پولیس نظام میں دور رس اصلاحات ضروری ہیں
- تحریر میاں وقاص ظہیر
- سوموار 15 / جنوری / 2018
- 4586
’’ٹری ٹران ‘‘ ایک مجسمہ ہے جس میں ایک خوبرو نوجوان شخص اوندھے منہ زمین پرساکن پڑا ہے۔ اسے ایک پرندہ اپنے پاؤں کی مدد سے اٹھا نے کی کوشش کررہاہے ، لیکن اس میں اٹھنے کی سکت نہیں۔ میرے سامنے جب اس مجسمے کی تصویر آئی تو پہلے میں بھی اسے غور سے دیکھتا رہا اور اس میں پنہاں سنگ تراش کے پیغام کو تلا ش کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ قصورکی زنیب کی تصویر پر نظر پڑ گئی جس نے سنگ تراش کے اس پیغام کو سمجھنے میں آسانی پیدا کردی۔
مجسمہ ساز کہنا چاہتا تھا کہ جلد یا بدیر ہر ایک کو یہ دنیا چھوڑ کر جاناہے ، جس کے انجام سے کوئی بھی واقف نہیں کہ اسے کہاں کس حال میں یہ دنیا چھوڑنی پڑی۔ کیا جس نفس کیلئے آپ دنیا میں سب سے نمایاں نظر آنا چاہتے ہیں وہ موت کے بعد آپ کا ساتھ دے گا جن خواہشات کے پیچھے زندگی بھر بھاگتے رہتے ہیں وہ آپ کو بچا سکیں گی ۔ جس بیوی، اولاد کیلئے آپ حلال وحرام کی تمیز کئے بغیر پیسہ کماتے ہیں وہ آپ کے جسم میں روح نکلنے کے بعد معاون ثابت ہوگا ۔ کیا آپ جس خوبرو جسم اور جوانی کے نشہ میں گم ہوکر ظلم کی تمام حدیں پار کرجاتے ہیں اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہ کمزور خاکی بدن موت سے مقابلہ کرلے گا ۔ جس کا جواب تو ناممکن کے دو الفاظ میں چھپا ہے ۔
میں نے مجسمے کی تصاویر کو قصور کی معصوم کلی زینب کی تصویر کے ساتھ رکھا تو اس نے میرے بیان کئے گئے تمام نظریات کورد کردیا اور ایک نئی کہانی بیان کی ہے، جس کے مطابق وہ ’’ٹری ٹران‘‘ مجسمہ ہمارے مردہ سسٹم کا ہے جس میں سیاستدان ہوں یا پولیس یا ملکی اورضلعی تمام ادارے جو دیکھنے کو تو بڑے جاذب نظر ہیں ، لیکن حقیقت بالکل مختلف ہے۔ اس مجسمے کو اٹھانے کی کوشش کرنے والے پرندے کو میں زنیب کے روپ میں دیکھتا ہوں جومردہ سسٹم کو پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کررہاہے کہ جو کچھ میرے ساتھ ہوا وہ تو ملکی تاریخ کے سیاہ اوراق میں درج ہوچکا ۔ اب بھی اپنے مردہ سسٹم میں روح پھونک لو جو کسی بھی زینب ، لائبہ ،عائشہ ، کائنات ، آمنہ اور میرے جیسی لاکھوں کلیوں کو وقت سے پہلے ہی مرجھا نے نہ دے ۔ نہ ہی لوگوں کو انصاف کیلئے سڑکوں پر آنا پڑے، نہ کسی ایم این ایز، ایم پی ایز کے ڈیروں کو آگ لگے، شہر بند ہوں ، نہ ہسپتال اور سرکاری املاک میں توڑ پھوڑ ہو۔ ہماری پولیس اگر کام میرٹ پر کام کرتی ، یہاں کے پی ایس پی آفیسرز، وزرا ، مشیروں کے تلوے چاٹنے اور بدلے میں پرکشش سیٹیں لینے کے لالچ سے مبرا ہوتے تو یہ المیہ سامنے نہ آتا۔
ہمارے ملک کے تھانوں میں آج بھی ٹھیکیداری نظام رائج ہے ، سی سی پی او ، ڈی آئی جی ، آر پی اوز، ڈی پی اوز، ایس پیز کے دفاتر میں آج بھی لوگ انصاف کیلئے درخواستیں لئے خوار ہورہے ہیں۔ ان کی درخواستوں پرکئی کئی چکر لگانے کے باوجودعمل درآمد نہیں ہوتا۔ نہ ہی شرم آتی ان مردہ ضمیر تھانیداروں کو جو قتل کے مقدمات سمیت کسی بھی قانونی کارروائی کیلئے شہریوں سے رشوت وصول کرنے کو حق سمجھتے ہیں۔ زیادتی کے شکار خاندانوں کی مدد کرنے کی بجائے تھانوں میں زیادتیاں کرتے ہیں۔
سیاستدان اور پولیس افسر دو چار ایپ بنانے اور ریکارڈ کمپیوٹرائز کرنے کو اگر پولیس سسٹم میں اصلاحات سمجھتے ہیں تو یہ واضح ہونا چاہئے کہ اس سے نظام نہیں بدلے گا۔ اس کے لئے مزاج اور رویہ بدلنا پڑے گا۔