بچوں کی حفاظت کے لئے قومی تحریک چلانے کی ضرورت ہے

ایک وقت تھا کہ پنجاب کے شہر قصور کی وجہ شہرت نامور صوفی شاعر بلھے شاہ کی شخصیت ہوا کرتی تھی جن کی شاعری اور کلام سے امن، محبت بھائی چارہ اور رواداری کی خوشبو ہر سو پھیلتی تھی۔ لیکن آج دنیا بھر قصور کا نام بچیوں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے حوالے سے گونج رہا ہے اور بار بار سامنے آرہا ہے۔ لگتا ہے جیسے قصور سے شرافت بالکل ہی ختم اٹھ چکی ہے اور وہاں انسانوں کی آڑ میں بھیڑیوں کا بسیرا ہے۔ تہمینہ، ثناء، عائشہ، عمران، ایمان فاطمہ، نور فاطمہ، فوزیہ، بابر، لائبہ اور کائنات نامی بچیوں کے بعد اس اس بار زینب جنسی درندگی کا شکار بنی۔ وے بلھیا اج مرگیا توں۔۔ تیری قبر تے اج وجن نہ ڈھول ۔ تیرے شہر قصور دے شمراں نے۔۔ اج زینب دتی رول

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق سات سالہ زینب کو قتل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی اور اس کی موت گلا دبانے سے ہوئی تھی۔  جسم پر تشددکے نشانات موجود تھے زبان بھی بری طرح متاثر ہوئی تھی اور گردن کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔   ہسپتال کے ایم ایل او نے میڈیا کوبتایا تھا کہ سات ماہ میں اس طرح کا یہ چوتھا واقعہ ہے تادم تحریر اس لرزہ خیز اور المناک واقعہ کو بارہ دن گزر چکے ہیں لیکن مجرم گرفتار نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ بارہ جنوری کے اخبارات میں شائع ہونے والے وزارت داخلہ پنجاب کے اس اشتہار نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنادیا ہے جس میں ملزم کی تلاش میں معاونت کرنے والے کو ایک کروڑ کی خطیر رقم انعام دینے کا کہا گیا ہے۔ گویا ایک طرح سے حکومت نے اپنی ناکامی اور نااہلی کا اعتراف کیا ہے ۔ بچی کے والد نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے پولیس کو پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ملزم چار دن تک محلہ اور قریبی گلیوں میں گھومتا رہا لیکن پولیس نے کوئی مدد نہ کی۔

بچوں کے خلاف جنسی تشدد کی جو لہر کئی سال سے  پنجاب میں پیش آئی ہوئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہاں بچہ بچاؤ ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے ۔ گلی گلی محلے محلے میں تو مومنین کی موجودگی میں بھی شیطان دندناتا پھرتا ہے اور کسی بھی ادارے کی گرفت میں بھی نہیں  آرہا۔ ہر گلی میں ہر فرقہ کی مسجد ہے جہاں پانچ وقت کی اذان دی جاتی ہے، لوگ  نماز پڑھنے جوق در جوق آتے ہیں تو پھر یہ کیسا عذاب ہے جو بچوں پر مسلط ہو گیا ہے۔ چند ماہ قبل ہی فیض آباد میں مومنین پاکستان نے اجتماعی طور پر ملی غیرت کا مظاہرہ کیا تھا اور نت نئی قومی گالیاں تخلیق کی تھیں۔  اب ایسا کوئی لیڈر اور عالم دین بولنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا  صبح چار بجے قصور جانا اور زینب کے والدین سے تعزیت کرنے سے بھی اس امر کو تقویت ملتی ہے کہ وہ پارٹی کے ایم این ایز کے لاقانونیت کے آگے بے بس  ہیں۔  پولیس ان کے قابو میں نہیں رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے جان بوجھ کر لوگوں کا سامنا کرنے سے گریز کیا ہے ورنہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ وہ ایسے مواقع پرلوگوں سے بھی خطاب کیا کرتے تھے۔ سیاسی طور پر قصور مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے اور یہاں قومی اسمبلی کی پانچ نششتیں ہیں جو تمام نون لیگ نے جیت رکھی ہیں ۔ جو سیاسی جماعتیں اس موقع پر سیاست  کر رہی ہیں ان کو خدا کا خوف کرنا چاہیے کہ یہ واقعہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ بلکہ یہ واقعہ ماضی کی سبھی حکومتوں کی مسلسل غفلتوں اور کوتاہیوں کا شاخسانہ ہے۔ ہر دور حکومت میں بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں ہوئیں ہیں ۔ پنجاب اس وقت جنسی بے راہ روی کا گڑھ بن چکا ہے۔

آج پنجاب سمیت ملک بھر میں ننھے بچے اور بچیاں زندگی اور عزت دونوں سے بیدردی سے محروم کئے جا رہے ہیں۔ پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کا صحیح اندازہ لگانا بہت مشکل ہے تاہم یہ بات درست ہے کہ بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ پاکستان میں روزانہ گیارہ بچے جنسی درندگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ جنسی درندے بچوں سے ان کی معصومیت اور بچپن تو چھین ہی لیتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اب ان کی زندگیاں بھی چھیننے لگے ہیں۔  اب تک کے واقعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں کی حفاظت میں سماج، قانون اور خود والدین سبھی بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔  اس میں سب سے بڑی غفلت خود والدین کی ہے اور اس کی بنیادی وجہ ان کا علم و شعور سے عاری ہونا ہے۔  مقامی مولوی کی اندھی تقلید ہے۔ اس وقت جاہلیت اور ملائیت دونوں نے پورے معاشرے کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں ایک مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ جس تیزی سے ملا کا اثر بڑھایا جا رہا ہے اس سے کہیں زیادہ تیزی سے معاشرہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہو رہا ہے ۔ کیبل اور انٹرنیٹ نے سماج کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا مولوی نے عام پاکستانی مرد و عورت کی سوچ کو پہنچایا ہے۔ بلکہ اجتماعی طور پرپورے سماج کے لوگوں کو کو انسانی اقدار سے کوسوں دورکردیا ہے۔ نفرت، تعصب کو فروغ دیا ہے ۔ اکیسویں صدی میں پاکستان کوتاریکی کے دور میں دھکیل دیا گیا ہے ۔  پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی ایک رپورٹ کے مطابق2017 میں1465خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور ان میں نصف سے زائد 769 نو عمر بچیاں تھیں۔ ایک سال کے یہ سیاہ اعداد و شمار سماجی گراوٹ  کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

قصور کے  علاقہ صدرتھانے کی حدود میں اپریل2016 لے کر نومبر 2017 کے دوران دو کمسن لڑکوں سمیت نو لڑکیوں کو وحشیانہ جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا۔  حکام اور سیاستدان اس مسئلہ سے نمٹنے میں ناکام ہیں۔ پروٹوکول کلچر اور سیاسی و مذہبی مداخلت نے پولیس کے محکمے کا بیڑہ غرق کردیا ہے جس کی وجہ سے جرائم میں ہو شربا اضافہ ہو رہا ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ تمام قومی اداروں کو ہرطرح کی سیاسی و مذہبی مداخلت سے  پاک کیا جائے اور ممبران اسمبلیوں سے ان اداروں کو آزادی دلائے جائے تاکہ وہ ہر قسم کے خوف اور دباؤ کے بغیر اپنا کام کرسکیں۔