دہشت گردی کی جنگ میں ممکنہ کامیابیاں
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 18 / جنوری / 2018
- 4080
پاکستان دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔ یہ جنگ جو پاکستان کی داخلی خود مختاری اور سلامتی کے لیے بہت ضروری ہے ۔کیونکہ اس جنگ کے نتیجے میں بطور ریاست پاکستان نے سب سے زیادہ سیاسی ، سماجی ، انتظامی ، مالی اور انسانی نقصان اٹھایا ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے پھیلاو میں ہماری اپنی داخلی سیاست ، تضادات ، فیصلے اور پالیسیوں کا بھی عمل دخل ہے ۔ کیونکہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے جو بیج یہاں پر ریاستی ، حکومتی اور سیاسی حمایت کے ساتھ بوئے گئے تھے ، وہی ہماری ریاست کا بحران اور اسے کمزور کرنے کا ایک بڑا سبب بھی بنا ہے۔
یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سانحہ پشاور میں سکول کے معصوم بچوں کے ساتھ ہونے والی ہولناک دہشت گردی نے پوری ریاست ، حکومت اور معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو جنجھوڑا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اس واقعہ سے قبل ہمارے یہاں جو انتہا پسندی اور دہشت گردی یا دہشت گردوں کی حمایت میں جو فکری مغالطے تھے اس کا بھی خاتمہ ہوا ہے ۔اس سانحہ کے نتیجے میں ہماری سیاسی ، عسکری قیادت سمیت معاشرے میں رائے عامہ بنانے والے دیگر فریقین کے درمیان ایک باہمی اتفاق ’’ نیشنل ایکشن پلان ‘‘ پر ہوا ۔ بیس نکات پر مشتمل اس اہم نیشنل ایکشن پلان کو ایک سطح پر ریاست میں ایک بڑے قومی نصاب کے طور پر پیش کیا گیا ۔اس پلان کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں انتظامی اقدامات کے ساتھ ساتھ نئے متبادل بیانیہ اور فکری محاذ پر زیادہ توجہ دی گئی ہے ۔ یہ بحث پاکستان میں موجود ہے کہ کیا ہماری ریاست، حکومت اور اس سے متعلقہ اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کوئی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ یہ بحث اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہاں کچھ لوگ اس مایوسی کو پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں اور آج بھی یہ جنگ تضادات کی بنیاد پر لڑی جارہی ہے ۔اس میں داخلی اور خارجی دونوں عوامل ، لوگ ، ادارے اور گروہ موجو د ہیں جو ہماری ریاست کو سوالیہ بنا کر پیش کرتے ہیں ۔دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی کامیابیوں کو دو تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اول انتظامی ، سیکورٹی اور فوجی آپریشن کے تناظر میں اور دوئم فکری محاذ پر جاری کام کو آگے کس اندازمیں بڑھایا گیا ہے ۔پچھلے دنوں نیشنل کاونٹر ٹیر ئرازم اتھارٹی )نیکٹا(نے اپنی پہلی تین سال پر مبنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملات میں اپنا مقدمہ پیش کیا ہے ۔ اس رپورٹ کے بقول پاکستان میں 2017میں ماضی کے مقابلے میں 58فیصد دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے ۔اس سال 2017میں دہشت گردی کے 681واقعات ہوئے جو ماضی کے مقابلے میں بہت کم ہیں ۔فوج اور سول فوجی اداروں کی سیکورٹی اداروں نے دو لاکھ کے قریب کومبنگ آپریشن کیے ، جس نے خاطر خواہ نتائج دیے۔
اسی طرح انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف کام کرنے والے ایک اہم ادارے او راس کے سربراہ معروف دانشور ، لکھاری اور محقق عامر رانا کے ادارے نے اپنی رپورٹ جاری کی ہے ۔اس رپورٹ کے مطابق اس گزرے برس میں ماضی کے مقابلے میں16فیصد واقعات میں کمی ہوئی ہے اور 370واقعات اور ان میں 815افراد ہلاک اور1736 زخمی کی تعداد ظاہر کرتے ہیں کہ ہماری ریاست نے اس مرض کا بہتر تلاش کیا ہے ۔بلوچستان اور فاٹا خاص طور پر کرم ایجنسی سال 2017میں بالترتیب 288اور253ہلاکتوں کے سبب حساس ترین علاقے شمار ہوئے ۔رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار اوران جیسے مقاصد رکھنے والے گروہوں نے 58فیصد واقعات کی ذمہ داری قبول کی ، جبکہ 37 فیصد حملے قوم پرستوں اور 05فیصد حملے فرقہ ورانہ عمل کی وجہ سے ہوئے۔مگر اس کے باوجود کے 2017 میں واقعات کم ہوئے مگر اس کے باوجود انتہا پسند تنظیمیں اب بھی ایک مہلک خطرہ ہیں اور خطرے کی بڑی علامت داعش جیسی تنظیموں کا ابھرنا ہے ۔اسی رپورٹ میں معروف صحافی شہزادہ عرفان احمد کی پنجاب کی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ بھی موجود ہے جس میں انہوں نے پنجاب پولیس کے اعلی فسران اور سی ٹی ڈی کے زرائع حاصل کی گئی معلومات کو اپنے تجزیہ کی بنیاد بنایا ہے ۔انہوں نے پنجاب میں اٹھائے گئے بعض اہم اقدامات میں بہتری اور کچھ مسائل کی تفصیلی زکر کیا ہے جو قابل توجہ ہے او ران پر عملدرآمد کے نظام کو موثر بنانا ہوگا۔
اس رپورٹ کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں بھی نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک ابہام موجود ہے ، کیونکہ یہ نظر آتا ہے کہ اس پلان پر موجود ابہام نے ہمیں زیادہ بہتر نتائج نہیں دیے جو ہم لے سکتے تھے ۔ان کے بقول حکومتی سطح پر یہ ابہام کہ اس پلان پر عملدرآمد کس حکومتی شعبے کی ذمہ داری ہے ۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر نئے حالات میں نیشنل ایکشن پلان پر زیادہ غور کرنے اور نئی تبدیلیوں کی بھی ضرورت ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم نے سیکورٹی اور انتظامی محاذ پر دہشت گردی کو قابو پانے کے حوالے سے اہم اقدامات کیے ہیں او را س کے بہتر نتائج بھی ہم کو دیکھنے کو مل رہے ہیں ، مگر جو کام ہمیں قومی بیانیہ کی تبدیلی اور فکری محاذ پر کرنے کی ضرورت ہے اس پر زیادہ سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ یہاں ہمیں اپنے تمام سول اور ملٹری اداروں ، سیکورٹی ایجنسیوں اور دیگر اداروں کی کارکردگی او ران کی قربانیوں کی بھی پزیرائی کرنی ہوگی ۔کیونکہ جو ہمارے سیکورٹی کے ادارے اور پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے قوم کو محفوظ بنایا ہے اس کی ہر سطح پر قدر کی جانی چاہیے ۔اس لیے یہ سمجھنا کہ دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے میں ہم نے کچھ نہیں کیا ، یہ بھی مکمل طور درست نہیں ۔ یقینی طور پر ہمیں ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے جو ہوا ہے اس کا تجزیہ کرکے اپنی اب تک کی ناکامیوں او رخامیوں کا بھای تجزیہ کیا جانا چاہیے۔ہماری حکومت اور بالخصوص سیکورٹی ادارے بھی نئی نسل کو بنیاد بنا کر ان کو انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے امراض سے نمٹنے میں کام کررہے ہیں۔
آئی ایس پی آر ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور یونیورسٹیوں کو بنیاد بنا کر نئی نسل پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے او ربالخصوص ایک دوسرے صوبے کے نوجوانوں ، مختلف سوچ رکھنے والوں کو قریب کیا جارہا ہے اس پر اور زیاد ہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔اصل مسئلہ ہمارے اداروں کی فعالیت کو یقینی بنانا ہوگا ۔ نیکٹا جیسے اداروں کو زیادہ خود مختاربنا کر ہم بہتر نتائج حاصل کرسکتے ہیں ۔اس رپورٹ میں درست کہا گیا ہے ہمیں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دو حصوں پر کام کرنا ہوگا۔ اول انسداد دہشت گردی کا حصہ جو کہ درپیش فوری مسائل کا حل تلاش کرے ، دوئم جو کہ متشدد انتہا پسندی کے انسداد پر زور دے تاکہ دورس نتائج ہوسکیں ۔البتہ کالعدم تنظیموں کی قومی دھارے میں شمولیت پر زیادہ غور کیا جانا چاہیے ۔ اصل میں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم داخلی سیاست کے مسائل اور ا س کے نتیجے میں پیدا ہونے والی محاذآرائی کے درمیان کچھ اس انداز سے گھر چکے ہیں کہ ہماری ریاستی اور حکومتی ترجیحات میں فرق پڑا ہے ۔ ریاست، حکومت او راداروں کو جو توجہ اس اہم اور حساس معاملے پر دینی چاہیے اس میں کوتاہی کے کئی پہلو نظر آتے ہیں ۔ ایل مسئلہ سول اور ملٹری تعلقات میں بداعتمادی بھی ہے ۔ اس میں جو تضادات ابھرتے ہیں وہ حکومت اور فوج کے درمیان نئے مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بھی بنتے ہیں او راس تناظر میں سب کو سرجوڑ کر ایسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جو قابل قبول بھی ہو او رریاستی مفاد کے حق میں ہو۔
اسی طرح زیادہ موثر حکمت عملی کے لیے ہمیں فکری محاذ پر اہل دانش، میڈیا ، استاد، شاعر، ادیب ، علمائے کرام ، صوفیا اور دیگر رائے عامہ بنانے والے افراد، اداروں پر خصوصی توجہ دینی ہوگی اور ان کو اس فکری جنگ میں سپاہی کے طو رپر شامل کرکے متبادل بیانیہ یا نئے بیانیے کی طرف لانا ہوگا ۔ نصابی کتابوں ، دینی مدارس کے نصاب میں جو تبدیلیاں درکار ہیں ان پر بھی خاص توجہ دینی ہوگی ۔ کیونکہ مسئلہ محض مذہبی نہیں بلکہ ملک میں سیاسی ، علاقائی ، لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر بھی جو انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اس کا بھی سدباب کرنا ہے ۔ بالخصوص ہمارے سیاسی ، سماجی اور معاشی مسائل سمیت محرومی کی سیاست ، طرذ حکمرانی کا بحران اور لوگوں کی زندگیوں کو مشکل بنانے کے عمل کو آسان اور سادہ بنا کر ہم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو یقینی طور پر جیت سکتے ہیں۔