ہوشیار پاکستانی اوربیوقوف امریکی
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعرات 04 / جنوری / 2018
- 4073
آج صبح قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ایک پیغام سے آنکھوں کوبصیرت میسر آئی اور یہ پیغام جیسے آنکھوں میں جم کر رہ گیا ، کوشش کریں کے اسے پڑھنے کیلئے دل کی زبان استعمال کریں ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میں اپنا کام کرچکا ہوں، قوم کو جس چیز کی ضرورت تھی وہ اسے مل گئی ہے ، اب یہ قوم کا کام ہے کہ وہ اسے تعمیر کرے ۔ قائد کے فرمان سے جو چیز میں نے سمجھی ہے، وہ ہے قوم ، کیا ہم قوم ہیں۔ ہم تو قومیتوں کا ایک ریوڑ ہیں۔
پیغام بہت آسان الفاظ میں اور مکمل وضاحت کے ساتھ ہے۔ اس پیغام میں سب پہلا اہم نقطہ یہ دیکھائی دے رہا ہے کہ قائد اعظم نے جو تحریک پاکستان کیلئے چلائی وہ ایک قوم کیلئے تھی۔ قائد کے لفظ قوم میں تمام مذاہب کو ماننے والے ، مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے افراد تھے ، جنہیں ایک قومی تشخص دے کر ایک قوم کی صورت پاکستان میں آباد کیا گیا تھا۔ لیکن پاکستانی عوام اور لیڈر قائدِ اعظم کی سوچ اور افکار کو بھلا بیٹھے۔ قائد کے اس فرمان کو پڑھا تو ایسا لگا جیسے کل رات کو قائد اعظم نے یہ پیغام عوام کیلئے دیا ہے ۔ 2018 انتخابات کا سال ہے اور تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہیں۔ سب ہی ایک دوسرے کی بدعنوانیوں کے قصے ساری دنیا کو چیخ چیخ کر سنا رہے ہیں ۔ ہماری قومی غیرت نامی لفظ سے کوئی شناسائی نہیں ہے ۔ یہ ہماری بدعنوانیوں کا نتیجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو دھمکیوں پر دھمکیاں دے رہا ہے۔ وہ اس بات کو خاطر میں لانے کو تیار ہی نہیں کہ پاکستان نے امریکہ کی لگائی ہوئی آگ میں اپنے آپ کو کس بری طرح سے جھلسالیا ہے۔ امریکی صدر نے پاکستانیوں کی قابلیت کا اعتراف کچھ اس انداز سے کیا ہے کہ اپنی خارجہ حکمت عملی ہی نہیں بلکہ تھنک ٹینک (سوچنے والی توپیں) پر بھی سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ دل ہی دل میں ہمارے حکمران و سیاستدان اور پالیسی ساز بہت خوش ہوں گے کہ دنیا کو چلانے والے اور ساری دنیا کو آنکھیں دکھانے والوں کو ہم نے بیوقوف بنا دیا ہے (جو امریکی صدر خود کہہ چکے ہیں)۔ سادہ لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ نے اپنے منہ سے اپنی نااہلی کا اعترف کر لیا ہے ۔
پاکستان کو ایک قوم ہونے کی ضرورت ہے پاکستان کو اب اور محتاط ہونے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے دشمنوں کی فہرست میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جس کی اہم ترین وجوہات میں سی پیک منصوبہ اول نمبر پر ہے اور چین سے اتنی مضبوط دوستی ۔ ہم جب انڈیا کی دراندازی کا بھرپور جواب دیتے ہیں تو انڈیا امریکہ کی طرف دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر امریکہ سے اسی طرح کا بے سر و پیر بیان ڈونلڈ ٹرمپ داغ دیتے ہیں۔ دوسری طرف افغانستان اور ایران بھی ہمیں پریشان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ گوکہ ایران خود اس وقت اندرونی خلفشار کا شکارہے۔
قائد اعظم نے جو توقعات اس ملک میں رہنے والوں سے لگائی تھیں ان میں سے شاید ایک بھی پوری نہیں ہوسکی ہے ۔ قومیتوں کے جتھوں نے قائد اعظم اور تحریک پاکستان کے کارکنوں کو ہی متنازع بنا دیا ہے۔ نئی نسل کے ذہنوں میں مختلف ابہام پیدا کردیئے ہیں۔ اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنا کر سب بیٹھ گئے۔
یہ ایک ایسا معمہ ہے جو حل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ سترسال گزر جانے کے بعد بھی ہم اپنے وطن کی تعمیر ان خوابوں کی تعبیر حاصل نہیں کرسکے جو اس ملک کو حاصل کرتے وقت سجائے گئے تھے۔ اسی لئے ہم دنیا میں خوار اور اپنے ہی وطن میں غیر محفوظ ہیں۔