ہری بھری دنیا کے خواب بیچنے والا
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 16 / جنوری / 2018
- 4754
بات کرنا بھی ایک فن ہے اور اس میدان میں ہر آدمی فنکار نہیں ہوتا۔ مجھے خود بات کرنے کی مشق نہیں ہے۔ جو لوگ ناخوش یا ناراض ہونا چاہتے ہیں وہ ہو ہی جاتے ہیں۔ آپ سب لوگوں کو خوش نہیں کر سکتے اور پھر سب لوگوں کو خوش کرنے کی ضرورت بھی کیا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ میں سب کو برا بھلا ہی کہتا رہتا ہوں۔ کبھی کسی کی خوبیوں پر میری نظر نہیں جاتی۔ مجھے تو یاد نہیں پڑتا کہ میں نے ’’ایویں‘‘ ہی کسی کی برائی کی ہو۔
پردیس میں آدمی کی سانسیں ایسی سلیٹ ہوتی ہیں جن پر گزرے وقتوں کی یادیں تحریر ہوتی ہیں۔ فنکار اور واعظ (یا مصلح) میں فرق یہ ہے کہ فنکار جمالیاتی انبساط کو اپنے اظہار خیال کا ذریعہ بناتا ہے اور اس بات کو میرے اپنے حساب سے یوں عرض کرتا ہوں کہ جب ہم کسی واعظ کی تقریر سننے جاتے ہیں تو ہمیں پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس قسم کی بات کرنے والا ہے لیکن جب ہم کوئی افسانہ یا ناول پڑھتے ہیں، غزل سنتے یا فلم دیکھتے ہیں، کالم پڑھتے یا نظم سنتے ہیں تو ہمیں علم نہیں ہوتا کہ ہم دراصل کیا سننے والے یا پڑھنے والے ہیں اور یوں غزل سننے یا فلم دیکھنے یا کالم پڑھنے کا عمل ایک تخلیقی عمل بن جاتا ہے۔ اور ہم پڑھنے، سننے یا دیکھنے کے ذریعے کچھ دریافت کرتے ہیں اور ہر دریافت ہمارا نفع ہے کہ ہم تو صرف دل بہلانے کی نیت سے غزل سن رہے تھے یا کالم پڑھ رہے تھے۔ یہ جو عنصر ہے اس میں فنون لطیفہ کی طاقت ہے اور یہی طاقت فنکاروں پر، دانشوروں پر، ادیبوں، شاعروں اور کالم نگاروں پر واعظوں سے کہیں زیادہ ذمہ داری عائد کرتی ہے۔
دوست، سچائی، انصاف اور گزرے دنوں کی یاد ۔۔۔۔۔ میرے نزدیک انسان کے بہترین دوست ہیں جنہیں سائے کی طرح زندگی پر موجود رہنا چاہئے۔ میں ابھی ابھی پاکستان اور ہندوستان سے لوٹا ہوں۔ اب یہاں پردیس میں ان دنوں سیف الدین سیف (کیا برصغیر کا معروف شاعر کہنا ضروری ہے) کی یاد میرے ذہن کے افق پر چھائی ہوئی ہے۔ سیف صاحب سے فلم اسٹوڈیو، ادبی حلقوں اور نجی طور پر کئی ملاقاتیں رہیں۔ ادب سے شعر سے محبت ان کے خون میں رچی ہوئی تھی۔ وہ نوعمری میں ہی شعر کہنے لگے تھے۔ انہوں نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ ’’ادبی دنیا‘‘ کے پہلے صفحے پر میری نظم ’’رات‘‘ چھپی تو میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ کالج کے زمانے ہی میں سیف کی شہرت راس کماری سے لے کر خیبر تک پھیل چکی تھی۔ تاثیر، حسرت، صوفی تبسم اور فیض احمد فیض کے ساتھ ان کی محفل آرائیاں رہیں۔ امرتسر کے بعد لاہور کے ادبی حلقوں کا سیف کے بغیر دل نہ لگتا تھا۔ مشاعرے سیف کے بغیر جچتے نہ تھے۔ سیف اگر جانب فلم نہ آتے تو پاکستانی فلم آج بھی رہیں ہوتی جہاں 1947 میں تھی (پاکستانی فلم آج کہاں کھڑی ہے یہ الگ موضوع ہے) پاکستانی گیتوں میں اگر کوئی شعری معیار ہے تو وہ سیف کی دین ہے کہ جنہوں نے ادب کو فلمی تقاضوں پر قربان نہیں کیا۔ قتیل شفائی اپنی آپ بیتی ’’گھنگھرو ٹوٹ گئے‘‘ میں لکھتے ہیں۔
’’اگر سیف صاحب کا کوئی گیت ہٹ ہو جاتا تو میں اس پر رشک کرتا اور کوشش کرتا کہ میں ان سے آگے نکلوں، فلم ’’گمنام‘‘ کا ایک گیت تھا
پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے
تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے
یہ گیت سیف صاحب نے لکھا اور اقبال بانو اس کی گائیکہ تھیں۔ اس گیت کی شہرت بہت دور دور تک پہنچی۔ مجھے یہ HAUNT کرتا تھا اور میں سوچتا تھا کہ کاش ایسا ہی ایک گیت میں بھی لکھوں اور سیف صاحب کے ہمدوش قرار دیا جاؤں‘‘۔
ہندوستانی فلم انڈسٹری کے معروف پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور یش چوپڑا کے بڑے بھائی، بی آر چوپڑہ سیف کے بے حد مداح تھے اور وہی انہیں فلم انڈسٹری میں لے کر آئے تھے۔ بی آر چوپڑہ گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل تھے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ’’کروٹ‘‘ بی آر چوپڑہ کی پہلی فلم تھی جس کے گانے سیف الدین سیف نے لکھے تھے۔ یہ غالباً 1945 کی بات ہے۔ سیف نے پاکستان میں ’’کرتار سنگھ‘‘ جیسی خوبصورت فلم بنائی۔ موضوع اور بے باکی کے لحاظ سے یہ ایک اچھوتی فلم تھی۔ برصغیر کی عظیم لکھاری اور دانشور قرۃ العین حیدر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’میں حیرت سے گنگ ہوں کہ ایسی فلم برصغیر میں بھی بن سکتی ہے‘‘۔
میں 1990 میں پاکستان گیا تو سیف صاحب سے ملاقات ہوئی۔ یہ میری ان سے آخری ملاقات تھی۔ باتوں باتوں میں پوچھنے لگے، ’’سنا ہے فیض صاحب تمہارے ہاں اکثر آیا کرتے تھے‘‘ میں نے جواب میں کہا کہ ’’یہ ان کی ذرہ نوازی تھی، ان کی محبت اور شفقت سے میں خود کو قد آور محسوس کرتا ہوں‘‘۔ پھر میں نے پوچھا ’’آپ یورپ کا چکر کیوں نہیں لگاتے؟‘‘ چپ سے ہو گئے، چند لمحوں بعد کہنے لگے، نظریاتی اختلاف کے باوجود فیض صاحب میرے کلام کے بڑے مداح تھے، ایک دفعہ ایک تقریب میں میری ترقی پسند احباب مجھے سمجھا رہے تھے کہ میں سوشلسٹ ہو جاؤں، فیض صاحب جو بڑے غور سے ہماری بحث و تکرار سن رہے تھے اچانک بول اٹھے ’’رہنے دیں ۔۔۔۔۔ کسی کو تو شاعر رہنے دیں، اگر سیف بھی سوشلسٹ ہو گیا تو پھر ہم شعر کس سے سنیں گے‘‘۔
کہتے ہیں منٹو آخر میں بہت خبطی ہو گیا تھا بلکہ آخری عمر میں تو وہ ذہنی طور پر ماؤف بھی ہو گیا تھا۔ سیف صاحب نے بتایا کہ ایک بار محفل جمی ہوئی تھی کہ وہ ترنگ میں آ کر بولا ’’سیف سن لو! میں برصغیر کا سب سے بڑا افسانہ نگار ہوں۔ ’’ہاں‘‘ میں نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا، ’’سیف اسے مذاق مت سمجھنا‘‘ وہ بحث کے انداز میں بولا، میرے پائے کا اردو ادب میں ہے کوئی؟‘‘ اول تو میں افسانے کو اصناف ادب سے ہی خارج سمجھتا ہوں‘‘ آخر مجھے بولنا ہی پڑا۔ ’’یہ تو ان لوگوں کا ابتدائی شغل ہے جنہیں ادیب کہلانے کا شوق ہوتا ہے اور پھر تم افسانہ نگار لوگ بہت کمال بھی کر ڈالو تو زیادہ سے زیادہ کوئی یہ کہہ دے گا کہ واہ کیا عمدہ نثر ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے شعر کہے ہوں، شاعری کی ہو‘‘۔ میں منٹو پر آخری چوٹ کی ۔۔۔۔ تو گویا تم لوگ وہاں ختم ہو جاتے ہو جہاں سے شاعر شروع ہوتے ہیں‘‘۔
میں نے کہیں پڑھا ہے یا خود سے لکھا ہے کہ شاعر تخیل کی قوت کو قوی تر کرتے ہیں اور یہ کہ شاعری علم بھی ہے اور مصوری بھی۔
وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے
گئے تو کیا تری بزم خیال سے بھی گئے