نفسیاتی مریضوں کا معاشرہ کیسے صحت یاب ہو گا
- تحریر صہیب اقبال
- ہفتہ 13 / جنوری / 2018
- 4533
اس وقت ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا میں زینب قتل کا تذکرہ ہے۔ چار جنوری کو قصور میں سات سالہ بچی خالہ کے گھر گئی اور لاپتہ ہوگئی۔ زینب کے والدین عمرہ کرنے گئے ہوئے تھے۔ رشتہ داروں نے پولیس سے رابطہ کیا سی سی ٹی وی فوٹیج دی۔ لیکن پولیس نہ ملزم تک نہیں پہنچ سکی اور نہ زینب کو تلاش کیا جاسکا ۔
نو جنوری کو کچرے کے ڈھیر سے زینب کی لاش ملی اس کے بعد قصور میں پرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے اور پورے ملک میں مختلف سیاسی و سماجی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں ۔ شعرا کرام ، دانشور، لکھاری، صحافی سب اس معاملے پر رائے دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس واقعہ کا چیف جسٹس آ ف پاکستان ثاقب نثار نے نوٹس لیا اور آ رمی چیف جنرل قمر باجوہ نے بھی دکھ کا اظہار کیا اور سول انتظامیہ کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بھی تفتیش جاری ہے ۔ قصور میں اس طرح کے ایک درجن واقعات پہلے بھی ہوچکے ہیں لیکن حکومت اور مقامی انتظامیہ نے کوئی توجہ نہیں دی تھی ۔
اس واقعہ نے عوام پر بھی کافی اثرات مرتب کئے ہیں ۔ ہمارے ملک میں جسمانی بیماری پر توجہ دی جاتی ہے۔ کوئی بیمار ہوتو وہ ڈاکٹر کا رخ کرتے ہیں ہسپتال جاتے ہیں لیکن نفسیاتی بیماری پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ حالانکہ نفسیاتی بیماری جسمانی بیماری سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ ہمارے ملک میں بہت بڑی تعداد نفسیاتی امراض میں مبتلا ہے لیکن بدقسمتی سے اگر کوئی شخص ماہر نفسیات کے پاس علاج کے غرض سے جاتا ہے تو اسے پاگل کہا جاتا ہے۔ اس کا مذ اق اڑایا جاتا ہے ۔
آپ اپنے ارد گرد طالب علم ، استاد ، وکیل ، صحافی ، ادیب شاعر ، دانشور ، سرکاری افسر ، ملازم، کاروباری افراد ، ڈرائیور ، دکاندار، بینکراور کسان وغیرہ سب دیکھ لیں ہر طبقے میں لوگ نفسیاتی مسائل کا شکاردکھائی دیتے ہیں۔ لیکن کوئی بھی نفسیاتی ماہر سے رجوع نہیں کرتا۔ کیونکہ معاشرے میں اسے بھی معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ اس حوالے سے معاشرے میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس وقت پاکستان کی بڑی آبادی نفسیاتی مسائل کا شکار ہے جبکہ ماہرین نفسیات کی کمی ہے۔
قصور کا واقعہ بھی کسی نفسیاتی طور پر بیمار شخص کی حرکت ہے کیونکہ ایسی گھٹیا حرکت نفسیاتی طور پر بیمار شخص ہی کرسکتا ہے۔ جس طرح جسمانی بیماریوں کی علاج گاہیں موجود ہیں اسی طرح نفسیاتی علاج گاہوں کی بھی ضرورت ہے۔ اور ہر شخص کو ماہر نفسیات کے پاس جانا لازمی قرار دیا جاجائے۔ کسی بیماری کی صورت میں علاج کروایا جائے۔ اگر اس صورتحال پر توجہ نہ دی گئی تو حالات گمھبیر ہوتے جائیں گے۔
(بشکریہ: گرد و پیش ۔ ملتان)