ساقی فاروقی: آتش خانہ سا جلتا ہوں

’کمٹیڈ سوشلسٹ ہوں بلکہ یہاں بسنے کے بعد اور بائیں کو سرک گیا ہوں۔ مگر شاعری میں ایک ہی خیال اور ایک ہی جذبے کو متھنے کا قائل نہیں ہوں کہ میری کمٹمنٹ صحافت سے نہیں شاعری سے ہے جو پوری ذات کا مکمل اظہار مانگتی ہے ’۔ (ہدایت نامہ شاعر) ساقی فاروقی صاحب کا انتقال ہوگیا اور میں اسی روز سے ان کا سوگ منارہا ہوں۔عام طور پہ جانے والوں کا سوگ منایا جاتا ہے تو ان کی ذات اور باتوں کو یاد کرکے آنسو بہائے جاتے ہیں لیکن یہ کیا کہ میں ان کی باتیں یاد کرتا جاتا ہوں اور ہنستا جاتا ہوں۔ میرے اندر سے قہقہے امڈتے ہیں۔ ان کا سوگ منانے کا یہی سب سے بہتر طریقہ مجھے لگتا ہے ۔

میں ساقی فاروقی سے کبھی نہیں ملا۔ ان سے خط و کتابت بھی کبھی نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کو میں نے کبھی اپنی موجودگی کی اطلاع دینے کی کوشش کی کیونکہ نہ تو میں شاعر تھا اور نہ ہی شاعری میری کمٹمنٹ کبھی رہی ہے ۔ میں استاد بننا چاہتا تھا، کسی یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھانا چاہتا تھا اور چند مہینے میں نے استادی کا تجربہ کیا بھی لیکن پھر اس سے اوب گیا اور میں صحافی بن گیا۔ میں ترقی پسند بھی تھا اور اب بھی ہوں، میں ساقی فاروقی کی خواہشوں اور آدرشوں کے الٹ سمت تیرتا رہا ہوں تو ایسے میں ساقی فاروقی کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش ‘آبیل مجھے مار’ کے مصداق ہوتی۔ میں نے اس کہاوت کا ذکر یہاں بلا مقصد نہیں کیا ہے ۔ جنہوں نے ‘ہدایت نامہ شاعر’ کے مضامین میں وزیر آغا کی شاعری پہ ساقی فاروقی کا مضمون اور خطوط و دیباچے پڑھے ہیں وہ بخوبی جان سکتے ہیں کہ میں ایسا کیوں کہہ رہا ہوں۔ ساقی فاروقی نے احمد ندیم قاسمی کے نام لکھے اپنے خطوط میں ‘ادب میں اپنی خدائی’ کے اعلان کے منصوبے کا ذکر کیا تھا۔ مشفق خواجہ جن ہستیوں کے زندہ ہوتے ہوئے ان کو اس اعلان سے باز رکھتے رہے وہ سب ایک ایک کرکے ساقی فاروقی کی زندگی میں گزر گئیں اور خود مشفق خواجہ بھی گزرگئے ۔ حالانکہ ان کے بارے میں ساقی فاروقی کو شک تھا کہ وہ ان سب کے اور خود ساقی فاروقی کے گزرنے کا انتظار کررہے تھے تاکہ ادب میں اپنی خدائی کا اعلان کرسکیں۔

ساقی فاروقی نے اصل میں سرے سے ادب میں خدائی اعلان کرنا ہی نہیں تھا بلکہ وہ اس اعلان کے مبینہ منصوبے کا ذکر کرکے ‘ادب کے بڑے بھائیوں’  کو خدائی کا اعلان کرنے سے باز رکھنا چاہتے تھے اور ایسا انہوں نے کر دکھایا۔ میں نے ان کو اپنی موجودگی کا احساس کرانے کی اس لیے کبھی کوشش نہ کی کہ وہ کمٹیڈ سوشلسٹ اور ترقی پسند ہونے کے باوجود ترقی پسند اور غیر ترقی پسند شاعروں سے کہتے رہتے تھے کہ ان کی کمٹمنٹ شاعری سے ہونی چاہیے ناکہ صحافت سے ۔ انہوں نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ‘شانتی کے لیے فلسفہ نہیں بلکہ ادب ضروری ہے ’۔ ‘پاکستانی تہذیب اسی ہندوستانی تہذیب سے پھوٹے گی ۔۔۔ لکھنؤ و دلّی کو معطل کیے بغیر بھی ہم وارث شاہ، شاہ لطیف بھٹائی اور خوشحال خان خٹک کے لیے جگہ نکال سکتے ہیں’۔ ساقی فاروقی کیا تھے ؟

شاعر تھے ۔ کیا سوچتے تھے ؟ شاعری، نثر میں ان کا اسلوب کیا تھا۔  ہدایت نامہ شاعر پڑھ لیں۔ میں ساقی فاروقی کو کیوں پسند کرتا ہوں۔ بلکہ اب ان کی موت کے بعد ‘ہوں’ کو ‘تھا’ سے بدل لیتے ہیں۔ ساقی فاروقی کو میں اس لیے بہت پسند کرتا ہوں کہ انہوں نے تعلقات پہ اپنی ‘معمولی سی سوجھ بوجھ’ پر مبنی سچائی کو کبھی قربان نہیں ہونے دیا تھا۔ میں نے بھی اپنی معمولی سوجھ بوجھ پہ مبنی سچائی کو تعلقات پہ قربان نہیں کیا اور بہت سارے تعلقات گنوا کر بیٹھ گیا اور اب تنہائی کا عذاب بھگت رہا ہوں۔ میں نے بیدل حیدری کے بارے میں ‘شاہ دولہ کا چوہا’ کی ایک بد گوئی پڑھی اور مضمون لکھا تو اس وقت مجھے ساقی فاروقی یاد آئے تھے مگر میں نے اس مضمون میں اس آدمی کو ‘نابالغ شاعر’ کا لقب اس لیے نہیں دیا تھا کہ میں بھی وہ مضمون اپنے ہی اسلوب میں لکھنا چاہتا تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ ساقی فاروقی کی پرچھائیں اس پہ پڑے اور لوگ مجھے پڑھنے کی بجائے ساقی فاروقی کو پڑھنے لگ جائیں۔ مجھے میرے مرشد حیدر جاوید سید نے فون کرکے کہا تھا کہ وہ ‘نابالغ شاعر’ ان کا دوست ہے اور دوست کے بارے میں کرختگی اور ظالم پن کی سچائی کے ساتھ نہ لکھا جائے تو اچھا رہے گا۔ ایسا ہی مشورہ انہوں نے مجھے ملتان کے ایک ‘صحافی دوست’ کے بارے میں دیا تھا۔ میں یہ سب سن کر بڑی شدت سے چاہتا تھا کہ ان کو جواب میں ساقی فاروقی کے یہ فقرے بھیج دوں:‘کیا آدمی تعلقات پہ اپنی سی، معمولی سوجھ بوجھ والی سچائی کو قربان کر دے ؟’‘

دوسری طرف اللہ کے نیک بندے ہیں جو دوستی پہ سچائی کو قربان کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے ۔ مگر میں یہ سب ان کو لکھ بھیجنے سے معذور رہا کیونکہ نہ تو میرے مرشد مشفق خواجہ تھے اور نہ میں ساقی فاروقی۔ ہو بھی کیسے سکتے تھے کہ وہ دونوں تو دوست تھے لنگوٹیے یار تھے جبکہ میں مرید اور حیدر جاوید سید مرشد۔ بھلا کوئی مرید اپنے مرشد کو ایسے ناہنجار شبد لکھ سکتا ہے ۔ میں یہاں ساقی فاروقی کی کہی باتوں کی تشریح کرنے نہیں بیٹھا بلکہ جن لوگوں نے ساقی فاروقی کی نثر نہیں پڑھی ان کو اس کی نثر کی کاٹ سے آشنا کرانا چاہتا ہوں تاکہ وہ بھی میری طرح ساقی فاروقی کے سوگ میں دل سے قہقہے لگائیں اور یوں ساقی فاروقی کو خراج عقیدت پیش کریں۔ میں نے ‘ہدایت نامہ شاعر’ دو عشروں قبل پڑھی تھی اور یہ قرات آج بھی ذہن کی سکرین پہ اسی طرح روشن ہے ۔ اس وقت میں نے کتاب کے شروع کے خالی سفید کاغذ پہ اس کتاب کے اندر سے ساقی فاروقی کی چھوڑی پھلجھڑیوں کی چنگاریوں کو محفوظ کرلیا تھا۔ کسی قطع برید کے بغیر اپنے پڑھنے والوں کی نذر کررہا ہوں۔ ان چنگاریوں سے ‘آتش خانہ سا’ اگر جلنے لگے تو ‘ہدایت نامہ شاعر’ ضرور پڑھئے گا۔ یہ ریختہ ویب سائٹ پہ ای بک کی شکل میں موجود ہے ۔

پلٹنا آفتاب کا: ضمیمہ ‘نابالغ شاعری’۔‘میں تو کتاب کا نام پڑھتے ہی انٹا غفیل ہوگیا تھا۔ شرفا ایسے نام اپنی کتابوں کو نہیں دیتے ’۔ ‘سب سے پہلے تو اپنی زبان دیکھئے ! 1965 سے اس میں لکنت پیدا ہوئی اور 1990 تک جاری رہی’۔ ‘اس دیدہ چھنالی کو پڑھتے ہی میں نے اس کی  خوبصورت اور ذہین بیوی اور میری بانکی درد مند بہن آمنہ کو لکھ دیا کہ اب وقت آگیا ہے جب مشفق کے لیے نمکین کشمیری چائے کا مگ بناؤ تو اس میں تھوڑا سا زہر بھی ملادو تاکہ جنت واصل ہوجائے (کہنا جہنم چاہتا تھا مگر پھر اس کی نمازیں یاد آگئیں) اور بیمے کے پیسے پہ بقیہ ایام گزاریں’۔‘مان لیا کہ وہ ایک ‘چ’ شاعر ہے لیکن اس کی جہالت عام کرنے کی کیا ضرورت تھی؟’‘ میری زندگی میں یا میری موت کے بعد یہ جب بھی مضمون لکھے گا تو مجھے ڈیفنڈ کرے گا۔  اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں’۔‘انہوں (مجاز) نے پانچ نظموں کے علاوہ ہماری نظم کو کچھ نہیں دیا’۔ مجھے اپنے طالب علموں کو لچر تنقید بارے پڑھانا پڑجائے تو میں بلا تردد اس مضمون کا حوالہ دوں گا ۔۔۔ (مطلب پرویز پروازی کا مضمون) اگر تم کسی کار کے بارے میں جاننے کے مشتاق ہو تو کیا آپ اس کو بنانے اور چلانے والے کے پاس جاؤگے یا اس کے پاس جس نے محض اس کے بارے میں سنا ہوا ہو۔ (ایذرا پاؤنڈ) مٹی سا ہوا منسوب، مگر آتش خانہ سا جلتا ہوں۔۔۔ کئی سورج مجھ میں ڈوب گئے میرا سایہ کم کرنے کے لیے۔ ساقی اس کتاب کا انتساب 'عبداللہ حسین' کے نام کرتے ہیں اور بتاتے ہیں: ایک بار عبداللہ نے کہا تھا ‘ساقی! جی نہ ہارنا، کسی نہ کسی کو تو معیار قائم رکھنا ہی ہے ’۔  تو میری جان یہ تو معلوم نہیں کہ میں معیار قائم رکھ سکا کہ نہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں میں اپنے اصولوں کی طرف داری میں مستحکم اور اپنے رویوں کی مدافعت میں ثابت قدم رہا۔ اس کتاب میں 18 مضامین ہیں اور تمام کے تمام قیامت ڈھاتے ہیں۔‘ مروجہ ادبی اسالیب میں نہیں فنکار کو اپنی ذات کے اسلوب میں لکھنا چاہیے تاکہ نئے پن کا سراغ ملے سکے اور انفرادیت چمک  سکے ’۔

‘تیس تیس ،چالیس چالیس سال تک جہالت کے زور پہ شعر کہتے رہنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے ۔۔۔ جیسے فرسودہ رومانی جذبات پر قناعت کرنا پڑتی ہے اور دوسرا ٹنڈو آدم اور چک لالہ کے غریب پرور سادہ لوح عوام کو ایذا دینے کے لیے ان کو سیاسی گلقند اور سیاسی کلقندی چٹانا پڑتی ہے ’۔ ‘شعری لسانیت اور شعری جمالیات کے ساتھ وہ اپنے اکہرے جذبات کی آبیاری نہ کرسکے ’۔ ‘دوسری طرف اسلامی نعرے بازوں نے ہماری پیاری زبان کی مقدس فضاؤں میں اپنے شکرے چھوڑ رکھے تاکہ وہ تازہ خیالی اور دور بینی کا شکار کر سکیں اور مولوی نعیمی، صدیقی جیسے جغادری جنات روح شعر کے سر پہ سوار  ہو کر ‘عجیب سی ان کی گنگناہٹ’ اور ‘لطیف سی ان کی بھنبھناہٹ’ لکھ لکھ کر ہمارے غصے اور صبر کو چیلنج کریں۔' ‘جدیدیت اور ترسیل کا المیہ ہے ۔ ہرچند کہ افتخار جالب اور انیس ناگی ناکام ہوئے ، مگر ان کی عزت میرے دل میں ہے ۔ انہوں نے تجربے سے چشم پوشی نہیں کی۔ اپنے قد سے بڑھ کر دراز دستی کی کوشش کی، میں ان کا نوحہ بھی پڑھوں گا اور سلام بھی کروں گا۔'

‘شاعری کی نجات نہ کلاسیکی سمندر میں ڈبکیاں لگانے میں ہے ، نہ ہی انیس و دبیر کی جھیلوں میں ڈھیلا پھینکنے میں، بلکہ زبان و بیان کے نت نئے تجربات میں ہے ’۔ ‘میں نہ سیاست کے خلاف ہوں نہ مذہب کے ، دونوں طرح کے لوگوں کے ہاں اچھی شاعری کے جراثیم موجود ہوتے ہیں’۔ ‘شاعر کا مسلک چاہے کچھ ہو، وہ اپنے شعر کے آہنگ، لفظوں کی نشست، بیان کی تازگی، زبان کے سفر کے علم، اپنی ذات اور عہد کے شعور کے بغیر نہ آگے جاسکتا ہے اور نہ پہچانا جاسکتا ہے ’۔ ‘معروضی کی بجائے غیر حقیقی، شعری اخلاص کی جگہ صحافتی مصالح، تدریس و تنظیم کی جگہ بدنظمی، سوالوں کے بجائے محض جوابوں میں غلطاں رہنے ، ابہام و تشکیک کی بجائے محض قطعیت نے ‘صداقت کل’  کو عصری تذبذب کی قربان گاہ پہ بھینٹ چڑھا رکھا ہے ’۔ ‘جوش پسند اور فیض فہم قارئین کو 'اطہر نفیس' کی شاعری سمجھنے کے لیے کئی کرتب دکھانا ہوں گے ’۔ ‘مکروہ ٹیکنکل سوسائٹی میں محبت کی اولیت پہ ایمان لانا ضروری ہے ۔ بغیر اس کے شعر نہیں لکھا جاسکتا’۔ ‘راشد کی ایرانی اردو مجھے سخت پریشان کرتی ہے ۔۔۔ مہاجر الفاظوں کی ہمارے ہاں کبھی آبادکاری نہیں ہوگی’۔ ‘زندہ فنکاروں کی اہمیت صرف اس ادب کے مردہ فنکاروں سے رشتے سے ہے ’۔ ‘ہمارے ادب کے حلال خوروں کی تنقید کے مذبح خانوں میں جھٹکے کی رسم عام ہے ’۔

‘راشد سے عبداللہ حسین نے ٹھیک کہا تھا: It was a great privilege to know you.’ ‘گردپوش پہ سردار جعفری کی رومانی، مردہ اور بے معنی تحریر نہ کتاب سے انصاف ہے نہ شاعر سے ، بالکل یہی کچھ وہ فہمیدہ ریاض کے لیے لکھ چکے ہیں اور پروین شاکر کے لیے بھی کہہ چکے ہیں۔ اب ان کی نثر بھی شاعری کی طرح بے اعتبار ہے ’۔ (زہرا نگاہ کے نام خط)‘ ادب کے رشتے سے فیمیل ایکسپریشن کا جو ذخیرہ ہندوستان اور پاکستان کی عورتوں میں بند ہے وقت آگیا ہے کہ وہ اُبلے ’۔ یہ کہہ کے چھوڑ گئی ہمیں روشنی اک رات ۔۔۔ تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے۔