ڈاکٹر حسن ظفر عارف بھی گئے: جو چلے تو جاں سے گزر گئے

غسل میت کو نہ کہنا میرے غسل کو
اجلے ملبوس کو مت کفن نام دو
میں چلا ہوں نجات کی راہ کو
تھا جس کا انتظار وہ گھڑی آگئی
پیارے استاد سبط جعفر آپ سے معافی کا خواستگار ہوں۔ میں نے آپ کے قصیدے کے اشعار میں کچھ تبدیلی کردی کیونکہ آج میں جن کا پرسہ دینے بیٹھا ہوں وہ سر سے پیر تک مادیت پرست تھے اور تاریخی مادیت کا جدلیاتی فلسفہ ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ اور وہ شخص میرا استاد تھا۔ شعبہ فلسفہ کراچی یونیورسٹی میں ایک کمرے میں وہ ماڈرن فلسفی پہ لیکچر دے رہے تھے اور اس کمرہ جماعت میں جتنے مرد و خواتین تھے سب ہمہ تن گوش ہوکر ان کو سن رہے تھے ۔

بات ہیگل کی ہورہی تھی اور وہ علم کے بیش بہا موتی لٹائے چلے جارہے تھے اور ان کی آواز آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے ۔ ان کا لیکچر ختم ہوگیا اور وہ مجھ سمیت چند لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ باہر آگئے اور ان دنوں کے حالات میں ترقی پسند طالب علموں کی جدوجہد پہ بات ہورہی تھی، اچانک انہوں نے ایک طالب علم کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور ہم سب سے مخاطب ہوکر کہنے لگے ، Always hit the below the belt. It produces required results' یہ سب کہتے ہوئے وہ ایسے ہاتھ ہلا رہے تھے جیسے انہوں نے ہاتھ میں تلوار تھامی ہو اور اسے چاروں طرف چلا رہے ہوں اور خیال ہی میں تاریک و رجعت پسند طاقتوں سے لڑرہے ہوں۔ میں ان کے اس انداز کو کبھی اور قول کو کبھی بھول نہیں پایا اور سچی بات ہے کہ وہ اس قدر جاندار شخصیت کے مالک تھے کہ میں نے کبھی سوچا ہی نہ تھا کہ میں کبھی ان کی مرگ پہ ان کی یاد میں الوداعی مضمون لکھوں گا۔ ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی لاش (اُف) ان کی گاڑی کی پچھلی نشست پہ پائی گئی۔ یہ ریڑھی گوٹھ کراچی کا علاقہ ہے ۔ لاش کو ابراہیم حیدری پولیس نے جناح ہسپتال کراچی پہنچایا۔ ڈاکٹر سیمی جمالی نے ان کی لاش کا ابتدائی طبّی معائنہ کیا اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ طبعی موت ہے ۔ کوئی تشدد اور گولی کا نشان ان کے جسم پہ نہیں ہے ۔ تفصیلی رپورٹ پوسٹ مارٹم کے بعد سامنے آئے گی۔ میں نے جب یہ ساری خبر پڑھی اور بے اختیار میرے منہ سے’ہائے ‘ نکلا۔

کیا اتفاق تھا کہ اسی وقت ہماری ایک اور دوست ام رباب، جن میں اور مجھ میں مشترک بات یہ ہے کہ ہم  دونوں ان کے ہزاروں تلامذہ میں سے ایک ہیں، نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پہ اپنے ایک سٹیٹس کے نیچے مجھے مینشن کیا اور’ہائے میرے استاد‘ لکھا۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔ ابھی گزشتہ گرمیوں میں تو میں کراچی گیا تھا۔ ڈاکٹر حسن ظفر عارف رینجرز کی حراست سے رہائی پاچکے تھے اور میرے دوست اور ساتھی ڈاکٹر ریاض احمد (استاد شعبہ اپلائیڈ کیمسٹری کراچی) بھی ان کی رہائی کے مطالبے کی پاداش میں رینجرز کی میزبانی کا مزا چکھنے کے بعد سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت منظور ہونے کے بعد باہر آچکے تھے۔ میں ان دونوں سے ملنا چاہتا تھا، ان کی اسیری کی روداد سننا چاہتا تھا۔ ڈاکٹر حسن ظفر عارف نے ہمیں جہاں ہوٹل میٹرو پول ہوتا تھا، وہاں آنے کو کہا تھا۔ میں کامریڈ روزا خان کے ساتھ تھا اور تھوڑا لیٹ ہوگیا تھا۔ ڈاکٹر ریاض میرے وہاں منتظر تھے اور میں ان کے ساتھ میٹرو پول کے قریب پہنچا تو ڈاکٹر ظفر حسن عارف سڑک کے کنارے ہمارے منتظر تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ کافی دیر سے وہ انتظار کر رہے تھے اور اب ان کو ایک انتہائی ضروری پارٹی میٹنگ میں جانا تھا۔ خیر ہم وہیں سڑک پہ کھڑے کھڑے ان سے ملے ۔

یہ مشکل سے دس منٹ کی ملاقات تھی۔ اس آخری ملاقات میں ان کی آنکھوں کی چمک حسب دستور قائم تھی۔ ہونٹوں پہ مسکان سجی ہوئی تھی اور رجائیت پسندی و امید پرستی ان کے ہاں ویسے ہی موجود تھی۔ اپنی لفاظی سے وہ ہمیں اس بات پہ قائل کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ وہ ان کی حالیہ سیاسی جہت سے کسی انقلاب کی آمد بس یہیں کہیں قریب تھی۔ میں اتنے شاندار آدمی کے اس طرح کے رجحان کو ویسے ہی افسوس اور تاسف کے تاثرات سے دیکھ رہا تھا جیسے میں نے ان کو مسلم لیگ میں شمولیت کے فیصلے کے وقت دیکھا تھا اور سچی بات ہے کہ میں سوچا کرتا تھا کہ جو تاریخی مادیت پرستی کا جدلیاتی فلسفہ انہوں نے ہمیں پڑھایا تھا وہ خود اس سے کام کیوں نہیں لیتے ۔ ایک بات مجھے یہاں پہ ضرور لکھنا ہے کہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو موقع پرستی اور لالچ میں کسی کیمپ میں شامل ہوجاتے ہیں بلکہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو  ہمیشہ ظلم و ستم کی آندھیوں کے سامنے سینہ سپر ہوتے ہیں ۔ ان کا فیصلہ چاہے غلط ہی کیوں نہ ہوتا مگر یہ فیصلہ مشکلات کو آواز دینے والا اور کہیں نہ کہیں غالب حکمران طبقات سے ٹکرانے والا اور اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی مول لینے والا ہوتا تھا۔ کراچی یونیورسٹی میں ان کی تدریس کے دن ہوں یا باہر سماج کے اندر جنرل ضیاالحق کے خلاف چلنے والی  جمہوریت اور انسانی حقوق کی بحالی کی تحریک، انہوں نے ہمیشہ جرآت مندی سے کام لیا۔ کسی خوف اور ڈر کو پاس پھٹکنے نہیں دیا تھا۔ ان کی تحریریں اور گفتگو نے ہزاروں نوجوانوں کو رجعت پسندی، بنیاد پرستی، مذہبی و نسلی انتہا پسندی سے بچایا تھا اور اس راستے میں انہوں نے کسی مشکل اور آفت سے ڈر کر خاموشی اختیار نہ کی تھی۔

انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بہت عرصے کے بعد عملی سیاست میں دوبارہ اس وقت قدم رکھا جب ان کی اردو بولنے والی کمیونٹی پہ سب سے مشکل ترین وقت آیا ہوا تھا۔ انہوں نے عملی سیاست میں اس جماعت کے ساتھ وابستگی اختیار کی جو بدترین حالات سے گزر رہی تھی۔ اس جماعت کے سب سے معتوب ترین دھڑے ایم کیو ایم لندن سے خود کو وابستہ کرلیا اور اس کی سنٹرل کمیٹی کے رکن بھی بن گئے ۔ ان کی زندگی کے آخری دنوں میں کیا گیا یہ فیصلہ شاید سب سے غیر مقبول فیصلہ تھا۔ ان کے جتنے بھی شاگرد اور دوست اور محبان تھے بائیں بازو میں سب کے سب اس فیصلے سے انتہائی ناخوش تھے اور اپنے اختلاف کا برملا اظہار کررہے تھے۔  شاید ڈاکٹر ظفر حسن عارف ساری عمر جس کیمپ کے ساتھ کھڑے رہے تھے اس کیمپ کی بھاری اکثریت کی بیگانگی اور سرد مہری کا سامنا بھی کررہے تھے ۔ انہوں نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنا چاہی تھی، اس دوران ان کی گرفتاری پہ جو بے ہودہ الزامات لگائے گئے اور ان سے جو سلوک ہوا اس پہ بھی کراچی سمیت پورے ملک میں بائیں بازو کے اکثر لوگوں نے چپ سادھے رکھی تھی۔ ایسے میں ڈاکٹر ریاض سمیت کراچی یونیورسٹی کے چند حاضر اور سابق اساتذہ نے انسانی ہمدردی کی بنا پہ اس عمر رسیدہ پروفیسر کی رہائی کا مطالبہ پیش کیا۔ میں بھی ان سے اختلاف رکھنے کے باوجود ان کی گرفتاری اور ان پہ جھوٹے مقدمات قائم کرنے کے سخت خلاف تھا اور میں ڈاکٹر ریاض کی اس بات سے مکمل اتفاق رکھتا تھا اور رکھتا ہوں کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں اور دانشوروں پہ جھوٹے مقدمات اور ان کی جبری گمشدگیوں کا کوئی جواز نہ کل تھا اور نہ آج ہے ۔

ہم نے اسی لیے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ڈاکٹر ریاض نے اس مطالبے کی حمایت کی سزا بھگتی۔ ان کے ساتھ چند روز کی حراست میں جو سلوک ہوا وہ شرمناک اور بدترین تھا۔ اگرچہ ڈاکٹر ریاض نے مجھے منع کررکھا ہے کہ میں اس کی تفصیل پبلک نہ کروں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ڈاکٹر ریاض کے ساتھ بدترین سلوک اور ان کا اغوا صرف اس لیے ہوا تھا کہ وہ ریاستی جبر اور تشدد و ظلم کے خلاف بلند آہنگ سے آواز اٹھارہے تھے۔  ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی سیاسی لائن اور ان کے خیالات سے اختلاف کیا جاسکتا تھا لیکن وہ ایک ممتاز استاد تھے جنہوں نے کئی عشرے ہماری نسلوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا اور ان کو شعور زندگی بخشا تھا۔ ہمارے سماج میں ان کو جائز مقام نہ ملا اور ان کو ریاستی اداروں نے جیسے ذلیل کیا اور ان کی جس طرح سے بے عزتی کی گئی وہ بہت افسوسناک ہے۔

یہ سب اس لیے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوجاتا ہے جب ہم اپنے بچوں کے قاتل ‘احسان اللہ احسان’ کو عزت پاتے دیکھتے ہیں اور اس ملک میں عقیدہ و شناخت کے نام پہ نفرتیں پھیلانے اور دہشت گردی میں ملوث لوگوں کو معاشرے میں اہم مقام پر دیکھتے ہیں اور ان کو الیکشن لڑنے اور جیت کر اسمبلی کے فلور پہ مذہبی نفرت پھیلانے کا موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی لاش جن حالات میں پائی گئی ہے ، اس سے ذہنوں میں شکوک کا پیدا ہونا فطری ہے۔ لوگوں کے ذہن ان پراسرار اور نادیدہ ہاتھوں کی طرف جاتے ہیں جن کو آج کل لوگوں کو اٹھانا، غائب کرنے ، اذیت دینے اور پھر لاشوں کو ویرانوں میں پھینک دیے جانے کا شوق چڑھا ہوا ہے ۔