ننھی زینب کا قتل اور مشیت ایزدی
- تحریر رضی الدین رضی
- جمعرات 11 / جنوری / 2018
- 4462
قصور میں ننھی زینب کے ساتھ رونماہونے والا المناک سانحہ اورپھراسے بے دردی کے ساتھ قتل کرکے لاش کا کوڑے کے ڈھیر پرپھینک دیاجانا ایک ایسااندوہناک واقعہ ہے کہ جس کے بارے میں بات کرنے کے لئے بہت حوصلہ چاہیے اور بہت ہمت چاہیے۔ لیکن اس معاشرے میں پے درپے رونما ہونے والے ایسے شرمناک واقعات نے ہمیں بہت ساحوصلہ بھی دیدیا ہے اورہم میں ظلم سہنے کی ہمت بھی بہت پیداہوچکی ہے ۔
یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔ ایک ایسا ملک جواسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اوراس لئے حاصل کیا گیا تھا کہ یہاں پرلوگوں کی جان ومال اورعزت محفوظ رہے ۔ یہ ملک اس لئے حاصل کیا گیا تھا کہ ہمارے اسلاف کو یقین تھا کہ اسلامی معاشرے اوراسلامی ملک میں لوگوں کو انصاف ملے گا اورانہیں ان کے حقوق بھی ملیں گے ۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں بہت بڑے بڑے مذہبی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں، جہاں لوگ ناموس رسالت پرمرمٹنے کےلئے توتیار ہوتے ہیں لیکن نبی کریم کی تعلیمات پرعمل نہیں کرتے۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں علمائے دین کی لمبی قطار ہے اورمختلف رنگوں کے عماموں کی بہارہے اورجہاں ہرشخص صاحب دستارہے ۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں اخلاقیات کی بات کی جاتی ہے ، جہاں عورت کی حرمت کے دعوے کئے جاتے ہیں اور جہاں مغربی معاشرے کو بے راہ روی کا شکار قراردیا جاتا ہے ۔ اس ملک میں ظلم اوربریت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اورافسوس تو یہ ہے کہ یہ آخری واقعہ بھی نہیں۔ ہم ہرایسے واقعہ کے بعد ایسی ہی گفتگوکرتے ہیں جیسی صبح سے جارہی ہے۔
ثناءخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں۔ ثناء خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں۔ یہ تکرارہم صبح سے سن رہے ہیں، بچی کی تصویر بھی صبح سے سوشل میڈیا پردکھائی دے رہی ہے۔ ٹی وی چینلز پر شورشرابہ جاری ہے۔ سیاست دانوں اوراینکروں کی دکانیں سجی ہوئی ہیں معمول کی نشریات توغیرمعمولی ہوگئیں لیکن بیانات تووہی ہیں اقدامات بھی غیر معمولی نہیں۔ باقی سب کام معمول کے مطابق جاری ہے ۔ اقتدارکی جنگ ، الزام تراشیاں ، گالیاں ، طعنے سب کچھ معمول کے مطابق جاری ہے۔ معمول کے مطابق آرمی چیف سے مدد طلب کرلی گئی اورانہوں نے حکم بھی دے دیا کہ مجرموں تک رسائی کے لئے فوج کی جانب سے سول حکومت کو بھر پورمدد فراہم کی جائے ۔ وزیراعظم نے بھی اس واقعہ پر دکھ کا اظہارکردیا، چیف جسٹس آف پاکستان کا کام اب انصاف فراہم کرنا نہیں بس ازخودنوٹس لیناہوتا ہے۔ انہوں نے ازخودن وٹس لے لیا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف جوخادم اعلیٰ کے منصب پربھی خود ہی فائز ہیں ایسے موقعوں پرکوئی وضاحت سنے بغیر افسروں کےخلاف کارروائی کرتے ہیں اورعوام کاغصہ ٹھنڈا ہونے تک اپنے چہیتے افسروں کو اوایس ڈی بنادیتے ہیں ۔ انہوں نے بھی فوری طور پراپنا فرض پوراکردیا۔ طاہرالقادری صاحب کوحکومت کے خلاف منظم تحریک کے لئے کئی روز سے جنازوں کی تلاش تھی آج انہیں معصوم بچی کاجنازہ مل گیا، سووہ فوری طورپرقصور پہنچے اوربچی کاجنازہ بھی پڑھادیا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسے ظالمانہ فعل صرف اس معاشرے میں کیوں رونماہوتے ہیں جومذہب کے نام پرکٹنے مرنے کےلئے تیارہوتا ہے اورجوتمام مسلمانوں کا درد اپنے دل میں محسوس کرتاہے۔ توایسے معاشرے میں جہاں ایک معصوم بچی درندگی کانشانہ بن جائے اوراس سے پہلے کئی بچے اوربچیاں بھی درندگی کانشانہ بن چکے ہوں اورجہاں 100بچوں کوقتل کرکے ان کی لاشیں تیزاب کے ڈرم میں ڈالی جاتی رہی ہوں وہاں ایک زینب کے قتل کی بھلاکیاحیثیت رہ جاتی ہے ۔
میں کوئی جذباتی تحریر نہیں لکھنا چاہتا جتنا لکھ چکا اس سے زیادہ لکھنے کاحوصلہ بھی نہیں بس یہ کہنا چاہتاہوں کہ جولوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ننھی زینب کاخون رائیگاں نہیں جائے گا انہیں تسلی رکھنی چاہیں یہاں بچے اسی طرح قتل ہوتے رہیں گے کہ یہاں تو مکتب یا (مدرسے ) بھی اب فرعونوں نے کھول لئے ہیں ۔ ننھی زینب ہم تیرے قاتلوں کو کیفرکردارتک نہیں پہنچا سکتے اورہم تیرے قتل کی ذمہ داری حکمرانوں پرڈال کر ان کی برطرفی کامطالبہ بھی تو نہیں کرسکتے کہ اس طرح جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اور سینیٹ کے الیکشن سے پہلے جمہوریت کو نقصان بہر حال نہیں پہنچنا چاہیے۔ سو اے پیاری زینب ہر درد مند باپ کی طرح میں بھی تیرے لئے صرف آنسو ہی بہا سکتا تھا سو بہا رہا ہوں کہ اس اسلامی معاشرے میں مجھے بھی یہی یقین کرنا ہے کہ ا ن ظا لموں پر خدا کا عذاب نازل ہوگا اور اس کی مرضی کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی ۔
(بشکریہ: گرد و پیش ۔ ملتان)