برصغیر کے مسلمانوں کو نئے چیلنج کا سامنا
- تحریر غلام مرتضیٰ باجوہ
- بدھ 24 / جنوری / 2018
- 4949
ہر دور میں امہ مسلم کو نئے چیلنجزکا سامنا رہاہے اور آئند بھی رہے گا سوال یہ پیداہوتا ہے کہ آخری کب تک سلسلہ جاری وساری رہے گا۔ ماہرین کی جانب سے پیش گوئی کی جارہی ہے کہ آئندہ چند سالوں یعنی 2030 تک چین دنیا کی سپر طاقت بن جائے گا ۔ امریکہ کے بعد اب چین کا سپرطاقت بننا امہ مسلمہ کیلئے ایک نیا چیلنجزہے ۔ یعنی ’’انگریزی کے بعد چینی زبان کا راج ہوگا ‘‘ کیونکہ اکثریت میں ہردور کے سپرطاقت حکمران کی جو زبان ہوتی تھی، وہی زبان عوام پر نافذ کی جاتی تھی ۔ جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو غلامی کی زندگی بسرکرنا پڑتی تھی ۔
برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ تقریباً سو سال کے بعد کوئی نئے خاندان کی حکومت قائم ہوتی رہی ہے ان علاقوں میں بھارت، بنگلہ دیش ، سری لنکا، نیپال ، افغانستان، پاکستان اور بھوٹان وغیرہ شامل ہیں۔ تقریبا 2500 سال قبل مسیح سے لے کر 1500 سال قبل مسیح تک دریائے سندھ اور سرسوتی کی وادیوں میں ایک بہت بڑی تہذیب بستی تھی۔ اس کو سندھ طاس تہذیب کہا جاتا ہے۔ اپنے زمانے میں یہ دنیا میں سب سے وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی تہذیب تھی۔ سندھ طاس تہذیب کے آخری دنوں میں یا اس کے ذرا بعد وسط ایشیا سے آریہ بر صغیر میں داخل ہوئی۔ مقامی لوگوں کے ساتھ میل جول ہوا اور ایک نئی تہذیب نے جنم لیا۔ اس زمانے میں مہابھارت، رامائن اور وید لکھے گئے۔ یہ دور ہندو تہذیب کی شروعات کا دور تھا۔ بر صغیر سے سکندر اعظم کے جانے کے بعد موریا دور کا آغاز ہوا۔ اس کی بنیاد چانییہ جی مہاراج نے رکھی۔ اس ہی خاندان کا ایک مشہور بادشاہ اشوک تھا۔ یہ راجہ گوتم بدھ یا ماننے والا تھا۔ اس دور میں بدھ مت بہت تیزی سے پھیلا۔ اس دوران اور اس کے بعد یونانیوں اور کشانوں کا اثر برقرار رہا۔
تیسری صدی سے لے کر پانچویں صدی تک شمالی ہند میں گپتا خاندان کی حکومت تھی۔ اس دور کو ایک سنہری دور کہا جا سکتا ہے جس میں علوم و فنون اور ادب کو بہت فروغ ملا۔ یہ دور ہندو نشاۃ ثانیہ کا دور تھا۔ اس دوران دکن میں چولا سلطنت قائم تھی۔ اس کے جنوب مشرقی ایشیا سے بہت گہرے تعلقات تھے۔ 450 سے 528 تک گپت خاندان کی تباہی ان منگول قوموں کے ہاتھوں ہوئی جو ہن کہلاتی تھیں۔ یہ لوگ سفید رنگت کی وجہ سے سفید ہن کہلائے۔ ان کی ایک شاخ ایران میں مقیم ہوگئی جبکہ ایک گروہ ترکی چلا گیا جبکہ ہن قبائل کی ایک شاخ یورپ جا کر آباد ہوگئی اور 450 کے قریب پنجاب میں آکر آباد ہوئیں۔ یہاں سے چل کر یہ لوگ جمنا کی تلہٹی میں پہنچے اور اس وقت کے گپت راجہ پر غالب آئے۔ ان کے سردار کا نام تورمان تھا۔ اس نے 500 کے قریب اپنے آپ کو مالوے کا راجہ بنایا اور مہاراجہ کہلوایا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا مہر گل گدی پر بیٹھا۔ یہ بڑا بے رحم تھا اور ظالم حکمران تھا۔ اس نے لاتعداد آدمی قتل کرائے ان کے ظلم وستم اس حد تک بڑھ گئے کہ ہندوستان کے راجاؤں نے مہر گل کے خلاف اتحاد کر لیا۔ آخرکار مگدھ کا راجہ بالا دتیہ وسط ہند کے ایک راجہ یسودھرمن کی مدد سے بڑی بھاری فوج لے کر اس کے مقابلے پر آیا۔ اور 528 میں ملتان کے قریب کہروڑ کے مقام پر شکست دے کر اس کو اور اس کی فوج کو ہند سے نکال دیا۔
مہر گل کشمیر چلا گیا وہاں کے راجہ نے اسے پناہ دی۔ ہن ہند میں سو برس کے قریب رہے۔ روایات کے مطابق ہن قبائل نے خود کو چرواہوں اور کاشت کاروں میں بدل دیا یہ لوگ زیادہ تر گائے کی افزائش نسل کرتے تھے اس لیے انہیں ’’گاؤ چر‘‘ کا خطاب ملا جو کثرت استعمال سے گجر بن گیا۔ انہوں نے ہندوستان میں گجرات، گوجرہ اور گوجرانوالہ کے شہر آباد کئے۔ موجودہ پاکستان اور بھارت کی سیاست میں ان کا اہم مقام ہے۔ تیرہویں صدی میں شمالی ہند میں دہلی سلطنت قائم ہوئی۔ اس کا آغاز خاندان غلاماں نے کیاا۔ اس کے بعد شمالی ہند کا تاج خلجی، تغلق، سید اور پھر لودھی خاندانوں کے پاس گیا۔ اس دوران میں جنوبی ہند میں باہمنی سلطنت اور وجے نگر سلطنت قائم تھیں۔ سن 1526 میں شہنشاہ بابر نے دہلی پر قبضہ کرکے بر صغیر میں مغل حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد تاج ہمایوں، اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگزیب کے پاس گیا۔ یہ دو سو سال بر صغیر کا سنہری دور تھا۔ اس دور میں علم و ادب اور فن نے بہت ترقی کی۔ اس دوران جنوبی ہند میں ایک ایک کر کے مغلوں نے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ بر صغیر میں یورپی اثر سولہویں صدی سے بڑھتا جا رہا تھا۔ انگریزوں نے کئی علاقوں میں حکومت کرنا شروع کر دی تھی۔ سن 1857 میں بر صغیر کے لوگوں نے انگریزوں کے خلاف ایک جنگ آزادی لڑی جس میں وہ ہار گئے۔ سن 1947 میں پاکستان اور ہندوستان کو آزادی ملی۔ 1971 میں بنگلہ دیش پاکستان سے علیحدہ ہو گیا۔ 1972 میں سری لنکا کو مکمل آزادی مل گئی۔
امریکہ کے بعداب چین کا سپر طاقت بننا برصغیر کے پاکستان سمت تمام مسلم ممالک کے حکمرانوں کیلئے ایک نیا چیلنج ہے جس کیلئے نئی نسل کو تیار کیا جائے ۔ کیونکہ جب برصغیر پرانگریز نے حکومت قائم تو ’’انگریزی زبان ‘‘ کی بنا پر مسلمانوں کا غلام بنالیا گیا ۔ کیونکہ علماء حضرات سمیت بیشترلوگوں انگریزی زبان جانتے نہیں تھے ۔ موجود ہ مسلمانوں امہ مسلم کو غلامی سے بچانے کیلئے سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی اداروں میں قومی نصاب کے ساتھ ساتھ ’’چینی زبان ‘‘ پر بھی توجہ دیں، تاکہ آنے نئے انقلاب ’’چیلنج ‘‘ سے نمٹا جاسکے۔