جناب چیف جسٹس، اصل مسئلہ ڈاکٹرز مافیا ہے

کسی بھی مہذب معاشرہ میں صحت اور تعلیم پہلی ترجیح ہوتی ہیں۔ جمہوریت کی پہچان بھی یہی ہے کہ اس میں عوام پہلی ترجیح ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ا ن دونوں شعبوں پر  و ہ توجہ نہیں دی جا سکی جس کی ضرورت تھی۔ جس کی وجہ سے نظام تعلیم اور نظام صحت دونوں ہی انحطاط کا شکار ہیں۔ اشرافیہ اپنے بچوں کو تعلیم حا صل کرنے کے لئے بھی بیرون ملک بھیجتے ہیں اور بیمار ہونے پر علاج کے لئے بھی بیرون ملک ہی جاتے ہیں۔  جو ملک پر جان قربان کرنے کی قسم کھاتے ہیں اپنے ٹیسٹ بھی باہر سے کرواتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے پنجاب میں صحت کی سہولیات کے حوالہ سے ایکشن لیا ہے۔ تمام ہسپتالوں میں موجود صحت کی سہولیات کے حوالہ سے ایم ایس حضرات اور شعبہ صحت کے ذمہ داران سے رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ انہوں نے پنجاب میں صحت کے شعبہ میں موجود سہولیات پر نہ صرف عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے بلکہ ناراضگی کابھی اظہار کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ محترم چیف جسٹس پاکستان کی توجہ سے پنجاب میں صحت کی سہولیات نہ صرف بہتر ہو جائیں گی بلکہ عام آدمی کو میسر بھی ہوں گی۔  لیکن  چیف جسٹس پاکستان کو نہایت ادب سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ٹھیک ہے کہ سہولیات کی کمی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن پھر بھی یہ سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں سب سے بڑا مسئلہ ڈاکٹر خود ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز ایک مافیا بن چکے ہیں۔ بیچارہ ایم ایس اور شعبہ صحت کے ذمہ داران تو ان سے عزت بچاتے پھرتے ہیں۔ حکومت اور سرکاری ہسپتال ان ینگ ڈاکٹرز کے ہاتھوں میں یرغمال ہیں۔ کیا کسی کی مجال ہے کہ ان کی مرضی کے بغیر ہسپتال میں پرندہ بھی پر مار سکے۔ ڈیوٹیاں ان کی مرضی سے لگتی ہیں۔ حتیٰ کہ ہسپتالوں میں کینٹین اور دیگر مراعاتی ٹھیکے بھی ان کی مرضی سے دیئے جاتے ہیں۔ اگر نہ دیئے جائیں تو یہ ینگ ڈاکٹرز ہڑتال کروا دیتے ہیں ایم ایس حضرات کو مارتے ہیں۔ غرض کہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کوئی بھی سرکاری ہسپتال ان ینگ ڈاکٹرز کی بد معاشی کو مانے بغیر آگے نہیں چل سکتا۔ ہسپتال کی انتظامیہ کی کیا بات کریں ہمیں تو محکمہ صحت کے ذمہ داران بھی ان کے سامنے سرنگوں ہی نظر آئے ہیں۔ اسی طرح جہاں ہسپتال میں جونیئر ڈاکٹرز نے ایک مافیا قائم کر رکھا ہے۔ جس نے ہسپتال کے نظام کو کافی حدتک مفلوج کر رکھا ہے۔ وہاں سنیئر ڈاکٹرز پیسے بنانے کے ایسے چکر میں لگے ہوئے ہیں کہ انہیں ہسپتال کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ محترم چیف جسٹس صاحب سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے سنیئر ڈاکٹرز کی پرائیوٹ پریکٹس کے حوالہ سے بھی کوئی موثر حکم پاس کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ کم از کم بڑے شہروں کے تمام بڑے ہسپتالوں میں مناسب تعداد میں ڈاکٹر موجود ہیں لیکن مسئلہ تو یہ ہے کہ یہ ڈاکٹر کام نہیں کرتے۔ یہ سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو مفت دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ تین سے پانچ منٹ کے پچیس سو سے زائد کی فیس لینے والے یہ پروفیسر دس روپے کی پرچی پر مریض کیوں دیکھیں۔ انہوں نے تو ہسپتالوں میں اپنے بورڈ صرف اپنی پریکٹس کو چار چاند لگانے کے لئے لگائے ہوئے ہیں۔ مجال ہے کہ کوئی ایک مریض بھی دیکھیں۔ بیچارے مریض کو تو ان کے کمرے میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں۔ وہ تو ان کا بورڈ پڑھتا ہے اور پوچھتا ہے کہ بڑے ڈاکٹر صاحب شام کو کہاں بیٹھتے ہیں۔ تاکہ شام کو فیس دے کر چیک کروایا جا سکے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پروفیسر مافیا اتنا طاقتور ہے کہ ان سے کوئی نہیں ٹکرا سکتا۔ اگر چیف جسٹس صاحب سرکاری ملازم پروفیسر اور ایسو سی ایٹ پروفیسرز کی شام کی پریکٹس کے حوالہ سے پابندی عائد کر سکیں توشاید یہ لوگ ہسپتالوں میں مریض دیکھنے پر تیار ہو سکیں۔

کہا جاتا ہے کہ اگر ان پروفیسر اور دیگر سنیئر ڈاکٹرز کو پرائیوٹ پریکٹس سے منع کر دیا گیا تو یہ پیسے کیسے کمائیں گے۔ میں اس کو ایسے نہیں سمجھتا بلکہ یہ بات ایسا کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ اگر ان کو غریب کا خون چوسنے سے منع کر دیا جائے گا تو یہ مرجائیں گے۔ ورنہ سرکاری ہسپتالوں سے ان کو اتنی تنخواہ تو مل رہی ہے جس سے یہ اچھی زندگی گزار سکیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کو سرکاری ہسپتالوں سے وہی تنخواہیں مل رہی ہیں جواس گریڈ کے دیگر سرکاری افسروں کو مل رہی ہے۔ باقی سب کا تو گزارا ممکن ہے لیکن ڈاکٹروں کا نہیں۔ جب تک سرکاری ہسپتالوں میں تعینات سنیئر ڈاکٹرز کی پرائیوٹ پریکٹس پر کوئی عملی رکاوٹ نہیں ہوگی تب تک سرکاری ہسپتالوں میں غریب کو علاج نہیں مل سکتا۔  چیف جسٹس کو اس منطق کا بھی حل دینا ہوگا جس کے تحت یہ کہا جاتا ہے کہ اگر ان کو پرائیوٹ پریکٹس سے روک دیا گیا تو یہ ملک سے بھاگ جائیں گے۔ پاکستان میں سنئیر ڈاکٹرز کی کمی ہو جائے گی۔ مجھے تواس کا یہی مطلب سمجھ آتا ہے کہ اگر ان کو غریب مریضوں کا خون چوسنے سے منع کر دیا گیا تو یہ ملک چھوڑ جائیں گے۔ اب ان کو ملک میں رکھنا ہے یا نہیں۔ اور رکھنا ہے تو کس قیمت پر۔ سرکاری ہسپتالوں میں وسائل کی کمی ہے ۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہسپتالوں میں سب ٹھیک ہے۔ لیکن پھر بھی سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ہے بلکہ سب سے بڑا مسئلہ ڈاکٹروں کی دولت کی ہوس ہے۔

ستم ظریفی دیکھیں کہ یہ ہزاروں روپے فیس لیتے ہیں لیکن اس کی رسید نہیں دیتے۔ اس پر ٹیکس نہیں دیتے۔ اگر ان ڈاکٹرز کی پرائیوٹ پریکٹس پر پابندی لگ جائے اور ان کی آمدن پر ٹیکس لگ جائے تو تو یہ سب کلینک بند ہو جائیں۔ اور کافی حد تک خرابی دور ہو جائے۔ لیکن یہ ممکن نظر نہیں آتا۔  اسی طرح پرائیوٹ میڈیکل کالجز بھی کالج نہیں ڈیپارٹمنٹل سٹور ہیں۔ جہاں پیسے کی بنیاد پر ڈگریاں بیچی جاتی ہیں۔ میرٹ کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ لاڈلوں کو داخلے دیئے جاتے ہیں۔ اور نالائق ڈاکٹر پیدا کئے جاتے ہیں۔ نہ یہ کسی میرٹ کو ماننے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی فیس کا کوئی نظام وضع کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ کالج بھی پروفیسرز کے کلینکس کی طرح پیسے بنانے کی دکانیں ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ پاکستان کی خدمت نہیں بلکہ پاکستان پر ظلم کر رہے ہیں۔ میرٹ کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ نظام انصاف کو منہ چڑا رہے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں نہیں اربوں روپے منافع کما رہے ہیں۔ اور کسی بھی قا عدے کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ان کی نہ صرف فیس پر کنٹرول ہونا ضروری ہے بلکہ ان کے داخلوں پر بھی کنٹرول ہونا بھی ضروری ہے۔  میں اس بات کے خلاف نہیں ہوں کہ معاشرہ میں پیسے کمانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن جائز پیسے کمانے کی اجازت ہونی چاہئے۔ غریب کا استحصال کرکے پیسے کمانے پر پابندی ہونی چاہئے۔ انصاف کی دھجیاں اڑا کر پیسے کمانے کی ممانعت ہونی چاہئے۔ مریض کی بیماری کا فائدہ اٹھا کر پیسے کمانے کی ممانعت ہونی چاہئے۔

چیف جسٹس نے کہا ہے کہ اگر صحت کی سہولیات ٹھیک نہ کی گئیں تو وہ اورنج لائن بند کر دیں گے۔ ان کا غصہ بجا ہے لیکن اورنج لائن تو پھر غریب کا ہی منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کے ساتھ تو پہلے ہی بہت زیادتی ہوئی ہے۔  حکم امتناعی اور محفوظ فیصلوں نے اس کی جان ہی نکال دی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ  چیف جسٹس حکم دیتے کہ جب تک ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں میں ٹھیک کام نہیں کرتے ان کی پرائیوٹ پریکٹس بند کر دی جائے گی۔ جب تک سرکاری ہسپتال میں غریب کا علاج ٹھیک نہیں ہو تا ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتالوں پر پابندی ہو گی۔ پرائیوٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر کو بھی جیل جانا ہوگا۔ اور ہڑتال کرنے والے ڈاکٹر کو بھی جیل جانا ہو گا۔ کیا ہی اچھا ہو تا کہ چیف جسٹس صاحب محکمہ صحت کے ذمہ د اران سے سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے کے ساتھ پرائیوٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز کی لسٹ منگواتے اور انہیں بھی نوٹس جاری کرتے۔ آپ یقین کیجئے آدھے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اور باقی آدھے کے ٹھیک ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ اور حکومت بھی ٹھیک ہو جائے گی۔