ایک تھی زینب

ملکوں اور قوموں کی ترقی کی  بنیادی وجوہات میں سے ایک توان ممالک کے حکمران اپنے اقتدار کیلئے بہت واضح اور جامع حکمت عملی اپنی عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔  وہ حکمت عملی جو وقت کی ضرورت ہوتی ہے اور دوسری اور اہم ترین وجہ  فیصلوں پر استقامت ، ثابت قدمی سے قائم رہنا ہے۔  ہمارے ملک میں حادثات و سانحات کا تو تسلسل ہوتا ہے مگر کسی بھی حکومت کی نہ تو کوئی جامع حکمت عملی ہوتی ہے اور نہ ہی اس حکمت عملی پر دیرپا و مستحکم اقدامات ہوتے ہیں۔ وقتی طور پر عوام کو دکھانے کیلئے تو کچھ بھی ہوجاتا ہے مگر مستقل طور پر کوئی اقدام نہیں ہوپاتا۔ ہم ، ہمارے حکمران جذباتی ہیں اور سال ہا سال سے جذبات کے سمندر میں غوطہ زن ہیں ۔

ہم پاکستانی بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ اپنا مزاج بدلتے چلے جاتے ہیں یعنی ابھی کسی ایک رونما ہونے والے واقعہ کو کسی منتقی انجام پر پہنچا نہیں پاتے کہ کوئی دوسرا واقعہ ہمیں اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے اور ہم پچھلے سانحہ کو وہیں چھوڑ کر بلکہ یہ کہوں کے بیچ سڑک پر چھوڑ کر دوسرے پر اپنی توجہ مرکوز کرلیتے ہیں اور اسی طرح تیسرا واقعہ اور پھر چوتھا  ۔ اس ساری صورتحال کے عادی اور سب سے زیادہ مستفید ہونے والے ہمارے حکمران ہوتے ہیں جو اس بات کی قطعی کوئی فکر نہیں کرتے کہ کیا ہوا ہے اور کیا ہو رہا ہے۔ انہیں صرف اپنی کرسی کی فکر ہوتی ہے اور وہ ہر واقعہ کو اس ہی تناظر میں لیتے ہوئے اپنے سیاسی داؤپیچ کیلئے استعمال کرتے  ہیں۔ مشکلات اور مصائب صرف ہم عوام کے مقدر میں لکھ دیئے گئے ہیں۔  ہماری اس تذبذب کی کیفیت سے تقریبا ساری دنیا ہی واقف ہے مگر ہم خود ہی ناواقف ہیں (جانے نا جانے گل ہی نا جانے گلشن تو سارا جانے ہے) ۔ اس بات کی گواہی یہ ہے کہ ہمیں کبھی لسانیت کی لڑائی میں لگادیا جاتا ہے ، کبھی فرقوں میں بانٹ دیتے ہیں، کبھی دہشت گردی میں گھسیٹ لیتے ہیں، کبھی مشال خان کو بربریت کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے اور پوری قوم مشال خان کو انصاف دلانے نکل پڑتی ہے ۔ کبھی سرحدوں پر مشکلات کھڑی کردی جاتی ہیں تو کبھی بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والا گروہ سامنے آجا جاتا ہے ۔ کبھی مذہبی منافرت بڑھانے کیلئے آسیہ کو لایا جاتا ہے اور سلمان تاثیر کو مروایا جاتا ہے۔ کبھی افغانستان کو دھمکیوں کا جواب دینا پڑتا ہے تو کبھی امریکی صدر کیلئے مذاق بن جاتے ہیں۔ کبھی دھرنے دیئے جاتے ہیں اور پوری قوم کو اس میں لگالیا جاتا ہے ، کبھی کراچی کو یرغمال بنایا جاتا ہے  پھر ایک زینب کے نام کو روندا جاتا ہے اور اس معصوم کے قتل پر واویلا مچایا جاتا ہے۔ دنیا توہمیں ریوڑ اور ہجوم کے نام سے جانتی ہے۔  ہم قوم  کہلاتے ہیں لین بن نہیں سکے۔

یہ بات ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہونی چاہئے کہ ہم آج تک کسی مجرم کو کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچا سکے۔ کیوں ہمارے تھانے غریبوں کیلئے عقوبت خانے بن جاتے ہیں۔ کیوں ہمارے حکمران یا سیاستدان عوام کے درمیان نہیں رہ سکتے، آخر کب تک یہ لوگ یونہی بغیر محنت و مشقت کے ہمارے ملک کے امراء میں شمار ہوتے رہیں گے۔ آخر کب تک ہم اپنی بے بسی کی بھینٹ کبھی کبھی کسی کو تو کبھی کسی کو چڑھاتے رہیں گے۔ ہم کب تک یونہی خودکشیاں کرتے رہیں گے۔ یہی حکمران جو قانون بناتے ہیں  اگر ان کا بنایا ہوا قانون ان کو سزا وار ٹھہرا  دے تو یہ اس قانون کی دھجیاں اڑاتے  ہیں اور کوئی ان سے پوچھنے تک کا اہل نہیں ہوتا ۔ ہم لوگ جیل سے آنے والوں کو جو اپنے کسی بھی قسم کی سزا بھگت کر آیا ہو اس طرح خوش آمدید کہتے ہیں۔ دنیا میں لوگ بدعنوانی کرکے بدعنوان کہلوانے سے پہلے خودکشی کر لیتے ہیں ہمارے یہاں تو بدعنوان خودکشیاں کروادیتے ہیں۔

یوں تو معلوم نہیں کتنے ہی معصوم بچے اسظلم کا شکار ہوئے ہوں گے مگر معصوم زینب ایک تحریک بن کر ابھری ہے ۔   اب دیکھنا یہ ہے کہ زینب کے لئے  آہ و فغاں اور اس معصوم کا خون کیا رنگ لائے گا۔ یا پھر یہ بھی بے شمار  بھول بھلیاں میں گم ہوجانے والا ایک واقعہ ہوگا جس پر تاریخ سینہ کوبی کرتی دکھائی  دے گی اور بھیڑ اور ریوڑ کی داستانوں میں ایک نئی داستان رقم ہوجائے گی۔ ہمیں یہ یاد رہ جائے گا کہ ایک  تھی زینب ۔۔۔۔