باتیں سیاست دانوں کی

  • تحریر
  • جمعہ 19 / جنوری / 2018
  • 7014

گرمیِ بازارِ سیاست ہی کچھ اس قدر ہے کہ سیاست دانوں کی باتیں ہی ہر جگہ زیرِ بحث ہیں۔ عوامی تحریک کے سربراہ نے 17 جنوری کو ایک فیصلہ کن راؤنڈ کا اعلان کیا تو بات سے باتیں نکلتی گئیں۔ ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے والے اور ایک دوسرے کو دیکھنے کے روادار نہ ہونے والے دیکھتے ہی دیکھتے ایک نکتے پر جمع ہو گئے۔ لاہور کے جلسے کی ہوا کچھ ایسی باندھی گئی یا بندھ گئی کہ جیسے اس جلسے کے ساتھ ہی حکومت لرز جائے گی لیکن جلسے کے شرکاء کی تعداد اور اسٹیج پر ٓصف علی زرداری اور عمران خان کے علیحدہ علیحدہ آنے نے اس ہوا کا زور کچھ کمزور کر دیا۔ اب آنے والے دن بتائیں گے کہ یہ تحریک کیا رخ اختیار کرے گی اور سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

آج کے سیاست دانوں کی باتیں سنتے ہیں تو اکثر گزرے کل کے سیاستدانوں کی باتیں بھی ذہن میں تازہ ہو جاتی ہیں۔ وہی شعلہ بیانیاں، وہی ڈیڈ لائنز، وہی جوش و جذبہ۔ چند ہفتے قبل ایک کتاب ہاتھ لگی تو بے اختیار پڑھتے ہی چلے گئے۔ موضوع بھی دلچسپ اور انداز داستان گوئی کی طرح دل نشین۔ کتاب کا عنوان ہی اپنا تعارف آپ بنا، باتیں سیاست دانوں کی۔ پاکستان کی تاریخ کے وسطی دور کے ان سیاست دانوں کی باتیں جن کے بغیر ہماری سیاسی کہانی مکمل نہیں ہو سکتی۔ ایوب خان، شیخ مجیب الرحمان، ذوالفقار علی بھٹو، اصغر خان، نوابزادہ نصراللہ خان، سید مودودی، ضیاالحق، قاضی حسین احمد، ملک معراج خالد سمیت بہت سے اور سیاستدانوں کا تذکرہ ہے۔ معروف صحافی ضیاء شاہد نے مختلف اوقات میں ان سیاستدانوں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور انٹرویوز پر مبنی یاد داشتیں لکھیں اور قلم فاؤنڈیشن نے باتیں سیاست دانوں کے عنوان سے ان یادوں اور تاثرات کو چھاپ کر محفوظ کر دیا۔

حالیہ دنوں میں کئی سیاستدانوں کو بار بار سنا اور کئی مسائل پر سیاسی مصلحت کے تحت اپنے بیانات یا پوزیشن بدلتے بھی دیکھا تو اس کتاب کے بہت سے واقعات تاریخ کے جھروکوں سے نکل کر یادوں کی دہلیز پر آن کھڑے ہوئے۔ یہ باتیں زیادہ تر ان دنوں کی ہیں جب ان کی سیاست کی جولانی کا دور گذر چکا تھا، وقت نے جذبات کے ریلے کو ٹھہراؤ کے کناروں میں باندھ دیا تھا۔ ایسے میں گئے وقت پر اپنی رائے گاہے خود احتسابی سے معمور ہوتی ہے یا پھر اکثر بے لاگ جائزہ ۔ 17 جنوری کو لاہور کے جلسے کی جوشیلی تقاریر سنتے ہوئے یاد آیا کہ پچھلی چند دِہائیوں میں ایسی تقاریر کئی بار سنیں۔ ان تقاریر میں نئے سویروں کی امید کے دعوے بھی سنے اور احتساب کے مطالبے بھی۔ نتیجہ کیا نکلا؟ ہمارے سامنے ہے۔ سیاست کے اس خار زار میں ہماری تاریخ کے چند نہایت معتبر سیاستدانوں کی چند حسب حال باتیں اسی کتاب سے پیش ہیں۔

ایوب خان کا اقتدار چھوڑنے کے بعد ایک انٹرویو میں سے ایک اقتباس ۔۔۔ میں نے اپنی دانست میں ملک کی بڑی خدمت کی۔ میرے عہد سے پہلے کا پاکستان دیکھیں اور آج کے ملک کا جائزہ لیں لیکن جب مجھے شیخ مجیب الرحمان جو انڈین ایجنٹ تھا کو پیرول پر رہا کرکے اسلام آ باد بلانا پڑا اور سارے سیاسی جماعتوں کو اس کے لئے لڑتے ہوئے دیکھا تو مجھے سخت پریشانی ہوئی۔ انہی دنوں انٹیلی جنس ذرائع نے مجھے ایک رپورٹ بھیجی کہ لاہور میں ایک جلوس میں ایک کتے کے گلے میں ایوب خان لکھ اسے مال روڈ پر چلایا گیا اور جلوس میں شامل لوگوں نے مجھے بے ہودہ گالیاں دیں تو میرا دل ڈوب گیا اور میں نے اقتدار چھوڑنے کا خود فیصلہ کیا۔

شیخ مجیب الرحمان ہماری تاریخ کا ایک پیچیدہ اور پہلو دار کردار ہے۔ لاہور کے جلسے میں آصف علی زرداری نے جاتی عمرہ میں ایک شیخ مجیب الرحمان بھی دریافت کر ڈالا۔ گزشتہ پیرے میں ایوب خان کے شیخ مجیب کے بارے میں تاثرات تھے۔ شیخ مجیب نے پاکستان کے بارے میں 1970 کے انتخابات کے انعقاد سے کچھ دیر قبل کیا کہا، سنئے ۔۔۔ اگر آپ لوگ چاہتے ہو کہ پاکستان قائم رہے تو بنگالیوں کو ان کا حق دینا پڑے گا۔ یہ پیرٹی جیسے قانون کہ آبادی میں زیادہ ہونے کے باوجود مگر مغربی پاکستان سے زیادہ نمائندگی نہیں ملے گی، اب نہیں چل سکتے۔ اگر ہمیں ہمار حق نہ ملا تو نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔ یہ بوٹوں والے زبردستی ہمارے علاقے پر اسلام آباد کا قبضہ نہیں رکھ سکتے۔۔۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ جو کچھ ہمارے خلاف بیان ہو رہا ہے وہ ہمیں دیوار سے لگا دے گا، پھر میں بھی کچھ نہ کر سکوں گا اور سب کچھ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔

بزرگ سیاست دان اصغر خان کا حال ہی میں انتقال ہوا ۔ 1977 کی تحریک میں وہ بھٹو کے سب سے کٹر مخالف کے طور پر نمایاں ہوئے۔ ضیاء کے حکومت سنبھالنے کے کچھ دیر بعد ایک انٹرویو میں اس سوال پر کہ آپ تو پی این اے کے دنوں میں یہ تقریر کر چکے تھے کہ بھٹو کو کوہالہ پل پر پھانسی دیں گے، اب آپ ان کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں؟ اصغر خان نے جواب دیا کہ جمہوریت بچانا ضروری ہے اور فوجی ڈکٹیٹر کی بنائی ہوئی پارٹی کی مخالفت لازم ہے۔۔۔ پی این اے کی تحریک اور انتخابات سے قبل ایک دوسرے موقعے پر ایک انٹرویو سے اقتباس کچھ یوں ہے۔۔۔ معصومیت سے بولے بھٹو کی حکومت ختم ہونے والی ہے۔ پوچھا گیا کہ کیسے؟ تو کہنے لگے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں تبدیلی ووٹ سے نہیں آیا کرتی۔ حکومت وقت کی سب سے بڑی اپوزیشن بن جاؤ اور تبدیلی کا انتظار کرو، یہاں جو فورسزتبدیلی لاتی ہیں جب وہ ایسا کریں گی تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ نمبر ون کو ہٹا دیا جائے تو نمبر ٹو کی باری آنی چاہئے۔

نواب زادہ نصر اللہ خان کے بغیر پاکستان کی سیاسی تاریخ ادھوری ہے۔ گو ان کی پارٹی تو بہت مختصر تھی لیکن ان کا کردار پاکستان کی تاریخ میں سیاسی اتحاد بنانے اور حکومتوں کو پچھاڑنے میں بہت نمایا ں رہا۔ سیاسی ضرورت کے مطابق ملک دشمنی کے لیبل بھی اس سیاست کا حصہ رہے اور آج تک ہیں۔ 1977 کے الیکشن کے بعد ایک پریس کانفرنس کا تذکرہ کچھ یوں ہے۔۔۔ آخر میں نواب زادہ نصر اللہ خاں نے کہا ، دیکھیں جی ! حد ہو گئی اور ثابت ہو گیا کہ پاکستان اور بھٹو ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ نہیں رہ سکتے جی! پاکستان کو آگے چلنا ہے تو بھٹو سے نجات حاصل کرنا ہوگی ۔ ۔۔ پھر یوں ہوا کہ اچانک نواب زادہ صاحب بدل گئے۔ چند برس بعد نواز شریف صاحب کی حکومت تھی۔ ساری عمر کی اپوزیشن کے باوجود یہ پہلا موقع تھا کہ انہوں نے دھڑا تبدیل کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا نہیں جی ! یہ ثابت ہو گیا کہ نواز شریف اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

1970 کے الیکشن میں جماعت اسلامی میدان میں اتری تو کچھ حلقوں کی رائے میں انہیں کافی سیٹیں ملنے کی توقع تھی لیکن نتیجہ بر عکس آیا۔ جماعت اسلامی کے بانی اور سربراہ سید ابو اعلیٰ مودودی سے الیکشن میں بری طرح شکست کے بعد کے ایک انٹرویو سے اقتباس۔۔۔ اس سوال پر کہ کہ جناب آپ کو تو یکسر ناکامی ہوئی سید مودودی صاحب کے چہرے پر کمال کا اطمینان تھا۔ لگتا تھا کہ ان پر کوئی ٹینشن نہیں، وہ بولے پہلے یہ سمجھنا پڑے گا کہ ایک لادین یعنی سیکولر اور مسلمان کے نزدیک کامیابی کا تصور کیا ہے۔۔۔ ہمارے نزدیک ہم کامیاب رہے کہ جو کچھ ہمارے بس میں تھا اسے لڑائی میں جھونک کر ہم نے ہر ممکن کوشش کی لہٰذا دنیاوی طور پر ہم ناکام نظر آتے ہیں لیکن دین کے اعتبارسے ہماری جدوجہد میں مکمل یکسوئی تھی ، حتی المقدور کوشش اور جو ممکن ہو سکتا تھا ہم نے کیا ۔

سیاست کے مدوجذر کہیں یا نیرنگیِ زمانہ ، لاہور کے جلسے میں مخالفِ اوّل کو شیخ مجیب الرحمان کے خطاب سے نوازا گیا۔ اس سے قبل مودی کے یار ہونے کا طعنہ سیاسی بیانئے کا مرکزی نکتہ بنا رہا۔ دائروں میں گھومتی اس سیاست میں 80 کی دِہائی میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب اور متحدہ اپوزیشن آئی جے آئی کے لیڈر نواز شریف پی پی پی کی لیڈر اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے نہ تھکتے تھے، آج وہی لیبل ان کی طرف لوٹ کے آ رہا ہے۔ باتیں سیاستدانوں کی پڑھ کر اندازہ ہوا کہ حب الوطنی اور غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے کا رواج کم ہوا نہ سیاسی مصلحت کے لئے بیانات اور پوزیشن بدلنے کی روش میں تبدیلی آئی۔ رفیع رضا کا ایک حسبِ حال شعر اس المیے کو کچھ یوں بیان کرتا ہے :
عہد شکنی ہو خیانت ہو ریاکاری ہو
کچھ بھی آدابِ سیاست کے منافی نہیں کیا