پرویز رشید اور چودھری نثار علی خان تنازعہ، کون جیتے گا

پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان میں جمہوریت نہیں ہے۔ جمہوریت کی علمبردار اور ملک میں جمہوریت کے لئے کوشاں سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوریت قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اندر کی آمریت نے کہیں نہ کہیں ملک میں آمریت کے لئے بھی راہ ہموار کی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے اندر کی آمریت سیاسی جماعتوں کی اچھی کوشش کو بھی برا بنا دیتی ہیں۔ لیکن پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔

شخصی اور خاندانی آمریت کا شکار سیاسی جماعتیں اسی ایک وجہ سے اسٹبلشمنٹ سے ہار جاتی ہیں۔ فرد واحد کے مفادات کا تحفظ جمہوریت کے لئے کوششوں کو بھی گندا کر دیتی ہیں۔ یہ سوچ ہی غیر جمہوری ہے کہ سیاسی جماعت کا ووٹ بنک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ کسی فرد واحد کی ملکیت ہے۔ فقط اسی ایک سوچ کی وجہ سے ملک میں نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہو تا جا رہا ہے۔  سیاسی جماعتوں کے اندر موجود آمریت کی وجہ سے سیاسی جماعتوں میں کوئی نظام اور کوئی سسٹم موجود نہیں ہے۔ مشاورت کا کوئی فورم موجود نہیں۔ ٹکٹوں کی تقسیم کا کوئی فورم نہیں۔ کارکنان کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں۔ اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں۔ قیادت سے اختلاف بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ اختلاف رائے کے بعد پارٹی میں بقا ناممکن ہے۔ باغی کی سزا موت ہے۔ اور سزائے موت کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہے۔  اگر پاکستان کی سیاسی جماعتیں اپنے اندر آمریت ختم کر لیں ۔ اپنے اندر جمہوریت قائم کر لیں۔ فیصلوں کا اختیار فرد واحد سے ختم ہو جائے تو مضبوط سے مضبوط اسٹبلشمنٹ بھی پاکستان میں جمہوریت کا بستر گول نہیں کر سکے گی۔ جمہوریت اتنی مضبوط ہو جائے گی کہ عسکری و دیگر اسٹبلشمنٹ کو اس جمہوریت کے سامنے سرنگوں ہونا پڑے گا۔ جمہوریت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کسی کو جرات نہیں ہوگی۔

آج کل مسلم لیگ (ن) میں سنیٹر پرویز رشید اور چودھری نثار علی خان کے درمیان اختلاف اس بات کی عمدہ مثال ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں ہے۔ دونوں رہنماؤں کا اختلاف نظریاتی ہے۔ ایک طرف چودھری نثار علی خان اسٹبلشمنٹ کے حمائتی ہیں دوسری طرف پرویز رشید اینٹی اسٹبلشمنٹ ہیں۔ یہ سوچ اور نظریہ کا اختلاف ہے۔ چودھری نثاری علی خان نواز شریف کی مزاحتمی سیاست کے خلاف ہیں۔ ان کے خیال میں مسلم لیگ (ن) کو اداروں کے خلاف مزاحمتی سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ دوسری طرف پرویز رشید کا موقف ہے کہ اداروں نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو غلط نا اہل کیا ہے۔ ہمیں اپنے ووٹر کو سمجھانا ہوگا کہ ہمارے ساتھ اداروں نے زیادتی کی ہے۔ اس لئے اداروں پر تنقید اور مزاحمت تو کرنی ہو گی۔ ورنہ مسلم لیگ (ن) اپنی بقا اور ووٹ بنک کھو دے گی۔ سوچ اور نظریہ کے اس اختلاف کو طے کرنے کے لئے مسلم لیگ (ن) میں کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے۔ اس لئے تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔  یہ درست ہے کہ اختلاف رائے میں چودھری نثار علی خان نے ریڈ لائن کو عبور کیا ہے۔ وہ اختلاف رائے میں اس حد کو کراس کر گئے ہیں جو انہیں نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے پارٹی کے اندر بات کرنے کی بجائے میڈیا میں بات کرنی شروع کر دی۔ وہ اختلاف کو میڈیا میں لے آئے۔ ان کی اس حکمت عملی کی وجہ سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں۔

دوسری طرف یہ بات بھی حقیقت ہے کہ پرویز رشید جوبات کہہ رہے ہیں یہ ان کی سوچ نئی نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی اس سوچ کے لئے زندگی میں بہت بڑی قیمت ادا کی ہے ۔ لیکن انہوں نے اپنی سوچ نہیں بدلی۔ وہ آج اینٹی اسٹبلشمنٹ نہیں ہیں۔ وہ ہمیشہ سے اینٹی اسٹبلشمنٹ ہیں۔ ان کی سوچ کو ان کی پارٹی کے اندر بھی انقلابی کہا جاتا رہا ہے۔ وہ کبھی بھی اسٹبلشمنٹ کے پسندیدہ نہیں رہے ہیں۔ وہ بارہ اکتوبر 1999کو بھی اسٹبلشمنٹ کے خلاف تھے۔ وہ ضیاء الحق کے مارشل لا کے وقت بھی اسٹبلشمنٹ کے خلاف تھے۔ وہ آج بھی اسٹبلشمنٹ کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی دور میں بھی اسٹبلشمنٹ سے کوئی فائدہ نہیں لیا ہے۔ وہ ضیاالحق کے دور میں گمانامی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے لیکن انہوں نے اسٹبلشمنٹ سے مفاہمت نہیں کی۔ بارہ اکتوبر کے موقع پر بھی ان سے زیادتی ہوئی لیکن انہوں نے مفاہمت نہیں کی۔ اس لئے ان کے جو نظریات آج ہیں وہ نئے نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے نظریات پر ثابت قدمی بھی دکھائی ہے اور اس کی ایک قیمت بھی ادا کی ہے۔ جو کم نہیں ہے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر پرویز رشید اتنے ہی انقلابی ہیں تو وہ نون لیگ میں تب کیوں رہے جب نون لیگ اسٹبلشمنٹ سے تعاون کر رہی تھی۔ جب نواز شریف اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کر رہے تھے۔ اس کا ایک سادہ جواب تو یہ ہے کہ پرویز رشید کی ثابت قدمی نے آج نواز شریف کو بھی اینٹی اسٹبلشمنٹ کر دیا ہے۔ وہ اپنی بات کرتے رہے اور آج ایک دن ان کی بات مانی گئی ہے۔ لیکن اس کا ایک اور پہلو بھی ہے ۔ کئی سال تک نون لیگ نے پرویز رشید کی بات نہیں مانی بلکہ چودھری نثار علی خان کی بات مانی گئی۔ اسٹبلشمنٹ سے تعاون کیا گیا۔ چودھری نثار علی خان نے نون لیگ کی کمان کی۔ وہ سب سے آگے رہے۔ لیکن پرویز رشید نے ہر موقع پر اپنی بات کہی۔ جو نہ مانی گئی۔ جواب میں پرویز رشید نے بغاوت نہیں کی۔ پارٹی کے خلاف انٹرویو نہیں دیئے۔ باغیانہ بیانات نہیں دیئے ۔ پارٹی کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپا۔ پارٹی کے اندر اختلاف کیا۔ لیکن چودھری نثار علی خان نے ایسا نہیں کیا۔ کل جب نواز شریف چودھری نثار علی خان کی مان رہے تھے تو ٹھیک تھا۔ آج نہیں مان رہے تو غلط۔ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ چودھری نثار علی خان تب تک ہی پارٹی میں رہیں گے جب تک ان کی بات مانی جائے گی۔

سوال یہ ہے کہ اب کیا ہوگا ۔ دونوں کے اختلاف کی کہانی زبان زد عام ہو گئی ہے۔ ایسے کیسے چلے گا۔ کیا نواز شریف خاموش رہیں گے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ نواز شریف کس کے ساتھ ہیں۔ کس کو نواز شریف کا آشیر باد حاصل ہے۔ نواز شریف پرویز رشید کے ساتھ ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ شہباز شریف کہاں کھڑے ہیں۔ ان کی چودھری نثار علی خان سے دوستی اور ہمدردی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لیکن وہ خاموش ہیں۔ ان کی خاموشی سے سوال پیدا ہو رہا ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔ ایک بات تو طے ہے کہ وہ کھلے عام چودھری نثار علی خان کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان کی پرویز رشید سے دوستی بھی کم نہیں ہے۔ لیکن وہ کدھر ہیں۔ ویسے تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی درمیان میں کھڑے ہیں۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے جہاں چودھری نثار علی خان سے تعلق مانا ہے وہاں پرویز رشید سے دوستی سے بھی انکار نہیں کیا ہے۔ جس سے لگ رہا ہے کہ دونوں کی لڑائی نے مسلم لیگ نون کی قیادت کو ایک مشکل میں بھی پھنسا دیا ہے۔

سب جانتے ہیں کہ چودھری نثار علی خان یہ پہلی دفعہ ناراض نہیں ہوئے ہیں۔ بلکہ پرویز رشید کے مطابق پارٹی قیادت ان کی روز روز کی ناراضگی سے تنگ آچکی ہے۔ اب طے ہو گیا ہے کہ اب انہیں منایا نہیں جائے گا۔ کافی دفعہ منایا جا چکا ہے۔ روز روز کے منانے کا ڈرامہ بند ہونا چاہئے۔ ہماری بھی بات نہیں مانی جاتی ہم تو ناراض نہیں ہوتے۔ بات نہ مانے جانا بھی جمہوریت ہے ۔ اور اس پرناراض ہو جانا غیر جمہوری ہے۔ چودھری نثار علی خان کی ناراضگی کا الگ ہی ڈرامہ ہے۔ مریم نواز بھی نون لیگ میں ایک نیا فیکٹر ہیں۔ خبر تو یہی ہے کہ مریم نواز کی ہمدردیاں مکمل طور پر پرویز رشید کے ساتھ ہیں۔ خواجہ آصف ، احسن اقبال سمیت نون لیگ کی ایک بڑی لابی پہلے ہی چودھری نثار علی خان کے خلاف ہے۔ ان کی ہمدردیاں بھی پرویز رشید کے ساتھ ہیں۔ ان کے مطابق تو پرویز رشید نے بگل بجا دیا ہے۔ چودھری نثار علی خان کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ ان کے حمائتی بھی ان کی حمایت کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر رانا تنویر چودھری نثار علی خان کے حمائتی رہے ہیں ۔ ماضی میں جب پیپلزپارٹی نے چودھری نثار علی خان کو ٹارگٹ کیا تھا تو وہ چودھری نثار علی خان کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے لیکن اب وہ بھی خاموش ہیں۔ شاید  وہ بھی ہوا کا رخ سمجھ گئے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے چودھری نثار علی خان کی واپسی کی بہت کوشش کی ہے۔ نواز شریف کی پہلی دفعہ لندن سے واپسی کے بعد خواجہ سعد رفیق نے ان کی واپسی کی کوشش کی لیکن وہ بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ شاید اب وہ بھی پرویز رشید کے ساتھ ہیں۔ ان کی خاموشی تو یہی بتا رہی ہے۔

کیا چودھری نثار علی خان کو اگلے انتخاب میں  نون لیگ کا ٹکٹ مل جائے گا۔ یہ سوال ہی ساری صورتحال بیان کر رہا ہے۔ کہاں چودھری نثار علی خان خود ٹکٹوں کی تقسیم کرتے تھے ۔ کہاں ان کا اپنا ٹکٹ خطرہ میں ہے۔ کہا ں لوگ ان سے ٹکٹ مانگتے تھے۔ کہاں یہ سوال ہے کہ کیا وہ شیر کے بغیر جیت سکتے ہیں۔ وہ بھی نون لیگ میں اب جاوید ہاشمی بنتے جا رہے ہیں۔ کل چودھری نثار علی خان نے جاوید ہاشمی کے ساتھ جو کیا تھا وہ آج ان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ یہی سیاست ہے۔ یہی اس کا حسن ہے۔ باقی سب کہانی ہے۔