نواز شریف اور سول ملٹری تعلقات کی کہانی
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 07 / جنوری / 2018
- 5225
وزیر خارجہ خواجہ آصف کے بقول حکومت اور فوج کے درمیان نہ صرف بہتر تعلقات ہیں بلکہ بہت سے امور پر فریقین کا نقطہ نظر بھی ایک ہی ہے ۔ ان کے بقو ل جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات میں بگاڑ ہے وہ عملی طور پر اپنے مخصوص مفادات کی تکمیل کے لیے اداروں میں ٹکراؤ پیدا کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں ۔ لیکن نواز شریف کی سعودی عرب سے واپسی پر جو موقف انہوں نے اختیار کیا وہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اور فوج کے درمیان بداعتمادی کی فضا موجود ہے ۔ نواز شریف کے بقول ان کو مجبور نہ کیا جائے ورنہ وہ چاربرسوں میں پس پردہ قوتوں کی جانب سے ان پر ڈالنے جانے والے دباؤ اور مداخلت کی پوری کہانی پیش کردیں گے ۔
مسئلہ ان چار برسوں کا نہیں بلکہ نواز شریف جب بھی اقتدار میں آئے تو اس میں دو پہلو نمایاں رہے ۔ اول وہ ہمیشہ اسٹیبلیشمنٹ کی مدد اور حمایت سے اقتدار کا راستہ تلاش کرتے رہے ہیں ۔ عملی طور پر وہ ہمیشہ سے اپنے سیاسی مخالفین کے مقابلے میں اسٹیبلیشمنٹ کے لیے لاڈلے کا کردار بھی ادا کرتے رہے ہیں ۔ دوئم جب بھی وہ اقتدار کی سیاست کا حصہ دار بنے ان کے فوج سے ہمیشہ سے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوا اور اس کا عملی نتیجہ ان کی اقتدار سے رخصتی بنتا رہا۔ اس لیے یہ سوال اہمیت کا حامل ہے کہ ہر دفع نواز شریف اور فوج کے درمیان ٹکراؤ کیوں پیدا ہوتا ہے اور کیوں ان کو اقتدار سے رخصت ہونا پڑتا ہے ۔ اگرچہ نواز شریف اس سارے مقدمے کو جمہوری اور قانون کی بالادستی کی بنیاد پر لڑتے ہیں اور اسٹیبلیشمنٹ کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں ۔ لیکن یہ بات اتنی سادہ نہیں جتنی نواز شریف پیش کرتے ہیں ۔ ٹکراؤ کی کیفیت کبھی بھی یک طرفہ نہیں ہوتی ۔ اگر اسٹیبلیشمنٹ نے نواز شریف کے لیے مسائل پیدا کیے تو اس میں خود نواز شریف کی سیاست اور فیصلوں کا کتنا حصہ ہے۔ اس کا بھی تجزیہ کرنا چاہیے ۔ کیا نواز شریف جمہوری عمل کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں یا اس کی اصل یہ ہے کہ وجہ اقتدار کے کھیل میں وہ کسی کے سامنے جوابدہ ہونے سے انکار کرتے ہیں۔ اور فرد واحد پر مبنی حکمرانی کے نظام کو طاقت فراہم کرنا چاہتے ہیں ۔ یقینی طور پر مسائل اسٹیبلیشمنٹ کے بھی ہیں لیکن نواز شریف خود بھی ٹکراؤ کی سیاست کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ یہ رویہ جمہوری عمل کو کمزور کرنے کا سبب بنا ہے۔
اس سوال کو سمجھنے کے لیے ہمیں نوجوان صحافی ،کالم نگار، اینکر اور تجزیہ کار اسد اللہ خان کی کتاب ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ نواز شریف کے فوج سے اختلافات“ مین شائع کہانی کو سمجھنا ہوگا ۔ اسد اللہ خان کو میں صحافت کے ابتدائی دنوں سے جانتا ہوں اور ان کا کمال یہ ہے کہ وہ مسلسل محنت، لگن ، شوق اور جستجو کے ساتھ آگے بڑھے ہیں ۔ ان کی تحریر اور گفتگو کا انداز محض جذباتی نہیں بلکہ تحقیق اور منطق سے سیاسی و سماجی معاملات میں اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں ۔ ان کی زیر نظر کتاب میں جہاں نواز شریف کی تین حکومتوں میں فوج سے پیدا ہونے والے اختلافات کی کہانیاں ہیں وہیں اسی تناظر میں انہوں نے جامع بحث بھی کی ہے ۔ یہ کتاب عملی طور پر پاکستان میں جاری سول ملٹری تعلقات کی بحث کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے کہ یہ مسئلہ کیا ہے اور کیوں پیدا ہوا ہے ۔ اسد اللہ خان کے بقول ’’جب نواز شریف پہلی بار 1990میں وزیر اعظم بنے تو سول ملٹری تعلقات کا بگاڑ ان کو ورثہ میں ہی ملا تھا ۔ لیکن نواز شریف کا قصور یہ ہے سب سے زیادہ اقتدار کے مواقع ملنے کے باوجود حکمت اور تدبر کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ اس دیرینہ لڑائی کو ختم نہ کرپائے بلکہ خود ایک فریق بن گئے ۔“ اسی طرح وہ آگے جاکر لکھتے ہیں کہ ’’ ان کا یہ مطالعہ ایک جائزہ ہے نواز شریف کی ناقص سیاسی حکمت عملی کا ، ایک مشاہدہ ہے نواز شریف کے ضدی ، گھمنڈی اور کینہ پرور رویے کا جس نے نواز شریف کو کچھ دیا اور نہ قوم کو “۔ اس کتاب میں جنرل پرویز مشرف کی اقتدار میں آنے کی خواہش اور اس مقصد کے حصول کے لیے ان کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا بھی تفصیلی جائز ہ لیا گیا ہے اور نواز شریف کی جانب سے نہ اٹھائے جانے والے اقدامات کا بھی زکر کیا گیا ہے جو اگر وہ اٹھاتے تو جنرل پرویز مشرف کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے سے روکا جاسکتا تھا ۔
اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اسد اللہ خان جمہوریت کے حامی ہیں اور فوجی مداخلتوں کو جمہوریت کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ وہ کتاب میں کئی ایسے حوالہ جات بھی دیتے ہیں اور کئی اہم سیاسی اور عسکری لوگوں کے بیانات کو بھی جواز بنا کر پیش کرتے ہیں جن کے بقول بار بار کی فوجی مداخلتوں نے نہ صرف مسائل کو الجھایا بلکہ جمہوری عمل کو کمزور بھی کیا ہے ۔ وہ اس کتاب میں سابق فوجی سربراہ جنرل جہانگیر کرامت کا موقف پیش کرتے ہیں اور ان کے بقول ’’جب بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام کی کیفیت رونما ہوئی فوج نے اپنی برتری کو ایک مستحسن اقدام سمجھا اور مداخلت کے بعد فوج اقتدار میں آئی لیکن ان مواقع پر میں نے محسوس کیا کہ فوج جس راہ پر گامزن ہوئی ، وہ سویلین انداز حکومت سے مختلف نہیں تھا‘‘۔ اسی طرح وہ جنرل ایوب خان کی کتاب کا ایک حوالہ دیتے ہیں جس میں ایو ب خان لکھتے ہیں کہ ’’ اقتدار سنبھالنے سے پہلے ایک بات مجھے پریشان کرتی تھی ، وہ یہ تھی کہ اگر فوج ایک دفعہ سیاست میں پڑگئی تو پھر اس کو اس سے علیحدہ کرنا مشکل ہوجائے گا اور بیرونی دنیا اس کارروائی کو فوجی بغاوت کے نام سے ہی یاد کرے گی“ ۔
نواز شریف اپنی نااہلی کے فیصلے کے بعد سے اب تک اس فیصلہ کو عدالت سے زیادہ اسٹیبلیشمنٹ کا فیصلہ قرار دیتے ہیں اور ان کے بقول عدلیہ کو ان کے خلاف استعمال کیا گیا ہے ۔ وہ بار بار مجھے کیوں نکالا کا سوال بھی اٹھاتے ہیں ۔ نواز شریف اور ان کے ساتھی یہ موقف بھی اختیار کرتے ہیں کہ فوج ان کو اقتدار سے الگ کرنا چاہتی ہے ۔ لیکن حقیت یہ ہے کہ ان چار برسوں میں کئی ایسے حساس مواقع سامنے آئے کہ لگتا تھا کہ فوجی مداخلت ناگزیر ہوگئی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود ماضی کے مقابلے میں فوج نے حکومت کو سیاسی ریلیف دیا اور جمہوری عمل کو چلنے دیا ۔ اب بھی فوج کے سربراہ نے دو ٹوک انداز میں جمہوری عمل کو چلنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ جس میں نواز شریف زیادہ حصہ دار ہیں وہ اپنی ناکامیوں کا تجزیہ کرنے کی بجائے سارا ملبہ دوسروں پر ڈالتے ہیں ، جو کہ مکمل سچ نہیں ۔ اسد اللہ خان کی یہ کتاب تحقیق پر مبنی ہے اور حوالہ جات بھی جاندار ہیں۔ جس انداز سے انہوں نے حالات و واقعات کو اعداد وشمار اور تاریخوں کے ساتھ پیش کیا ہے وہ معاملات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے ۔ اس کتاب میں ہمیں جنرل ایوب اور جنرل یحیی خان ، جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف کے فوجی مارشل لاء کے ادوار کا بھی جائزہ ملتا ہے اور ان محرکات اور واقعات کو بھی پیش کیا گیا ہے جو فوجی مداخلتوں کا سبب رونما ہوئے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ نواز شریف زیادہ فوجی مداخلتوں کا شکار ہوئے لیکن اس کی ایک وجہ یپ بھی ہے کہ وہ زیادہ وقت اقتدار میں بھی رہے۔ اس لئے ان کو ہی یہ سب کچھ دیکھنا پڑا ۔ مگر اقتدار میں شامل باقی لوگوں کو بھی اس کہانی کا حصہ بننا پڑا۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اگر دونوں فریقین یعنی سول اور فوج ایک دوسرے کو سمجھنے ، مل کر چلنے اور باہمی مشاورت کو چھوڑ کر مقابلہ بازی اور ایک دوسرے فتح کرنے کے جنوں میں مبتلا ہوجائیں تو یقینی طور پر ٹکراؤ ہی پیدا ہوگا۔ نواز شریف کا مسئلہ تو یہ بھی ہے کہ وہ فوج سے مشاورت تو دور خود اپنی کابینہ اور قریبی ساتھیوں سے بھی مشورہ کیے بغیر بڑے حساس کام کو خود کرنا چاہتے ہیں ۔ جمہوری نظام میں سیاسی جماعتیں ، پارلیمنٹ اور کابینہ کی اہمیت ہوتی ہے مگر ہمارے جمہوری نظام میں ان اداروں کو یرغمال بنا یا جاتا ہے ۔ اب وقت ہے کہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت مل بیٹھ کر سول ملٹری تعلقات کا ازسر نو جائزہ لے اور کچھ نئے خدوخال وضع کرے ۔ اگر مسئلہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے قیام کا ہے تو اس پر بھی باہمی مشاورت سے آگے بڑھا جاسکتا ہے ۔
بہرحال اسد اللہ خان مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ یہ کتاب جمہوری پبلیکیشنز لاہور نے شائع کی ہے اور نئی نسل سمیت سیاسی کارکنوں کو اس کتاب کا مطالعہ کرکے اس بحث کو بہتر انداز میں سمجھنا چاہیے ۔