میں درکار ہے ۔ لیکن جو سیاسی منظر نامہ ابھر رہا ہے اس میں جو انتخابی دربار بھی سجتا ہے اور اس کا نتیجہ مینڈیٹ کی تقسیم اور مخلوط حکومتوں کی صورت میں آتا ہے تو عدم استحکام کی سیاست کو غلبہ ہوگا ۔ یہ قومی مفاد  میں نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جس کے بھی حق میں مینڈیٹ آتا ہے مخالفین آسانی سے قبول نہیں کریں گے اور مستقبل میں بھی محاز آرائی کی سیاست بالادست ہی رہے گی ۔ اصل مشکلات عام اور کمزور طبقات کو ہی ہوں گی۔  کیونکہ  محاز آرائی کی سیاست میں ان کو کھلونے کے طور پر برتا جائے گا اور اسی بنیاد پر ان کا سیاسی ، معاشی استحصال بھی ہوگا۔  سیاسی محاذ پر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جنگ  میں عوام اور کمزور طبقات کی حیثیت محض تماشائی کی ہوگی۔  اگر احتساب کا عمل سب کے خلاف نہیں ہوگا اور اس کا دائرہ کار محض شریف خاندان تک محدود رہتا ہے تو اس کا فائدہ شریف خاندان کو ہی ہوگا اور وہ یہ کہہ سکیں گے کہ احتساب کا ڈرامہ محض ان کودیوار سے لگانے کا کھیل تھا۔

پاکستانی عوام کو 2018کی سیاست میں اپنی آنکھیں کھلی رکھ کر ہوشمندی سے  سیاسی کھیل کو سمجھنا ہوگا۔ اس میں نئی نسل کے نوجوان کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ اگر عوام بھی سیاست دانوں کی جذباتیت کا شکار ہوگئے تو اس کا نتیجہ ان کے لیے اور زیادہ استحصال کا سبب بنے گا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ 2017کی طرح ہی 2018 میں بھی ہمیں جو لڑائی سیاسی محاذ پر نظر آرہی ہے اس میں عوام کم اور طاقت کے مراکز کے اپنے مفادات کو زیادہ غلبہ حاصل ہے۔  طاقت کے مراکز کی ذاتی لڑائی کیسے ختم یا کمزور ہوگی، اس پر سیاستدانوں کی توجہ بہت کم ہے۔ یہ ہی ہماری سیاست کا بڑا المیہ بھی ہے ۔ اس لیے نیا برس پرانے برس کے مسائل کا تسلسل ہو سکتا ہے۔   اس میں کوئی عوامی مفادات پر مبنی تبدیلی کے امکانات بہت کم ہیں۔