چیف جسٹس پاکستان کی خدمت میں چند گزارشات

یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ کو مقدمات میں بے جا تاخیر کا احساس ہو گیا ہے۔  چیف جسٹس کافی متحرک نظرآرہے ہیں۔ انہوں نے اتوار والے دن بھی مقدمات کی سماعت کرکے یہ ظاہر کیا ہے کہ صورتحال ایسی ہے کہ چھٹی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن ایک طرف مجھے چیف جسٹس کے اتوار والے دن کام کرنے کی خوشی تھی لیکن دوسری طرف پیر والے دن خیبر پختونخواہ کی عدالتوں میں وکلا نے قصور کی زینب کے لئے بائیکاٹ کر دیا ۔ ان کے اس بائیکاٹ کی و جہ سے ہزاروں مقدمات سماعت سے محروم ہو گئے۔ اس سے پہلے بھی ایک چیف جسٹس تھے جنہوں نے کراچی میں ہی عید والے دن مقدمات کی سماعت کی تھی۔ لیکن ماضی گواہ ہے کہ صرف چیف جسٹس کے ایسا کرنے سے ایک اچھی روایت تو قائم ہو جاتی ہے لیکن بڑی تبدیلی نہیں آتی۔ پتہ نہیں کیوں لیکن باقی ججز اس کی پیروی نہیں کرتے۔ اور اس کا نیچے تک اثر نہیں ہوتا۔

وکلا کی ہڑتالیں بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ایک طرف چیف جسٹس کی پارلیمنٹ سے ناراضگی میں وزن ہے کہ ہماری پارلیمنٹ نے عدالتی نظام میں اصلاحات اور جلد از جلد انصاف کے حصول کے لئے قانون سازی نہیں کی ہے۔ لیکن چیف جسٹس صاحب عدلیہ کو اپنا گھر بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ بار اور بنچ عدلیہ کے دو ستون ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ پارلیمنٹ سے گلہ اپنی جگہ لیکن بار کو کون ٹھیک کرے گا۔ روز روز کی ہڑتالوں کو کیسے ختم کیا جائے۔ کیا اس کے لئے بھی پارلیمنٹ قانون سازی کرے یا پھر بنچ یہ معاملہ خود بار کے ساتھ حل کر لے گی۔ مجھے احساس ہے کہ بنچ بار کے سامنے بے بس ہے۔ بنچ کی یہ بے بسی افسوسناک ہے۔ وکلا کی ہڑتالیں اور عدالتوں میں تنازعات کا ابھی تک کوئی حل نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے چیف جسٹس کو بار کے ساتھ ایک نیا کوڈ آف کنڈکٹ طے کرنا چاہئے۔ بار اور بنچ کو مل کر ایک نئے چارٹر کو سائن کرنا چاہئے۔ جس میں ایک جیوڈیشل ایمرجنسی طے کی جائے۔ مقدمات میں تاخیر کے راستے بند کئے جائیں۔ ہڑتالیں ختم کی جائیں۔ ججز کا حترام یقینی بنایا جائے۔ عدالتوں کا احترام یقینی بنایاجائے۔ تا کہ کم از کم بار اور بنچ تو ایک پیج پر آسکیں۔ ابھی تک تو ایسا لگ رہا ہے کہ بار ایک طرف ہے اور بنچ دوسری طرف۔ دونوں کی سمت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اس طرح چیف جسٹس نہ تو اپنے اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔ اور نہ ہی جلد انصاف کا حصول ممکن ہے۔

میں عدلیہ کے احترام پر مکمل یقین اور ایمان رکھتا ہوں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم عدلیہ کا احترام یقینی نہیں بنائیں گے عدالتی نظام پر عوام کا یقین پختہ نہیں ہوگا۔ لیکن ساتھ ساتھ عدلیہ کو اپنے اندر احتساب کا عمل قائم کرنا ہوگا۔ بے شک عدلیہ کو معاشرہ میں مقدس گائے کی حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔ لیکن پھر بھی عدلیہ کے اپنے اندر ایک متحرک احتساب کا نظام ناگزیر ہے۔ مجھے تمام جج صاحبان کی ایمانداری پر مکمل یقین ہے لیکن پھر بھی انسان خطا  کا پتلا ہے ۔ اس لئے نظام ہونا چاہئے۔  چیف جسٹس مانیں یا نہ مانیں لیکن کہیں نہ کہیں عدلیہ کو اپنے اندر ایک ایسا کوڈ آف کنڈکٹ بنانا ہوگا جہاں مقدمات میں تاخیر پر بھی احتساب ہو سکے۔ ہمیں اپنے محترم جج صاحبان کو یہ احساس دلوانا ہوگا کہ مقدمات کی تاخیر ایک قابل احتساب عمل ہے اور یہ ایک جج کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اپنی عدالت میں زیر سماعت مقدمات کو مقررہ مدت میں نمٹائے۔ جناب چیف جسٹس کی جانب سے مقدمات کے فیصلوں کے لئے نوے دن اور ایک ماہ کی مدت کا تعین ایک قابل تحسین اقدام ہے لیکن پھر بھی اس مدت کا احترام نہ کرنے والوں کو بھی تو کہیں نہ کہیں جوابدہ ہونا چاہئے۔

یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ عدلیہ میں مقدمات کی تاخیر کے حوالہ سے بات ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی بار ایسا ہوا ہے ۔ لیکن اس کا منفی ردعمل بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ جب جج صاحبان پر مقدمات کو جلد نمٹانے کا دباؤ بڑھایا جاتا ہے تو وہ مقدمات میں انصاف کرنے کی بجائے انہیں ٹیکنیکل بنیادوں پر ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا بھی راستہ روکنے کی ضرورت ہے جب ایک مقدمہ کئی سال ایک عدالت میں زیر سماعت رہتا ہے اور اس کا فیصلہ انصاف اور میرٹ کی بجائے ٹیکنیکل بنیادوں پر کر دیا جائے تو اس سے نہ تو دونوں فریقین کو انصاف ملتا ہے نہ ہی تنازعہ ختم ہو تا ہے۔ اور نہ ہی انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ کسی بھی مقدمہ میں اگر ٹیکنیکل بنیادوں پر کوئی نقص ہو تو یہ مقدمہ کے قابل سماعت قرار ہونے کے وقت ہی طے ہونا چاہئے لیکن اگر ایک مقدمہ کو قابل سماعت قرار دے دیا جائے تو پھر اس میں میرٹ پر ہی فیصلہ ہونا چاہئے۔ اس کے لئے کسی قانونی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔ حکم امتناعی بھی ہمارے عدلیہ کے لئے مستحسن نہیں ہیں۔  یک طرفہ سماعت کے بعد دیئے گئے حکم امتناعی بھی کئی کئی سال چلتے ہیں۔ دوسرا فریق چیختا رہتا ہے کہ یہ حکم امتناعی جھوٹ بول کر حاصل کیا گیا ہے۔ کئی کئی سال تک چلنے والے حکم امتناعی ہمارے عدالتی نظام کو اپاہج کر رہے ہیں۔ عدلیہ کو اپنے اندر ایک ایسا کوڈ آف کنڈکٹ بنانا چاہئے کہ کم از کم یک طرفہ حکم امتناعی کو دوسرے فریق کو سن کر مستقل کرنے کی کوئی بھی مد ت ہونی چاہئے۔ اس کے لئے بھی کسی ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لئے تو چیف جسٹس صاحب کی اپنی ایک ہدایت ہی کافی ہے۔

جتنی بڑی تعداد میں مقدمات زیر التوا ہیں ۔ صورتحال اس بات کا تقاضہ کر رہی ہے کہ عدلیہ اپنے اوپر ایک جوڈیشل ایمرجنسی نافذ کرے۔ کام کرنے کے اوقات میں اضافہ کیا جائے۔ کم از جو مقدمات پانچ سال سے زائد عرصہ سے ایک ہی جیوڈیشل فورم پر زیر سماعت ہیں، ان کی روزانہ سماعت کے احکامت جاری کئے جائیں۔ اس کے لئے بھی کسی ترمیم کی ضرورت نہیں۔ چیف جسٹس صاحب کی ایک ہدایت کی ہی کافی ہے۔  تاریخ سماعت کی اہمیت کو قائم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ کسی بھی فریق کو گھر بیٹھے یہ زعم نہیں ہونا چاہئے کہ اس کے کہنے پر التوا ہوجائے گا۔ اسے تاریخ مل جائے گی۔ ابھی تو صورتھال یہ ہے کہ بس منشی ہی پیش ہو کر تاریخ حاصل کر لیتا ہے کہ محترم وکیل صاحب مصروف ہیں۔ وکیل صاحب کی مصروفیت التوا کی کوئی گراؤنڈ نہیں ہو سکتی۔ اگر وہ مصروف ہیں تو مقدمہ نہ لیتے۔ فیس نہ لیتے۔ اگر اس دن ان کے اور مقدمہ ہیں تو متبادل کا بندو بست کرنا وکیل صاحب کی ذمہ داری ہونی چاہئے۔ انہوں نے مقدمہ لڑنے کی فیس لی ہوئی ہے۔ میرے خیال میں اس کے لئے بھی کسی خاص ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ کام بھی عدلیہ خود ہی کر سکتی ہے۔  چیف جسٹس کا ایک حکم ہی کافی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ عدلیہ نے کئی معاملات کے حوالہ سے بے جا بوجھ بھی ڈالا ہوا ہے۔ ان میں ضمانت کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ ضمانت کے مقدمات کی سماعت میں عدلیہ کا بہت وقت ضائع ہوتا ہے۔ یہی وقت ٹرائل اور مقدمات کے فیصلوں میں کام آسکتا ہے۔ ضمانت کسی بھی مقدمہ کا کوئی حل نہیں۔ یہ ایک وقتی ریلیف ہے۔ سوائے دہشت گردی اور بہت ہی سنگین مقدمات کے ضمانت ملزم کا حق ہونا چاہئے۔ جب تک کوئی ملزم ہے اور مجرم نہیں ہے تب تک اس کو ایک دن کے لئے بھی بے گناہ پابند سلاسل نہیں ہونا چاہئے۔ ضمانت کے مقدمات کا بوجھ اگر عدلیہ سے کم ہو جائے تو نہ صرف بہت وقت بچ جائے گا بلکہ بے گناہ لوگ جیلوں میں قید بھی بند ہو جائیں گے۔ یہ نہائت افسوسناک بات ہے کہ فوجداری مقدمات میں سارا زور ضمانت پر ہی لگ جاتا ہے۔ اس لئے نوے فیصد فوجداری مقدمات ضمانت تک ہی لڑے جاتے ہیں۔ اسی کی وجہ سے جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں کہ ایک دفعہ مخالف کو جیل بھجوا دیا جائے۔ بعد میں بری بھی ہو جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ نظام انصاف کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ ہر ضلع میں ایک جوڈیشل افسر ہونا چاہئے جو ملزم کو پیش ہونے پر ضمانت دے۔ اور اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ شامل تفتیش رہے گا۔ اس وقت عدالتوں میں ایک مضحکہ خیز صورتحال ہے کہ ضمانت کا مقدمہ لڑنے کے لئے وکلا کو لاکھوں روپے فیس دی جاتی ہے۔ جبکہ ضمانتی مچلکہ چند ہزار روپے کے ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ضمانتی مچلکوں کی رقم میں اضافہ کیا جائے۔ ضمانت کو اتنا مضبوط بنایا جائے کہ کوئی ضمانت حاصل کرکے بھاگ نہ سکے۔ لیکن سپریم کورٹ تک معمولی مقدمات میں ضمانت کے لئے  جانا عدالتی نظام پر ظلم ہے۔ ضمانت کے مقدمات میں کمی بھی چیف جسٹس کی ہدایات پر ہی ہو سکتی ہیں۔ اس کے لئے پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں۔

یہ نہایت خوش آئند ہے کہ چیف جسٹس نے پارلیمانی لیڈرز کے ساتھ ملک میں عدالتی اصلاحات کے لئے بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے ۔ سو سو سال پرانے قانون اب نہیں چل سکتے۔ مقننہ کو اپنا کام کرنا ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ چیف جسٹس کے بات کرنے سے ملک میں عدالتی اصلاحات کا ایک پیکج چند دن میں ہی پاس ہو سکتا ہے۔ سب مان جائیں گے۔ جلد انصاف کی فراہمی پر کوئی اختلاف نہیں ۔ صرف عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان ایک جھجھک اور فاصلہ ہے۔ جس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔