امریکی امداد کی بندش سے آنکھیں کھلنی چاہئیں
- تحریر سرور غزالی
- اتوار 07 / جنوری / 2018
- 4599
ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے وہ کر دکھایا جو ٹرمپ باربار کہہ رہے تھے۔ کچھ ایسا سوچا جارہا تھا کہ ٹرمپ کا کیا ہے وہ تو ٹویٹ کرتے ہی رہتے ہیں۔ اور ان کے فوجی مشیر ان کی سب باتوں اورخاص کر فوجی اسٹریٹیجک فیصلے یوں، اچانک اور لاابالی پن سے انہیں کرنے نہیں دیں گے۔ اس سے امریکہ کا مفاد وابستہ ہے اور اسے بہت سوچنا ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ مگر۔
درحقیقت ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ امریکہ نے بہ یک قلم "اتنا بڑا" فیصلہ کرلیا۔ امریکہ چپ چاپ بدلتے وقت میں کارڈ پھر سے مکس کرکے نئے حواری چن رہا ہے۔ امریکہ کی دلچسپی تبدیل ہوچکی ہے۔ لیکن آئیے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ امریکہ نے ایسا کیا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیں دھوکہ دیتا رہا ہے۔ اور ان کی تفصیلات کچھ یوں سامنے آئی ہیں کہ پاکستان کو "ڈو مور" کے اہداف کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ تو اس میں غلط کیا ہے۔ یہ بات تو سب پر عیاں ہے کہ افغانستان کی جنگ کو اور اب دہشت گردی کو طول دے کر مالی مفاد کی پشت پناہی کی جاتی رہی ہے اور کی جارہی ہے۔ اس سے ملنے والی رقوم سے کشمیر کی جنگ کو سینکا جاتا رہا ہے۔ پاکستان میں گڈ اور بیڈ طالبان کی تفریق ایجاد کی گئی ہے۔ خود مرحوم جنرل حمید گل کا ایک بیان وائرل ہوا ہے کہ " ہم نے امریکہ کے پیسے سے امریکہ کو شکست دی ہے "۔ تو کب تک امریکہ کو ہماری بات سمجھ نہ آتی۔
سب کچھ کرنے کے باوجود اسامہ کو پکڑنے کہ لیے اسے خود ہی کاروائی کرنی پڑے تو کیا وہ نہ سوچتے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اور چند دن پہلے تک کے فلسطین کی حمایت میں کی نکالی جانے والی ریلی کے معزز مہمان امریکہ سمیت دنیا کے کئی ایک ملکوں کو مطلوب ہیں۔ یعنی ڈھٹائی کی انتہا یہ ہےکہ فلسطین کی جائز حمایت کو بھی ایسے بھونڈے طریقے سے پیش کیا گیا کہ خود فلسطین کو خجالت اٹھانی پڑی۔ جو کام سیکورٹی امداد کے بند ہونے کے بعد کیے گئے ہیں وہ اگر پہلے کر لیے جاتے تو شاید اس کی نوبت ہی نہ آتی۔ اب وہ فہرست بھی شائع کی گئی ہے اور عوام کو متنبہ کیا گیا ہے کہ لگ بھگ ستر کے قریب ان تنظیموں چندہ نہ دیا جائے۔ دنیا کو یہ بتانا کافی نہیں کہ عدالتیں ان مجرموں کو عدم ثبوت کی بنا پر چھوڑ دیتی ہیں، جو دنیا کو مطلوب ہیں۔ دنیا یہی کہے گی کہ اگر عدالتیں اور جج نا اہل ہیں اور قومی مفاد کے پیش نظر زیادہ محنت نہیں کر سکتے، وکیل اثتغاثہ اپنی کارروائی کا دائرہ کا بڑھا کر تفتیش کر نے کا اہل نہیں ہے تو پھر فارغ کرو انہیں۔
قصہ مختصر امریکی فیصلے سے تو پاکستان کا مفاد ہی محفوظ ہورہا ہے۔ اگر اس پابندی کے نتیجے میں درست خطوط پر دہشت گردی کی بیخ کنی کی جائے تو یہ افغانستان سمیت خط کے ہر ملک کے لیے بہتر ہے۔
دنیا میں ذاتی مفاد پر ملکی مفاد کو اور اپنے ملک کے عوام کے مفاد کو فوقیت دینے سے ہی عزت واحترام ملتا ہے۔ ورنہ ہندوستان کی ہندو پرست حکومت فلسطین کے حق میں نہ بولتی۔ امریکی الزامات کہ پاکستان کی حکومت اور اس سےان کی مراد، براہ راست پاکستان کی فوج ہی ہے۔ ورنہ وہ فوجی امداد نہ بند کرتے۔ الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں ۔ یہ بات کچھ حد تک قابل اطمینان ہے اس کے جواب میں فوری ردعمل کے طور پر پاکستان نے چند عملی افدامات کیے ہیں۔ مگر یہ کافی نہیں ہیں۔ دنیا کے تمام ممالک اخلاقی اور تحریری معاہدے کے تحت کسی دوسرے ملک میں تخریب کاری کرنے والوں کو شفافیت کے ساتھ قانون کی گرفت میں لانے کی سعی کرتے ہیں۔ دنیا میں اور پاکستان میں امن و امان بحال کرنا ایک ہی مشن ہے اوراس کے لیے تمام دیگر مفادات یا مالی فوائد کو پس پشت ڈال کر حقیقی اقدامات کرنے میں تا مل نہیں ہونا چاہیے۔