پاکستان کو ٹرمپ کی طرح مولا جٹ بننے کی ضرورت نہیں
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 08 / جنوری / 2018
- 11331
امریکی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کچھ برس قبل پاکستان امریکہ تعلقات کے بارے میں یہ نقطہ اٹھایا تھا کہ اس کو ساس اور بہو کے درمیان تعلقات کے تناظر میں دیکھا جائے ۔ ان کے بقول دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور بگاڑ کا پیدا ہونا فطری امر ہے اور اس تعلقات کے بگاڑ کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے سے آسانی کے ساتھ دامن نہیں چھڑایا جاسکتا۔حالیہ دنوں میں پاکستانی ریاست ، حکومت اور دہشت گردی سے نمٹنے کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر جو شدید ردعمل پاکستان میں دیکھنے کو ملا ، وہ فطری امر تھا ۔
پاکستان بطور ریاست وقت انتہا پسندی اور دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ اس جنگ میں جو ماضی کے تضادات اور فکری مغالطے تھے اس پر بھی حقیقی معنوں میں پاکستان نے مکمل نہیں تو کافی حد تک قابو پاکر خود سے آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے ۔ بالخصوص انتظامی اور سیکورٹی کے تناظر میں ہم نے دہشت گردی پر نہ صرف کافی حد تک قابو پایا ہے بلکہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور ان کے گروپوں کو بھی کمزور کیا ہے ۔اسی طرح اس جنگ کے تناظر میں جو داخلی محاذ پر فکری مسائل تھے جن میں یہ جنگ پاکستان کی ہے یا امریکہ کی اس پر بھی کافی بہتری آئی اور اب یہ جنگ خالصتا پاکستان کے مفاد کو سامنے رکھ کر لڑی جارہی ہے ۔ پاکستان کی دہشت گردی سے نمٹنے کی کوششوں کو جہاں داخلی سطح پر پزیرائی حاصل ہے وہیں عالمی سطح پر اور بالخصوص وہاں کے مختلف تھنک ٹینک کی رپورٹس بھی پاکستانی کردار کو سراہتے ہیں ۔ اگرچہ بہت سے داخلی اور خارجی محاذ پر ایسے ممالک، تھنک ٹینک اور دیگر فریقین ہیں جو ہمارے کردار کو اس جنگ میں شک کی نگاہ سے دیکھ کر اپنے تحفظات پر مبنی سوالات کو اٹھاتے ہیں ۔امریکہ ، بھارت، اسرائیل اور افغانستان کا مجموعی کردار میں یہ تحفظات دیکھنے کو نظر آتے ہیں ۔ امریکہ کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان سے بہت کچھ حاصل کرنے کے لیے اسے بہت کچھ ہونے کے باوجود ایک دباو کی پالیسی برقرار رکھنی ہے ۔کیونکہ اس خطہ میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو بھی سمجھتا ہے اور افغانستان میں اس کے مفادات کے تحت پاکستان کے کردار کو شامل کیے بغیر وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔
اس میں کوئی شک نہیں امریکی صدر اور امریکی سینٹ میں ایسے بہت سے لوگ اور ادارے ہیں جو پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے زیادہ اثر نفوز میں ہیں ۔ امریکی صدر ٹرمپ تو بھارت کو اپنا ایک بڑا حلیف بھی سمجھتے ہیں ۔ بھارت خود بھی سفارتی محاذ پر پاکستان پر دباو بڑھانے کی پالیسی میں امریکی کارڈ کو کھیلتا بھی ہے اور اس پر دباو بھی بڑھاتا ہے کہ وہ پاکستان کو ٹف ٹائم دے ۔امریکہ کی یہ کوشش نئی نہیں وہ پہلے بھی پاکستان پر خطہ میں بھارت کی بالادستی کو تسلیم کرنے کا ہمیں عندیہ یا پیغام دیتا رہا ہے ۔بعض دفعہ پاکستان پر اختیار کیا گیا سخت موقف بھارت کو سیاسی طور پر خوش کرنے کی کوشش بھی ہوتی ہے ۔
بنیادی طور پر اس وقت امریکہ میں پاکستان کے تناظر میں چار اہم سوالات زیر بحث ہیں ۔ اول خطہ میں بدلتی ہوئی سیاسی اور سیکورٹی صورتحال میں مختلف ممالک میں نئی گروپ بندیاں، دوئم چین کا خطہ میں بڑھتا ہوا ثر نفوذاور سی پیک کا معاہدہ ، سوئم افغانستان میں امریکی مفادات اور پاکستان کا کردار، چہارم دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کا مجموعی کردار اور اس کا خطہ میں معاونت کا کردارشامل ہے ۔
پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ ہمیں قربانی کا بکرا بنا کر ہم پر الزام تراشی کی سیاست کرکے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے جس میں اس کی افغان معاملات اور جنگ میں ناکامی اور شکست بھی شامل ہے ۔ دوسری جانب امریکہ کا یہ الزام کہ اس نے ہمیں اربو ں روپے کی مالی امداد کی ہے اور اس میں شفافیت نہیں یا پاکستان نے ہمیں بے وقوف اور جھوٹ بولا ہے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ کو لڑنے میں ہم نے خود زیادہ مالی ، جانی اور انتظامی قربانی دی ہے ، جس کا عالمی سطح پر ادارک نہیں کیا جارہا ۔ اسی طرح ان امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں پورے خطہ میں بشمول بھارت افغانستان، ایران اور پاکستان دہشت گردی کا مرکز بنا اور کراس بارڈر دہشت گردی کی بھارحی قیمت ہمیں ادا کرنا پڑرہی ہے ، جن میں بھارت اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی را اور این ڈی ایس کا کردار نمایاں ہے جو ہمیں غیر مستحکم کرنے کا ایجنڈا رکھتا ہے۔ جبکہ اس خطہ میں داعش کا ابھرنا بھی امریکی اور افغان حکومت کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور اس کا اثر ہم پر بھی منفی پڑرہا ہے جو ہمیں متبادل پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کررہا ہے ۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں پاک امریکہ تعلقات کو کس تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ یہ عمل کسی بھی صورت میں جذباتی اور کم عقلی پر مبنی نعروں کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے ۔ جو مولا جٹ کا سٹائل امریکی صدر نے اختیار کیا ہے ہماری ریاست، حکومت ، اہل دانش کو اس سے گریز کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ محض امریکی صدر ٹرمپ کا بیان ہے ۔ جبکہ ہمیں امریکی اسٹیبلیشمنٹ کے مجموعی کردار کو سمجھنا ہوگا ۔ امریکی اسٹیبلیشمنٹ سمجھتی ہے کہ پاکستان کی اہمیت کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کا کردار نہ صرف اہم ہے بلکہ پاکستان کی مدد کے بغیر وہ کچھ نہیں کرسکیں گے ۔ اس لیے آج بھی امریکی اسٹیبلیشمنٹ میں ہماری اہمیت ہے اور ہمیں اس کو اپنی طاقت کے طور پر استعمال کرنا چاہیے ۔ دوسرا امریکہ کی مجبوری ہے کہ وہ بھارت کو خوش کرنے کے لیے یا اپنے مفادات کو مزید حاصل کرنے کے لیے ہمیں دباو میں لاتا ہے ، یہ اس کی مجبوری ہے ، ہمیں جوش سے نہیں ہوش سے معاملات کے فہم کو سمجھنا ہوگا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کے سیکورٹی امور کے مشیر او رماہرایچ آر میک ماسٹر کے بقول پاکستان سیاسی، سماجی ، سیکورٹی اور معاشی بنیادوں پر آگے بڑھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔ ہمیں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ان کے بغیر ہم افغانستان میں بہتری کے تناظر میں کچھ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ انہوں نہ خود امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اس عمل میں ہمیں برابری کی بنیاد پر اعتماد سازی، عزت اور تعاون کو آگے بڑھانا ہوگا اور اس میں تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اسی طرح جارج میسن یونیورسٹی کے امریکی ماہر پروفیسرجیمزوٹ کا کہنا ہے کہ ’’حالیہ ٹرمپ کے بیان نے امریکہ کو جنوبی ایشیا میں اہم پارٹنر شپ کو نقصان پہنچایا ۔ ان کے بقول پاک امریکہ تعلقات میں بگاڑ کسی کے مفاد میں نہیں او رامریکہ پاکستان کے بغیر کچھ حاصل نہیں کرسکے گا۔‘‘
اس لیے ہمیں بہت زیادہ پریشان ہونے اور جذباتی رنگ اختیار کرنے کی بجائے اپنی داخلی اور خارجی محاذ پر مجموعی پالیسی میں بہتری کے عمل کو آگے بڑھانا ہوگا ۔ہماری حکومت ، وزیر خارجہ سمیت دیگر وزرا جو لب ولہجہ اختیار کررہے ہیں اس سے مزید تلخی پیدا ہوگی ۔ امریکہ کو نظرانداز کرکے آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ ہمیں متبادل راستہ ضرور اختیار کرنا چاہیے مگر امریکہ کے ساتھ لاتعلقی بھی ممکن نہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ہم جذباتی رنگ اور مقبولیت کے لیے عوامی سطح پر لوگوں کو استعمال کرتے ہیں جبکہ اندرون خانہ امریکہ کے اتحادی ہوتے ہیں ، اس تضاد سے باہر نکلنا ہوگا۔ اسی طرح اگر سوال مالی امداد کی شفافیت پر اٹھائے گئے ہیں تواس پر بھی جذباتی رنگ اختیار کرنے کی بجائے شواہد پر اس امداد کا آڈٹ پیش کرکے اپنی شفافیت دکھانی چاہیے۔ ہمیں اس وقت امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے چار بنیادی امو رپر توجہ دینی ہوگی ۔ اول ہمیں اپنے مقدمے کو سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر ایک سرگرم کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمارے جو بھی تحفظات ہیں ان کو عملی ثبوت اور شواہد کے ساتھ دنیا کی سیاسی او راہل دانش یا تھنک ٹینک میں پیش کرنا ہوگا۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ساری حکمت عملی ردعمل کی سیاست سے جڑی ہے ۔ ہمیں اس مسئلہ پر ایک لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم پالیسی درکار ہے اور اس میں علاقائی سیاست میں اپنے کردا رکو بڑھانے اور بہتری پیدا کرکے اپنی اہمیت بڑھانی ہوگی ۔ دوئم ہمیں امریکہ سمیت عالمی دنیا میں مقابلہ کے لیے اپنی داخلی سیاست کے مسائل کو مضبوط بنانا ہوگا ۔ داخلی کمزوری کے باعث ہم عالمی یا علاقائی دنیا میں کچھ نہیں کرسکیں گے ۔ سوئم سول ملٹری تعلقات کے درمیان جو بداعتمادی ہے ، اس کو بھی فوقیت دے کر معاملات کو درست کرنا ہوگا اور مقابلہ بازی کے رجحان سے باہر نکلنا ہوگا۔ چہارم ہماری قیادت کو ذاتی مفادات پر مبنی سیاست سے باہر نکل کر قومی مفاد میں بڑے سیاسی فریم ورک کو سمجھ کر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے اور جو تحفظات جنگ ، مالی اور سیاسی معاملات پر عالمی دنیا کو ہیں اس کے مقابلے میں اپنے حق میں ایک متبادل بیانیہ پیش کرنا ہوگا جو دلیل ، منطق اور شواہد پرمبنی ہو۔