ظلم روکنے کے لئے پورے معاشرے کو جاگنا ہوگا
- تحریر مختار چوہدری
- اتوار 21 / جنوری / 2018
- 5080
پچھلے ہفتے پاکستان کے شہر قصور میں جو دل سوز واقعہ پیش آیا اس پر تمام درد مند پاکستانیوں نے اپنے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اس واقعہ کے ملزم کے لیے مختلف قسم کی سخت ترین سزائیں تجویز کی گئیں۔ اس وحشی کو بد دعائیں بھی دی گئیں اور کچھ لوگوں نے سڑکوں پر احتجاج کیا اور توڑ پھوڑ بھی کی۔ اسی ہنگامے میں ڈی سی او کے دفتر پر دھاوے کے دوران پولیس کی فائرنگ سے متعدد لوگ ہلاک و زخمی ہوئے۔ پھر حسب روایت وزیراعلی پنجاب موقع پر پہنچے ڈی پی او کو معطل کیا ، واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیا اور ملزم کو سخت سے سخت سزا دینے کی تلقین کی ۔
ان تمام کارروائیوں کے باوجود مجھ ایسا ناسمجھ انسان سمجھتا ہے کہ کچھ بھی نہیں ہوا اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ہے۔ سب کچھ اسی طرح معمول کے مطابق چل رہا ہے حالانکہ یہ ایسا بھیانک فعل تھا اور ایسا دل سوز واقعہ تھا جس سے ملک میں ایک بھونچال آجانا چاہیے تھا۔ اور ایک ایسی تحریک چل جانی چاہئے تھی جو ملک میں ایسے ظالمانہ نظام کو پلٹ کر رکھ دیتی۔ اور ملکی سطح پر ایک ایسی بحث کا آغاز ہوتا جو ایسے واقعات کی مکمل روک تھام تک جاری رہتی۔ لیکن افسوس کہ اس بیمار، لاچار اور سوچ سے عاری قوم کے کسی کونے سے کوئی ایسی بات سننے کو ملی نہ کسی تحریک کا آغاز ہوا۔ البتہ چند سیاسی شعبدہ بازوں نے اس دل سوز واقعہ پر بھی سیاست کرنے کی کوشش کی اور کچھ لوگوں نے وہی گھسی پٹی جذباتی باتوں سے اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ اس قدر درندگی پر آسمان گرا نہ زمین پھٹی۔ لگتا ہے کہ اس کائنات کا مالک بھی اس خطے سے ناراض ہے ورنہ اس واقعے پر اس کی طرف سے بھی عذاب نازل ہو سکتا تھا۔ اس مالک کو ناراض ہونا چاہیے کیونکہ ہم اس کے قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ ہم اللہ کو سب سے زیادہ مانتے ہیں اور دنیا میں سب سے کم اس کی بات مانتے ہیں۔ اب آیئے ذرا اس بات کا جائزہ لیں کہ ایسے واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں اور ان کا تدارک کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ کیا یہ ایک واقعہ ہے۔ کیا اس کے پیچھے کوئی ایک وحشی درندہ صفت انسان ہے جس کو عبرت ناک سزا دینے سے دوبارہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آئے گا۔ کیا پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا ایسا واقعہ رونما ہوا ہے۔
نہیں یہ ایک سانحہ نہیں ہو۔ وطن عزیز کے کونے کونے میں مختلف اوقات میں ایسے سانحات پیش آتے رہے ہیں۔ بلکہ اس سانحہ کی گونج کے دوران ہی اسی سے سے ملتے جلتے دو اور واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ اس سے پہلے کچھ ایسے واقعات پر ملوث مجرموں کو قرار واقعی سزائیں بھی دی جا چکی ہیں لیکن اس کے باوجود ایسے المیے رک نہیں سکے۔ تو پھر جاننا چائیے کہ غلطی کہاں پر ہے اور اس کا حل کیا ہے۔ میرے خیال میں ان واقعات میں ملوث نہ چند افراد کو سزا دینے سے ایسے واقعات کی مکمل روک تھام نہیں ہو سکے گی۔ ایسے واقعات کے ہم سب بطور قوم ذمہ دار ہیں۔ ہمارا بیانیہ، ہماری سوچ، ہمارے رسم و رواج ہمارے معاشرے کی گھٹن، ہمارے معاشرے کا تعلیمی نظام، ہمارے معاشی مسائل اور معاشرتی بے راہ روی جیسے رویے ایسے واقعات کا موجب ہیں۔ بطور قوم ہماری کوئی تربیت نہیں ہے۔ ذرا اپنے تعلیمی نظام پر غور کریں اور اپنے نصاب کو دیکھیں اور اپنے سکولوں اور کالجوں بلکہ یونیورسٹیوں کے اساتذہ کا ذہنی لیول چیک کریں تو بہت کچھ واضع ہو جائے گا ۔ پھر مذہبی اجارہ داریاں، فرقہ بندیاں اور دین اسلام کی اپنی اپنی تشریح اور مذہبی درسگاہوں میں پردوں کے پیچھے رونما ہونے والے واقعات، یہ سب عوامل مل کر ایسے بھیانک واقعات کا سبب بنتے ہیں۔
بات یہی تک نہیں، ذرا اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حالت کو بھی دیکھ لیں۔ ان کی تربیت میں احساس ذمہ داری اور انسانیت کے حوالے سے کچھ بھی نہیں ہے۔ ان کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر بڑے واقعے کا نوٹس وزیراعظم، وزیراعلی یا چیف جسٹس کو لینا پڑتا ہے۔ جب تک یہ نوٹس نہ لیا جائے یا ایک دو افسران کو معطل نہ کیا جائے اس وقت تک کوئی کارروائی ہی نہیں ہوتی۔ پھر ان اداروں میں سیاسی مداخلت ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ کسی بھی تھانے میں کوئی ایسا رجسٹرڈ مقدمہ ہوگا جس میں کسی نہ کسی سیاسی شخصیت کا عمل دخل نہ ہوتا ہو۔ اور یہ سیاسی مداخلت کسی کو انصاف دلانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے حامی افراد کو بچانے کے لیے ہوتی ہے۔ چاہے اس نے کتنے بھیانک جرم کا ہی ارتکاب کیوں نہ کیا ہو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی کو اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں بلکہ سب اپنے ذاتی مفاد کے زیر اثر کام کر رہے ہیں۔ خدا کا خوف نہ معاشرے کی بہتری کا احساس ۔ اوپر سے پورے ملک میں پھیلی بیروزگاری ، معاشی ابتری اور معاشی ناانصافییوں نے عدم تحفظ اور عدم برداشت کو جنم دے رکھا ہے۔ ساتھ ہی بڑھتی ہوئی آبادی کا جن مکمل طور پر قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں اس طرح کے غیر انسانی واقعات کا رونما ہونا انوکھی بات نہیں ہے۔
اس سارے قضیے کا حل کیا ہے۔ کون ان حالات کو بدلے گا، انقلاب کیسے آئے گا۔ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اگر ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہو اور اس کے احکامات پر عمل بھی ہوتا ہو اور اگر یہ حکومت واقعی منتخب حکومت ہی ہو تو سب سے پہلے اس حکومت کو اپنا وقت پورا نہ کرنے کے خوف سے نکالنا چاہئے تاکہ وہ اپنے اہداف مقرر کرکے ان پر جانفشانی سے کام کر سکے۔اور اپنی حکومت بچانے کی یا اگلا انتخاب جیتنے کی فکر چھوڑ کر ملکی حالات کی فکر کرے۔ عوام کے مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے کی طرف قدم اٹھا سکے۔ حکومت کو سب سے پہلے جو کام کرنا ہے وہ یہ کہ منافقت چھوڑ کر ملکی بیانیے کو تبدیل کیا جائے۔ قانون بنانے کا کام صرف پارلیمنٹ کرے چہ جائیکہ مذہبی ٹھیکیدار یا فوجی اسٹیبلشمنٹ ڈنڈے کے زور پر قانون سازی کروائے۔ ایک نیا عمرانی معاہدہ (جس میں عمران خان بھی ہو اور عمرانیات بھی) عمل میں لایا جائے۔ عوام کے سامنے پورا سچ لایا جائے اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ یونین کونسل کی سطح سے قومی سطح پر ایک تربیتی پروگرام ترتیب دیا جائے اور لوگوں کو اعتماد میں لے کر ان کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے۔ اداروں کی نئے سرے سے تربیت کی جائے اور ان میں سیاسی مداخلت مکمل طور پر بند کی جائے۔ بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تعلیمی اداروں کی صحیح سمت میں تربیت بہت ضروری ہے۔ ان کی تربیت کرنے والوں کی اپنی تربیت نہایت ضروری ہے۔
تمام مذہبی تعلیمی اداروں کو حکومتی تحویل میں لے کر ان کو جدید اور ایک نصاب کے تحت تعلیم دی جانی چایئے۔ (جس میں سب سے پہلے ملکی قوانین کی پابندی کا درس ہو اور کسی بھی حالت میں ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی اجازت نہ ہو) عام لوگوں کو اپنے اردگرد نظر رکھنے اور ذمہ دار شہری بنانے کی تربیت کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ یہ سارے اقدامات راتوں رات عمل میں نہیں لائے جا سکتے۔ آنے والی نسلوں کی بہتری کے لیے ان کا آغاز کیا جانا نہایت ضروری ہے۔ ورنہ اس ملک کی کوئی بھی بچی کبھی بھی زینب بن سکتی ہے۔ کبھی بھی کوئی مشعال وحشت کا نشانہ بن سکتا ہے، کبھی بھی کوئی بچہ ظلم سے تنگ آکر مدرسے کی چھت سے خود کشی کرنے کے لئے چھلانگ لگا سکتا ہے۔ کبھی بھی کوئی شاہ زیب بہن کی حفاظت کی پاداش میں گولیوں سے چھلنی ہو کر تڑپ تڑپ کر سڑک پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ کوئی بھی غریب بچی کسی جرگے کے ظلم کا شکار بن سکتی ہے۔ جب ظلم بڑھے گا تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ ڈرو اس وقت سے جب لوگ ایک دوسرے کا گوشت نوچنے لگ جائیں، ڈرو اللہ کے عذاب سے جو ایسی ہی قوموں کے لیے نازل ہوتا ہے ابھی وقت ہے ظلم کی انتہا سے پہلے پہلے کچھ کر لو ورنہ ہاتھ سے وقت نکل جائے گا۔ جو جاگیردار، سرمایہ دار ، سیاستدان اور بیوروکریٹ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ وہ اور ان کے بچے محفوظ ہیں وہ تاریخ کا مطالعہ کریں۔ سقوط بغداد کا احوال پھر سے پڑھیں اور موجودہ وقت میں شام اور عراق سے سبق سیکھیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جو بیج بویا جاتا ہے وہ پھیلتا ضرور ہے۔ اگر ظلم بیجو گے تو ظلم ایک دن آپ کی دیوار بھی ضرور پھلانگ کر آپ کے گھر بھی داخل ہوگا۔ اگر نیکی پھیلاؤ گے تو آپ کے گھر بھی نیکی ہی پہنچے گی۔ اس سے پہلے کہ کوئی درندہ ایک اور زینب پر قیامت ڈھائے کوئی قدم اٹھاؤ۔
جہاں معاشرے کی برائیوں اور بے راہ رویوں کو دیکھ کر معاشرے کی اصلاح کرنے کے بجائے لوگوں کو صرف اپنے گناہوں کی فکر اور بخشوانے کے لئے انسانیت کی فلاح و بہبود کی بجائے عبادات کا سہارا لیتے ہوں تو ایسے معاشرے برائیوں سے بچ ہی نہیں سکتے۔ اور زینب جیسے دل سوز واقعات ہوتے رہیں گے۔