کشمیریوں کے لئے اپنا وطن اجنبی ہوچکا ہے

کہاں جا رہے ہو اور کیوں؟ یہ سوال مجھے  اور میرے سسرالی گھر کے درمیان پاک فوج کی چوکی پر کھڑے ایک فوجی نوجوان نے اس وقت پوچھا جب میں اپنی اہلیہ اور کمسن بچیوں کے ہمراہ دو ہفتے قبل اپنی اہلیہ کے  چچا کے گھر جا رہا تھا، جو فوت ہو گئے تھے۔ فوجی افسر کا سوال سنتے ہی میرے ذہن میں درجنوں جواب گھوم گئے اور وہ سارے کے سارے سخت تھے۔ پھر فوری طور پر یہ نصحیت یاد آ گئی کہ ہر سوال کا جواب احسن طریقے سے دینا چائیے۔

کئی مرتبہ اس نصحیت پر عمل کرنے کے اچھے اثرات بھی دیکھ چکا ہوں لیکن یہاں میں فوج کے حوالے سے ہی ایک واقعہ کا ذکر کروں گا۔ ایک دفعہ آئی ایس آئی کے دو افسر میرے گھر آئے۔ اس رات میرے گھر برطانوی کشمیری محقق تنویر احمد آئے ہوئے تھے جو میرے گھر کے قریب ابھی لنک روڈ پر ہی تھے کہ ادھر سے آنے والے ان دو آئی ایس آئی کے افسروں نے تنویر احمد سے بات کرنے کے لیے چند منٹ وقت مانگا۔ تنویر احمد ان کو پہچا نتے تھے ۔ آئی ایس آئی کئی مرتبہ تنویر کی تحقیق میں مداخلت کر چکی تھی جس کی وجہ سے تنویر احمد کا رویہ بھی آئی ایس آئی کے ساتھ کافی سخت ہو چکا تھا۔ تنویر احمد نے کرخت لہجے میں وقت مانگنے والے افسر سے پوچھا تم کون ہو۔ اس نے کہا ہمارا تعلق آئی ایس آئی سے ہے۔ تنویر احمد نے کہا تم غیر ملکی ہو تم یہاں کیا کر رہے ہو۔ آئی ایس آئی کے افسر نے کہا پہلے وہ بھی جذبات میں آیا مگر پھر در گزر کر کے میرے گھر آ گیا اور راستے میں سوچتا رہا کہ ایک راجے (تنویر احمد) نے تو کھری کھری سنا دی ہیں اب پتہ نہیں دوسرا راجہ (راقم) کیا کرے گا۔

جب یہ دو افسر میرے گھر آئے تو ناشتے کا وقت تھا میں نے انہیں ناشتہ پیش کیا مگر انہوں نے صرف چائے پی ۔ اتنے میں اہلیہ نے دروازے پر دستک دے کر فروٹ کی ٹوکری بھی دی جو میں نے ان افسروں کے سامنے  میز پر رکھ دی ۔ وہ دونوں چائے کی چسکیاں لیتے وقت ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے۔ میں نے پوچھا خیریت تو ہے آپ خاموشی سے مسکرا رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے مجھے تنویر احمد کے ساتھ ہونے والی گرم سرد گفتگو  کے بارے میں بتایا۔  اورکہا کہ راجہ صاحب ہم بھی انسان ہیں، ہم اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں لیکن اخلا ق کی ہم بھی قدر کرتے ہیں ۔ ہم راستے میں سوچ رہے تھے کہ شاید آپ بھی تنویر کی طرح ہمیں کھری کھری سنا کر دروازے سے ہی واپس کر دیں گے۔ لیکن آپ کا رویہ ہماری سوچ سے مختلف نکلا اس لیے ہم دونوں اپنی باتوں پر مسکرا رہے ہیں۔ میں نے کہا آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ یہاں صرف سروے ہو رہا ہے جبکہ بھارت کے خلاف کشمیریوں نے بندوق اٹھائی ہوئی ہے۔ آزاد کشمیر اگر آزاد ہے تو پھر یہ آزادی نظر آنی چائیے ۔ لیکن اگر یہاں آپ کسی کشمیری کو سروے کی بھی اجازت نہیں دیں گے تو پھر لوگ سوچیں گے کہ رائے شماری کے وعدے بھی جھوٹے ہیں۔

اتنے میں ایک نے ایک فارم نکالا جس پر کچھ سوالات تھے اور اس افسر نے مجھے کہا کہ ان کے جو بھی جوابات آپ چاہیں لکھ دیں۔ میں نے اسے کہا اپنے ادارے کے لیے رپورٹ تیار کرنا اس کا کام ہے۔ میں اپنے بارے میں کسی سوال کا جواب خود نہیں لکھوں گا۔ اس کا جو جی چائے لکھ کر لے جائے۔ مجھے نہیں معلوم ان افسران نے میرے بارے کیا لکھا۔ لیکن جاتے ہوئے ان کے چہروں کے تاثرات مثبت تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ میری سیاسی مشکلات میں کوئی فرق نہیں آیا اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ہمارے بارے میں پالیسیاں کہاں بنتی ہیں۔ لہذا ہمارے ارد گرد اپنے فرائض سر انجام دینے والے اہلکاروں سے ٹکراؤ کا کوئی فائید نہیں۔ اسی سوچ کی بنا پر جب چوکی پر کھڑے پاک فوج کے نوجوان نے مجھے پوچھا کہ کہاں جا رہے اور کیوں۔ تو میں نے غصہ پی کر اس سے پوچھا میں کہاں تک جا سکتا ہوں۔ کیونکہ اسے بھی معلوم تھا اور مجھے بھی کہ وہاں سے چند فرلانگ کے فاصلے پر بھارتی فوج کی چوکیاں ہیں جو میرے وطن کے سینے کو چیر کر بنائی گئی ہیں۔ اور اب خوشی غمی کے موقع پر بھی ہمیں پوچھا جاتا ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں۔

دوسرے روز جب میں واپس آیا تو دوبارہ یہی سوال پوچھا گیا۔ اس دفعہ ڈیوٹی پر نوجوان سے میں نے اس کی عمر پوچھی اس نے کہا اکیس سال۔ میں نے کہا میں اس وطن کی آزادی کی خاطر  22 سال جیل کاٹ چکا ہوں ۔ مجھے معلوم ہے تم اپنی ڈیوٹی کر رہے ہو لیکن فہم عام بھی استعمال کر لیا کرو۔ میرے ساتھ فیملی ہے اور آپ لوگ پھر بھی نجی کاروں میں جھانکتے ہو۔ پہلے نام اور پتہ پوچھ لیا کرو۔ عزیز ویلفئیر ہسپتال جانا ہوا تو وہاں یو این او کی دو گاڑیاں کھڑی تھیں جن کی حفاظت کے لیے پاک فوج کی ٹیم بھی موجود تھی۔ میں نے یو این او کے افسر سے پوچھا اس کا تعلق کہاں سے ہے۔ اس نے کہا سوٹزرلینڈ سے۔ میں نے پوچھا آپ یہاں کیا کر رہے ہیں، اس نے کہا یہ عمارت بڑی خوبصورت ہے اسے دیکھ رہے ہیں۔ میں نے کہا عمار ت پر رپورٹ کی ضرورت نہیں، آپ ایل او سی پر دونوں طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں اور لوگوں کی پریشانیوں پر ہمارے تاثرات لکھیں۔ اس افسر نے کہا اس کے لیے مجھے کوٹلی میں پاک فوج کے کمانڈر سے اجازت لے کریو این او کے دفتر آناپڑے گا۔ میں نے کہا اگر ہم متاثرین تم لوگوں کو براہ راست نہیں مل سکتے تو پھر تمیں یہاں کس لیے رکھا گیا ہے، واپس چلے جاؤ۔ تمہاری نام نہاد یو این او ہی نے تو ہمار سارا مسئلہ بگاڑا ہے۔ لگتا ہے کہ جس طرح یو ین او کے اہلکار مقامی لوگوں کی ببتا سننے کے لیے کشمیریوں کو ہندوستانی اور پاکستانی کمانڈروں سے اجازت کا مشورہ دیتی ہے اسی طرح شاید یورپ میں درجنوں سیاسی کشمیری پارٹیوں کے سفارتی شعبوں کو بھی ہندوستان اور پاکستان کے سفارت خانوں سے اجازت لے کر کسی عالمی ادارے سے ملنے کا مشورہ دیتے ہوں گے۔ ورنہ یورپ بھر میں پھیلی درجنوں کشمیری پارٹیاں اور ان کے سیاسی و سفارتی شعبے جموں کشمیر میں خونی لکیر کے دونوں ا طراف غیر اعلانیہ اور بے نتیجہ گولہ باری سے ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف ضرور آواز بلند کرتے ۔

کشمیری قیادت کا ہمیشہ یہ المیہ رہا کہ جب تک اسے کسی طرف سے اشارہ نہ ملے تب تک اس کی زبان نہیں کھلتی۔ کبھی کوئی پاکستانی اور کبھی ہندوستانی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کرتا نظر آتا ہے۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کشمیری متحد ہو کر عالمی برادری پر زور دیں کہ ہندوستان اور پاکستان عالمی برادری اور کشمیری عوام سے ستر سال پرانے کیے گئے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے جموں کشمیر سے اپنی اپنی فوجیں نکال لیں۔ ستر سال قبل سیز فائر کے وقت رائے شماری کے لیے ہندوستان نے اپنی کچھ اور پاکستان نے پوری فوج نکالنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان ستر سالوں میں حالات سازگار ہونے کے بجائے مزیدبگڑے ہیں۔ اس لیے ہم کشمیریوں کا متفقہ مطالبہ یہ ہونا چائیے کہ ہندوستان بھی اپنی پوری فوج نکال لے۔ لیکن مسئلہ یہ ہےکہ کشمیر کی عالمی و آئینی حیثیت سے بے خبر بعض کشمیر یوں نے ہندوستان اور پاکستان میں سے ایک کے حق اور دوسرے کے خلاف مظاہروں کا  سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا!