چیف جسٹس کا بھلا سکرٹ سے کیا لینا دینا
- تحریر رضی الدین رضی
- سوموار 22 / جنوری / 2018
- 4644
چیف جسٹس آف پاکستان محترم جسٹس ثاقب نثار نے ہفتہ کے روز ایک تقریر کے دوران یہ کہہ دیا تھا کہ تقریر کی طوالت عورت کی سکرٹ کی طرح ہونی چاہیے جونہ تواتنی لمبی ہو کہ لوگ اس میں دلچسپی کھودیں اورنہ ہی اتنی مختصرہوکہ موضوع کا احاطہ نہ کرسکے۔ خدا معلوم چیف جسٹس آف پاکستان کے اس بیان پرسوشل میڈیاپرشورشرابہ کیوں ہوگیا اورانہیں تنقید کانشانہ کیوں بنایاجارہاہے ۔
ان کے بارے میں بہت سے لوگوں نے عجیب وغریب کلمات کہے ہیں اورصنفی حوالے سے ان کے بیان کومتعصب قراردیاجارہاہے۔ بلکہ سوشل میڈیاپر”چیف جسٹس معذرت کریں “ کےعنوان سے ایک مہم بھی شروع ہوگئی ہے جس میں یہ بحث جاری ہے کہ آخر پاکستان کے چیف جسٹس کو ایسی بات کرنا چاہیے تھی یا نہیں۔ دلچسپ بات ہے کہ جس چیف جسٹس سےلوگ غیرمشروط معافی کے خواستگار ہوتے ہیں، فیس بک کی مخلوق انہی سے معافی کی طلبگارہے ۔ کہا جارہا ہے کہ عورت کی سکرٹ کی لمبائی سے چیف جسٹس کاکوئی لینا دینا نہیں ہوناچاہیے ۔
لوگ بھی توعجیب ہیں بات کا بتنگڑبنالیتے ہیں۔ اب اگرہم جان کی امان پاتے ہوئے چیف جسٹس کے اس جملے کی حمایت کریں گے توہمار ا شمار بھی اسی صف میں ہونے لگے گا۔ حیقیقت یہ ہے کہ ہم جان کی امان چیف جسٹس صاحب سے مانگ رہے ہیں اور ہمیں ان کے خلاف یہ مہم ویسے بھی اچھی نہیں لگی ۔ خدامعلوم منصف اعلیٰ کے اس بیان کواتنی سنجیدگی سے کیوں لیاجارہاہے ۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہاں تو انصاف کے نظام کوبھی کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اورنہ ہی کبھی عدالتی فیصلوں کو سنجیدہ سمجھا جاتا ہے۔ تو پھربھلا اس بیان پراتنے واویلے کی کیاضرورت ہے اوربیان بھی وہ جوچیف جسٹس کا ہے ہی نہیں۔
چیف جسٹس چونکہ پڑھے لکھے ہیں اس لئے انہوں نے اپنی تقریر میں برطانوی وزیراعظم چرچل کا قول دہرایاتھا۔ ہاں اگروہ چرچل کے قول کو اسلامی جمہوری معاشرے کے مطابق تبدیل کردیتے توشاید اتنا شورشرابہ نہ ہوتا ۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ تقریر عورت کے سکارف کی طرح ہونی چاہیے جو پورے موضوع کو اچھی طرح ڈھانپ کررکھے اور لوگوں کو اس میں سے کوئی اورمعنی تلاش نہ کرنا پڑیں ۔
اب آپ یہ کہیں گے کہ یہ توبے معنی بات ہوجاتی توحضور چیف جسٹس آف پاکستان کے فیصلوں کی طرح ان کی تقریر میں سے بھی معنی تلاش کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ سوہم اس تحریر کو یہیں ختم کرتے ہیں کہ اس سے آگے لکھنے کی ہم میں تو تاب ہی نہیں ۔
(بشکریہ: گرد و پیش ۔ ملتان)