قومی زبان ہر ملک کی شناخت ہوتی ہے
- تحریر محی الدین عباسی
- بدھ 24 / جنوری / 2018
- 7244
قائد اعظم نے فرمایا تھا: ’’میں آپ کو صاف طورپر بتادوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہوگی اور کوئی دوسری نہیں۔ جو کوئی آپ کو غلط راستے پرڈالے وہ درحقیقت پاکستان کا دشمن ہے۔ ایک سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم نہ تو مضبوط بنیادوں پر متحد ویکجا رہ سکتی ہے اور نہ ہی (بحیثیت قوم) اپنا کردار ادا کرسکتی ہے۔ دوسرے ملکوں کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے ۔ پس جہاں تک سرکاری زبان کا تعلق ہے پاکستان کی زبان اردو ہوگی۔‘‘ (21؍مارچ 1948 )
قائد اعظم کے اس اصول کو اپنا کر ہم ملک وقوم کو ترقی دے سکتے ہیں ۔ اس طرح دنیا میں ہماری ایک خاص پہچان بھی ہوگی۔ ہر ملک کی قومی زبان اس ملک کی شناخت ہوتی ہے۔ اردو ایک ایسی زبان ہے جس میں برصغیر کی مسلم قوم کی مجموعی قوت کا سراغ ملتا ہے۔ پھر جب اس قوم کو پاکستان جیسا عظیم خطہ اسلام ملا تو اس کی جدوجہد کے نقوش اسی زبان کے ذریعے روشن ہوئے ۔ اگر ہم قیام پاکستان کی طرف نگاہ دوڑائیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ اس کا اصل روپ ایک قوم کے خواب کی تعبیر ہے جو بانی پاکستان کی مسلسل جدوجہد اور انتھک محنت کے بعد ہمیں قیام پاکستان کی صورت میں ملا۔ اس ضمن میں کچھ عرض کردیتا ہوں۔ ذریعہ تعلیم بظاہر معمولی سی بات نظرآتی ہے لیکن اس نے پاکستانی معاشرہ اور ثقافت کو تخلیقی ، معاشرتی و تہذیبی حتی کہ معاشی سطح پر بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ جن قوموں کے ہاں ذریعہ تعلیم مادری زبان ہے جو معاشرے میں عام طور پر بولی یا سمجھی جاتی ہے ان قوموں نے نہایت تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کی ہیں۔ چین نے 1949 میں ذہنی آزادی کے بعد انگریزی اور دوسری زبانوں کے بجائے اپنی قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر نہ صرف شرح خواندگی سوفی صد حاصل کی ہے بلکہ حیرت انگیز طورپر ترقی بھی کی ہے۔ انڈونیشیا میں شرح تعلیم 62فیصد ہے ، فلپائن میں 80فیصد ہے ، تھائی لینڈمیں 84فیصد ہے اور ہمارے ہاں صرف 26.3فیصد ہے۔
یہی صورت کوریا میں نظرآتی ہے جہاں ذریعہ تعلیم اس کی اپنی زبان ہے اور شرح خواندگی کم وبیش سو فیصد ہے۔ دنیا کی آپ کسی ایسی قوم کو پیش نہیں کرسکتے جس نے اپنی زبان کے علاوہ کسی اور زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر صحیح معنی میں ترقی کی ہو اور جہاں شرح خواندگی سو فیصد ہو۔ یہ بات واضح رہے کہ کوئی غیر ملکی زبان سیکھنا ، اس پر عبور حاصل کرنا ایک مستحسن بات ہے لیکن اسے ذریعہ تعلیم بنانا ایک تباہ کن اور منفی عمل ہے۔ انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر ہم اپنے اس منفی عمل سے معاشرے کی نشوونما کو روکے ہوئے ہیں۔ یونیسکو نے ذریعہ تعلیم کے سلسلے میں جو رپورٹ دنیا بھرکے ماہرین تعلیم سے مرتب کروائی تھی ان کی بھی متفقہ رائے یہی تھی کہ: ’’اگر کوئی غیر ملکی زبان کسی ایسے کلچر سے تعلق رکھتی ہے جواس کی اپنی زبان کے کلچر سے مماثل ہو(جیسے ایک انگریز بچے کے لئے فرنسیسی زبان) تو اس زبان کو سیکھنے کے لئے بچے کی اصل مشکل صرف لسانی ہوگی لیکن اگر غیر ملکی زبان ایسے کلچر سے تعلق رکھتی ہے جو اس کے اپنے کلچرسے بہت مختلف ہو (جیسا کہ نائجیریا کے بچے کے لئے انگریزی زبان) تو زبان سیکھنے کی دشواریاں بھی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ جب بچے کو ایسے مشکل کام سے سابقہ پڑے توعین ممکن ہے کہ بچہ مناسب ومعقول طورپر کبھی اپنی بات کے اظہار کے قابل ہی نہ ہو۔‘‘
ہمارے ہاں انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنا کر یہی عمل ہورہا ہے اور ہر طالب علم کم وبیش اسی صورت حال سے دوچار ہے اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے ذریعہ تعلیم کے تعلق سے ہمیں پاکستان میں پیش نظر رکھنا چاہئے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر عمل در آمد کرکے ہم نہ صرف تعلیم کو حقیقی معنی میں تعلیم بنا سکیں گے بلکہ اپنے معاشی ، سیاسی وثقافتی مسائل کے بحران پر بھی قابو پاسکیں گے اور اعتماد کے ساتھ اکیسویں صدی میں داخل ہوسکیں گے۔ آپ خود غور کیجئے کہ انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر ہمیں آج تک بحیثیت مجموعی کیا حاصل ہوا۔ ہم نے کون سے بین الاقوامی رشتے مستحکم کئے ہیں۔ کیا ہم معاشی وتہذیبی دوڑ میں چین یا جاپان سے آگے نکل گئے ہیں۔ ہم نے کون سے عظیم سائنسدان پیدا کئے ہیں۔ ایک پروفیسر عبدالسلام کے علاوہ ہم نے کس شعبہ زندگی میں بڑے آدمی پیدا کرکے اپنے مسائل حل کئے ہیں۔
احساس کمتری کی ماری اس ذہنی طور پر غلام قوم نے کس سطح پر خود انحصاری یا خوداعتمادی کا اظہار کیا ہے یا کرسکتی ہے۔ اتنا ضرور ہوا ہے کہ ایک مخصوص طبقے کے مفادات کی پاسبانی نے نئے نئے بحران کو جنم دیا ہے۔ استعماری ورثے (COLONIAL HERITAGE) کو قائم ودائم رکھنے کے لئے اپنی بقا کو مسلسل خطرے میں ڈالا ہے۔ ذریعہ تعلیم کا مسئلہ صرف تعلیم ہی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے ایسے دور معاشی ، معاشرتی ، ثقافتی اثرات مرتب ہوئے ہیں جنہوں نے معاشرے کو دلدل بنانے میں مدد دی ہے۔ گزشتہ 45سال سے ہماری تاریخ بار بار دستک دے کر مسلسل ہم سے یہ پوچھ رہی ہے کہ کیا پاکستان استعماری ورثے کو زندہ رکھنے کیلئے وجود میں لایا گیا تھا یا اسے ایک زندہ توانا اور آگے بڑھنے والی قوم کو وجود بخشنے کے لئے بنایا گیا تھا۔