ٹویٹ، دھمکیاں اور جواب
- تحریر
- جمعہ 05 / جنوری / 2018
- 4313
ہر سا ل کی طرح اس بار بھی سال کے آخری دن یار لوگوں نے پیغامات کی بھر مار کر دی۔ ابھی اس بھرمار سے فراغت نہ ملی تھی کہ آدھی رات سے ہی یار لوگوں نے نئے سال کے پیغامات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ جانے کس برہمن نے کسی ایک سال کے اچھا ہونے کی نوید کیا دے دی اور کسی شاعر نے اسے شعر میں کیا باندھ دیا، اب یار لوگ ہر سال اس شعر کی تکرار کرتے ہیں:
دیکھئے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
ابھی مبارک سلامت کا یہ ہنگامہ سرد نہ ہوا تھا کہ امریکی وقت کے مطابق صبح کے چار بجے امریکی صدر نے سالِ نو کی پارٹی سے فراغت کے بعد ایک ٹویٹ جاری کر دیا۔ رسمِ دنیا اور موقع کی مناسبت سے اگر یہ ٹویٹ نئے سال کی تمناؤں کے بارے میں ہوتا تو شاید یہ اب تک کسی کو یاد بھی نہ رہتا لیکن موصوف نے اس ٹویٹ میں تمام سفارتی لحاظ بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے بارے میں ایسے سخت الفاظ استعمال کیے کہ پاکستان تو کیا ، امریکی مبصرین بھی اس پر سیخ پا ہوئے۔ سی این این پر ری پبلکن پارٹی کی ایک حامی سیاسی مبصر اینا نیوارو نے اپنے ہی صدر کے بارے میں وہ وہ سنائیں کہ بقول شخصے ہمارے تو سن کر ہی شرم سے کان سرخ ہو گئے۔ اپنے ملک میں امریکی صدر کے اس ٹویٹ پر رد عمل قدرتی طور پر شدید تھا۔ عوام سے لے کر میڈیا، سیاست دانوں سے لے کر سیکیورٹی اداروں نے اس ٹویٹ پر اظہار ناپسندیدگی کیا۔ سوشل اور مین اسٹریم میڈیا پر شیدید ردِعمل قابل فہم تھا کہ ٹویٹ کی زبان اور لہجہ ہی کچھ ایسا تھا۔ پاکستان کو امریکہ نے پندرہ سالوں میں 33 ارب ڈالر امداد دی لیکن اس نے بدلے میں کیا دیا، جھوٹ اور دھوکہ، یہ امریکی قیادت کی حماقت تھی لیکن اب نہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر عوامی غیض و غضب سے ہٹ کر ہمارے تمام اداروں نے البتہ اس ٹویٹ کا نہایت نپا تلا اور سوچا سمجھا جواب دیا۔
پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ سالہا سال سے سیاسی، سیکیورٹی اور معاشی عدم استحکام کے شکار اس ملک نے ستر ہزار سے زائد جانوں کا نقصان سہا، سوا سو ارب ڈالرز سے زائد کا اقتصادی نقصان برداشت کیا۔ ملک کے معاشرتی ڈھانچے کی چولیں الگ ہل گئیں اور موصوف ہیں کہ انہوں نے ایک ہی فقرے میں ان قربانیوں کو کسی کھاتے میں نہیں لکھا۔ اور اور اپنا رونا رو دیا کہ افغانستان میں ان کی ناکامی کی وجہ وہ لوگ ہیں جو بقول ان کے افغانستان میں کاروائیاں کرکے پاکستان میں پناہ لیتے ہیں۔ یہ بیان ان مختلف بیانات کا تسلسل ہے جو ان کے وزیر خارجہ ، سیکیورٹی کے مشیر اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے سربراہان نے حالیہ دنوں میں دیئے۔ امریکی نائب صدر نے تو کابل میں چند روز قبل ایک عجیب بیان دیا کہ ہم نے پاکستان کو نوٹس دے دیا ہے ۔ ہم نے ان ہی صفحات پر آٹھ دسمبر کے اپنے کالم میں ان بیانات کے تسلسل کا ذکر کیا تھا اور اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ یہاں وہاں سے اٹھتا ہوا یہ غبار جمع ہو کر کسی طوفان کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
پاکستان امریکہ تعلقات میں امداد ایک کلیدی نکتہ رہی ہے۔ پاکستان بننے کے بعد پچاس کی دِہائی میں اس امداد کا سلسلہ شروع ہوا تو پھر دراز ہوتا چلا گیا۔ کبھی زیادہ کبھی کم لیکن پاک امریکی تعلقات میں امداد کا ایک مستقل کردار رہا۔ ضیاء دور میں افغان جنگ کے دوران اس امداد میں فیاضی دکھائی گئی کہ امریکہ کو اس کی ضرورت تھی لیکن نوے کی دِہائی کے آغاز پر ہی پریسلر ترمیم کے نام پر عملاٌ ہر قسم کی امداد روک دی گئی۔ ان دس سالوں میں پاکستان کو امریکہ سے ملنے والی کل امداد فقط پچاس کروڑ ڈالر تھی۔ نائن الیون کے بعد حالات نے پلٹا کھایا تو امداد کا سلسلہ پہلے سے زیادہ بہاؤ کے ساتھ شروع ہو گیا۔ امریکی امداد بنیادی طور پر کچھ تو دفاعی مقاصد کے لئے تھی جسے عرف عام میں فوجی امداد کہا جاتا ہے۔ 2002 سے 2015 تک فوجی امداد کا حجم ساڑھے گیارہ ارب ڈالر سے کچھ کم رہا۔ اس دوران سوشل اور اقتصادی امداد کا حجم ساڑھے پندرہ ڈالر ارب رہا۔ ا س دوران پاک امریکہ کے درمیان ایک نئی معاملت کے تحت تیرہ ارب ڈالر ادا کئے گئے، یہ کولیشن سپورٹ فنڈ تھا جو بنیادی طور پر افغانستان میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لئے امریکہ نے پاکستان کے انفراسٹرکچر وغیرہ کے استعمال کی مد میں ادا کیا۔
ہر بحران میں ایک نہ ایک خیر کا پہلو بھی ہوتا ہے۔ اس بحث اور جوابی بیانئے میں ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار ہو رہی ہے کہ قوموں کی آزادی میں اقتصادی استحکام کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی معیشت اور اس کا اقتصادی ڈھانچہ خود کفالت کے اصولوں سے ہمیشہ متصادم رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ستر سالوں کے اس عرصے میں ہر آنے والے دِہائی نئے سے نئے معاشی چیلنجز لے کر آئی۔ بجٹ خسارے نے جان چھوڑی نہ مالی خسارے نے۔ اصلاحات سے گریز تمام حکومتوں کا شیوہ رہا۔ مشکل فیصلوں سے پہلو تہی بھی ایک مسلسل شعار رہا۔ نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا تھا ، معیشت بدستور مشکلات کا شکار رہی۔ کبھی چند سال اقتصادی بڑھوتری ہو گئی تو کئی سال بمشکل شرح آبادی کے برابر شرح نمو ممکن ہو سکی۔ ا س دوران آبادی کا دباؤ بدستور بڑھتا رہا۔ وسائل کمیاب اور ضرورتیں بے حدو حساب۔ گذشتہ تیس سالوں سے جو سیاسی گورننس سامنے آئی اس میں ہر سطح پر کرپشن نے پنجے گاڑنا شروع کر دیئے۔ معیشت کھوکھلی اور گورننس بے دست و پا ہوتی گئی۔ اب حالت یہ ہے کہ عدالتوں کو عوامی حکومتوں سے پوچھنا پڑ رہا ہے کہ صاف پانی کیوں دستیاب نہیں ہے۔ سوال بڑھ رہے ہیں لیکن جواب ندارد ہیں۔
پاکستان بطور ملک مشکلات کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس کے سیکیورٹی ادارے بھی ان چیلنجز سے خوب واقف ہیں اور اہلیت بھی رکھتے ہیں لیکن ٹائمنگ کے اعتبار سے کسی ممکنہ محاذ آرائی کے لئے یہ وقت خاصا پریشان کن ہے۔ امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیان کے مطابق امریکہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے اندر ٹارگٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ کیا صورتحال پیش آ سکتی ہے۔ کیا ممکنہ ردِ عمل ہو سکتا ہے۔ ہم اس میدان کے شناسا نہیں۔ دفاعی ماہرین ان امور پر بہتر تبصرہ کر سکتے ہیں لیکن ہم یہ ضرور اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایسی کسی بھی ممکنہ محاذ آرائی کے پاکستانی معیشت پر گہرے اثرات ہوں گے ۔ پاکستان میں یہ سال انتخابات کا ہے، مارچ میں سینیٹ کے انتخابات اور بعد ازاں عام انتخابات کا پروگرام ہے۔ سیاسی درجہ حرارت کھول رہا ہے۔ ہر گزرتے دن سیاست میں عدالتی فیصلوں اور نیب کی گونج سے منظر نامہ منقسم اور جارحانہ ہو رہا ہے۔ اقتصادی چیلنجز پر دانشمندانہ سیاسی رائے کی بجائے پوائنٹ سکورنگ ہو رہی ہے۔ معیشت کے لئے مشکل فیصلے کرنے کے کئے جو سیاسی قوت اور سپورٹ درکار ہوتی ہے وہ مفقود ہے۔ سب فریق ایک دوسرے کو لتاڑنے کے لئے کسی بھی نازک معاشی چیلنج کو اس کے پس منظر تک محدود رکھنے کی بجائے اسے ایک سیاسی گولہ باری کے لئے استعمال کرنے پر مصر ہیں۔ روپے ڈالر کی حالیہ ایڈجسٹمنٹ ہو یا تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بات، تان سیاسی طعنوں سے شروع ہو کر دشنام تک ختم ہوتی ہے۔
برا تو بہت لگا لیکن اس حیقیقت سے کیا انکار کہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے میں مستقل موجود خامیوں کے ہاتھوں معیشت اب بیرونی امداد اور قرضوں کی یرغمال بن چکی ہے۔ بجٹ خسارہ اور مالی خسارہ ہر گزرتے سال معیشت کو اندرونی اور بیرونی قرضوں سے زیربار کر رہا ہے۔ پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لئے نئے قرضے حکمت عملی بن چکے۔ بڑے پروجیکٹس میں فیصلہ سازی پہلے بھی مصلحت اور سست روی کا شکار تھی لیکن اب احتساب کے وسیع ہوتے جال کے بعد فیصلہ سازی مزید سست ہو نے کا امکان ہے۔ معیشت میں اصلاحات کا فقدان ہے۔ بلیک اکونومی تو پھل پھول رہی ہے لیکن فارمل اکونومی کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ہم اپنے آپ کو بھی کٹہرے میں لائیں کہ معیشت کو اس حال پر ہی کیوں لے کر آئے کہ ایک ٹویٹ ہماری انا کا بت پاش پاش کر دے۔اربوں ڈالر کی امداد سے کنارہ کیوں نہیں ہو سکتا اور کب ہو سکے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس سوال کا جواب بھی قومی بیانئے کا مرکزی نکتہ بنایا جائے۔