انصاف کے لئے نظام کی اصلاح ضروری ہے
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 14 / جنوری / 2018
- 7153
جس معاشرے میں انصاف ، جوابدہی اور اخلاقی قدروں کا نظام کمزور ہوجائے تو وہاں انتشار اورعدم برداشت پر مبنی معاشرہ طاقت حاصل کرتا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہاں حکمرانی کا نظام اور اس سے جڑے ہوئے مفادات ایک مخصوص طبقہ کے گرد گھومتے ہیں جس سے انصاف کے تناظر میں تفریق کا پہلو نمایاں ہوتا ہے ۔ پنجاب کے شہر قصور میں معصوم بچی آٹھ سالہ زینب کے ساتھ جنسی زیادتی اور بے دردی سے قتل نے ایک بار پھر پورے معاشرے کے اجتماعی ضمیر اور حکمرانی کے نظام کو جنجھوڑ ا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کدھر جارہے ہیں ۔
معصوم زینب کے ساتھ ہونے والا دردنا ک واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ۔ اسی طرح کے معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے تواتر سے ہونے والے واقعات معمول کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔ لیکن ان واقعات کا سدباب کیسے ہو اور کیسے بندھ باندھا جائے اس پر زیادہ غوروفکر کی ضرورت ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ ہماری ریاست، حکومت ، ادارہ جاتی عمل اور دیگر سماجی ، عملی اور فکری اداروں کا انداز و عمل جذباتی نوعیت کا ہوتا ہے ۔ ہم حساس سماجی نوعیت کے معاملات پر کوئی مستقل بنیادوں پر حکمت عملی اختیار کرنے کی بجائے عملا ردعمل کی سیاست کا حصہ بنتے ہیں۔ یعنی جب واقعات سامنے آتے ہیں تو ہم اپنا سخت ردعمل دیتے ہیں مگر کچھ وقت کے بعد پھر ان معاملات سے لاتعلق ہوکر اور دیگر معاملات میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ۔ زینب کے واقعہ میں دو پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ اول ہمارا حکمرانی اور ادارہ جاتی عمل پر مبنی نظام اور اس کا طریقہ کار، دوئم معاشرے کی تشکیل، تربیت، اخلاقی قدروں اور سماجی رویوں پر مبنی نظام ۔ جب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ہمارا موجودہ سیاسی ، سماجی ، انتظامی اور قانونی نظام ٹھوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ہے تو اس پر ہمارا حکمران طبقہ اور کچھ اہل علم سخت تنقید کرتے ہیں ۔ بعض اوقات تو نظام پر سخت تنقید کرنے والوں کو جمہوری دشمن کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ تنقید کا مقصد جمہوری نظام میں اصلاحات کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ اس نظام کی سیاسی ساکھ پر اس سے زیادہ کیا ماتم کیا جاسکتا ہے کہ زینب کے والدین نے حکومت اور اس کے اداروں سے انصاف مانگنے کی بجائے براہ راست فوجی قیادت ، چیف جسٹس سے انصاف مانگاہے ۔ یہ عمل حکومتی نظام ا ور عوامی توقعات پر عدم اعتماد اور خلیج کی واضح تصویر پیش کرکے ہم سب کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے ۔
زینب جیسے تمام مقدمات میں ہمیں اپنے اداروں کی کمزوریاں ، نااہلی ، بدعنوانی اور سیاسی مداخلت کی بدترین مثالیں عملا دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ لیکن ہمارا سیاسی اور انتظامی نظام اپنے اندر موجود خرابیوں کی اصلاح کرنے کے لیے بالکل تیار نظر نہیں آتا۔ اصلاحات تو دور کی بات وہ یہ بھی ماننے کے لیے تیار نہیں کہ خرابیاں ہم نے خود بھی پیدا کی ہیں ۔ پولیس اور تفتیش کا پورا نظا م ایک بڑے سیاسی ، سماجی اور انتظامی آپریشن کا تقاضا کرتا ہے ۔ پولیس پر ایک بھاری سرمایہ کاری کے باوجود ہم ایک بہتر اور اچھی پولیس کا نظام قائم نہیں کرسکے ۔ وجہ جہاں پولیس کے داخلی مسائل ہیں وہیں حکمران طبقہ بھی پولیس کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرکے اس نظام کے بگاڑ کی اہم وجہ ہے ۔ وزیر اعظم سے لے کر وزرائے اعلی اور وزرا، مشیروں سمیت مقامی قومی ، صوبائی اور مقامی اسمبلی کے ممبران پولیس کے نظام کو اپنے مخالفین یا حمایتیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کی مقامی سیاست کا نظام ہی پولیس کی مدد سے چلتا ہے اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی بھی اسی نظام کے تحت چلائی جاتی ہے ۔ آپ جنسی زیادتی اور دیگر جرائم کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کریں تو یہ شواہد ملتے ہیں کہ جرم کرنے والوں کی سرپرستی سیاسی اور پولیس کے نظام سے جڑی ہوتی ہے ۔ اس مقدمہ میں بھی زینب کے والدین اور رشتہ داروں کا گلہ ہے کہ پولیس نے ان کی کوئی مدد نہیں کی بلکہ ان کی تاخیر اور لاتعلقی کے عمل نے مجرموں کو تحفظ فراہم کیا۔
ہمارے حکمران طبقات کی سیاسی شعبدہ بازی کا خاتمہ بہت ضروری ہے ۔ وزیر اعلی پنجاب ہر دردناک اور زیادتی کے واقعات پر بہت زیادہ جذباتی رنگ اختیار کرتے ہیں لیکن ان کا عمل کچھ نہیں ہوتا ۔ کیا وزیر اعلی یہ بتاسکیں کے پچھلے نو برسوں سے وہ پنجاب کے حکمران ہیں ۔ اس دور حکمرانی میں کتنے مجرموں کو عملی طور پر سزا دی جاسکی یا وہ قانون کی گرفت میں آئے ۔ کیا ان کی اپنی جیب میں موجود ارکان اسمبلی اور وزیر وں کی فوج در فوج نے خود مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں رکاوٹیں نہیں کھڑی کیں۔ کاش وہ اس کا تجزیہ کرسکیں کہ ان کا اپنا سیاسی اور انتظامی نظام انصاف کی راہ میں خود ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔ چیف جسٹس نے اگرچہ اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے ، لیکن کیا ہماری عدلیہ یہ بتاسکے گی کہ خود ان کی عدالتوں سے کتنے مجرموں کو سزا مل سکی اور کیا وجہ ہے کہ ان جرائم میں ملوث لوگ بڑی سیاسی اقراپروری کی وجہ سے قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں یا بچا لیے جاتے ہیں ۔ تفتیش کے موجودہ نظام کی موجودگی میں انصاف کا عمل بہت پیچھے رہ جاتا ہے اور اس کی جگہ کمزور افراد زیادہ اس نظام کے استحصال کا شکار ہوتے ہیں ۔ مقامی سطح پر یہ جو مسائل بچوں اور بچیوں کے تناظر میں دیکھنے کو ملتے ہیں اس کی ایک اہم وجہ کمزور مقامی حکومتوں کا نظام ہے ۔ ہر یونین کی سطح دس سے بارہ منتخب افراد اور دیگر سماجی ڈھانچے کے باوجود جنسی ذیادتی کے واقعات پر ان ااداروں کا کوئی کردار نظر نہیں آتا ۔ کیونکہ حکومت کی نااہلی یہ ہے کہ وہ ان اداروں کی مدد سے مقامی سطح کے سیاسی ، سماجی اور انصاف کے نظام کو مضبوط بنانے کاکوئی ایجنڈا نہیں رکھتی، جو مقامی سطح پر ایک مضبوط نگرانی ، جوابدہی اور شفافیت کے نظام کو طاقت فراہم کرسکے ۔
سیاسی جماعتوں اور اہل دانش کا سماجی تشکیل میں کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ ان کے سامنے سماج کی تشکیل کم اوراقتدار پر مبنی طاقت کی سیاست کو زیادہ فوقیت ہوتی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کا مقامی آبادی سے کوئی رابطہ نہیں ،ان کا مسئلہ ووٹ حاصل کرنا یا ان کے کچھ مقامی مسائل کو دیکھ کر محض سیاست کرنا ہوتا ہے ۔ مقامی سطح پر لوگوں کو کیسے جوڑا جائے یا ان کا کیسے سماجی شعور اجاگر ہواس پر کوئی توجہ نہیں ۔ ہمارے علمائے کرام فرقہ ورانہ سیاست میں ایسے الجھ کر رہ گئے ہیں کہ انسانی تربیت کا عمل بہت پیچھے رہ گیا ہے ۔ تعلیمی نظا م ڈگریاں بانٹتا ہے لیکن رسمی و غیر رسمی تعلیم اور مذہبی تعلیمات میں تربیت کا عمل کہیں گم ہوکر رہ گیا ہے ۔ مقامی حالت یہ ہے کہ ہم خود اپنے اپنے محلوں اور ان میں رہنے والوں یا نئے آنے والوں سے لاتعلق ہیں ۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں کہ یہاں کون ہے اور کیا کررہا ہے ۔ اسی طرح سے احتساب ، جوبداہی یا سزا دینے کا جب کوئی شفاف نظام نہیں ہوگا تو زینب جیسے سنگین جرائم کا خاتمہ کیسے ممکن ہوگا۔ کیونکہ جرم کرنے والا یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے اداروں کی کمزوری، نااہلی اور اپنی سیاسی طاقت کی بنا پر اس کا کچھ نہیں بگڑ سکے گا۔ اس حکمرانی کے نظام کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ نظام کو شفاف اور جوابدہ بنانے کا کوئی ایجنڈا نہیں رکھتا بلکہ افراد یا مخصوص طبقات کو ہی حکمرانی کا نظا م سمجھتا ہے ۔ یہ ہی المیہ میڈیا کا بھی ہے جو اپنی زیادہ توجہ محاذآرائی اور غیر ضروری سیاسی ، سماجی مباحث میں الجھ کر مثبت سماجی رویوں کو تشکیل دینے میں ناکام ہوا ہے ۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم محض حکمران طبقات کو گالی نکال کر آگے بڑھیں ، بلکہ پورے سماجی ، سیاسی اور عدالتی نظام کی اصلاح کے لیے زیادہ غور وفکر سے سوچنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ واقعات عمومی طور پر داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر ہمارے سماج کی سیاسی اور اخلاقی ساکھ کو بری طرح مجروع کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
کاش ہمارا سماج اور ریاستی و حکومتی نظام زینب کے اس درد ناک واقعہ سے کچھ سیکھ کر اپنی اصلاح کرسکے۔ کیونکہ وہی سماج آگے بڑھتا ہے جو اپنی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنے کے ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے ۔ لیکن اس کے لیے ہمیں اپنے اجتماعی ضمیر کو بھی جنجھوڑنا چاہیے کہ خود ہمارا حکمرانی کا نظام کیسے کمزور ، مظلوم اور معصوم لوگوں کے لیے وبال جان بن گیا ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تاریخ کا سبق یہ ہے ہم تاریخ یا اپنی غلطیوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔ بلکہ اور زیادہ ڈھٹائی کے ساتھ وہی کچھ کرتے ہیں جو ماضی اور حال کی سیاست کا حصہ ہوتا ہے۔ یہ ہی ہمارا المیہ ہے اور اسی کے خلاف سماج میں ایک بڑی مزاحمت کی ضرورت ہے ۔