امریکہ سے ٹکر لینے کا رومانس !

ہم نے جب سے سیاسی شعور کی آنکھ کھولی ہے تو پاکستان کے سیاسی، فوجی اور دانشور حلقوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ امریکہ کی دوستی گھاٹے کا سودا رہا ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ان تمام سیانوں کی خواہش رہی ہے کہ ان کے امریکہ، یورپ اور اس کے اتحادی عرب ممالک کے ساتھ گہرے  تعلقات قائم ہونے چاہئیں۔ یہی وجہ ہے ان طبقات کی بیشتر اولادیں ان ممالک میں تعلیم حاصل کرتی ہیں اور کاروبار بھی وہاں کر رہی ہیں۔  وہاں پر ان کی کروڑوں کی جائیدادیں ہیں۔

ہمارے سابق وزیر اعظم کے بیٹے پاکستان کے شہری ہی نہیں ہیں۔ بعض مذہبی جماعتوں کے لیڈروں کے بچے امریکہ میں کام کر رہے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے بیٹے کے ولیمہ کی تقریب امریکہ میں منعقد ہوئی ہے۔ اس عرصہ میں وہاں پر قیام کے دوران امریکی ٹی وی چینلز پر ٹرمپ اور امریکہ کی پالیسیوں کے خلاف خوب گرجتے برستے رہے ہیں۔ اب اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اتحاد ختم ہو چکا ہے جبکہ سیکرٹری خارجہ تہمیہ جنجوعہ کہتی ہیں کہ تعلقات میں بہتری کیلئے سفارتکاری جاری ہے۔ تو کس کی بات کو درست ماننا چاہیے۔ ہماری فوجی قیادت ہو یا سول حکمران،  امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنا ان کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ جنرل ایوب خان نے جاسوسی کیلئے ہوائی اڈے امریکہ کو دے کر جان کینڈی سے اقتدار کی ضمانت لی۔ جنرل ضیاء الحق نے افغان جہاد میں تعاون کے بدلے چار سو ملین ڈالر کی امداد ٹھکرا دی مگر بعد میں چار ارب ڈالر لے کر امریکہ کی افغانستان میں روس کے خلاف جنگ میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ اس جہادی کلچر میں مذہبی جماعتوں کا نمایاں کردار رہا اور اس ضمن میں وہ روس کو شکست دینے کی دعویدار ہیں۔ حالانکہ اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ بلکہ سویت یونین کی تاریخ سے لاعلمی کی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے۔

سویت یونین کسی ایک محاذ پر بر سر پیکار نہیں تھا بلکہ تقریباً سارا مشرقی یورپ اس کی نو آبادیات یا منظور نظر حکومتوں پر مشتمل تھا۔ افریقہ اور لا طینی امریکہ میں اس نے پاؤں پھیلائے ہوئے تھے۔ سویت یونین کے انہدام کے دو اسباب تھے۔ ایک اندرونی تضادات۔ سیاسی، سماجی اور معاشی جبر نے پورے نظام کو غیر مستحکم کر دیا تھا۔ دوئم اسی سیاسی، سماجی اور معاشی جبر کی وجہ سے معیشت دیوالیہ ہو گئی تھی جس میں فوجی اخراجات کا اہم کردار تھا۔ جس کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔  سویت یونین نے بین الاقوامی ترقیاتی اداروں آئی ایم ایف وغیرہ سے بھی امداد مانگی تھی۔ پوری دنیا میں سوشلسٹ نظام کی ناکامی، وہاں پر اقتدار پر قابض کرپٹ اشرافیہ کی وجہ سے تھی اور اس کے ساتھ بند معیشت تھی جو کہ بین الاقوامی تجارت اور کاروبار میں حصہ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ دیوار برلن بھی معاشی اسباب سے ٹوٹی۔ سویت یونین کے انہدام کا تمغہ ہمارے جہادی اور جرنیل دونوں اپنے سینوں پر سجاتے ہیں حالانکہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ اس غلط فہمی کی لپیٹ میں ہمارے منصوبہ ساز افراد اور ادارے بھی شامل ہیں۔ اس سوچ کو پاکستان میں دائیں بازو کی جہادی تنظیموں اور دانشوروں نے پروموٹ کیا ۔ افغانستان میں طالبان امریکہ کی معاشی طاقت کو ذرہ بھر نہیں ہلا سکے ہیں۔ جہادی انڈیا کی ترقی کو نہیں روک سکے ہیں۔ سن کیانگ میں چین کی معاشی طاقت کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔ مگر اس سارے عمل میں چین کا یہ علاقہ پسماندہ رہ گیا ہے۔

آج امریکہ افغانستان میں تمام ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا رہا ہے کہ اس نے انتہا پسندوں کے خلاف پوری قوت سے آپریشن نہیں کیا ہے۔ صدر مشرف نے بھی امریکہ کے ساتھ 1.5بلین ڈالر لینے کی ڈیل کی تھی اور اس کے بدل میں تعاون کے ذریعے اقتدار میں رہنے کا جواز حاصل کیا۔ مشرف ایک ہوشیار حکمران تھا اس نے نائن الیون کے بعد امریکہ کے ساتھ تعاون کیا مگر پختون خوا میں مذہبی جماعتوں کی حکومت قائم کی جس سے وہاں پر رجعت پسندی کو فروغ حاصل ہوا۔  مقامی ثقافت اور سماجیت کمزور ہوئی۔ امریکہ کے ساتھ سودے میں گھاٹے کے نعرے بلند ہوتے رہے جس کا اظہار پاکستان دفاع کونسل کے ملین مارچ میں ہوتا تھا۔ ہمیں جب تک امریکہ سے امداد ملتی رہی ہم خوش رہے۔ مشرف دور میں نواز شریف کو سزا سے بل کلنٹن اور سعودی عرب نے بچایا تھا۔ پاکستانی کی سیاسی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو نے امریکہ کے ساتھ پہلی مرتبہ ٹکرلی اور اس کا کیا انجام ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ بے نظیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالوجی کا آغاز کیا اس نے مشرف کے ساتھ این آر او کیا، مگر یہ مفاہمت کی سیاست اس کو راس نہ آئی۔ وہ اندرونی اور بین الاقوامی اسٹبلشمنٹ کی سازش  کا شکار ہوگئی۔  آج مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں کو بھی ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے کردار پر رشک آنے لگا ہے کیونکہ ان کے مقتدرہ اداروں کے ساتھ تعلقات میں دراڑ آ گئی ہے۔

زرداری نے اپنے عہدہ صدارت کے دوران سلالہ چیک پوسٹ حملہ کے بعد نیٹو سپلائی بند کر دی تھی جس کے نتیجہ میں مخصوص قوتوں نے دہشت گردی کے خوف سے پیپلز پارٹی کی 2013کے انتخابات میں سیاسی سر گرمیوں کو محدود کر دیا تھا۔ جبکہ کار پوریٹ میڈیا نے زرداری اور اس کے ساتھیوں پر کرپشن کے الزامات کو اچھالا جس کے نتیجہ میں جماعت انتخابات ہار گئی۔ یہ در اصل زرداری کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کی خواہشات کے ساتھ سعودی عرب اور امریکہ کا اظہار تھا۔ اور وہ آج بھی ان ممالک کے نزدیک قابل اعتماد شخص نہیں ہے۔ 1977میں قومی اتحاد کی بھٹو مخالف تحریک کے دوران امریکہ کی مخالفین کو سر پرستی حاصل کی تھی جو کہ اب ایک کھلی بات ہے۔ اس دوران حکومت کے ساتھ مذاکرات میں سعودی سفیر ریاض الخطیب کا اہم کردار تھا۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کنسجر نے کہا اگر بھٹو نے ایٹمی پروگرام بند نہ کیا تو اس کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ اور ایسا ہی ہوا ۔

اگر ہم تازہ ترین سیاسی منظر نامے پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ آج بھی ہماری سیاست خارجہ پالیسی اور اقتدار کا حصول اندرونی اور خارجی عوامل کی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کہیں پر پاکستانی سماج اور ثقافت کو اپنے پالے ہوئے مسلح گروہوں کے ذریعے یر غمال رکھا جاتا ہے جس کو طالبانی ابھار کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ افغان طالبان کو افغانستان اور پاکستان نے اپنے اثاثوں کی صورت میں محفوظ رکھا ہے اور سرد جنگ کے خاتمے کے باوجود ابھی ان کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے۔ گزشتہ سال ان گروہوں کو عراق، شام اور لیبیا میں استعمال کرکے ان ممالک کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ پراکسی جنگوں کے سر پرست اب ان کو ایران اور پاکستان میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ آج ہمیں پاکستانی لیڈر شپ اور عالمی لیڈر شپ کے درمیان بے اعتمادی کی فضا دیکھائی دے رہی ہے۔ ہماری لیڈر شپ چونکہ امریکہ اور عرب ممالک کے ساتھ براہ راست تعلقات کی خواہش رکھتی ہے، یہی وجہ ہے نواز شریف نے ان ممالک کے قریبی رابطے کیلئے کوئی دوسرا شخص وزیر خارجہ بنانا گوارا نہیں کیا تھا۔  بیرون ملکوں سے آنے والی شخصیات سے خود ملاقات کرتے رہے ہیں جبکہ ہر آنے والے کی ترجیح ہوتی تھی کہ وہ فوجی سربراہوں سے مل کر معاملات کو طے کرے۔ یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔

گزشتہ دنوں میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب خاصا پر اسرار معاملہ ہے جس کا مطلب ہے کہ مستقبل کے سیاسی منظر نامے کی تشکیل میں اس ملک کا اہم کردار رہے گا۔ اور ہم بیرونی طاقتوں کی خواہشات کے غلام رہیں گے۔ امریکہ خود کو جمہوریت کا چیمپین قرار دیتا ہے۔ وہ اپنی طاقت کے بل  پر ہر بات کہنے اور منوانے  کی طاقت رکھتا ہے وہ دوسرے ملکوں کے اندر تحریکیں منظم کرواتا ہے جس کی مثال ایران میں ابھرنے والے حالیہ  ہنگامے ہیں۔ سعودی عرب میں احتسابی عمل، ایران میں حکومت مخالف مظاہرے، پاکستان میں سیاسی افرا تفری، بلوچستان میں تضادات اور کراچی میں انتشار اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اس طویل جنگ میں پاکستان نے بہت کچھ کھویا ہے۔ آج ہمارے پاس احتجاج کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ نواز شریف تحریک عدل کی بات کر رہے ہیں جبکہ اب اپنے طویل اقتدار میں نظام عدل میں تبدیلی لانے یا اصلاحات کرنے کی بات نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ معاملات ان کی حمایت میں چل رہے تھے اور ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔ ہمارے دانشور  ووٹروں کا دل خوش کرنے میں مصروف ہیں۔ کہیں پر امریکی اور بھارتی فوجی طاقت کے پاکستان کے ساتھ تقابلی تجزیے کیے جا رہے ہیں۔ حالانکہ ہماری فوجی مشینری اور جہاز امریکی سپیئر پارٹس کے بغیر چل ہی نہیں سکتے ہیں۔ کیا ہم واقعی  امریکہ سے امداد نہیں مانگیں گے۔ کیا امریکہ واقعی افغانستان میں جنگ خود جیتنے کی کوشش کرے گا۔ پاکستان کو ڈو مور کا نہیں کہے گا۔

گھوم پھر کا بات وہی پر آ جاتی ہے کہ اب کیا ہوگا۔ اس سے بھی اہم کہ ہمیں کیا کرنا ہوگا۔ پاکستانی وزیر یا ان کے سر پرست جتنے مرضی پینترے بدلیں یا تیوریاں چڑھائیں، امریکی انتظامیاں کو کوئی پرواہ نہیں۔ قرض خواہ کے نزدیک قرض دار کے جذبات کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ مانا کہ افغان جنگ میں جنرل ضیاء نے امریکی سر پرستی میں کل کے مجاہدین اور آج کے دہشت گرد اُگائے تھے۔ لیکن ٹرمپ اپنی پارٹی کے پر خچے اُڑ ا کر جیتا ہے۔ اسے سابق امریکی صدور کی پالیسیوں سے کیا تعلق۔ آٹو امیون میکنزم کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمارے گلے میں پڑی ہے۔ جس کا مطلب ہے غنڈے پالنے والا انہیں ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اب جوکچھ کرنا ہے پاکستان نے کرنا ہے۔ کس قدر دہرے کردار کے حامل ہیں۔ سویلین حکمران ہوں یا فوجی، امریکہ سے این آر او ہو یا حکمرانی کا تحفظ کرانا ہو۔ پھانسی سے بچنا ہو، بچوں کو امریکہ میں سیٹل کرانا ہو، سب فائدے لیتے ہیں۔ پھر امریکہ کی برائیاں کرتے ہیں۔  ڈرون حملوں کے خلاف ٹاک شوز کرواتے ہیں۔ اور امریکہ سے ٹکرانے کے جذبات کو ابھارتے  ہیں۔ کیونکہ ہماری اشرافیہ کو معلوم ہے کہ پاکستان کے معاشی بحرانوں سے انہیں کیا لینا دینا۔  ان کا چولہا جلتا رہے گا۔ امریکہ بم گرائے گا تو غریبوں کے بچے مریں گے۔ دہشت گردی کا نشانہ عام شہری بنیں گے لیکن ان کے کاروبار اور بچے محفوظ رہیں گے۔