پاکستانی ٹیم کو اعتماد اور تربیت کی ضرورت ہے
- تحریر شیخ خالد زاہد
- منگل 23 / جنوری / 2018
- 3454
ہا ر جیت کھیل کا حصہ ہوتا ہے اور ہارنے والے اپنی ہار سے سبق سیکھ کر بہتری کیلئے کام کرتے ہیں اور مستقبل میں پہلے سے بہتر کارگردگی سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہارتا اور جیتتا وہی ہے جو کھیل کا حصہ ہوتا ہے اس بات کو مرزا عظیم بیگ عظیم نے یوں کہا تھا:
شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
پاکستان کرکٹ ٹیم نے گزشتہ برس چیمپینز ٹرافی جیتی اور فائنل مقابلے میں بھارتی سورماؤں کو خوب دھول چٹائی جس کی باعث پاکستانیوں کے مزاج ساتویں آسمان پر پہنچ گئے۔ ہمارے گمان میں کہیں یہ بات بیٹھ گئی کہ اب تو ہمیں کوئی ہرا ہی نہیں سکتا۔ اس بڑی فتح کے حصول میں یوں تو ایک کھلاڑی نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا مگر فائنل میں ایک قدرے گمنام بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے باز فخر زمان نے اس عصاب شکن روائیتی حریف سے مقابلے میں سیکڑا جڑ دیا اور اس طرح ان کا پہلا قدم ہی شہرت کی بلندیوں پر پڑگیا۔ دوسری طرف حفیظ نے بھارتی گیند بازوں کی درگت بنائی۔ اس طرح پاکستان کی کرکٹ کو ساتویں آسمان تک پہنچادیا۔ اب یہ ہماری مرضی ہے کہ ہم اس جیت کا سہرا مکی آرتھر کے سرپر سجائیں ، سرفراز کی قیادت کی معترف ہوجائیں یا پھر اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر بس شکر ادا کریں۔ جی نہیں بالکل بھی ایسا نہیں ہے۔ قدرت ہمیشہ بہادروں کی مدد کرتی ہے ، راستے ہمیشہ بہادروں کو ملتے ہیں جو سفر کی تھکان کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتے ۔
اب پاکستانی قوم سیاست کے ساتھ ساتھ کرکٹ کو بھی کافی حد تک سمجھنے لگی ہے ۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ موجودہ نیوزی لینڈ کے دورے پر گئی ہوئی ہمارے قومی ٹیم مسلسل شکست سے دوچار ہونے کے باوجود ہر میچ میں نئے جوش اور جذبے سے لبریز دکھائی دے رہی ہے۔ میرا ایسا ماننا ہے کہ مقابلے کیلئے جو کوئی بھی اترتا ہے چاہے وہ میدا ن ہو یا کمرہ امتحان اس کا اصل مقصد کامیابی کا حصول ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس کی تیاری کیسی ہے ۔ جب یہ مضمون لکھا جا رہا ہے ، تب تک پانچ ایک روزہ مقابلے اور ایک ٹی ٹوئینٹی مقابلہ ہوچکا ہے اور ان تمام مقابلوں میں پاکستان کی ٹیم کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ۔ سوائے ایک میچ کے جس میں پاکستان تھوڑی بہت مزاحمت کی باقی سارے مقابلے یک طرفہ ثابت ہوئے۔ پوری طرح صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو کوئی خاطر خواہ کارگردگی سامنے نہیں آئی۔ سوائے شاداب خان کی بلے بازی کے کیونکہ وہ کہیں کہیں مزاحمت کرتے دیکھائی دیئے۔ عوامی رد عمل سے محفوظ رہنے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں سب سے اول یہ کہ جب تک صبح ہوش آتا ہے تو میچ ختم ہوچکا ہوتا ہے تو دوسری طرف ملک میں کوئی نا کوئی ایسا حادثہ ہوتا رہا ہے جو عوامی غم و غصے کا باعث بنا ہوا ہے اور ملک کے سیاسی حالات کی گرما گرمی بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے ۔
اگر پاکستان کی موجودہ کرکٹ ٹیم پر نظر ڈالی جائے تو انتہائی متوازن ٹیم ہے اور ہوش اور جوش کا بھرپور مجموعہ مرتب دیا گیا ہے۔ جن کھلاڑیوں کو عمر کی وجہ سے جوش کے زمرے میں رکھا جارہا ہے وہ بھی باکمال متوازن مزاج کے حامل ہیں۔ انتخابی (سیلیکشن) کمیٹی نے بہترین امتزاج انتخاب کرکے ٹیم مینیجر اور کپتان کے حوالے کیا ہے ۔ ایک روزہ مقابلوں میں کپتان سرفراز مسلسل بلے بازوں کے کھیلنے کے نمبر تبدیل کرتے دیکھائی دیئے جس کی وجہ سے بلے باز اپنے آپ کو منظم نہیں کرپائے۔ دوسری صورت میں سرفراز موقع کی مناسبت سے اپنے بلے بازصحیح استعمال نہیں کرسکے۔ اسی طرح سے اگر گیند بازی کے شعبے کا تذکرہ کریں تو بہت ہی بہترین گیند بازوں کا مجموعہ لے کر کھیلے مگر پھر وہی بات کہ کوئی قابل ذکر کارنامہ نہیں دیکھا جاسکا ۔ عامر اپنی بھرپور صحت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت اچھی گیندبازی کرتے رہے مگر وکٹ لینے میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوسکی جس کی ان سے بہت امیدیں تھیں۔ اسی طرح حسن علی بھی اپنا جادو جگانے سے محروم رہے ۔
پاکستانی ٹیم اس وقت بہترین ہے البتہ کچھ چیزیں ہیں جن پر دھیان دینے کی ضرورت ہے، جن میں سب سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ منتخب کھلاڑیوں کو مخصوص وقت کیلئے موقع فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائے تاکہ کھلاڑی میں اعتماد پیدا اور وہ اپنے اندر موجود خامیوں پر قابو پانے کی کوشش کریں اور بہتر کارگردگی دکھائیں۔ اسی طرح جو کھلاڑی اپنے آپ کو بہتر کرلے یا کرتا ہوا دیکھائی دے اسے آگے لے کر چلیں اور جو کارگردگی دکھانے اور بہتری لانے میں ناکام رہیں ان کی جگہ نئی کھیپ لائی جائے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کو ہر طرح کی خرافات سے بھی دور رہنے کی تاکید کرے۔ پاکستان کی ٹیم کو ایک بہترین قسم کا حوصلہ افزائی (موٹیویٹر) کرنے والا ماہر نفسیات کی اشد ضرورت ہے جو صرف ٹیم کو باور کروائے کہ آپ چیمپینز ہو آپ میں ٹیلنٹ موجود ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی ماحول میں کسی بھی حریف کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ کام تواتر سے کرتے رہنے کی ضرورت ہے ۔ ہارجیت کھیل کا حصہ ہوتا ہے لیکن کھلاڑی عصابی طور پر مضبوط ہو تو جیت کے امکانات زیادہ روشن ہوجاتے ہیں۔
پاکستانی کپتان نے بلے بازی کی اوپننگ کیلئے بہت ہی بے تکے تجربے کئے جو ضروری نہیں تھے ۔ ایسے تجربات سے گریز کیا جائے۔ بلے بازوں کی جگہوں کا تعین بہت ضروری ہے خصوصی طور پرپہلے چار بلے باز بغیر کسی تبدیلی کے کھلائے جائیں۔ میدان سے باہر تکنیک ، مہارت ہر اس چیز کو پرکھ لیجئے جو کسی ماہر بلے باز میں ہونی چاہئیں پھر فیصلہ کرلیجئے اور انہیں بھی ان کی ذمہ داری سے نہ صرف آگاہ کیجئے بلکہ انہیں بتائیں کے ان کے اندر کیا کیا خصوصیات ہیں۔ جنہیں وہ بروئے کار نہیں لا پا رہے اور اپنی سوفیصد قابلیت اپنی باری میں نہیں دے پارہے۔ چار نمبر کے بعد کے بلے بازوں میں کپتان موقع کی مناسبت سے ردوبدل کرسکتا ہے ۔ سرفراز بطور کپتان بہت انہماک سے کھیل کھیلتے ہیں اور کھلاتے بھی ہیں ، ہر کپتان کی طرح ان کی خواہش ہوتی ہے کہ باقی تمام کھلاڑی بھی ان ہی کی طرح کھیل میں دھیان دیں۔ اس دھیان دینے کا تعلق بھی ایک دوسرے کو شاباش دیتے رہنا ہوتا ہے ۔ اچھے وقت میں تو سب ہی واہ واہ کرتے ہیں اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں اصل مزا تو جب آتا ہے کہ برے وقت میں کھڑے ہونے کی ہمت دلائی جائے۔ ابھی پاکستانی کھلاڑیوں کو ہمت دلانے کی ضرورت ہے اور انہیں یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ آپ سے بہتر اس کھیل کو کوئی نہیں سمجھتا۔
بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے پاکستان کے ابھرتے ہوئے باؤلر حسن علی اور دلکش انداز سے بلے بازی کے جوہر دکھانے والے بابر اعظم کو بہترین نئے کھلاڑی قرار دیا ہے ۔ یہ ایوارڈ ان کھلاڑیوں کی بھرپور کارگردگی کی بنیاد پر دئیے گئے ہیں۔ اب ان صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرکے انہیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔